54 published articles
سلطان العارفین حضرت مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہٗ کے۱۱۷؍ویں عرس کے موقع پر ایک مجلس میں حضور داعی اسلام مدظلہ العالی، کولکاتا کے محبین سے ہم کلام تھے،آپ نے دورانِ گفتگو عام لوگوں اور صوفیہ کے عمل میں فرق بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ عام لوگ بھی عمل کرتے ہیں اور صوفیہ بھی عمل کرتے ہیں لیکن دونوں کے عمل میں بڑا فرق ہوتاہے:ایک بڑا فرق یہ ہوتا ہے کہ صوفیہ اپنے تمام اعمال میں اعلیٰ اوراحسن نیتوں والے ہوتے ہیں،کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:نِیَّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌمِّنْ عَمَلِہٖ۔(شعب الایمان،حدیث:۶۴۴۷) مومن کی نیت اس کے...
حضور! وحی اورکشف میں کیا فرق ہے؟ آپ نے سوال سن کر ایک شخص کو کمرے کا دروازہ بندکرنے اور پردہ گرانے کا حکم دیا ۔ جس کےنتیجےمیں کمرے میں ہلکا اندھیرا چھا گیا۔اس کے بعد حضرت نے میری جانب متوجہ ہو کر ارشاد فرمایاکہ جو فرق اس اندھیرے اور دن کے اجالے میں ہے ٹھیک وہی فرق کشف اور وحی میں ہے۔دن کے اجالے میں بھی چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور ہلکی سی تاریکی میں بھی دکھا ئی دیتی ہیں، مگر جس قدرواضح اور صاف دن کے اجالے میں دکھائی دیتی ہیں اس قدر معمولی اندھیرے میں نظر نہیں...
مخدوم گرامی حضرت مولانا حسن سعيد صفوی دام ظلہ کے وليمےسے ايک دن پہلے حضور داعی اسلام طالبين وسالکين کے ساتھ تشریف فرما تھے ، شيطان كکی گھاٹیوں پر گفتگو چلی تو آپ نے ارشاد فرمایاکہ بندگانِ الٰہی کو شیطان پانچ گھاٹیوں میں گرا کر ہلاک کرتا ہے؛ 1. اوامر کی گھاٹی 2. نواہی کی گھاٹی 3. معاملات کی گھاٹی 4. اخلاق کی گھاٹی 5. کبر کی گھاٹی سب سے پہلے بندگان خدا کو اس مقام پر ہلاک کرتا ہےکہ وہ ه لوگوں کو اوامر کی ادائیگی سے رکتا ہے ، اگر بندہ اس گھاٹی...
آج کا دور نظریاتی اور ڈپلومٹک برتری کا دور ہے ، نئی نسل کسی بھی فکر کو قبول کرنے سے پہلے تحقیق کرتی ہے ـ جو نظریات ،عقل ونقل سے قریب ہوتے ہیں اس کے حاملین خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں آج کے دور میں ہر وہ نظریہ فروغ پارہا ہے جس میں کسی حد تک عقل کو اپیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ایسے میں ہم حاملین کتاب و سنت اور دین فطرت کے عامل اور داعی کو چاہیے کہ ہم اپنے دینی و فقہی نظریات کو عقل و نقل کے مطابق پیش کریں۔ اولا: ہم اپنے دینی...
رمضان المبارک کا مہینہ ،تلاوت قرآن کا مہینہ ہے،اس لیے اس مہینے میں خصوصی طور پرکثرت سےتلا وت کا اہتمام کرنا چاہیے ،چوں کہ اس کتاب مقدس کا نزول اسی مہینے میں ہوا ہے۔عام لو گوں کو چاہیے کہ رمضان میں روزانہ کم سےکم ایک پارہ کی تلا وت ضرورکریں ،اس سے کم تلاوت کرنا غافلوں کی تلاوت ہے،اور خواص کو چاہیے کہ تلاوت کے ساتھ ساتھ کم از کم روزانہ کسی ایک آیت میں گہرائی کے ساتھ غوروفکر کریں اور اس کی صحیح سمجھ حاصل کریں۔قرآن میں تدبرکرنا قرآن کا بنیادی حق ہے ۔ ایمان بالقرآن کے کئی تقاضے...
