159 published articles
۱۸؍ جنوری ۲۰۲۶ء کی شام محترمی سید ضیا علوی کی وفاتِ حسرت آیات کی غیر متوقع خبر سے ہم دل مسوس کر رہ گئے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ ہمارا ذہن اس کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھا۔ آناً فاناً خبر کی تصدیق ہوگئی۔ اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ زندگی اسی کی بخشش ہے۔ جب چاہے موت کی سواری پر بٹھا کر اپنے پاس بلالے۔ کسے یارا کہ اس کے فیصلے پر سوال اٹھائے؟ مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ! میں نے اپنے فیس بک پیج پر یہ کلماتِ تعزیت لکھے اور خود کو دلاسا دیا: ’’شعر و سخن کے ماہر،...
تاریخی پس منظر، موجودہ چیلنجز اور نصاب و نظامِ تعلیم میں مجوزہ اصلاحات پر مدلل گفتگو ۔ اسلامی علمی روایتغلط العوام صحیح کی قبیل سے تواتر سے ایسا کہا جاتا رہا ہے کہ مدارس کا مقصد علومِ دینیہ کی حفاظت و اشاعت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تصورِ مدارس کی یہ تحدید عہدِ استعمار کی پیداوار ہے، ورنہ مدارس ہمیشہ مراکزِ علوم رہے، نہ کہ صرف مراکزِ علومِ اسلامی۔ اسلامی تاریخ سے اسی نظریے کی توثیق ہوتی ہے۔ اور اگر بر سبیلِ تنزل یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اسلامی تاریخ میں مدارس علومِ دینی کے ہی مراکز تھے تو...
علامہ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی کی شرح جو مثنوی ’’نغمات الاسرار‘‘ کے اشعار، رموزِ تصوف اور عرفانی نکات کو عام قاری کے لیے قابلِ فہم بناتی ہے۔ احسان، جس کا ذکر حدیثِ جبریل میں آیا ہے، دراصل وہ باطنی کیفیت ہے جسے تصوف کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چوں کہ یہ فن نہایت دقیق اور لطیف مطالب رکھتا ہے، اس لیے بسا اوقات اس کے بعض مضامین کو نثر میں پیش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے صوفیا اپنے کاروانِ جذب و شوق، حال و وجد، اسرار و رموز، عشقِ الٰہی، لطائفِ عرفانی، قلبی کیفیات، حکایات...
آپ کی ذات نہ صرف جماعتِ صوفیہ کے لیے علمی و عملی معیار ہے بلکہ آپ کا نظام بھی خانقاہی نظام کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہ (۶۳۶ھ-۷۲۵ھ) کا شمار اُن اکابر صوفیہ میں ہوتا ہے جو علمی طور پر بھی بلند اور صاحبِ کمال تھے۔ علمی شان کا یہ عالم تھا کہ طالبِ علمی ہی کے زمانے میں آپ ’’بحّاث‘‘ اور ’’محفل شکن‘‘ جیسے خطابات سے مشہور ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود متواضع اور منکسرالمزاج ایسے کہ جب آپ کی دستار بندی ہوئی تو آپ کے ادب و آداب کو...
اپنی ضروریات و حاجات اللہ کے حضور رکھنا، اسی پر اعتماد کرنا، اس کے علاوہ کسی سے امید نہ لگانا، اسی سے ہر چیز مانگنا، ہمیشہ توحید پر قائم رہنا۔ محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ (۴۷۰ھ – ۵۶۱ھ) کا شمار ان اکابر اولیا میں ہوتا ہے جو توحید اعتقادی کا عملی مظہر اور اسی کے داعی و مبلغ ہوتے ہیں۔ آپ کی تعلیمات کا اصل الاصول توحید ہے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے صاحب زادے شیخ عبد الوہاب قادری رحمہ اللہ کو وصیت کی تھی:’’اپنی ضروریات و حاجات اللہ کے حضور رکھنا، اسی پر اعتماد کرنا، اس...
