Donate Now
تکفیر کے اصول و احکام فتاویٰ رضویہ کے حوالے سے

تکفیر کے اصول و احکام فتاویٰ رضویہ کے حوالے سے

بنیادی اعتبار سےاسلام دین دعوت و تبلیغ ہے،مذہب انکار و تکفیر نہیں ہے۔فلیبلغ الشاہد الغائب اور بلغواعنی ولو آیۃ فرما کرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس بات کا مکلف فرمادیا ہے کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے ملحدین، مشرکین، کفار ،اہل ضلالت اورفاسق و فاجر لوگوں تک ہدایت اور روشنی سے بھری باتوں کی تبلیغ و ترسیل ،حکمت و موعظت اور علمی سنجیدہ اسالیب میں کرتے رہیں۔

امت مسلمہ کے لیے یہ بات بڑی قابل افسوس ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے اس دنیا سے کوچ فرمانے کے ساتھ ہی فتنوں میں گرفتار ہوگئی۔ فتنۂ ارتداد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرماتے ہی رونما ہوا ۔ اس کے بعد کے زمانے میں نگاہ فلک نے جمل اور صفین جیسے خون آشام معر کے بھی دیکھے ۔کچھ سالوں بعد کربلا کا سانحہ بھی اس امت کے بعض بے توفیق افراد نے آل رسول کے خلاف برپا کیا جو ظلم و ستم کا استعارہ ہے۔نظریاتی سطح پر بات کریں تو حضرت علی کے عہد میں ہی خوارج کا تکفیری گروہ سامنے آیا جس کی نظر میں باب علم نبوت امیر المومنین مولائے کائنات حضرت علی ابن ابو طالب اور کاتب وحی ربانی صحابی رسول جناب امیر معاویہ بھی مسلمان نہ رہ سکے۔ اس کے بعد قدر و جبر کی بحثیں چھڑیں، معتزلہ اور مرجیہ کا ظہور ہوا، خصوصاً عہد عباسی میں یونانی علوم کی در آمدات کے سبب گمراہیوں کا بازار گرم ہوا، نظریاتی اختلافات اپنے شباب پر پہنچے ،بھانت بھانت کے عقیدے اور فرقے سامنے آئے اور ظلم یہ ہوا کہ ہر فرقہ خود ہی مسلمان تھا ،اس کے علاوہ دوسرے لوگ اسلام سے خارج تھے۔

اللہ بھلا کرےعلمائے متکلمین کا جنہوں نے تکفیر کے باب عام کو بند کیا اور مسئلہ تکفیر کو مشکل سے مشکل تر کر دیا۔ تکفیر کے لیے ضروریات دین کو انکار صریح کے ساتھ مشروط کیا، پھر اس انکار کے ثبوت کو لزوم و التزام کا فرق کر کے اور مشکل کر دیا اور آخر میں کلام، تکلم اور متکلم میں تاویل کے مختلف پہلو بتا کر مؤوّلین کی تکفیر کو مشکل ترین بنادیااور انتہا یہ کہ ایک ہی قول ایک عالم و محقق کے نزدیک صریح، ناقابل تاویل اور موجب تکفیر ٹھہرا اور دوسرے عالم و محقق کے نزدیک مؤوّل، قابل تاویل اور موجب سکوت ثابت ہوا۔(مفتی مطیع الرحمٰن مضطر رضوی نے اپنی شہ کار تصنیف ’’ اہل قبلہ کی تکفیر ‘‘میں تکفیر کلامی کے حوالے سے تین ایسی صورتیں لکھی ہیں جب ایک ہی تکفیر کسی کے نزدیک کلامی ہوتی ہے اور دوسرے کے نزدیک غیر کلامی۔ ص: ۴۶ -۵۳، مسلم کتابوی ، دربار مارکیٹ، لاہور،۲۰۰۶۔تفصیل کے لیے کتاب مذکور کا مطالعہ کریں۔)

فقہا اور متکلمین نے ایک طرف اقوال کفریہ اور اعمال کفریہ کی فہرست بنائی تو دوسری طرف یہ طے کر لیا کہ جب تک ان کے قائلین کے بارے میں پوری تحقیق و تفتیش نہ کر لی جائے ان اقوال و اعمال کی بنیاد پر شخصی تکفیر نہیں کی جا ئے گی کیونکہ کسی شخص سے کسی کفری قول و عمل کا صدور ہونا چیزےدیگر ہے اور اس شخص کا کافر ہونا چیزے دیگر ۔(وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ-طہ:۱۱۵) آدم سے رب کی معصیت ہوئی، مگر آدم کوہم’’ عاصی‘‘ نہیں کہیں گے کیو ں کہ دوسری آیت میں یہ صراحت کے ساتھ موجود ہے: (فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًاطہ :۱۱۵) آدم بھول گئے تھے، ان کے اندر معصیت کا ارادہ نہیں تھا ۔

متکلمین نے مسئلہ تکفیر کو یہ کہہ کر اور مشکل کر دیا کہ اگر ایک قول میں ننانوے پہلو کفر کے ہوں اور ایک پہلو ،ضعیف سے ضعیف ،نحیف سے نحیف ،خواہ وہ دوسرے امام کے مسلک پر ہی کیوں نہ ہو،ایمان کا ہو ، تو قائل کی تکفیر نہیں کی جائے گی ۔

متکلمین نے یہ رویہ در اصل اس لیے اپنایا اور تکفیر کو اس لیےمشکل کیا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پھر آج دنیا میں کوئی مسلمان ہی نہ ہوتا،ہر شخص دوسرے کے نزدیک کافر ہوتا۔ متکلمین کی یہ کوشش کتنی کامیاب رہی، یہ الگ سوال ہے، لیکن یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ متکلمین کے طریقۂ تاویل وتوسع کے برخلاف امت میں ہر دو رمیں تکفیری اور تشدیدی رجحان کے حاملین موجود رہے اور خوارج کے فکری تشدد کے علم بردار ہر عہد میں پائے گئے۔ تاریخ تحریک وہابیت کے واقف کار جانتے ہیں کہ اس کے بانی شیخ محمدبن عبد الوہاب نجدی میں کس قدر تشدد تھا اور وہ اپنے نظریاتی مخالفین کوکس شدت کے ساتھ کافرو مشرک کہا کرتے تھے ۔ ابن عبد الوہاب کے بھائی شیخ سلیمان بن عبد الوہاب نے اپنے بھائی کی تفہیم و تردید کے لیے جو کتاب الصواعق الالهيۃ في الرد علی الوهابيۃ لکھی ہے، اس میں بطور خاص بار بار اسی بات کو دہرایا ہے کہ امت مصطفی کو تم کافر و مشرک کیوں کہتے ہو؟ پیغمبر لوگوں کو مسلمان بنانا چاہتے تھے اور تمہارا سارا زور مسلمانوں کو کافر بنانے پر ہے۔

وہابیت کا ہندوستانی ایڈیشن جو شاہ اسماعیل دہلوی کے ذریعے عام ہو ااس کے اندر بھی متشددانہ تکفیری رجحان موجود تھا ،شاہ اسماعیل نے ایک موقع پر یہاں تک اعتراف کیا کہ میں نے شرک خفی کو شرک جلی لکھ دیاہے ۔نزہۃ الخواطر کے مصنف مولاناسید عبد الحی رائے بریلوی نے اپنی کتاب ’’دہلی اور اس کے اطراف‘‘ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ میاں نذیر حسین دہلوی کے عہد میں دہلی کے اندر موجود وہابی غیر مقلدین حضرات احناف کو مباح الدم اور ان کی عورتوں کو اپنے لیے حلال سمجھتے تھے۔(یہ لوگ یعنی حنفی المذہب مستحل الدم ہیں۔ ان کا مال مال غنیمت ہے، ان کی بیویاں ہمارے واسطے جائز ہیں۔ (دہلی اوراس کے اطراف، اردو اکادمی، دہلی،۲۰۰۱ء،ص:۵۶) )افسوس صد افسوس ! کہ عرب و عجم اور یورپ و امریکہ میں آج خارجیت و وہابیت سے متأثر افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جو تکفیر مسلم کے معاملے میں انتہائی جری اور بے باک ہیں ۔بات بات پر اپنے علمی ،فکری،فقہی،سیاسی اور سماجی مخالفین پر کفر کے فتوے داغتے ہیں اور ان کے جان و مال کے در پے آزار ہو جاتے ہیں۔ آج عالم اسلام اگر تباہ ہو رہا ہے تو اس کے پیچھے ایک بڑا عفریت یہی تکفیری رجحان ہے۔