تصوف کے تین درجے ہیں:پہلا درجہ تزکیہ کاہے جس کاحکم قرآن میں اس طرح آیا:قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا(۱۰) (شمس) تزکیہ تصوف کاپہلا زینہ ہے۔تصوف کادوسرادرجہ اخلاق ہے، وہ اخلاق جس کے بارے میں ارشاد ہے: اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(قلم) یہ وہ اخلاق ہے جس کی وضاحت حدیث رسول میںملتی ہے کہ جوتمھیں نہ دے اس کودواورجوتم پرظلم کرے اس کے ساتھ احسان کرو اورجوتمہارے ساتھ بُراچاہے اس کے ساتھ بھلاچاہو۔ اخلاق کی انتہامکمل طمانیت اور صبر ہے کہ پورے اختیار ہونے کے ساتھ، انتقام اور بدلے کا کوئی خوف نہ ہونے کے باوجودآپ اپنے جانی دشمنوں کو کہہ سکیں:لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ...
مرشدی حضور داعی اسلام عارف باللہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک مجلس میں فرمایا کہ مومن کی زندگی صبر اور شکر کے درمیان گزرتی ہے۔ نعمت پر شکر اور مصیبت و تنگی پر صبر، ایمان کا حسن ہے۔ شکر کا راستہ پُر خطر ہے کیوں کہ نعمت کے بعد بندے پر غفلت بھی طاری ہوسکتی ہے ، بندہ نعمت پا کر اگر رب سے غافل ہوا تو نعمت اس بندے کے لیے زحمت اور آفت بن جاتی ہے اور اگر نعمت پاکر شاکر رہا تو اللہ اس کی نعمتوں میں مزید...
۲۱؍نومبر۲۰۱۵ء بروز سنیچر مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کی ہفتہ واری مجلس میں اساتذۂ جامعہ عارفیہ کے ساتھ یہ فقیر بھی حاضرتھا،سلسلہ شطاریہ کی بات آئی تو آپ نےپوچھاکہ اس کا بانی کون ہے اور یہ سلسلہ کہاں سے چلتا ہے؟ پھر خودہی فرمایاکہ میں نے ۱۹۸۲-۸۳میں مثال شریف میں طریقہ شطاریہ کے تعلق سےپڑھاتھا۔مثال شریف میں حضرت نجم الدین کبریٰ قدس اللہ روحہ کامکمل رسالہ اَقْرَبُ الطُّرُقِ إِلَی اللہِ تَعَالٰی موجودہے۔ اس میں شیخ نجم الدین کبریٰ قدس اللہ روحہ نے ذکرکیاہےکہ اللہ تک پہنچنے کے راستے مخلوق کے سانسوں کی طرح بے شمارہیں لیکن یہ...
۱۷؍اکتوبر۲۰۱۵ء بروز سنیچر مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کی ہفتہ واری مجلس میں اساتذۂ جامعہ عارفیہ کے ساتھ یہ فقیر بھی حاضرتھا،دوران گفتگو آپ نےایک استاذ سے اُن کی علمی مشغولیت کے تعلق سے سوال کیا اور فرمایاکہ علمی تحقیق اچھا مشغلہ ہے ،لیکن واجبات وفرائض کی پابندی میں کوتاہی نہ ہو۔ خواہ واجبات و فرائض کاتعلق اعتقادیات و اعمال سے ہویا اخلاقیات سے،یوں ہی ذکر میں بھی کمی نہ آنے پائے۔ سب سے اعلیٰ ذکر یہ ہے کہ نماز میں حضورِ قلب کے ساتھ قیام کرے اور سورۂ فاتحہ کو پوری توجہ سے سمجھ کر پڑھے۔...
ایک مجلس میں ایک محب نے دریافت کیاکہ فلاں شخص بھی حضور کا مرید ہے؟اس پر حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینانے فرمایاکہ جو شخص بھی اللہ کے لیے مجھ سے محبت رکھتاہےاس کو میں اپنادوست جانتا ہوں۔ چاہے اس نے رسم بیعت اداکی ہویا نہیں،اگر اللہ کے لیے محبت کی ہے تو میں اُس کو محبوب رکھتا ہوں۔ جو لوگ بھی اللہ ورسول اوراولیاسے محبت رکھتے ہیں وہ سب ہمارے اپنے ہیں،ان میں سے کسی کوغیر نہیںجانتااور نہ ان میں کوئی تفریق کرتاہوں،خواہ وہ کسی بھی شیخ سےیاکسی بھی سلسلے میںبیعت ہو۔ یوںہی اولیا میں بھی کوئی تفریق...