کبھی کبھی دل میں ایک چنگاری سلگتی ہے، جو برسوں بعد شعلہ بن کر روشن ہو جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ میرا تھا۔ ایک عرصے سے دل میں یہ خواہش دبی دبی سی پل رہی تھی کہ کاش! قرآن کو خود قرآن کی روشنی میں سمجھنے کا موقع ملے۔ یہ خواب اگرچہ خاموش تھا، لیکن کبھی بجھا نہیں۔ اور اس خواب کی تکمیل میں بارہا دوستوں سے مشورہ اور اساتذہ سے رہنمائی طلب کی، تو پتا چلا کہ اس خواب کی ایک ہی بہترین تعبیر ہے: تفسیر ابن کثیر۔ یہ وہ تفسیر ہے جس پر علما کا تقریباً اجماع...
دورِ حاضر کی ایک نمایاں اخلاقی بیماری یہ ہے آپسی معاشرتی رویّوں میں خلوص کی جگہ چالاکی، سچائی کی جگہ مکاری، اور خیرخواہی کی جگہ خودغرضی نے لے لی ہے۔ معاشرے میں ایسا شخص قابلِ عزت سمجھا جاتا ہے جو سمجھدار بن کر ہر موقع سے فائدہ اٹھا لے، چاہے اس کے لیے کسی کو دھوکہ دینا پڑے یا اخلاقی اصولوں کو روندنا پڑے۔ اس کے برعکس جو شخص سادگی، خیرخواہی اور اعتماد سے پیش آتا ہے، اسے کمزور، نادان یا دنیا سے بےخبر سمجھا جاتا ہے۔ایسے افسوسناک ماحول میں نبی کریم ﷺ کی یہ جامع حدیث:(مومن سادہ دل اور...
کتاب : لمعات الانوار فی شرح نغمات الاسرار (مرشدِ عشق )متن:مثنوی نغمات الاسرار (627 اشعار پر مشتمل) مرشدِ عشق ، موسوم بہ لمعات الانوار فی شرح نغمات الاسرار، جس کا متن ایک شاہ کار نظمِ تصوف، خورشیدِ اسرارِ معرفت ہے اور شرح ان عرفانی رموز کی نورانی کرن ہے۔ بے شک عارفانہ کلام کی یہ مثالی تشریح و تمثیلی تفہیم امور تصوف سے آشنائی اور رموزِ حقیقت سے عقدہ کشائی میں اہل علم و معرفت قارئین کے لیے خضرِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے، اور بیدار دلوں کے لیےسراپا چراغِ رشدو ہدایت ہے۔حضورِ ماتن ادام اللہ ظلہ و فیوضہ...
امام زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وعنہم أجمعین ان ائمۂ اہل بیت سے ہیں جن کا احترام - بلاامتیاز تسنن وتشیع - پوری امت کرتی ہے۔ زیدی سادات آپ ہی کی نسل سے ہیں، جن کی شاخیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اہل تشیع کا زیدی گروپ خود کو انہی سے منسوب کرتا ہے۔ آپ امام زین العابدین کے صاحب زادے، امام محمد باقر کے چھوٹے بھائی اور امام جعفر صادق کے چچا ہیں۔ اثنا عشری گروپ انہیں امام باقر کا متبع کہتا ہے، جب کہ زیدی، امام زین العابدین کے...
علامہ ابن ہمام کے بقول جمہور محدثین وفقہا خوارج کے عدم تکفیر کے قائل ہیں، جب کہ متاخرین میں بہت سے فقہا کی عبارات میں ان کی تکفیر منقول ہے۔ لیکن چوں کہ وہ مجتہد نہیں اور ان کا مذہب مجتہدین کے خلاف ہے، اس لیے ناقابل اعتبار ہے۔ ([1]) یہ ہے باب تکفیر کے دو رجحانات کی صحیح تصویر۔ بے شمار علماے متکلمین کے اس ارشاد کو اسی ذیل میں دیکھنا چاہیے کہ لازم المذھب لیس بمذھب۔([2]) یہ مسلمانوں کے عہد عروج کی بات ہے، لیکن عہد زوال میں ، وہابی تحریک کے ظہور کے بعد جس طرح مسلمانوں...
