Alehsan Media

Poetry / Kalam

29 Published Kalam

بخشی ہے خالق نے تجھے سب سروروں کی سروری - نعتیہ تضمین

بخشی ہے خالق نے تجھے سب سروروں کی سروری - نعتیہ تضمین

بخشی ہے خالق نے تجھے سب سروروں کی سروریپیغمبروں کی دی تجھے اللہ نے پیغمبریصورت سے تیری ہے عیاں شانِ خدا کی برتری اے چہرۂ زیباۓ تو رشکِ بتانِ آزریہر چند وصفت می‌کنم، در حسن زاں بالا تری ہے ختم تیری ذات پر اوصافِ امت پروریپائی ہے کس مخلوق نے یہ بہتری، یہ برتریاللہ کے محبوب سے حاصل ہے کس کو ہمسری تو از پری چابک تری، وز برگِ گل نازک تریوز ہر چہ گویم بہتری، حقّا عجائب دلبری جبریل سے معراج میں تھے پوچھتے شاہِ اُممتم نے تو دیکھا ہے جہاں، بتلاؤ تو کیسے ہیں ہمروحُ الامیں کہنے لگے،...

شورِ دو عالم یک طرف آں قدّ رعنا یک طرف

شورِ دو عالم یک طرف آں قدّ رعنا یک طرف

شورِ دو عالم یک طرف، آں قدِّ رعنا یک طرفصدہا قیامت یک طرف، آں سروِ بالا یک طرف مفتونِ حسنِ روئے تو، افتادہ اندر کوئے توفرہاد و شیریں یک طرف، مجنوں و لیلیٰ یک طرف ہر ذرّہ‌اش نامِ خدا، صد جلوہ دارد مرحباخاکِ مدینہ یک طرف، صد طور و سینا یک طرف از جلوۂ دیدارِ تو، وز معجزِ گفتارِ توبے ہوش موسیٰ یک طرف، بسمل مسیحا یک طرف جانِ ولایتؔ خاک باد، اے تُرک اندر کوئے توایں یک تمنا یک طرف، دنیا و عقبیٰ یک طرف

تضمین بر قصیدۂ غوثیہ

تضمین بر قصیدۂ غوثیہ

وہی عشقِ حقیقی ذوالمعالیہے مضمر جس میں قربِ ذوالجلالیدلِ مہجور کو رکھا نہ خالیسَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالفَقُلْتُ لِخَمْرَتِیْ نَحْوِیْ تَعَالِیْ(ترجمہ: محبت نے مجھے وَصْل کے پیالے پلائے، پس میں نے اپنے خمارِ محبت کو کہا کہ میری طرف آ۔) دکھانے کے لیے اسرارِ ربیپلائی ہے شرابِ عشق و مستیحقائق آپ لوگوں نے نہ دیکھیشَرِبْتُمْ فُضْلَتِیْ مِنْ بَعْدِ سُکْرِیْوَلَا نِلْتُمْ عُلُوِّیْ وَاتِّصَالِیْ(ترجمہ: عشقِ حقیقی کے میرے خمار کے بعد تم نے میرا بچا کُھچا جام پیا، لیکن میرے بلند مرتبے اور قُرب کو نہ پاسکے۔) مصائب نے تو حد ہی پار کردیمگر اللّٰہ نے دی ارجمندیاسی نے بخشی ہے یہ سربلندیاَنَا...

وصفت زبشر ہم ناممکن، ہستی ممدوحِ خدا جانا

وصفت زبشر ہم ناممکن، ہستی ممدوحِ خدا جانا

وصفت زبشر ہم ناممکن، ہستی ممدوحِ خدا جانامن یاہی وچار کرت نِسدِن، توہے پرکھن ہار نے کیا جاناکہتی ہے یہی چشمِ حق بیں، میں نے تو تجھے یکتا جانا’’لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نظرٍ، مثلِ تو نہ شد پیدا جاناجگ راج کو تاج تورے سر سوہے، تجھ کو شہ دوسَرا جانا‘‘ رحمے اے شافع روزِ جزا، شد غرقۂ بحرِ گنہ دلِ مامن کو ہے روگ لگا اُن کا، جن چاہے نہ آپ ملیں نہ خداکرتا ہوں یہی دن رات دعا، اے ساقیِ چشمۂ کوثر آ’’اَلبحرُ عَلاَ و الموَجُ طغیٰ، من بیکس و طوفاں ہوش رُبامنجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا، موری...