۲۸؍ اپریل ۲۰۱۴ ء / ۲۷ ؍جمادی الاخریٰ ۱۴۳۵ھ بروز پیر، مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علیناکی خدمت میں فقیراورمحب گرامی مولانا شہباز مصباحی بھی حاضرتھے ۔دورانِ گفتگو بیعت وارادت کی بات آئی ۔آپ نے فرمایا کہ بیعت کا اصل مقصدتزکیہ ٔباطن ، تصفیۂ قلب اوررضائے الٰہی کا حصول ہے،جو واجب ہے اور یہ بغیر صحبت و تربیت کے مشکل ہے۔ رسم بیعت یعنی جس طریقے سے صوفیا ومشائخ بیعت لیتے ہیں وہ سنت ہے،جب کہ حقیقت ِبیعت واجب ہے۔ آج کل تو لوگوں نے بیعت کرنے کے مختلف طریقے ایجاد کر لیے ہیں جن طریقوں کے مطابق...
گذشتہ دنوں بعض اسباب کے تحت ایک ہی دن میری دو وقت کی جماعت چھوٹ گئی،اسی رات میں نے حضرت داعی اسلام شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ کو خواب میں دیکھا۔ میں نے عرض کی: حضور !کیاترک جماعت سے کوئی فاسق ہوجاتا ہے؟ حضرت نے فرمایا:مسئلہ مت پوچھو،جماعت کی پابندی کرو۔پھر حضرت نے فرمایاکہ ترک جماعت سے کوئی فاسق نہیں ہوتا،البتہ اس کی عادت ضرور فسق ہے۔شیخ نے مزیدفرمایا:بعض بچے اتنے باشعور اور باحوصلہ ہوتے ہیں کہ وہ جب سے چلنا شروع کرتے ہیںپھرکبھی وہ گرتے ہی نہیں اور بعض بچے ایسے ضعیف حوصلہ اور بے...
یادش بخیر! غالباًوہ الہ آباد کا پہلا سفر تھا۔ حضرت عارف ربانی شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ النورانی کے ساتھ ہمارے احباب کا چند نفری قافلہ خانقاہِ عارفیہ سے الہ آبادشہر کے لیے رواں دواں تھا۔ وقت کو غنیمت سمجھتے ہوئے استفسارات کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ رفیق گرامی مولانا شہباز عالم مصباحی نے سوال کیا : حضور! تصور شیخ کے بارے میں کیا رائے ہے؟ حضرت نے برجستہ فرمایا:ہر وہ تصور جو ہمیں حق تعالیٰ سے جوڑدے مستحب ہے اور ہر وہ تصور جو ہمیں حق تعالیٰ سے کاٹ دے، دور کردے حرام ہے۔...
ایک مرتبہ حضور داعی اسلام کی مجلس ميں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، آپ نے شعبۂ دعوہ کے ايک طالب علم سے پوچھاکہ بتاؤ خلوت افضل ہے یا جلوت؟طالب علم نے جواب دیا کہ جب تک جلوت کے لائق نہ ہو جائیں ا س وقت تک خلوت افضل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا جواب درست ہے ، لیکن اگر کوئی پھر بھی اس بات پر اصرارکر رہا ہو کہ خلوت ہی افضل هے، پھر کیا جواب دوگے؟ پھر خود ہی ارشاد فرمایا: یہ بات مجموعی طور پر صحيح ہے کہ جب تک تزکیہ نہ ہوجائے اورانسان جلوت کے لائق...
لکھنؤ کے ایک سفرمیں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کے ساتھ تھا،درمیان سفرمیں نے عرض کیا کہ حضور ! سجادہ نشیں کس کو کہتے ہیں اورصاحب سجادہ کیسا ہونا چاہیے؟ آپ نے فرمایا کہ سجادہ سہ جادہ کا معرب ہے ،حقیقت میں صاحب سجادہ وہی ہے جواِن تین جادہ(راستے)پرقائم ہو: ۱۔جادۂ علم ۲۔ جادۂ عقل ۳۔جادۂ عشق یاپھر اِن باتوں سے متصف ہو: ۱۔ جادۂ شریعت ۲۔ جادۂ طریقت ۳۔ جادۂ حقیقت و معرفت اس کو یوں بھی کہا جاسکتاہے : ۱۔جادہ ٔاسلام ۲۔ جادۂ ایمان ۳۔ جادۂ احسان ۔ مرد کو چاہیے کہ ان اوصاف کا حامل ہو، تب...