یہ مقالہ آل انڈیا ریڈیو، لکھنؤ سے ۱۸؍ ستمبر ۲۰۲۴ء کو صبح ۳۰: ۹ ؍ بجے نشر کیا گیا۔ اس عنوان کا تقاضا ہے کہ سب سے پہلے ہم حسب ذیل سوالات کی وضاحت کریں؟۱-تصوف کیا ہے؟۲-گنگا جمنی تہذیب کیا ہے؟۳-اس کے فروغ میں تصوف اور صوفیہ کا رول کیا ہے؟۴-موجودہ عہد میں اس تہذیب کی اہمیت کیا ہے؟ ۱-تصوف کیا ہے؟تصوف اسلام کے باطنی، اخلاقی اور روحانی نظام کا نام ہے۔تصوف کی بنیاد حدیث جبریل ہے جس میں اس کے لیے لفظ ’’الاحسان‘‘کا استعمال کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دین میں احسان یہ ہے کہ جب...
سیرت رسول ﷺ اسلامی تاریخ کا وہ اہم باب ہے جو نہ صرف دینی ہدایت بلکہ اخلاقی اور معاشرتی اصول بھی فراہم کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی زندگی اور اُسوہ ٔحسنہ ہرمسلمان کے لیے مشعل راہ ہے اور اُسی کو اپناکر اُمت ایک زمانے تک بساط عالم پر اپنا پرچم لہراتی رہی ہے اور تقریباً ہزار سال اقتدار میں رہنے کے بعدپھر اُمت مسلمہ زوال کا شکار ہوئی تو یہ زوال مختلف شعبوں میں آیا، خصوصاً باب سیرت میں غیر معمولی زوال آیاکہ اُمت مسلمہ جہاں قلبی اور عملی طورپر سیرت سے دور ہوئی تووہیں فہم سیرت سے بھی...
ہندوستان کے خطۂ اودھ بالخصوص لکھنؤ کو جن مشائخ صوفیہ کی برکتوں سے حصہ ملا ان میں ایک بڑا نام کاشف حقائق طریقت، واقف دقائق حقیقت قطب العالم مخدوم محمد شاہ مینا قدس سرہ (وفات: ۲۳/ صفر ۸۸۴ھ) کا بھی ہے۔ مخدوم شاہ مینا تقریباً بارہ سال ہی کے تھے کہ شاہ بدیع الدین مدار قدس سرہ نے اپنے مرید قاضی شہاب الدین چتلائی کے ذریعہ آپ کی قطبیت کا اعلان کروایا اور لوگوں کو آپ کی جانب رجوع کرنے کی تلقین فرمائی۔ مخدوم شاہ مینا نے کمال روحانیت کی راہ میں دو عظیم ہستیوں سے خوب استفادہ کیا۔ ایک...
امت مسلمہ کی جانب سے فرض کفایہ اور 'جہادی فکر' کی گتھیوں کو سلجھانے والا بیش قیمت مجموعہ، تفہیم جہاد ، کا مطالعہ کیا۔ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی اس فکر ساز کتاب کی تصنیف اور خسرو فاؤنڈیشن نئی دہلی اس کی اشاعت پر ہماری طرف سے بے پناہ مبارک بادیوں کے مستحق ہیں۔انہوں نے فکر و نظر کے سطحی ماحول کے باوجود "تفہیم جہاد" کی شکل میں ، قلوب و اذہان کی آسودگی کا سامان مہیا کیا ہے ، اللّٰہ پاک آپ کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور اس پیغام کو عالمی سطح پر شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین!...
استاذ گرامی قدر علامہ ارشاد احمد رضوی ساحل شہسرامی(۱۹۷۳- ۲۰۲۴ء(1) ایک وضع دار عالم دین تھے۔ چھوٹا قد، منہنی جسم، خوب صورت چہرہ، دبے ہوئے رخسار، گلابی لب، بڑی اور کچھ دبی ہوئی آنکھیں ، سیاہ بال، مخملی ٹوپی، سفید کرتا پاجامے پر علی گڑھ کی کالی شیروانی، سنجیدہ اور متین،تیز رفتار، نستعلیق گفتار، شستہ زبان، شائستہ لہجہ، دلکش خط اور ادیبانہ اسلوب، شکّیت کی حدوں کو چھوتی ہوئی حساسیت، ضد سی نظر آنے والی خود داری اور غیرت – یہ وہ الفاظ ہیں جن سے علامہ ساحل کا اسکیچ بنایا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں کم ہوتے...