یہ بات بھی افسوس ناک ہے بلکہ زیادہ افسوس ناک ہے کہ اس وقت ہندو بیرون ہند کے بعض وہ حضرات جو خود کو اہل سنت صوفیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، تکفیر کے معاملے میں وہ بھی کسی سے پیچھے نہیں!صوفیہ کے مسلک حق کا مدعی ہو تے ہوئے بھی ان کے اندر صوفیہ کے اخلاق و اعمال ،صلح و آشتی اور محبت و رواداری کا کوئی اثر نہیں۔بطور خاص اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی کے بعض منتسبین کا حال بہت ہی برا ہے۔(فاضل بریلوی کو جیسا غیروں نے بدنام کیا کہ وہ تکفیر میں جلدی کرنے والے تھے، ایسا ہی ان کے بعض متبعین نے بھی سمجھ لیا، جب کہ وہ اصولی اعتبار سے اہل قبلہ ٔ کلمہ گو کی تکفیر میں حد درجہ احتیاط برتتے تھے، جو کہ ائمۂ محققین کی شان ہے۔) اب وہ آپس میں ہی دست و گریباں ہیں۔ذاتی رنجش اور شخصی عناد کی بنیاد پر تکفیر کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں اور ہر ایسی بات جس کے ننانوے پہلو ایمان کے ہوں اور کوئی ایک ضعیف سے ضعیف پہلو کفر کا ہو تو وہ اس کفری پہلو کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں ،کفر کے فتوے ایشو کرتے ہیں ،زور دار تقریریں ہو تی ہیں اور ہنگامے کیے جاتےہیں، اہل نظر سے اس طرح کے واقعات پوشیدہ نہیں ہیں بلکہ اب تو ہمارے پاس اتنے شواہد موجود ہیں کہ تقریباًہر سنی بریلوی عالم کسی نہ کسی سنی بریلوی عالم کے ہی فتوے کی زد پر ہے ۔خطیب الہند مولانا عبید اللہ خان اعظمی کا تازہ معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ تفصیل کے لیے فقیہ النفس مفتی محمد مطیع الرحمن مضطر رضوی اور محقق مسائل جدیدہ مفتی محمد نظام الدین رضوی کے زیرنظر فتاویٰ کا مطالعہ کافی ہوگا۔ یہاںسر دست فتاویٰ رضویہ سے چند ایسے اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں جن سے متکلمین کے اصول تکفیر اور تکفیر کے حوالے سے فاضل بریلوی کے علمی مسلک کا ایک آئینہ قارئین کے سامنے آجائے گا ۔اقتباسات پر ہماراتبصرہ کم سے کم ہوگا۔

ایک چشم کشا عبارت

سب سے پہلے یہ عبارت پڑھیے:

’’مذہبِ معتمد ومحقق میں استحلال(حرام کو حلال ٹھہرانا جسے فقہا کفر کہتے ہیں۔) بھی علی اطلاقہ کفر نہیں جب تک زنا یا شربِ خمر یا ترک صلاۃ کی طرح اس کی حرمت ضروریاتِ دین سے نہ ہو ،غرض ضروریات کے سوا کسی شے کا انکار کفر نہیں، اگرچہ ثابت بالقواطع ہو،کہ عندالتحقیق آدمی کو اسلام سے خارج نہیں کرتا مگر انکار اُس کا جس کی تصدیق نے اُسے دائرہ اسلام میں داخل کیا تھا اور وہ نہیں مگر ضروریاتِ دین کماحققہ العلماء المحققون من الائمۃ المتکلمین (جیسا کہ ائمۂ متکلمین کے محقق علماء نے تحقیق کی ہے۔ ت) ولہذا خلافت خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا منکر مذہب تحقیق میں کافر نہیں، حالانکہ اُس کی حقانیت بالیقین قطعیات سے ثابت۔‘‘(فتاویٰ رضویہ:۵/۱۰۱)

عقائد کے درجات

’’مانی ہوئی باتیں چار (۴) قسم [کی]ہوتی ہیں:

(۱) ضروریاتِ دین :

ان کا ثبوت قرآن عظیم یا حدیث متواتر یا اجماع قطعی قطعیات الدلالات واضحۃ الافادات سے ہوتا ہے، جن میں نہ شبہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ۔ اور ان کا منکر یا ان میں باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔

(۲) ضروریاتِ مذہبِ اہل سنت و جماعت :

ان کا ثبوت بھی دلیل قطعی سے ہوتا ہے۔ مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں ایک نوعِ شبہہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے، اسی لیے ان کا منکر کافر نہیں بلکہ گمراہ ، بدمذہب ، بددین کہلاتا ہے۔

(۳) ثا بتات محکمہ :

ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی، جب کہ اس کا مفاد اکبر رائے ہو کہ جانب خلاف کو مطروح و مضمحل اور التفاتِ خاص کے ناقابل بنادے۔ اس کے ثبوت کے لیے حدیث احاد، صحیح یا حسن کافی ، اور قول سوادِ اعظم و جمہور علماء کا سندِ وافی ،فانّ یدﷲ علی الجماعۃ( اﷲ تعالیٰ کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ت)ان کا منکر وضوحِ امر کے بعد خاطی و آثم، خطاکارو گناہگار قرار پاتا ہے، نہ بددین و گمراہ نہ کافر و خارج از اسلام۔

(۴) ظنّیات محتملہ:

ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیل ظنّی بھی کافی، جس نے جانبِ خلاف کے لیے بھی گنجائش رکھی ہو، ان کے منکر کو صرف مخطی و قصور وارکہا جائے گا نہ گنہگار ، چہ جائیکہ گمراہ ، چہ جائیکہ کافر۔

ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے، جو فرقِ مراتب نہ کرے اور ایک مرتبے کی بات کو اس سے اعلیٰ درجے کی دلیل مانگے، وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکّار فیلسوف: ع

ہر سخن و قتے و ہر نکتہ مقامے دارد

گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی

( ہر بات کا کوئی وقت اور ہر نکتے کا کوئی خاص مقام ہوتا ہے۔ اگر تُو مراتب کے فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو زندیق ہے۔ت)‘‘(فتاویٰ رضویہ: ۲۹/۳۸۵)

فاضل بریلوی نے انہیں باتوں کو ایک دوسرے مقام پر تین حصوں میں اس طرح تقسیم کیا ہے:

’’مسلمانو ! مسائل تین قسم کے ہوتے ہیں:

اول:ضروریات دین، اُن کا منکر بلکہ اُن میں ادنیٰ شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔

دوم :ضروریات عقائد اہل سنت، ان کا منکر بدمذہب گمراہ ہوتا ہے۔

سوم:وہ مسائل کہ علمائے اہل سنت میں مختلف فیہ ہوں، اُن میں کسی طرف تکفیر و تضلیل ممکن نہیں۔