سلوک چلنے اور کوشش کرنے کے معنی میں ہے اور صوفیاکے یہاںمعرفت الٰہی کی راہ میں چلنے اور کوشش کرنے کو سلوک کہا جاتا ہے۔جذب کے معنی کشش کے ہیں، لیکن صوفیاکی اصطلاح میں اللہ رب العزت کی جانب سے ہونے والی اس خاص کشش کا نام جذب ہے جو پل جھپکتے ہی بندے پر معرفت کے راز کھول دے۔ اسی لیے صوفیا کہتے ہیں : جَذْبَۃٌ مِّنْ جَذْبَاتِ اللہِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِ الثَّقَلَیْنِ۔ ترجمہ:اللہ رب العزت کی جانب سے معمولی کشش کا پیدا ہوجانا جن و بشر کے تمام اعمال سے بہتر ہے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنے کی...
۹؍ محرم الحرام ۱۴۳۵ھ بعد نماز مغرب قصبہ سید سراواں شریف میں عوام الناس کے اہتمام سے ذکر شہدائے کربلا کا انعقاد تھا جس میں جامعہ عارفیہ کے ایک طالب علم نے اپنی تقریر کے درمیان اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُوْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِکا ذکر کیا۔ اسی درمیان مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینااس محفل میں تشریف لائے،اورتقریر کے اختتام پر آپ نے مذکورہ قول کے ضمن میں فرمایا کہ یہ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے ،اس کی دو وجہ سمجھ میں آتی ہے: ۱۔ مومن دنیا میں اپنی خواہش کی پیروی نہیں کرسکتا،جب کہ کافر آزاد ہے جو...
ایک مرتبہ حضرت داعی اسلام مدظلہ العالی کی مجلس بافیض میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ آپ نے کشف پر گفتگو کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ کشف دوطرح کا ہوتاہے: ۱۔کشف کونی ۲۔ کشف ایمانی کشف کونی یہ ہے کہ کس کے گھر میں کیاہے اور کون اپنے دل میں کیاسوچ رہاہے ،اس طرح کی باتیں کسی پر منکشف ہوجائیں تویہ معیار ولایت نہیں، کیوں کہ صفت تو سادھوؤں اور جوگیوں کوبھی ان کی ریاضتوں کے ذریعے حاصل ہوجاتی ہے،بلکہ ایسا توشیطان کوبھی حاصل ہے کہ وہ لوگوں کی نیتوں پر مطلع ہو کر ان کو بھٹکانے کے لیے وسوسہ ڈالتا ہے۔...
داعی کو دعوت کے میدان میں حکمت اور موعظت حسنہ کا دامن تھامے رہنااور مدعو سے مجادلہ اور اختلاف کے وقت اپنے آپ کواحسن طریقے پر قائم رکھنا بے حد ضروری ہے،اللہ کاارشاد ہے :اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ۱۲۵ یعنی حکمت،موعظت حسنہ اور اچھے طریقے سے اللہ کے راستے کی طرف بلاؤ۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنے مدعو کو ہر حال میں قابل رحم جانے اور دوست ودشمن کی تفریق کیے بغیر لوگوں کے درمیان الٰہی احکام کی تبلیغ کرے ۔ہدایت دینے والا صرف اللہ ہے ،کسی داعی کا کام ہدایت...
ایک مجلس میں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا سے یہ عرض کیا گیا کہ بعض علاقوں میں کچھ لوگ سرکارسے سوئے ظن رکھتے ہیں اورعام مسلمانوں کو خانقاہ شریف آنے سے منع کرتے ہیں۔ سرکا رنے فرمایا: جو لوگ ہمیں تسلیم کرتے ہیں ان کی تعلیم و تربیت ہمارے ذمے ہے ،ہمیں ان کی طرف متوجہ رہنا چاہیے اور جو لوگ ہمیں تسلیم نہیں کرتے ،ان سے الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں،بلکہ ان کے حق میں دعا کرنی چاہیے۔ ہمارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم کتاب وسنت کی پیروی اور مشائخ امت کی روش پر کاربند...