مولانا ذیشان احمد مصباحی سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میں بی اے (اسلامک اسٹڈیز) میں ڈاخلے کے لئے امتحان دینے دہلی آیا۔ تب سے اب تک ایک مربی کی حیثیت سے آپ میری رہنمائی فرماتے رہے۔ اس دوران آپ کی تحریروں کو پڑھنے اور آپ سے بالواسطہ استفادہ کرنے کے بے شمار مواقع مجھے میسر آتے رہے۔ مولانا مصباحی کی علمی کاوشوں سے واقف شخص اس بات کا اعتراف کرے گاکہ آپ کی روش میں فقہا ٫سی نکتہ سنجی اور صوفیاء سا اعتدال ہے۔ان کی یہ کوشش رہتی ہے کہ موجودہ مسلکی تشدد سے پرے جا کر...
’’تفہیم جہاد‘‘ نام سے ہی واضح ہے کہ مصنف نے اس کتا ب کی تصنیف فلسفۂ جہاد کی گتھیوں کو سلجھانے کےلیے کی ہے ؛کیوں کہ صاحب کتاب ،صاحب طرز ادیب اورصاحب الرائے دانشور بھی ہیں، جن کے قلم کی سیاہی ،دل و دماغ کی قوت اور زبان و بیان کا زور فقط ان سلگتے مسائل کے حل کے لیے صرف ہوتا ہے جن سے عصر حاضر میں قوم وملت جوجھ رہی ہوتی ہے، جیسا کہ سابقہ کتب(مسئلہ تکفیر ومتکلمین، الموسیقی فی الاسلام وغیرہ ) سے واضح ہے ۔اس لیے یہاں پر یہ سوال بہت ہی اہم ہوجاتا ہے کہ...
صاحب کتاب: ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی مغربی چمپارن (ضلع بتیا) شمالی بہار سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر موصوف ایک معتدل فکر کے حامل روشن خیال اسلامی اسکالر اور مصنف ہیں۔ موصوف نے اہل سنت کی معروف دینی درس گاہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور، ضلع اعظم گڑھ سے فضیلت کی سند حاصل کی ہے، جب کہ معروف قومی دانش گاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے تقابل ادیان میں ایم اے اور پھر اسلامک اسٹڈیز سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ہے۔ بروقت خانقاہ عارفیہ، سید سراواں میں مقیم اور وہاں ’’جامعہ عارفیہ‘‘ اور ’’شاہ صفی اکیڈمی‘‘...
The book "Tafheem-e-Jihad" by Zishan Ahmed Misbahi, published by Khusro Foundation, stands as a pivotal contribution to the contemporary discourse on Jihad. In an era where the concept of Jihad is frequently misunderstood and misrepresented, Misbahi's work offers a critical and insightful examination aimed at clarifying its true essence. The cover design, featuring a dove carrying an olive branch, symbolizes peace and conveys the book's central message of understanding Jihad in its genuine, peaceful context. Zishan Ahmed Misbahi meticulously delves into the historical, theological, and philosophical dimensions of Jihad, presenting a narrative that is both enlightening and accessible to a...
[یہ مضمون آل انڈیا ریوڈیو پر ۱۱؍ مارچ ۲۰۲۴ء کو نشر ہوا۔] سامعین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! خواتین وحضرات! رمضان المبارک کا مہینہ بڑےہی خیر وبرکت کا مہینہ ہے۔ اس کے آتے ہی مسلمانوں میں طاعت وعبادت کا گراف بڑھ جاتا ہے ، گھر کی رونق اور بازار کی چہل پہل میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس ماہ مبارک کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں۔ سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۸۵ میں اللہ کریم فرماتا ہے: اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم -بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ...