یہ دوسری بات ہے کہ کوئی شخص اپنے خیال میں کسی قول کو راحج جانے، خواہ تحقیقاً یعنی دلیل سے اسے وہی مرجح نظر آیا، خواہ تقلیداً کہ اسے اپنے نزدیک اکثر علماء یا اپنے معتمد علیہم کا قول پایا۔ کبھی ایک ہی مسئلہ کی صورتوں میں یہ تینوں قسمیں موجود ہوجاتی ہیں۔مثلاً اﷲ عزوجل کے لیے ید وعین کا مسئلہ :قال تعالیٰ: يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ( اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ان کے ہاتھوں پر اﷲ کا ہاتھ ہے۔ت)وقال تعالیٰ : وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي(اور اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : اور اس لیے کہ تو میری نگاہ کے سامنے تیار ہو۔ ت)

ید ہاتھ کو کہتے ہیں ، عین آنکھ کو۔ اب جو یہ کہے کہ جیسے ہمارے ہاتھ آنکھ ہیں ایسے ہی جسم کے ٹکڑے اﷲ عزوجل کے لیے ہیں، وہ قطعاً کافر ہے۔ اﷲ عزوجل کا ایسے ید و عین سے پاک ہونا ضروریات دین سے ہے، اور جو کہے کہ اس کے ید و عین بھی ہیں تو جسم ہی، مگر نہ مثل اجسام، بلکہ مشابہت اجسام سے پاک و منزہ ہیں ،وہ گمراہ بددین کہ اﷲ عزوجل کا جسم و جسمانیات سے مطلقاً پاک ومنزہ ہونا ضروریات عقائد اہل سنت و جماعت سے ہے، اور جو کہے کہ اﷲ عزوجل کے لیے یدوعین ہیں کہ مطلقاً جسمیت سے بری و مبرا ہیں، وہ اس کی صفات قدیمہ ہیں جن کی حقیقت ہم نہیں جانتے، نہ اُن میں تاویل کریں، وہ قطعاً مسلم سُنّی صحیح العقیدہ ہے، اگر چہ یہ عدم تاویل کا مسئلہ اہل سنت کا خلافیہ ہے، متاخرین نے تاویل اختیار کی، پھر اس سے نہ یہ گمراہ ہوئے نہ وہ، کہ اجر اعلیٰ المظاہر بمعنی مذکور کرتے ہیں، جس کا حاصل صرف اتنا کہ" اٰمنّابہ کل من عندربنا" ۔ ( ہم اس پر ایمان لائے ، سب ہمارے رب کے پاس سے ہے۔ت)‘‘(فتاویٰ رضویہ:۲۹/۴۱۳)

اہل قبلہ کی تکفیر سے گریز

فاضل بریلوی لکھتے ہیں:

’’بالجملہ تکفیر اہل قبلہ واصحاب کلمہ طیّبہ میں جرأت وجسارت محض جہالت بلکہ سخت آفت جس میں وبال عظیم ونکال کا صریح اندیشہ، والعیاذباللّٰہ رب العالمین، فرض قطعی ہے کہ اہل کلمہ کے ہر قول وفعل کو اگر چہ بظاہر کیسا ہی شنیع وفظیع ہو،حتی الامکان کفر سے بچائیں، اگر کوئی ضعیف سے ضعیف، نحیف سے نحیف تاویل پیدا ہو جس کی رُو سے حکمِ اسلام نکل سکتا ہو تو اس کی طرف جائیں، اور اس کے سوا اگر ہزار احتمال جانبِ کفر جاتے ہوں خیال میں نہ لائیں۔

حدیث میں ہے حضور سیّد العالمین صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

الاسلام یعلوولایعلی۔ اخرجہ الرؤیانی والدارقطنی والبیہقی والضیاء فی المختار ۃ والخلیل، کلھم عن عائذ بن عمر والمزنی رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔ اس کو رؤیانی، دار قطنی، بیہقی، مختارہ میں ضیاء اور خلیل نے عائذ بن عمرو مزنی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔(ت)

احتمال اسلام چھوڑکر احتمالاتِ کفر کی طرف جانے والے اسلام کو مغلوب اور کفر کو غالب کرتے ہیں والعیاذباللّٰہ رب العالمین۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ:۱۲/۳۱۷)

ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

’’اہل لا الہ الاﷲپر بدگمانی حرام ، اور ان کے کلام کو جس کے صحیح معنی بے تکلف درست ہوں خواہی نخواہی معاذاللہ معنی کفر کی طرف ڈھال لے جانا قطعا گناہ کبیرہ ہے۔حق سبحانہ وتعالیٰ فرماتاہے:يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ(حجرات:۱۲) اے ایمان والو! بہت گمانوں کے پاس نہ جاؤ، بیشک کچھ گمان گناہ ہیں۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ: ۲۱/ ۳۲۹)

کفر لزومی اور کفر التزامی

’’[نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ان میں سے کسی بات کا] انکار جس سے خدا مجھے اور سب مسلمانوں کو پناہ دے، دو طرح ہوتاہے، لزومی والتزامی۔

التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شئی کا تصریحاً خلاف کرے، یہ قطعا ًاجماعاً کفر ہے، اگر چہ نام کفر سے چڑے اور کمال اسلام کا دعوٰی کرے۔ کفر التزامی کے یہی معنی نہیں کہ صاف صاف اپنے کافر ہونے کا اقرار کرتاہو جیسا کہ بعض جہال سمجھتے ہیں۔ یہ اقرار تو بہت طوائف کفار میں بھی نہ پایا جائے گا۔ ہم نے دیکھا ہے بہیترے ہندو کافر کہنے سے چڑتے ہیں بلکہ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا یا جس بات کا اس نے دعوٰی کیا وہ بعینہ کفر ومخالف ضروریات دین ہو جیسے طائفہ تالفہ نیاچرہ کا وجود ملک وجن وشیطان وآسمان ونار وجنان و معجزات انبیاء علیہم افضل الصلٰوۃ والسلام سے ان معانی پر کہ اہل اسلام کے نزدیک حضور ہادی برحق صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے متواتر ہیں انکار کرنا اور اپنی تاویلات باطلہ وتوہمات عاطلہ کو لے مرنا، نہ ہر گز ہرگز ان تاویلوں کے شوشے انھیں کفر سے بچائیں گے ،نہ محبت اسلام وہمدردی قَوام کے جھوٹے دعوے کام آئیں گے۔قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (اللہ انھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔ ت)

اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے لے چلئے توانجام کار اس سے کسی ضروری دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر وامیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی طرف مؤدی اور وہ قطعاً کفر، مگر انھوں نے صراحۃً اس لازم کا اقرار نہ کیا تھا بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہل بیت عظام وغیرہم چند اکابر کرام علی مولا ھم وعلیہم الصلٰوۃ والسلام کو زبانی دعووں سے اپناپیشوا بناتے اور خلافت صدیقی وفاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں، اس قسم کے کفرمیں علماء اہل سنت مختلف ہوگئے جنھوں نے مآل مقال ولازم سخن کی طرف نظر کی حکم کفر فرمایا۔ اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بدعت وبدمذہبی وضلالت وگمراہی ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۱۵/۴۳۱-۴۳۲)

کتب فقہ میں مذکور تمام کفریات پر تکفیر نہیں کی جائے گی

تکفیر کے معاملے میں فقہا اور متکلمین کا اختلاف ہے۔ فقہا کا کام Law & Order درست رکھنا ہے، اس لیے انھوں نے اپنی کتابوں میں کفریہ اقوال و اعمال کی طویل فہرست دے دی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان کفریات سے آگاہ ہوں اور ان کے ارتکاب سے بچیں۔ لیکن جہاں تک ان کفریات کی بنیاد پر شخصی اور متعین طور پر کسی کو کافر کہنے کا مسئلہ ہے تو فقہا نے بھی اس میں بڑی احتیاطیں برتی ہیں، بلکہ بہت سے فقہا نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ہم ان کفریات کی بنیاد پر متعین طور پر لوگوں کے کفر کے فیصلے نہیں کرتے۔(يقع في كلام أهل المذاهب تكفير كثير ولكن ليس من كلام الفقهاء الذين هم المجتهدون (شرح فتح القدير:6/ 100)) فاضل بریلوی کا رجحان یہ ہے کہ کفر اگرچہ اقبح حرام ہے، اس لیے کتب فقہ میں باب الردہ موجود ہے اور اس کے تحت کفریات کی فہرست درج ہے، لیکن بنیادی طور پر اس کا تعلق عقیدہ سے ہے، اس لیے شخصی طور پر کسی کے کفر کا فیصلہ متکلمین کا کام ہےاور وہ اس سلسلے میں انتہائی محتاط ہیں۔ فاضل بریلوی لکھتے ہیں:

’’کسی قول یافعل کا موجب کفر ہوناتو خود افعالِ مکلفین ہی سے بحث ہے۔ اس کے بیان کو کتب فقہ میں 'باب الردۃمذکور اور صدہا اقوال وافعال پر انہی مشائخ کے بےشمار فتوائے کفر مسطور، مگر محققین محتاط تارکین تفریط وافراط باآنکہ سچے دل سے حنفی مقلد اور ان مشائخ کرام کے خادم و معتقد ہیں،زینہار ان پر فتوی نہیں دیتے اور حتی الامکان تکفیر سے احتراز رکھتے بلکہ صاف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی روایت ضعیفہ اگر چہ دوسرے ہی مذہب کی دربارہ اسلام مل جائے گی اسی پر عمل کریں گے، اور جب تک تکفیر پر اجماع نہ ہولے کافر نہ کہیں گے، وہی درمختار جس میں اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ الخ تھا اسی میں ہے:

الفاظہ تعرف فی الفتاوٰی بل افردت بالتالیف مع انہ لا یفتی بالکفر بشیئ منھا الا فیما اتفق المشایخ علیہ کما سیجیئ، قال فی البحر: وقد الزمت نفسی ان لا افتی بشیئ منھایعنی الفاظ کفر کتب فتاوٰی میں معروف ہیں بلکہ ان کے بیان میں مستقل کتابیں تصنیف ہوئیں، اس کے ساتھ ہی یہ کہ ان میں سے کسی کی بناء پر فتوی کفر نہ دیاجائےگا مگر جہاں مشائخ کا اتفاق ثابت ہو جیسا کہ عنقریب کلام مصنف میں آتا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا: میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ ان میں سے کسی پر فتویٰ نہ دوں۔

تنویر الابصارمیں ہے :لایفتی بتکفیر مسلم امکن حمل کلامہ علی محمل حسن اوکان فی کفرہ خلاف ولوروایۃ ضعیفۃ کسی مسلمان کے کفر پر فتوٰی نہ دیا جائے جبکہ اس کا کلام اچھے پہلو پر اتار سکیں یا کفر میں خلاف ہو، اگر چہ ضعیف ہی روایت سے۔

ردالمحتار میں ہے :قال الخیرالرملی: اقول: ولوکانت الروایۃ لغیراھل مذھبنا ویدل علیٰ ذلک اشتراط کون مایوجب الکفر مجمعاً علیہ یعنی علامہ خیرالدین رملی استادصاحبِ دُرمختار نے فرمایا: اگرچہ وہ روایت دوسرے مذہب مثلاً شافعیہ یامالکیہ کی ہو، اس لیے کہ تکفیر کے لیے اُس بات کے کفرہونے پر اجماع شرط ہے۔

یہ علامہ بحر صاحب البحر و علامہ خیررملی و مدقق علائی دربارہ تقلید جیسا تصلب شدید حق و سدید رکھنے والے ہیں ان کی تصانیف جلیلہ بحر واشباہ و رسائل زینیہ ودر و فتاوٰی خیریہ وغیرہا کے مطالعہ سے واضح، مگریہاں اُن کے کلمات دیکھئے کہ جب تک اجماع نہ ہو فتوٰی مشائخ پر عمل نہ کریں گے، ہم نے التزام کیاہے کہ اس پرفتوی نہ دیں گے، تو وجہ کیاوہی کہ یہ بحث اگرچہ افعال مکلفین سے متعلق ہے مگر فقہ کادائرہ تو حیثیت حلال وحرام تک منتہی ہوگیا، آگے کفر واسلام، اگرچہ یہ اعظم فرض، وہ اخبث حرام، مگراصالۃً اس مسئلہ کافن علم عقائدوکلام، وہاں تحقیق ہوچکاہے کہ جب تک ضروریات دین سے کسی شئے کاانکارنہ ہو کفرنہیں، تو ان کے غیرمیں اجماع ہرگز نہ ہوگا اور معاذاﷲ ان میں سے کسی کاانکارہوتو اجماع رُک نہیں سکتا، لہٰذا تمام فتاوٰی ونقول سے قطع نظر کرکے مسائل اجماعیہ میں حصر فرمادیا۔(اقول: علامہ اقبال کی شاعری اردو اسلامی دنیا کی انتہائی مقبول شاعری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ بعض علما نے اقبال کے بعض اشعار کی بنیاد پر ان کی تردید، تضلیل بلکہ تکفیر بھی کی۔ لیکن اکثر علما اقبال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی شاعری میں موجود بعض بظاہر خلاف شرع امور کی تاویل کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا اصول کی روشنی میں ہمیں اقبال کے بارے میں بھی یہی رویہ-عدم تکفیر-اپنانا چاہیے۔نیز اقبال کے اس قسم کے اشعار پڑھنے اور نقل کر نے والوں کے بارے میں بھی بدرجۂ اولیٰ یہی رویہ اپنایا جانا چاہیے، بشرطیکہ وہ اہل قبلہ ہوں۔)‘‘ (فتاویٰ رضویہ: ۹/ ۹۴۱،۹۴۲)

ہنود سے مشابہ بعض اعمال کا حکم

ہمارے یہاں تو من تشبہ بقوم فہومنہم کو اتنا عام کر دیا گیا ہےکہ جیسے اب کسی کے لیے مسلمان ہونا ممکن ہی نہ رہے ،اس کی زندگی کا کوئی پہلو کفار ومشرکین سے مشابہ ہوا اور وہ فوراًکافرومشرک ہو گیا۔لیکن فاضل بریلوی کا احتیاط یہ ہے کہ وہ بعض ایسے اعمال پر بھی کفر و شرک کا فتویٰ دیتےہوئے گریز کرتے ہیںجو ہنود کے اعمال سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہاں ایک استفتا اور اس کے جواب سے ایک اقتباس دیا جاتاہے ۔فاضل بریلوی نے اس میں ایک بڑی اصولی بات یہ لکھی ہے کہ نصوص میں جن مقامات پر کفرو شرک کے الفاظ آئے ہیں ، وہ ہر جگہ اصطلاحی کفرو شرک کے معنی میں نہیں ہیں۔ملاحظہ فرمایئے:

’’کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو بکرے نذر ونیاز یعنی تقرب و عبادت کسی پیر صاحب کے، پرورش ہوتے ہیں اور قندوریاں بنائی جاتی ہیں اور پنڈا بھرتے ہیں جیسے ہنود بھرتے ہیں اور ڈوری اور بدھی اور چوٹی اور جھرو لااور تاتے گلے میں ڈالتے ہیں، یہ امور اخص شرع ہیں یانہیں اور ان امور کا کرنے والا مشرک ہوتاہے یا نہیں؟ ہمارے شہر چور،وریاست بیکانیر میں، اندر ان مسائل کے بحث ہورہی ہے۔ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ۔ت)