۷؍رمضان ۱۴۳۵ھ بعد نماز عصر مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا اپنے جاں نثاروں کے ہجوم میں جلوہ افروز تھے ،مختلف دینی گفتگو ہوتی رہی اسی درمیان عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر آیا ،آپ نے مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ بتاؤ!کہ تمہاری بیوی فرعون کی بیوی کی طرح ہے یا حضرت لوط کی بیوی کی طرح؟ مزید فرمایا کہ اللہ نے مرد کو عورت پر قوام بنایا ہے ،اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت پر ظلم کیا جائے ،بلکہ اس کے ساتھ حسن سلوک اور تدبیر سے...
ایک مرتبہ حضور داعی اسلام مد ظلّہ النورانی کی مجلس با فیض میں حاضر ی کی سعادت حاصل ہوئی۔ دورانِ گفتگو آپ نے فرمایا کہ طالبانِ مولیٰ کو اپنےشیخ کی صحبت میں زیادہ سے زیادہ رہناچاہیے،کیوں کہ اُن کی صحبت میں رہنے کا حکم قرآن و احادیث میں وارد ہے ،لیکن اگر یہ میسر نہ ہو تو طالب جہاں ہے وہیں ایسے لوگوں کو تلاش کرے جو اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہوں اور اپنے شیخ کی اجازت سے ان کی صحبت میں رہے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتوایسی کتابوں کو دوست بنائے جو دلوں کو کھولنے والی...
یکم دسمبر ۲۰۱۳ ء بروز اتوار کلکتہ میں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا ایک مجلس میں جلوہ افروز تھے جہاں شہر کے علما و ائمہ اور عمائدین بھی کافی تعداد میں موجود تھے ، درمیان گفتگو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک ہے ظلم نہ کرنا اور ایک ہے سلامتی پہنچانا ، دونوں بہتر ہے مگر ظلم نہ کرنا یہ Zeroپوائنٹ ہے ، مسلم تو وہ ہے جس کے وجود سے ساری دنیا کو اور ساری انسانیت کو سلامتی پہنچے وہ بھی اسلام کی سلامتی تا کہ اس دنیا میں بھی وہ کامیاب رہے اور آخرت میں...
ایک مرتبہ حضور داعی اسلام مدظلہ العالی کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، آپ شیطانی وسوسوں پر گفتگو فرمارہے تھے، دورانِ کلام آپ کاارشاد ہوا: شیطان؛اولیاء اللہ کوبھی بہکانے کی کوشش کرتا ہے لیکن چوں کہ وہ آبِ رواں کی طرح ہوتے ہیں، جو خود بھی پاک ہوتا ہے اوردوسروں کو بھی پاک کرنے والا ہوتا ہے، اس لیے اس کے بہکانے کے باوجود اُن کاباطن پراگندہ نہیں ہوتا۔ اِن اولیاء اللہ کے لیے شیطان کی کوشش ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کوئی بےوقوف نہر یا دریا میں پیشاب کرکے یہ سوچے کہ میں نے نہریادریاکو ناپاک کردیا۔جس...
یکم دسمبر۲۰۱۳ءبروز اتوار کلکتہ ناخدا جامع مسجد کے امام کی مسجد بیت میں مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا ایک مجلس میں جلوہ افروز تھے ،جس میں ائمۂ کرام اور عمائدین شہر بھی کا فی تعداد میں موجود تھے ـ،درمیان گفتگو اِنفاق فی سبیل اللہ کا ذکر آیا، آپ نے فرمایا کہ ڈھائی فیصد تو فرض ہے،جس کی ادائیگی نجات کے لیے ضروری ہے اور ڈھائی فیصد سے زیادہ خرچ کرنا درجات کا سبب ہے، عالم دنیا میں توانسان زیادہ سے زیادہ درجات حاصل کرناچاہتا ہے ،جو فانی ہے اور اُ س عالم کی تیاری میں سستی کرتا...
۶؍دسمبر ۲۰۰۹ ء/ ۲۰؍ ذی الحجہ ۱۴۳۰ھ بروز اتوار بعد نماز ظہرمرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علیناکی بارگاہ میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی،محب محترم مولانا اشتیاق عالم مصباحی ، حضرت قاری بشیرقادری اور دیگر چند نووارد علما بھی تشریف فرما تھے۔مرشد گرامی نےمختلف مسائل پر گفتگو فرمائی، درمیان گفتگویہ بات بھی آئی کہ بعض بزرگوں نے اپنے مریدوں سےیہ فرمایا کہ دوسرے شیخ کی محفل میںنہ جائو، اپنے شیخ کو کافی جانو اور اپنے شیخ کی محفل کو ہی لازم پکڑو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی مرید اپنے شیخ کے علاوہ دوسرے شیخ کی...
