حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کا عقیدہ
میں عقیدہ رکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی خلافت راشدہ حقّہ پورے تیس برس رہی جیسا حدیث صحیح میں ہے: الخِلَافَةُ بَعْدِی ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ یَکُوْنُ مَلَکًا([1]) یعنی خلافت میرے بعد تیس برس ہے پھر پادشاہی ہوگی۔ پس وہ خلافت حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر ختم ہوئی، جب آپ کا وصال ہوا، پانچ مہینے، تیس برس میں باقی تھے، حضرت امام حسن نے وہ زمانہ پورا کیا۔ پھر معاویہ بن ابی سفیان صحابی رسول اللہ صلی علیہ وسلم امیر ہوئے اور حضرت امام حسن نے امارت اور حکومت کو ترک فرما کر ان پر چھوڑ دیا اور بیعت اطاعت...