الجواب: اللھم احفظنا ( اے اللہ! ہماری حفاظت فرما۔ ت) آدمی حقیقۃ کسی بات سے مشرک نہیں ہوتا جب تک غیر خدا کو معبود یا مستقل بالذات وواجب الوجود نہ جانے۔ بعض نصوص میں بعض افعال پراطلاق شرک تشبیہاً یا تغلیظاً یا بارادہ و مقارنت باعتقاد منافی توحید وامثال ذلک من التاویلات المعروفۃ بین العلماء وارد ہوا ہے، جیسے کفر نہیں مگر انکار ضروریات دین، اگر چہ ایسی ہی تاویلات سے بعض اعمال پر اطلاق کفر آیا ہے، یہاں ہر گز علی الاطلاق شرک وکفر مصطلح علم عقائد کہ آدمی کو اسلام سے خارج کردیں اور بے توبہ مغفور نہ ہوں، زنہار مراد نہیں کہ یہ عقیدہ اجماعیہ اہل سنت کے خلاف ہے، ہر شرک کفر ہے اور کفر مزیل اسلام، اور اہل سنت کا اجماع ہے کہ مومن کسی کبیرہ کے سبب اسلام سے خارج نہیں ہوتا ایسی جگہ نصوص کو علی اطلاقہا کفر وشرک مصطلح پر حمل کرنا اشقیائے خوارج کا مذہب مطرود ہے اور شرک اصغر ٹھہرا کر پھر قطعا مثل شرک حقیقی غیر مغفورماننا، وہابیہ نجدیہ کا خبط مردود۔‘‘(فتاویٰ رضویہ: ۲۱/ ۱۳۱)

مشرکین کا پرساد کھانا جائز

یہ فتویٰ بھی فتاویٰ رضویہ ہی کا ہے:

’’کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ہنودجو اپنے معبودان باطلہ کو، ذبیحہ کے سوااور قسم طعام وشیرینی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اس کا بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں، اس کا کھانا شرعا حلال ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب : حلال ہے لعدم المحرم (حرمت کی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے۔ ت) مگر مسلمان کو احتراز چاہئےلخبث النسبۃ (نسبت کی خباثت کی وجہ سے۔ ت)

عالمگیریہ میں ہے:مسلم ذبح شاۃ المجوسی لبیت نارھم اوالکافر لالھتہم تؤکل لانہ سمی تعالیٰ ویکرہ للمسلم کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن جامع الفتاوٰی ۔

اقول: فاذا حلت ھذہ وھی ذبیحۃ فالمسئول عنہ اولیٰ بالحل۔ اگر کسی مسلمان نے آتش پر ست کی بکری اس کے آتشکدہ کے لئے یا کافر کے جھوٹے خداؤں کے لئے ذبح کر ڈالی تو اسے کھایا جائے گا (یعنی کھانا چاہے تو کھاسکتاہے) اس لئے کہ مسلمان نے اس پر خدا کا نام لیاہے لیکن ایسا کرنا مسلمان کے لئے مکروہ ہے تاتارخانیہ میں جامع الفتاوٰی کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے۔

اقول (میں کہتاہوں) جب یہ ذبیحہ ہونے کے بعد حلال ہے تو پھر جس مسئلہ کے متعلق سوال کیا گیا وہ بطریق اولیٰ حلال ہے۔ (ت)‘‘(فتاویٰ رضویہ: ۲۱/۶۰۷)

داعی و مبلغ کفار کے میلے میں جا سکتاہے

مسلک اعلیٰ حضرت کی غلط تعبیر و تشریح کرنے والے شدت سے اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ کفار و مشرکین اور گمراہوں سے کسی طرح بھی ملنا روا نہیں،حتی کہ داعی ومبلغ علما ومشائخ پر بھی اس ’’جرم ‘‘کی پاداش میں فتوے جڑتےہوئے دیر نہیں لگتی۔ وہ اس میں بھی فرق نہیں کرتے کہ داعی خود مدعو سے ملنے جائے یا مدعو داعی سے ملنے آئے۔اس سلسلے میں فاضل بریلوی کا یہ فتویٰ چشم بینا سے پڑھیے۔کفار ومشرکین کے میلوں میں شرکت کو ناجائز و حرام بتاتےہوئے آخر میں لکھتے ہیں :

’’ہاں ایک صورت جواز مطلق کی ہے، وہ یہ کہ عالم انھیں ہدایت اور اسلام کی طرف دعوت کے لئے جائے جبکہ اس پر قادر ہو، یہ جانا حسن ومحمود ہے اگر چہ ان کامذہبی میلہ ہو، ایسا تشریف لے جانا خود حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بارہا ثابت ہے، مشرکین کا موسم بھی اعلان شرک ہوتا لبیک میں کہتے :لاشریک الا شریکا ھو لک تملکہ و ماملک ۔تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک جس کاتو مالک ہے مگر وہ تیرا مالک نہیں۔ (ت)‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۲۱/۱۶۱)

کفار کا ہدیہ قبول کرنا

کفارو مشرکین کے تحائف کی قبولیت کے حوالے سے مختلف روایتیں ہیں ،بعض اثبات میں ہیں تو بعض نفی میں۔فاضل بریلوی اس طرح کی روایات لکھنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں:

’’اسی طرح اور بھی حدیثیں رد وقبول دونوں میں وارد ہیں:فمنھم من زعم ان الرد نسخ القبول ورد بجھل التاریخ، ومنھم من وفق بان من قبلہ منہم فاھل کتاب لا مشرک، کما فی مجمع البحار، اقول: قد قبل عن کسرٰی ولم یکن کتابیا الا ان یتمسک فی المجوس سنّوا بھم سنۃ اھل الکتاب غیر ناکحی نساءھم ولا اٰکلی ذبائحھم ۔ ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ ہدیہ رد کرنے سے اس کا قبول کرنا منسوخ ہوااوریہ غلط ہے کیونکہ تاریخ معلوم نہیں۔ اور بعض نے دونوں میں مطابقت اور موافقت پیدا کی کہ جن کا ہدیہ قبول فرمایا وہ اہل کتاب تھے مشرک نہ تھے، جیسا کہ مجمع البحارمیں ہے۔ اقول: (میں کہتاہوں) کہ آپ نے کسرٰی شاہ ایران کا ہدیہ قبول فرمایا، حالانکہ وہ اہل کتاب میں سے نہ تھا، بلکہ مجوس سے تھا۔ مگر یوں استدلال کیا جائے کہ مجوسی نے اہل کتاب کی روش اختیار کی، البتہ ان کی عورتوں سے نکاح اور ان کے ذبیحہ کا کھانا جائز نہیں۔ (ت)

اس بارہ میں تحقیق یہ ہے کہ یہ امر مصلحت وقت و حالت ہدیہ آرندہ وہدیہ گیرندہ پر ہے، اگر تالیف قلب کی نیت ہے اور امید رکھتاہےکہ اس سے ہدایاو تحائف لینے دینےکا معاملہ رکھنے میں اسے اسلام کی طرف رغبت ہوگی تو ضرور لے اور اگر حالت ایسی ہے کہ نہ لینے میں اسے کوفت پہنچےگی اور اپنے مذہب باطل سے بیزار ہوگا تو ہر گز نہ لے، اور گر اندیشہ ہے کہ لینے کے باعث معاذاللہ اپنے قلب میں کافر کی طرف سے کچھ میل یا اس کے ساتھ کسی امر دینی میں نرمی ومداہنت راہ پائے گی تو اس ہدیہ کو آگ جانے۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ:۲۱/۶۲۵)

حیرت ہے کہ فاضل بریلوی کے ذہن نے غیر جمہوری ہندوستان میں اس مسئلے کا ادراک کر لیا اور دونوں طرح کی روایتوں میں تطبیق تلاش کر لی لیکن ان کے بعض غالی معتقدین آج کے اس جمہوری عہد میں بھی ایک ہی راگ الاپے جا رہے ہیں۔انہیں اس فتوے کو بغور پڑھنا چاہیے،اس سے ان کی جدید جمہوری دنیا کی بہت ساری الجھنوں کا ازالہ ہو جائے گا ۔

تصویر کا سجدہ

فاضل بریلوی کا یہ فتویٰ بھی نگاہ بصیرت سے پڑھیے:

’’تصویر اگر مشرکین کے معبودان باطل کی ہو تو اسے سجدہ کرنے پر بھی مطلقاً حکم کفر ہے۔لاشتراک العلۃ بل لافرق بینہا وبین الوثن الا بالتسطیح بالتجسیم۔اس لئے کہ علت مشترک ہے (لہذا حکم بھی ایک ہے) بلکہ اس میں (یعنی تصویر) اور بت میں سوائے جسمانیت اور کوئی فرق نہیں (مراد یہ کہ وثن(بت) میں جسم ہے جبکہ عکسی اور نقشی تصویر میں جسم نہیں)۔ (ت)اور اگر ایسی نہیں تو اسے سجدہ کرنا مطلقا حرام وکبیرہ ہے مگر کفر نہیں جب تک بہ نیت عبادت نہ ہو۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ:۲۱/۱۶۳)

تشیع اور حب علی

موجودہ علمی معاشرے کا بحران یہ ہےکہ یہاں شیعیت،رافضیت ،تفضیلیت، شتم صحابہ اورحب علی جیسے سارے الفاظ متراد ف سے لگتےہیں۔بلکہ اہل تشیع سے کسی بھی سطح پر راہ و رسم رکھنے والوں کو بھی اسی زمرے (خلود فی النار)میں سمجھا جاتاہے ۔اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے یہاں معاملہ ایسا نہیں ہے۔وہ ہر جگہ فرق مراتب کا لحاظ رکھتے ہیں اور جرائم کی سنگینی کے پیش نظر سزائیں تجویز کرتے ہیں۔مثال کے طور پر ان کا یہ اقتباس دیکھیے:

’’ تقر یب کے قو ل ''ان پر تشیع کی تہمت لگا ئی گئی ہے''سے دھو کا کھا کر ان پر رفض کا عیب لگا نا بد بو دار جہا لت ہے، رفض و تشیع میں زمین و آسما ن کا فر ق ہے، بسا اوقا ت لفظ تشیع کا اطلا ق حضر ت مو لا علی کو عثمان غنی رضی اللہ تعا لی عنہم پر فضیلت دینے پر ہو تا ہے جبکہ یہ ائمہ بالخصوص اعلا م کو فہ کا مذہب ہے، صا حب تقر یب نے خو د بھی ''ہد ی السا ری ''میں فر ما یا: تشیع، حضر ت علی کی صحا بہ سے زا ئدمحبت کا نا م ہے تو اگر کو ئی آپ کو ابو بکر و عمر پر فضیلت دیتا ہے تو وہ غالی شیعہ ہے اور اسے رافضی بھی کہا جاتا ہے اوراس کے ساتھ گا لی اور بغض کا اظہا ر کر ے تو غا لی را فضی ہے۔اور اس کی پور ی تحقیق ہما ر ی تحر یر ا ت حد یثیہ میں ہے۔

وفی المقا صد للعلا مۃ التفتا زا نی: الافضلیۃ عند نا بتر تیب الخلا فۃ مع تردد فیما بین عثمان وعلی رضی اللہ تعا لی عنہما۔مقا صد علامہ تفتازانی میں ہے: ہمارے نز دیک خلفا ئے اربعہ میں فضیلت خلا فت [کی]تر تیب پر ہے، حضر ت عثمان و علی رضی اللہ تعالی عنہما میں تردد کے ساتھ۔

وفی شر حہا لہ: قا ل اھل السنۃ: الافضل ابو بکر ثم عمر ثم عثما ن ثم علی۔ وقد ما ل بعض منھم الی تفضیل علیّ علی عثما ن رضی اللہ تعا لی عنہما والبعض الی التو قف فیما بینھما۔شر ح مقا صد للتفتا زانی میں ہے: اہل سنت نے کہا کہ سب سے افضل ابو بکر، پھر عمر، پھر عثما ن، پھر علی اور بعض حضر ت علی کو عثما ن سے افضل ما نتے ہیں۔ رضو ا ن اللہ تعا لی علیہم اجمعین اور بعض ان دو نو ں کے در میا ن توقف کے قا ئل ہیں۔

وفی الصوا عق للاما م ابن حجر: جز م الکو فیون و منھم سفیان الثو ری بتفضیل علیٍّ علی عثمان، و قیل: با لوقف عن التفاضل بینھما وھو روایۃ عن مالک۔ اما م ابن حجر مکی رحمۃ اللہ تعا لی علیہ کی صوا عق محر قہ میں ہے: ائمہ کو فہ (انہیں میں سفیان ثو ر ی ہیں) نے حضر ت علی کو حضر ت عثما ن پر بالیقین افضل گر دا نا اور اما م ما لک وغیر ہ سے تو قف مر و ی ہے۔

وفی تہذیب التہذیب فی تر جمۃ الا ما م الا عمش: کا ن فیہ تشیع۔تہذیب التہذیب میں حضر ت اما م اعمش کے حا لا ت میں تحر یر ہے کہ ان میں تشیع تھا ۔

وفی شر ح الفقہ الا کبر لعلی قا ر ی رو ی عن ابی حنیفۃ تفضیل علی علیٰ عثما ن رضی اللہ تعا لی عنہما و الصحیح ما علیہ جمہو ر اھل السنۃ وھو ظا ہر من قو ل ابی حنیفۃ رضی اللہ تعا لی عنہ علی ما رتبہ ھنا وفق مرا تب الخلا فۃ۔شرح فقہ اکبر ملا علی قا ر ی میں اما م صا حب کے با رے میں لکھا ہے: حضر ت ابو حنیفہ رضی اللہ تعا لی عنہ سے حضرت عثما ن غنی پر حضر ت علی کی فضیلت مر و ی ہے (رضی اللہ تعا لی عنہ )لیکن صحیح وہی ہے جس پر جمہو ر اہل سنت ہیں اور فقہ اکبر میں اس کو تر تیب خلا فت کے مو افق رکھنے سے معلوم ہو تا ہے کہ یہی آپ کا قو ل بھی ہے۔

ثم لا یذ ھب عنک الفر ق بین شیعی و رمی با لتشیع و کم فی الصحیحین ممن رمی بہ وقد عد فی ھد ی السا ر ی عشر ین منھم فی مسا نید صحیح البخاری فضلا عن تعلیقا تہ ،بل فیہ مثل عبا د بن یعقو ب را فضی جلد ثم الشبھۃلا قیمۃ لہا را سا، فکم فی الصحیحین ممن رمی با نو اع البدع وقد تقررعند ھم ان المبتدع تقبل روا یتہ اذا لم یکن دا عیۃ۔پھر لفظ شیعی اور رمی با لتشیع کا فر ق بھی ملحو ظ رہنا چا ہیے ۔بخا ری کے کتنے ہی ایسے راوی ہیں جن پر تشیع کا الزا م ہے۔ ''ہدی السا ری ''میں ایسی بیس سند و ں کی تفصیل ہے جو خا ص مسا نید[صحیح] بخا ری میں ہیں، تعلیقات کا تو ذکر ہی الگ رہا، بلکہ روا ۃ بخا ر ی میں عبا د بن یعقوب جیسا را فضی ہے جس پر کو ڑے کی حد جا ری [کی] گئی تھی اور جرح میں شبہہ کی تو کو ئی اہمیت نہیں، خو د بخا ری ومسلم میں بہت سے روا ی ہیں جن پر انو ا ع واقسا م کی بدعت کا شبہہ کیا گیا اور اصو ل محد ثین کی رو سے خو د بد عتی بھی اپنے مذہب نا مہذب کا دا عی و مبلغ نہ ہو تو اس کی روایت مقبو ل ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ: ۲۸/ ۷۷-۷۹)

شاتمان صحابہ کا حکم

شاتمان صحابہ اور منکرین خلافت شیخین کے تعلق سے بالعموم فقہا نے تکفیر کاقول کیا ہے۔ اس سیاق میں درجن بھر سے زائد تکفیری فقہی عبارتیں نقل کرنے کے بعد فاضل بریلوی نے لکھا ہے کہ اگر ایسے بدتمیز لوگ کسی امر ضروری دینی کے منکر نہ ہوں، تو متکلمین ان کی بھی تکفیر نہیں کرتے اور اس حوالے سے میرا موقف بھی یہی ہے۔ فرماتے ہیں:

’’والاحوط فیہ قول المتکلمین انھم ضلال من کلاب النار لاکفار وبہ نأخذ۔ اس میں محتاط متکلمین کا قول ہے کہ وہ گمراہ اور جہنمی کُتے ہیں کافر نہیں، اور یہی ہمارا مسلک ہے (ت)‘‘ (۱۴/۲۵۹)

زیدیہ گمراہ ہیں کافر نہیں

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اہل تشیع کی کلی تکفیر نہیں کرتے ،حتی کہ فرقۂ زیدیہ کے پیچھے نماز کی اقتدا کو کراہت شدیدہ کے ساتھ درست سمجھتےہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ فرقہ زیدیہ ان کے نزدیک قطعی طورپر کافرنہیں۔لکھتےہیں:

’’تعزیہ رائجہ بنانے کو اچھا جاننا،بدعت شیعہ کی تحسین اور حضرت امیر المومنین سیدنا مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کو حضرت شیخین رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے افضل بتانا رفض و بد مذہبی، یہی وجوہ اس شخص کے پیچھے نماز کے سخت مکروہ ہونے کو کافی تھے ۔خلاصہ وفتح القدیر وہندیہ وغیرہا میں ہے:ان فضل علیا علیھما فمبتدع ۔اگرکوئی شخص سیدنا علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو دونوں خلفاء پرفضیلت دیتا ہے تو وہ بدعتی ہے ۔ت)

ارکان اربعہ میں ہے:اما الشیعۃ الذین یفضلون علیاعلی الشیخین ولایطعنون فیھما اصلا کالزید یۃ تجوز خلفھم الصلٰوۃ لکن تکرہ کراھۃ شدیدۃ ۔ وہ شیعہ لوگ جوحضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوشیخین (حضرت ابوبکروحضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما) پر فضیلت دیتے ہیں اور ان پر ہر گز طعن و تشنیع بھی نہیں کرتے مثلاً فرقہ زیدیہ کے لوگ ،تو ان کے پیچھے نماز جائز ہے لیکن سخت مکروہ ۔ (ت)‘‘(فتاویٰ رضویہ:۶/۴۴۲)

قوم بوہرہ کی تکفیر مشروط ہے

شیعوں کا ایک فرقہ بوہرہ ہے۔گجرات اور مہاراشٹروغیرہ کے علاقوں میں ان کی بڑی باثروت تعداد ہے۔ ان کے ذبیحے سے متعلق فاضل بریلوی کی جو رائے ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سب کی مطلقاتکفیر نہیں کرتے۔فرماتے ہیں :

’’قوم بوہرہ میں جو شخص صرف بدعت رفض وغیرہ رکھتاہو اور اس کے ساتھ ضروریات دین کا منکر نہ ہو تو اس کا بھی ذبیحہ حلال، کہ اگر چہ بدعتی مذہب ہے مگر اسلام رکھتاہے، اور اگر ضروریات دین سے کسی امر کا انکار کرے گو دعوٰی اسلام رکھتا اور کلمہ طیبہ پڑھتا ہو، جیسے آج کل اکثر روافض زمانہ کا حال ہے تو کافر مرتد ہے اور اس کا ذبیحہ حرام مطلقاً۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۲۰/۲۴۳)

محقق طوسی کی عدم تکفیر کی علت

ہمارے یہاں ایک تکفیری طبقہ ایساہے جس کی نظرمیں اس کے ایک مختصر سے جتھے کے علاوہ دنیا میں کوئی مسلمان ہے ہی نہیں۔فتاویٰ رضویہ کی فقہی عبارتوں کو لے کر وہ اپنے مزعومات و دعاوی کا اثبات بھی کرتاہے،جب کہ فاضل بریلوی کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ سد ذرائع کے تحت احکام بیان کرنے کے بعد مقام تحقیق پر آتے ہیں تو متکلمانہ انداز نظر اپناتے ہوئے وہ گہر ہائے تاب دارلٹاتے ہیں جو ارباب نظر کے لیے دعوت نظارہ اور متشددین کے لیے دعوت اصلاح قبلہ ہیں۔

روافض کے مشہور عالم و محقق علامہ طوسی اثناعشری کے بارے میں ایک استفتا اور فاضل بریلوی کا محتاط جواب آپ کی نذر ہے ۔ واضح رہے کہ یہ وہی محقق طوسی ہیں جن کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ یہ ہلاکو کے ساتھ تھے، موصوف نے بے شمار سنی علما ، فقہا اور قضاۃ کا قتل کرایا، دینی کتابیں تلف کرائیں۔ابن قیم نے تو انھیں کافر و زندیق تک لکھا ہے۔ لیکن فاضل بریلوی کا احتیاط دیکھیے :

’’کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص نصیر الدین طوسی ملوم ومذموم کو بلفظ مولی الاعظم اورقدوۃ العلماء الراسخین اور نصیر الملۃ والدین قدس اللہ تعالیٰ نفسہ روح رمسہ (بڑا مولیٰ، پختہ علماء کے پیشوا، دین اور ملت کے مددگار، اللہ تعالیٰ ان کے نفس کو پاک کرے اور ان کی ہڈیوں کو آرام پہنچائے۔ ت) سے تعبیر کرے تو ایسے کو فاسق یا کافرنہ جاننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوا یا نہیں، اگر نہ ہواتوفاسق بھی ہوا یانہیں؟ امید کہ دلیل عقلی ونقلی سے اس کا اثبات فرمایا جائے۔

الجواب:طوسی کا رفض حدکفرنہ تھا بلکہ اس نے حتی الامکان اپنے اگلوں کے کفر کی تاویلات کیں، اور نہ بن پڑی تو منکر ہوگیا اور اس کی ایسی توجیہ گناہ ضرور ہے اور منطقی فلسفی شراح ومحشین معصوم نہیں، جہاں جہاں اس نے خلاف اہل سنت کیا ہے اس کا رد کردیا گیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔‘‘(فتاویٰ رضویہ:۲۱/۲۱۹)

وہابیہ کی تکفیر سے کف لسان

فاضل بریلوی نے شیخ ابن عبدالوہاب نجدی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی کفریات پر طول طویل بحثیں کی ہیں اور دلائل وشواہد کے انبار لگادیے ہیں، لیکن اس کے باوجود تکفیر کے معاملے میں کف لسان اور احتیاط برتتے ہیں۔ وہابیہ کی تکفیر کے حوالے سے بہت سے اقوال نقل کرنے کےبعد آخر میں لکھتے ہیں:

’’بالجملہ اس میں شک نہیں کہ اس گروہ ناحق پر ہزاروں وجہ سے کفر لازم، اور جماہیر فقہائے کرام کی تصریحیں ان کے صریح کفر پر حکم۔نسأل تعالیٰ العفو والعافیۃ فی الدین والدنیا والاخرۃ۔ہم اللہ تعالیٰ سے دین اور آخر ت میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)‘‘

لیکن اس کے بعد’’ تنبیہ نبیہ‘‘ کے زیرعنوان لکھتے ہیں:

’’یہ حکم فقہی متعلق بکلمات سفہی تھا، مگر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں بے حد برکتیں ہمارے علمائے کرام عظمائے اسلام معظمین کلمہ خیرالانام علیہ وعلیہم السلام پر کہ یہ کچھ دیکھتے ،وہ کچھ سخت و شدید ایذائیں پاتے، اس طائفہ تالفہ کے پیرو سے ناحق ناروا بات پر سچے مسلمانوں خالص سنیوں کی نسبت حکم کفر وشرک سنتے، ایسی ناپاک وغلیظ گالیاں کھاتے ہیں باایں ہمہ نہ شدت غضب دامن احتیاط ان کے ہاتھ سےچھڑاتی، نہ ان نالائق ولایعنی خباثتوں پر قوت انتقام حرکت میں آتی ہے، وہ اب تک یہی تحقیق فرمارہے ہیں کہ لزوم والتزام میں فرق ہے، اقوال کا کلمہ کفر ہونااور بات، اور قائل کو کافر مان لینا اور بات، ہم احتیاط برتیں گے، سکوت کریں گے، جب تک ضعیف سا ضعیف احتمال ملے گا حکم کفر جاری کرتے ڈریں گے، فقیر غفراللہ تعالیٰ لہ، نے اس مبحث کا قدرے بیان آخر رسالہ سبحٰن السبوح عن عیب کذب مقبوح (۱۳۰۷ھ) میں کیا اور وہاں بھی بآنکہ اس امام وطائفہ پر صرف ایک مسئلہ امکان کذب میں اٹھتر(۷۸) وجہ سے لزوم کفر کا ثبوت دیا، حکم کفر سے کف لسان ہی لیا۔

بالجملہ اس طائفہ حائفہ خصوصا ان کے پیشوا کا حال مثل یزید پلید علیہ ماعلیہ ہے کہ محتاطین نے اس کی تکفیر سے سکوت پسند کیا، ہاں یزید مرید اور ان کے امام عنید میں اتنا فرق ہے کہ اس خبیث سے ظلم وفسق وفجور متواتر مگر کفر متواتر نہیں اور ان حضرات سے یہ سب کلمات کفر اعلیٰ درجہ تواتر پر ہیں، پھر اگرچہ ہم براہ احتیاط تکفیر سے زبان روکیں ان کے خسار و بوار کویہ کیا کم ہے کہ جماہیر ائمہ کرام فقہائےاسلام کے نزدیک ان پر بوجوہ کثیرہ کفر لازم، والعیاذ باللہ القیوم الدائم۔‘‘(فتاویٰ رضویہ:۱۵/۲۵۶)

امکان کذب باری کے قائلین کی تکفیر

بیسویں صدی میں مسلکی منافرت کی توسیع کے لیے جو بہت سے گم راہ کن موضوعات زیر بحث آئے ان میں ایک اہم ترین امکان کذب باری کا مسئلہ بھی ہے۔ اس کے رد میں فاضل بریلوی کا رسالہ سُبحٰن السبوح عن کذب عیب مقبوح (۱۳۰۷ھ)ان کے چند نہایت عالمانہ رسائل میں سے ایک ہے۔مستفتی نے امکان کذب کے قائلین کے پیچھے نماز کا مسئلہ پوچھا تھا۔ کتاب کے آخر میں’’خاتمہ تحقیق حکمِ قائل میں‘‘کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’جان برادر! یہ پوچھتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ کیساہے اورا ن کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے، یہ پوچھو کہ امام وماموم پر ایک جماعت ائمہ کے نزدیک کتنی وجہ سے کفرآتاہے۔ حاش للہ حاش للہ ہزار ہزار بار حاش للہ!! میں ہر گز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا، ان مقتدیوں یعنی مدعیان جدید کوتو ابھی تک مسلمان ہی جانتاہوں اگرچہ ان کی بدعت وضلالت میں شک نہیں اور امام الطائفہ کے کفر پر بھی ہم حکم نہیں کرتے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اﷲ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے، جب تک وہ وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن وجلی نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لئے کوئی ضعیف ساضعیف محمل بھی نہ رہے۔ فان الاسلام یعلو ولایعلی (اسلام غالب ہے مغلوب نہیں ۔ت) مگریہ کہتاہوں اوربےشک کہتاہوں کہ بلاریب ان تابع ومتبوع سب پر ایک گروہ علماء کے مذہب میں بوجہ کثیرہ کفر لازم ۔ والعیاذ باﷲ ذی الفضل الدائم‘‘(فتاویٰ رضویہ:۱۵/۴۲۹)

اسی رسالے کے آخری سطور میں لکھتےہیں:

’’آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ ایک مذہب علمائے دین پر یہ امام و مقتدی سب کے سب نہ ایک دوکفر بلکہ صد ہا کفر سراپا کفر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وفی ذٰلک اقول (اس میں میں نے کہا ۔ ت)

فکفر فوق کفر فوق کفر

کأن الکفر من کثر و وفر

کماءٍ اٰسنِ فی نتن دفر

تتابَعَ قطرہ من تقب کفر

( کفر ہرکفر سے بڑھ کرکفر ، ہرکثیرسے بڑھ کرکثیر، جیسا کہ کھڑا پانی بدبودار پانی ملنے سےخوب بدبودار ہوجاتا ہے۔ ت

معاذاللہ ! اس قدر ان کے خسار وبوار کو کیاکم ہے، اگرچہ ائمہ محققین و علمائے محتا طین انھیں کافر نہ کہیں اور یہی صواب ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۱۵/۴۴۵)

کیا اہل بدعت کی تردیدہر وقت ضروری ہے؟

اہل بدعت و ضلال کے ردوابطال کے حوالے سے فاضل بریلوی نے بہت زور دیا ہے۔ان کے بعض غالی منتسبین نے فاضل بریلوی کی اس قسم کی تحریروں کی روشنی میں One Point Mission رد بدمذہباں بنا لیا ہے۔ وہ بھی اس سختی کے ساتھ کہ ان کی کوئی محفل اہل بدعت کی تردید سے پاک نہیں ہوتی۔ اس پر ظلم یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی مجلس میں بدمذہبوں کا رد نہ کرے تو یہ متشددین اس کے حوالے سے سوءظن کا شکار ہوجاتےہیں، اس کو بھی گم راہ سمجھ بیٹھتے ہیں اور بسا اوقات لگے ہاتھوں تکفیر کی چھری سے اسے بھی ذبح کر ڈالتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو فاضل بریلوی کی یہ تحریر بھی پڑھنی چاہیے:

’’ بہت ائمہ ناصحین رحمۃُ اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین تو بروجہِ رد و ابطال بھی ، ایسی بلکہ ان سے بدرجہا کم خرافات کی اشاعت پسند نہیں کرتے اور ایک یہ وجہ بھی ہے جس کے سبب کلامِ متاخرین پر ہزاروں ہزار طعن و انکار فرماتے ہیں۔کما فَصَّل بعضہ الفاضل علیُّ القاری فی شرح الفقہ الاکبر ( جیسا کہ اس میں سے بعض کی تفصیل امام فاضل ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں کی ہے۔ت)

حتّی کہ سیدنا امام ہمام عماد السنہ احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا عارف باﷲ امام الصوفیہ حارث محُاسبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس وجہ پر ملاقات ترک کردی اور فرمایا۔

ویحک! ألستَ تحکی بدعتھم اوّلاً ثمّ تَرُدُّ علیھم ، ألستَ تحمل الناس بتصنیفک علیٰ مطالعۃ البدعۃ ، والتفکر فی الشبہۃ ، فید عوھم ذٰلک الی الرَّأیِ والبحثِ والفتنۃ تجھ پر افسوس ، کیا تُو پہلے اُن کی بدعات کو نقل نہیں کرتا پھر اُن کا رَد کرتا ہے، کیا تو اپنی تصنیف کے ذریعے لوگوں کو بدعت کے مطالعہ اور شبہات میں غور کرنے پر برانگیختہ نہیں کرتا ہے؟ چنانچہ یہ بات ان کو رائے ، بحث اور فتنہ کی طرف دعوت دیتی ہے۔(ت)اگرچہ ہے یوں کہ رد اہل بدعت ، وقت حاجت اہم فرائض سے ہے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۲۷/۱۳۰)

افسوس کہ مدعیان حقانیت اور دعویداران بہشت یک رخے، غیر علمی اور انتہائی غیر سنجیدہ ہوگئے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ کی چند عبارتیں لے کر