۲۶؍مارچ ۲۰۱۴ ءبروز بدھ بعد نماز مغرب مرشدی حضورداعی اسلام ادام اللہ ظلہ علیناکی بارگاہ میں راقم اپنے خواجہ تاش محترم ساجد سعیدی کے ہمراہ حاضر تھا کہ مولانا فہد سعیدی مصباحی اجازت پاکر دو مہمانوں کے ساتھ حاضر خدمت ہوئے ، دونوں مہمان صورتاً عالم تھے، اُن دونوں میں سے ایک نے مسلمانوں کی ایک سیاسی وسماجی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے عرض کیا: حضرت !اس بار الیکشن میں ہماری جماعت ایک خاص سیاسی پارٹی کی حمایت کررہی ہے ،اگر آپ کی بھی حمایت مل جاتی تو اچھا ہوتا ۔حضورداعی اسلام نے فرمایا کہ میں نہ کسی سیاسی جماعت...
ایک مرتبہ حضور داعی اسلام کی مجلس پر انوار میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ، دوران گفتگو آپ نے ارشاد فرمایا: گنہگار كو ذلت آميز نگاہوں سے نهيں ديكھنا چاہيے بلکہ اس كے ساتھ رحم و كرم اور شفقت كے ساتھ پیش آناچاہیے اور اس كي اصلاح كي كوشش كركے رحمت الٰہی سے قريب كرنےكي کوشش كرني چاہيے اوراگر دل ميں اس كے ليے نفرت كے جذبات پيدا ہوں تو اپنے گناہوں كو ياد كرنا چاہيے،كيوں کہ اس نے اس شخص كو ياتو گناه كرتے ديكھا ہوگا يا پھر صرف اپنےگمان سے حكم لگا رہا ہوگا،اگرگمان ہے تو الله...
۲۷ دسمبر ۲۰۱۳ء بروز جمعہ بعد نماز عصر مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کی بارگاہ میں ہم اپنے خواجہ تاش محب گرامی مولانا غلام مصطفیٰ ازہری اور مولانا ذیشان احمد مصباحی کے ساتھ حاضر تھے ،حقیقت بیعت اور رسم بیعت کی بات آئی تو سرکار نے فرمایا: رسم بیعت سنت ہے اور اصل بیعت واجب ہے ، رسم بیعت یہ ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر معاصی کے ترک اور احکام الٰہی پر عمل کا عہد کیا جائے، جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کیا کرتے تھے۔اصل بیعت اور حقیقت بیعت، محبت و اطاعت...
ايك مرتبہ حضور داعی اسلام مد ظلہ النورانی كی عرفانی مجلس ميں حاضری كی سعادت حاصل ہوئی ۔ دوران گفتگو، حديث جبريل کی بات شروع ہوئی تو آپ نے ارشاد فرماياکہ ا س حديث پا ك ميں سالك كے صرف دو درجے بيان كيے گئے ہيں ؛۱۔ درجۂ مشاهده۲۔درجۂ مراقبہاب اگر كسی كو يہ دونوں ہی كيفيتيں حاصل نہ ہوں تو وه ہالك ہے ۔ اب وه اپنے آپ كو ہلاكت سے نكالنے كے ليے كيا كرے؟چنانچہ بندے كو اگر مراقبے كی كيفيت حاصل نہ ہو تو پہلے اسے اپنا محاسبہ كرنا چاہیے،اپنے گناہوں كے محاسبے كے بعداپنے خالق و...
۲۶؍ستمبر۲۰۱۳ء مطابق ۲۰؍ذی قعدہ ۱۴۳۴ھ بروز جمعرات مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینابعدنماز عصر جب مسجدسے باہر تشریف لارہے تھے۔ جامعہ عارفیہ کے طلبا پروانوں کی طرح آپ کی طرف لپک پڑےاوردست بوسی کرنے کے لیےایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔حضور داعی اسلام نے فرمایا: بچو!لائن میں آجاؤ ،ایک دوسرے کو دھکانہ دو،دوسروں کو دھکادینا ایذا رسانی کا سبب ہے اورمومن کو ایذا دینا حرام ہے،جب کہ دست بوسی مباح۔فعل مباح کے لیے فعل حرام کا ارتکاب سخت غلط ہے اوراگر کوئی چاپلوسی میں دست بوسی کرے تو دست بوسی ناجائز اوراگر دست بوسی...