ہجرت کا لفظ آتے ہی ذہن میں سب سے پہلے جو بات اُبھرتی ہے وہ ہے’’ ہجرت نبوی‘‘جو اَحکم الحاکمین کے حکم سےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مقدسہ سے مدینہ منورہ کی طرف کی تھی اور یہ ہجرت اقامت دین کے لیے تھی، چناں چہ اس کے بعد نہ صرف دین اسلام کی بالا دستی قائم ہوئی بلکہ اسلام نے توحیدورسالت اور تصورِ آخرت کے ساتھ انسانیت کا جو پیغام دیا ہے وہ آج بھی تاریخ انسانی میںایک انمٹ نقوش کی حیثیت رکھتی ہے۔اس وقت مہاجرین کے ساتھ انصارنےبڑی فیاضی کا مظاہرہ کیا کہ اپنی دولت میں...
ख्वाजा साहब को आम तौर पर पूरी दुनिया के लिए और विशेष रूप से हम भारतीयों के लिए किसी परिचय की आवश्यकता नहीं है। बल्कि हममें से हर कोई उन्हें अच्छी तरह जानता और पहचानता है और मानव समुदाय का एक बड़ा वर्ग उनकी शिक्षाओं से लाभान्वित और प्रबुद्ध हो रहा है। क्या अपने और किया बेगाने, सभी लोग बिना किसी भेद-भाव के ख्वाजा साहब के उपहार का आनंद ले रहे हैं। जब वह जीवित थे तो भी भारत के सम्राट थे, और आज अपने स्वर्गबास होने के लग-भाग 800 साल बाद भी वह भारत के महान सम्राट हैं। भारत...
عام طور سے جب لفظ سلوک یا تصوف بولا جاتا ہے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ کوئی پر اسرار چیز ہے جس سے محبت تو رکھی جا سکتی ہے، البتہ اسے سمجھنے سے ہماری عقل قاصر اور فہم عاجز ہے۔حالاں کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ دوسرے علوم کی طرح تصوف بھی ایک علم ہےجسے پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس علم کا زیادہ تر تعلق عمل سے ہے۔ ایک متصوف جب تصوف پر عمل کرنا شروع کرتا ہے تو اس عمل کو ’’سلوک‘‘ اور عامل کو ’’سالک‘‘ کہتے ہیں۔ہم ذیل میں...
یہ مقالہ ۲۴؍ دسمبر ۲۰۲۳ء کو سرکار ربانی سمینار منعقدہ خانقاہ ربانیہ، باندہ میں پڑھا گیا۔ خانوادۂ ربانیہ ، باندہ، ملک کے عظیم ان علمی وروحانی خانوادوں میں سے ایک ہے، جن کی علمی ودینی خدمات کا دائرہ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ ان حسینی سادات کرام کا ایک نورانی کارواں ہے، جن کے باشرف نسبی سلسلے سید السادات جہانیاں جہاں گشت حضرت سید جلال الدین بخاری (۱۴۰۴ء) قدس سرہ کے چھوٹے بھائی حضرت صدر الدین راجو قتال سے جاملتے ہیں۔ حضرت راجو قتال (۱۴۲۴ء) کی عظمت شان سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے کہ حضرت جہانیاں جہاں گشت سید جلال...
محبوب سبحانی شیخ عبدالقادرجیلانی کے افکار وتعلیمات اللہ تعالیٰ نے انسانوںکی رشدوہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاومرسلین بھیجے جنھوں نے انسانوں کو صراط مستقیم کی رہنمائی کی اور دین ودنیا میں کامیاب ہونے کا بہترین نسخہ بتایا۔ لیکن جب رحمت عالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے نبوت ورسالت کا دروازہ بند فرمادیا مگررُشدوہدایت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ہاں! اتنا ضرور ہوا کہ رشدوہدایت کا یہ فریضہ انبیاورُسل علیہم الصلاۃ والسلام کے بعد اولیا اور صلحا انجام دینے لگے۔ اب اولیا اورعارفین باللہ قیامت تک آتے رہیں گے اور...