آرام دلم برد، قباپوش جوانى ؛ یکتائ جهانى

آرام دلم برد، قباپوش جوانى ؛ یکتائ جهانى

آرام دلم برد، قباپوش جوانى ؛ یکتائ جهانىصاحب نظرى، دیده ورى، آفت جانى ؛ ترکى همه دانى عیاری و یاری، همه شوری و شراری ؛ رنگی و بهاریپر فتنه نگاری، بسخن سحر بیانی ؛ معشوق بتانی در کعبه شریفی، بصنم خانه حریفی ؛ ترکانه طریفیجانانه ومستانه امینی وامانی ؛ آشوب نشانی شوخی و حسینی و خرابات نشینی ؛ بیگانه ز دینیهر دم به کمینی و مکینی و مکانی ؛ تیرش بکمانی بیداد گری، بی خبری، هوش ربای ؛ هنگامه فزایپاکیزه تنی، پرفتنی، سیف زبانی ؛ خورشید نشانی پیمانه بدستی، و مغی باده پرستی ؛ هشیاری و مستیبیخود ز الستی، بکرم...

داعی اسلام شیخ ابو سعید دام ظلہ العالی کی خدمت میں جناب قاری محمود عالم صاحب کا منظوم استقبالیہ

داعی اسلام شیخ ابو سعید دام ظلہ العالی کی خدمت میں جناب قاری محمود عالم صاحب کا منظوم استقبالیہ

جناب ڈاکٹر محمد اشتیاق صاحب (بمرولی) کے دولت کدے پر تشریف آوری کے موقع پر داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی کی خدمت  میں جناب قاری محمود عالم صاحب کا منظوم استقبالیہ چھلکی کچھ اِس طرح سے مئے گلفامِ آرزوخود بھر رہا ہے آج مرا جامِ آرزواللہ رے یہ جلوۂ پیغامِ آرزو آئی ہے جھومتی ہوئی فصلِ بہار آجسرشار پھر رہا ہے ہر اک بادہ خوار آج یہ رنگ و بو ، یہ پھول ، یہ نکہت نہ پوچھئےیہ جلوہ  بارِ بزمِ سعادت نہ پوچھئےبمرولیؔ تیری کیسی ہے قسمت نہ پوچھئے نذرِ سلامِ...

تو عارفوں کا ہے نقیب تو صوفیوں کا ہے خطیب

تو عارفوں کا ہے نقیب تو صوفیوں کا ہے خطیب

مرادِ قلب ہر مرید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒسکون و راحت مزید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ مرا نظام اور فرید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒجنیدِ وقت و بایزید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ ترے کرم سے کیا بعید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒشقیٔ ازلی ہو سعید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ امیر ہے فقیر ہے تو شہہ صفی کا پیر ہےخداکی دید تیری دید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ تو عارفوں کا ہے نقیب تو صوفیوں کا ہے خطیب تو معرفت کی ہے کلید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ اگر ہے مجمع السلوک کسی کی ذات بے شکوکتو بس فقط ابوسعیدؔ شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ

There Is No Other Creator | Islamic Devotional Poem | Sheikh Abu Saeed Safawi

There Is No Other Creator | Islamic Devotional Poem | Sheikh Abu Saeed Safawi

Truth, non-violence, compassion, grace, knowledge of the Divine, self-restraint and serviceDiscipline, righteousness, devotion and morality are the essence of pure Sanatana Dharma. There is no other Creator in this world besides that Lord;Prophet Muhammad ﷺ, the World Teacher and the Final Messenger of Allah. He alone is the One, the Creator;He is the Unique and the One without equal.His power is infinite;Worship Him alone, O heedless one! There is no other Creator in this world besides that Lord;Prophet Muhammad ﷺ, the World Teacher and the Final Messenger of Allah. He alone is the Giver,Immortal, Eternal and beyond perception.His is all...

چشمِ کرم خدارا مخدوم شاہ مینا

چشمِ کرم خدارا مخدوم شاہ مینا

چشمِ کرم خدارا مخدوم شاہ میناؒبندہ ہوں میں تمہارا مخدوم شاہ میناؒ گردابِ معصیت میں کشتی پھنسی ہوئی ہےملتا نہیں کنارا مخدوم شاہ میناؒ مہرِ منیر تم ہو روشن ضمیر تم ہوایمان ہے ہمارا مخدوم شاہ میناؒ کعبہ ہے عاشقوں کا قبلہ ہے واصلوں کایہ سنگِ در تمہارا مخدوم شاہ میناؒ روحانیت تمہاری بے شک مدد کو آئیجب بھی تمہیں پکارا مخدوم شاہ میناؒ سعد اور صفی کا صدقہ سارنگ ولی کا صدقہ بنواز ایں گدا را مخدوم شاہ میناؒ آقا سعیدؔ کا ہے مولیٰ سعیدؔ کا ہےسعدؔ اور صفیؔ کا پیارا مخدوم شاہ میناؔؒ