یکم اکتوبر ۲۰۱۳ ءمطابق۲۵ ؍ذی قعدہ ۱۴۳۴ھ بروز منگل محب مکرم مولانا جہاں گیر حسن مصباحی کے والد مرحوم کے ایصال ثواب کے موقع پر مرشدی حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا کے سامنےجلیبی لائی گئی، جامعہ عارفیہ کی ساتویں جماعت (اولیٰ) کے تقریباً چالیس طلباانجمن بنائے ہوئے سرکار کے سہ جانب بیٹھے تھے، سرکار نے طلبا کی جانب مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : بچو! جلیبی کھائی یا نہیں؟بتاؤ کہ پہلے کھا لے اور بعدمیں فاتحہ پڑھے تو کیاکوئی حرج ہے؟ ایک طالب علم نے عرض کیا:حضور!کوئی حرج نہیں ہے۔ سرکار نے فرمایا: شاباش، دونوں دو فعل ہیں ،...
قدم بوسی کی دولت میسرآئی۔صحابۂ کرام اوراولیاء اللہ کے مراتب کا ذکر آیا۔ آپ نےفرمایا:مرتبہ ٔولایت میں سب سے بلندمرتبہ صحابیت کا ہے ۔کوئی بھی غوث وقطب یا ولی کسی ادنیٰ درجے کے صحابی کے برابر نہیں ہو سکتا، کیوں کہ صحابہ کرام نے ایمان کی حالت میں اپنی ظاہری آنکھوں سے مرشداعظم محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور اُن کی صحبت کی برکت سے اپنے ظاہر و باطن کو سنوارا۔اُن کے مربی و مرشد خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور جن کی تربیت کرنے والے خود نبی ہوں اُن کے مقام و...
۲۰؍دسمبر۲۰۱۱مطابق ۲۴؍محرم الحرام۱۴۳۳ ھ بروز منگل صبح کے وقت قدم بوسی کی دولت میسر آئی۔ مرشدی حضور داعی اسلام حفظہ اللہ نے کاغذ طلب فرمایا اور خلیفہ، امام ،نا ظم ،صدر،سجادہ نشیں(متولی)، امیر، ڈائرکٹر،یا کسی بھی تنظیم کے اہم کارکن، اصحاب حل وعقد کی صفات و شرائط بیان فرمائی اور اہم نکات کو قلمبند فرمایا۔آپ نے فرمایا کہ کسی بھی دینی تحریک و تنظیم کےاصحاب حل وعقد کے اندر مندرجہ ذیل سات شرطیں ہونی چاہیے۔ ۱۔مسلم ۲۔عاقل ۳۔بالغ ۴۔عالم ۵۔عادل ۶۔قرشی(بہادر) ۷۔سنی صحیح العقیدہ ان صفات کے حامل دس لوگ ہوں جوا صحاب حل و عقد ہوں اور ان کا...
حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا طالبین اور سالکین کے انجمن میں جلوہ افروز تھے، گفتگو جاری تھی، درمیان میں ایک طالب علم نے عرض کیا کہ حضوراليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى( دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔بخاری) کا کیا مطلب ہے؟ جب کہ عطیات وصدقات لینے والوں میں ہم بعض متقی حضرات کو بھی پاتے ہیں جو اپنی ضرورت کے مطابق لیتے ہیں جب کہ دینے والوں میں غیر متقی حضرات بھی ہوتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا : دینے والا اس لیے افضل ہے کہ دنیا اس کے ہاتھ سے نکل رہی ہےاور...
حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے ایک مجلس میں درمیا ن گفتگو فرمایاکہ : لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں:۱۔عارف ۲۔عالم ۳۔جاہلجس کے پیش نظر فقط مولیٰ کی رضا ہو ،جس کا جینا مرنا صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ہو، وہ عارف ہے، جس کے پیش نظر جنت کاحصول اورجہنم سے نجات حاصل کرنا ہو، وہ عالم ہے اور جو اِن دونوں سے بے خبر ہو، رات دن صرف اپنی اسی فانی دنیا کی فکر میں ڈوبا رہے، وہ بظاہر کتنا ہی علم رکھنے والا ہوجاہل ہے: طَالِبُ الْمَوْلٰی عَارِفٌ،طَالِبُ الْعُقْبٰی عَالِمٌ،طَالِبُ الدُّنْیَاجَاہِلٌ۔ (مولیٰ کا طالب عارف...
حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینانے درمیان گفتگوفرمایا:انسان زندگی بھر صرف اپنی دنیاکے لیے کوشش کرتاہے جب کہ دنیاتو سایے کی طرح ہے ،پھر اس کی کیافکرکرنا؟اتنا فرماتے ہوئے آپ اپنی کرسی سے اٹھے اور اپنے سایے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کبھی آگے جاتے اورکبھی پیچھے ہٹتے اور یہ فرماتے جاتے کہ اگر ہم اس کو اپنی گرفت میں لیناچاہیں تو ہزارکوشش کے باوجوداس کو نہیں پکڑ سکتے ، چاہے ہزارسال اس کے پیچھے دوڑیں،یوں ہی اگر اس سےہم اپنی جان چھوڑاناچاہیں تونہیں چھڑاسکتے،اگرہم اس کو طلب کریں تو یہ ہم سے بھاگےاور اگرہم اس سے بھاگیں تو...
حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علیناکی خدمت میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی، ساتھ میں مولانا امان حسن مصباحی اورحافظ شریف استاذ دارالعلوم فیضان اشرف،باسنی ناگوربھی تھے۔تھوڑی دیربعد الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سینئروکیل محترم محمود صاحب اور عبدالقدیر صاحب بھی حاضر ہوئے۔ دوران گفتگو محمودصاحب نے پوچھا: حضرت! ولی کس کو کہتے ہیں؟ اور ولی کون ہے؟آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:ایک اعتبارسےہر مومن اللہ کاولی ہے۔چونکہ ولایت کی دو قسمیں ہیں:۱۔ولایت عامہ ۲۔ولایت خاصہ ولایت عامہ ہر اس شخص کو حاصل ہے جو اللہ کے وجود،اس کی توحیداوراس کے رسول کی رسالت اور اس کے احکام کا دل...
امسال (۲۰۱۲)عید کے بعدچندلوگوں کے ساتھ جن میں ایک عالم دین بھی تھے،دھاراوی ممبئی میں حضور داعی اسلام کی ایک مجلس میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ۔تعارف کے بعد گفتگو شروع ہوئی اور آپ نے فرمایا: علما پانی کی طرح ہیں،پانی کبھی اپنے طبعی رنگ ،بواورمزہ پر باقی ہوتاہے جب کہ کبھی ان اوصاف میں سے کوئی ایک وصف بدلا ہوا ہوتاہے۔یوں ہی کچھ علماایسے ہوتے ہیں جو اعمال صالحہ کے رنگ میں رنگے، اخلاق حسنہ کی خوشبوسے مہکتے ہوتے ہیں اور ان کے اندر عقائد صحیحہ کا ذوق ومزہ رچا بسا ہوتاہے جب کہ بعض علما ایسے ہوتے...
حضورداعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا نے درمیان گفتگو فرمایاکہ: وہ شخص جو معاشرے میں قابل احترام ہو،لوگ جس کے ہاتھ اورپاؤں چومتے ہوں اس شخص کو حجراسود کی طرح ہونا چاہیے کہ حجراسود کو نہ جانے کتنے انبیا اور اولیا نے بوسہ دیا مگر حجراسود ،حجراسود ہی رہا۔اس کی حالت کبھی متغیر نہ ہوئی،نہ اس کو غرور آیا اور نہ ہی وہ خوشامدی کا طلب گار ہوا۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے ہیں،ان کو بھی ایک ہی حالت یعنی اعتدال اورمقام آدمیت پر استقامت کے ساتھ باقی رہنا چاہیےاوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں...
Search Al-Ehsan Media
Main Al-Ehsan Assistant hun. Al-Ehsan Media ke articles, books, Sufiya-e-Kiram, Kalam aur videos dhoondhne mein aapki madad kar sakta hun.
Results published Al-Ehsan Media content par based hain.