ایک چشم دید رپورٹ جمعہ کی شام 20 اکتوبر 2023 کو سلسلہ مجددیہ شرافتیہ کے نیر تاباں ابوالایتام والارامل حضرت محمد ثقلین میاں نقش بندی مجددی رحمہ اللہ کے وصال پرملال کی خبر دل ودماغ پر بجلی بن کر گری اور پورا حلقۂ شریعت و طریقت غم واندوہ میں ڈوب گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مرشد گرامی نے بھی بہت افسوس کا اظہار کیا، آپ اس وقت پنجاب کے دورے پر تھے، آپ نے حکم دیا کہ خانقاہ کے چند علما جنازے میں ضرور شرکت کریں۔دوسرے روز دن میں ایک بجے محب گرامی مولانا مجیب الرحمن علیمی کی امارت...
کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلے میں کہ: کیا دین اسلام میں اپنے شیخ کی قدم بوسی جائز ہے؟ سنت سے اس کا ثبوت ہےیا نہیں ؟ اس پر ملکِ ہندوستان کے علماے بریلی اور علماے دیوبند کی کیا رائے ہے ؟بحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔مستفتی: حسن ثاقب عثمانی۔ خانقاہ سعدیہ، خیرآباد شریف ، سیتاپور بسم اللہ الرحمن الرحیم جواب: قدم بوسی بالاتفاق سب کے نزدیک جائز اور درست ہے۔ اس کے جواز میں کسی کا اختلاف نہیں۔ ایک مومن سے بد گمان ہونا اور دوسروں کو بد گمان کرنا دونوں حرام ہے، جس سے ہر مسلمان کو بچنا لازم ہے۔ اسلام ...
خالہ زاد برادر گرامی مولانا محمد اختر تابش سعیدی ازہری کو جامعہ ازہر شریف، مصر کے کلیہ شریعہ میں جید جدا مع الشرف کی پوزیشن سے فارغ ہونے پر ڈھیروں مبارک باد۔ اللہ علم و فضل میں خوب برکتیں نصیب فرمائے۔ عمر میں گرچہ میں بڑا ہوں پھر بھی ہم دونوں بھائیوں نے باضابطہ مدرسہ کی تعلیم ایک ساتھ شروع کی تھی۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ سن 2002 کے قریب چچا محترم مولانا فیضان الرحمٰن سبحانی ثقافی حفظہ اللہ نے میرے والد محترم مولانا خالد رضا قادری سے مشورہ کیااور مجھے اسکول سے نکال کر جامعہ مرکز الثقافۃ السنیہ،...
ایسا لگتا ہےکہ مولانا مقبول احمد سالک مصباحی تکمیل سلوک سے پہلے ہی قافلے سے بچھڑ گئے اور واصل باللہ ہوگئے۔ لوگ یہاں جانے کے لیے ہی آتے ہیں اور پھر یہ قضا وقدر کا نظام ہے، کس کو کب آنا ہے اور کب جانا ہے، بھلا اس پر حرف زنی کی کسے مجال ہو سکتی ہے! البتہ عالم اسباب کی طرف نظر کرتے ہوئے کچھ لوگوں کا جانا ناقابل برداشت محسوس ہوتا ہے۔ وہ خود چلے جاتے ہیں لیکن دل سے ان کی یادیں نہیں جاتی ہیں ۔ان کی یادوں کے چراغ دیر تلک دلوں میں روشن رہتے ہیں۔...
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی معرفت اور پہچان کے لیے حضرت انسان کو دنیا میں مبعوث فرمایا ۔ابتدائے زمانہ میں لوگ خالص عبادت الٰہی میں مصروف رہاکرتےتھے ۔لیکن مرور ایام کے ساتھ حضرت انسان، خداوند قدوس کے علاوہ کسی اور کی پرستش میں بھی مشغول ہوگئے۔ایسے ہی لوگوں کو ضلالت و گمرہی سے نکالنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ انبیائے کرام کو روئے زمین پر بھیجتا رہا ۔چناںچہ اس دنیا میں کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام اور رسلان عظام علیہم السلام یکے بعد دیگرے تشریف لاتے رہے ۔سب سے اخیر میں ہمارے پیارےنبی جناب محمدرسول اللہ صلی...
‘‘वालदैन पर लाज़िम है कि वह सीरत का मुताला करें ताकि उन्हें यह मालूम हो कि रसूल अलैहिस्सलाम ने बच्चों से कैसा सुलूक फ़रमाया।’’ अल्लाह के रसूल सल-लल्लाहु अलैहि वसल्लम की आमद से पहले अरब में बच्चों के क़त्ल व ख़ून की जो ज़ालिमाना रस्म रायज थी उसे आप सल-लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने हमेशा के लिए ख़त्म कर दिया और बच्चों से मुहब्बत व शफ़क़त का यूँ इज़हार फ़रमायाः ;तर्जुमाःद्ध ‘‘वह हम में से नहीं जो छोटों पर शफ़क़त और मेहरबानी नहीं करता।’’ ;मुस्तदरक अज़ हाकिम, बाब किताबुल ईमान, हदीसः209 हुजू़र नबी करीम सल-लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने बच्चों के साथ जिस...
سینٹ سارنگ کانوینٹ اسکول کا قیام ۲۰۲۱ء میں عمل میں آیا۔ جس کا مقصد مقصد ہر مذہب و ملت کے طلبہ و طالبات کو اعلی سطحی تعلیم سے آراستہ اور عمدہ اخلاق و تربیت سے پیراستہ کرنا، ان کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا، تخلیقیذہانت کو پروان چڑھانا اور انہیں معاشرے کے لیے ایک اچھا ، ذمہ دار، بااخلاق اور ہمدردشہری بنانا ہے۔ تفصیلی تعارفکافی عرصے سے علاقے میں ایک ایسے مثالی انگریزی میڈیم اسکول کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جس میں انگلش میڈیم کی ساری سہولیات کے ساتھ دینی اور اخلاقی تعلیم و تربیت کا بھی...
دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی ہیں جن کا ذکر خیر ہمارے لیے دین و دنیا دونوں میں سعادت مندی اور نیک بختی کاسامان ہوتا ہے۔ ایسی ہی ہستیوں اور میں ایک منفرد نام امام غزالی قدس سرہٗ کاہے جو دین و دنیا دونوں اعتبار سے ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ امام غزالی علوم متداولہ کے نہ صرف عالم تھے بلکہ علوم متداولہ رکھنے والے علما کے لیے قابل رشک بھی تھے۔ وہ علوم متداولہ کے ساتھ علوم تصوف اور تزکیہ و احسان سے مزین اور اُن کے عملی پیکر بھی تھے۔ یہاں پر امام غزالی کی زندگی کا یہ...
Daiye Islam Sheikh Abu Sayeed Shah Ehsanullah Mohammadi Safawi, put the foundation of this institute in 1993. It is located in the village of Saiyed Sarawn under the district of Kaushambi, 23 km away from Allahabad.This institute runs under “Khanqah-e-Arifia Welfare Society” of “Shah Safi Memorial Trust” which is known for its social, cultural and educational works in India.Sheikh Abu is well-renowned in India and abroad for his works and services in the fields of education, social welfare and preaching the peaceful Islam as well as for bringing out love, brotherhood, spirituality and honesty to our society. Jamia Arifia is...
The historical Sufi shrine Khanqah-e-Arifia located at Saiyed Sarawan, Kaushambi, Allahabad (India) has been serving mankind by various ways since its existence and establishment in 1886. The current Sajjadah Nasheen (Successor) Sheikh Abu Sayeed Shah Ehsanullah Mohammadi Safawi, the Great Sufi Preacher established a public charitable trust named Shah Safi Memorial Trust in 2004 to serve the mankind in a systematic and well-moderated style. It is a registered organization since 7th of July, 2004. It emphasizes on the subjects, which are seminally related to socially compelled elements. This public charitable trust, by nature, ameliorates the deplorable condition of the suffering...
St. Sarang Convent School, Saiyed Sarawan, Kaushambi established in 2021. The school is located near Saiyed Sarawan Railway Station about one km away towards south from G.T.Road (Terah Meel) to Shah Safi Road. It is a need of time to establish an ideal english medium school in the locality where a child gets the chance for comprehensive and inclusive deve- lopment of his/her personality. St. Sarang Convent School, is esta- blished and being run by Khanqah-e-Arifia Welfare Society. OUR VISIONThe aim of school is educating all students to the highest levels of academic achievement, to enabling and enhancing their potential,...
علامہ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی کا شمار ان محقق قلم کاروں میں ہوتا ہے جن کی نگارشات کا اہل علم و دانش کو انتظار رہتا ہے، بل کہ وہ ان کی کتابوں کے مطالعہ سے اپنے خزانۂ معلومات میں نت نئے حیرت انگیز گوشوں کا اضافہ محسوس کرتے ہیں۔ جس پر رویت ہلال اور مسئلۂ تکفیر سے متعلق ڈاکٹر صاحب موصوف کی کتابیں شاہد ہیں۔ عصری معروضی اصول تحقیق پر لکھی گئی موصوف کی یہ کتاب ’’ الموسیقیٰ فی الاسلام : علمی، تحقیقی ، شرعی مطالعہ‘‘ مسئلۂ سماع کی درست تفہیم کے لیے سیکڑوں کتابوں کی ورق گردانی سے بے...
خانقاہ عالیہ عارفیہ سید سراواں موجودہ طوفان خیز اورفریب خوردہ حالات میں اخلاق ومروت اور امن وآشتی کا ایک روشن مینار ہے خانقاہ عالیہ عارفیہ سید سراواں، قدیم وجدید ہندوستان کا ایک مردم خیزعلاقہ اورقدیم ترین قصبہ ہےاور چودھویں صدی عیسوی کے عظیم بزرگ سید محمد حقانی حسینی سبزواری(۱۳۸۹ء) کی طرف نسبت کرتے ہوئے’’سید سراواں‘‘کہلاتا ہے۔چوںکہ سیدمحمد حقانی سبزواری خدائی مشن کے تحت ’’سیدسراواں‘‘ وارد ہوئےاِس لیے آپ نے اِس قصبےکونہ صرف اپنامسکن بنایا بلکہ اِسےبندگانِ خدا کے رشدوہدایت کاایک روحانی سینٹر قراردیا اورکافی عرصے تک اصلاح وتربیت میں مصروف ومشغول رہے۔ پھرایک زمانہ آیاکہ جب سیدمحمدحقانی سبزواری کا روشن...
ख़ानक़ाहे आरिफ़िया, सैय्यद सरावां सय्यद-सरावां प्राचीन और आधुनिक भारत का काफी पुराना कस्बा है और चौदहवीं शताब्दी ईस्वी के महान सूफी संत सय्यद मुहम्मद हक्कानी हुसैनी सब्ज़वारी के नाम पर इस कस्बे को "सय्यद सरावां" कहा जाता है। चूंकि सय्यद मुहम्मद हक्कानी साहब एक ईश्वर्य-मिशन के साथ "सय्यद सरावां" पहुंचे थे, इसलिए उन्होंने इसे केवल अपना निवास-स्थान ही नहीं बनाया, बल्कि अल्लाह के बंदों की भलाई और उनके निर्वाण के लिए सय्यद-सरावां को एक आध्यात्मिक केंद्र भी घोषित कर दिया और एक लंबे समय तक यहाँ के लोगों का शिक्षण-प्रशिक्षण करते रहे। फिर एक समय ऐसा आया कि...
مطرب خوش نوا بگو تا زہ بہ تازہ نو بہ نو [مسئلہ سماع و مزامیر پر ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی کی نگارشات کاجائزہ] حلقۂ شوق میں وہ جرأتِ اندیشہ کہاں آہ محکومی وتقلیدوزوالِ تحقیق! (اقبال) کیا موجودہ مذہبی ادبیات میں وہ عصرانیت یاقوت وکشش ہے ،جو جدیدذہن کو اپنی جانب متوجہ کرسکے؟مجھے افسوس ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔کیا مذہبی ادبیات کا حلقۂ قارئین علمی وتحقیقی مضامین کامتحمل ہے؟ مجھے افسوس ہے کہ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔اس کا قطعاََ یہ مطلب نہیں کہ موجودہ مذہبی معاشرےپر موت کاہول چھایاہواہےیا یہ کہ فی زمانہ...