کہیں روتی ہوئی شبنم ، کہیں گل پھاڑتے دامن

کہیں روتی ہوئی شبنم ، کہیں گل پھاڑتے دامن

کہیں روتی ہوئی شبنم ، کہیں گل پھاڑتے دامنکہیں نالہ بلب بلبل ، کہیں ہنستا ہوا گلشن  کہیں افسردہ شاخِ غم، کہیں ہے خوف کی جھاڑیکہیں سرسبز ہے کھیتی، کہیں سوکھے پڑےخرمن کہیں منظر بہ منظر ہے حسیں تر ، دید کے قابلکہیں شیخ و ہرہمن کی ، کہیں جنگ زمین و زن یہ فرحت کی جگہ ہرگز نہیں عبرت کی جا ہے یہکہیں روشن بھی ہےظلمت،کہیں ظلمت بھی ہےروشن باندازِ وفا جور و جفا بھی رہتی ہے جاریسحرؔ پرہیز از دنیائے رنگ و بو و مکر وفن

جان ہے بے تاب، اور قلب و جگر پر اضطراب

جان ہے بے تاب، اور قلب و جگر پر اضطراب

جان ہے بے تاب، اور قلب و جگر پر اضطرابکب بھلا ! ناچیز کو ،مقصود ہوگا دستیاب بارِ خاطر جو نہ گزرے تو مری فریادسناب عطا کردے مرے دل کے سوالوں کا جواب صدقے جاؤں تیرے ،ساقی!ظرف کو میرےسمجھہوش میں آؤں نہ ایسا کر عطا مجھ کو شراب دل کو لے ڈوبا غمِ ہجر و فراق، اور کر دیااشتیاقِ یار کے سیلاب نے جاں کو خراب سوزشِ عشق و محبت نے تپایا اس قدرآتشی رنگ آگیا دل ہو گیا سیخِ کباب  کوئی آمیزش نہ ہو، خالص رہوں تیرے لئےہو عطا مجھکو ،تری دیوانگی کا ہی خطاب کب تلک میں انتظارِ...

بہ ہر شئے تو مشہود لاریب فیہ

بہ ہر شئے تو مشہود لاریب فیہ

بہ ہر شئے تو مشہود لاریب فیہتوئ توئی موجود لاریب فیہ چوں خواہی بہ لحظے جہاں محو شدچناں کہ ایں نابود لاریب فیہ توئی بود و ہست و بود تو فقطتو مسجود و معبود لاریب فیہ بعید از گماں فضلِ ربِ جہاںکرم غیر محدود لاریب فیہ مع العسر یسرا بخوان و بداںخدا را ایں فرمود لاریب فیہ سر آید غمِ دہر بالکلیہغمِ دین افزود لاریب فیہ مریضِ محبت را تریاقیتبود زہرآلود لاریب فیہ فریبِ نظر ہست رنگِ جہاںوفا ہست مفقود لاریب فیہ من عمر گرانمایہ کردم تلفبامید نابود لاریب فیہ شود اہلِ حالے سحؔر، گر گذربدیں قالی پیمود لاریب فیہ...

او احمد او محمود لاریب فیہ

او احمد او محمود لاریب فیہ

او احمد او محمود لاریب فیہاو مطلوب و مقصود لاریب فیہ  ہماں مظہرِ ذاتِ رب العلیٰاو شاہد او مشہود لاریب فیہ  جہاں در ولائے حبیبِ خداہمہ خاک آلود لاریب فیہ انا سیدالناس یوم الجزاءنبی خود ایں فرمود لاریب فیہ دلِ سوختہ ام او شمعِ فروزبتدریج افزود لاریب فیہ لقد جائکم چونکہ فرمود رباو را ذکرِ مولود لاریب فیہ !سراجا منیرا ،اے خورشیدِ ماشوی مخزنِ جود لاریب فیہ بعہدِ وفائے رسولِ حشمہمہ فضل معہود لاریب فیہ چوں خوشنودیِ مصطفیٰ یافتیخدا از تو خوشنود لاریب فیہ گرفتارِ گستاخیِ مصطفیٰز سر تا پا مردود لاریب فیہ نماند اگر عشقِ شہ، اے سحرؔشود زہد...

نگاہِ یار نے لوٹا بڑے قرینے سے

نگاہِ یار نے لوٹا بڑے قرینے سے

نگاہِ یار نے لوٹا بڑے قرینے سےرہا نہ واسطہ مرنے سے اور جینے سے  تڑپ رہاہے مرا دل، تڑپ رہی ہے جاںلگالے یار مجھےآج اپنے سینے سے  جو تونے کی ہے کرم کی نظر، جزاک اللہوگر نہ بات بھی کوئی کرے کمینے سے  خدائے پاک کا احساں ہے یہ وجود تراکہ ایک دنیا ہے آباد اس خزینے سے  چڑھا دیا ہے جہاں تو نے، مجھکو اے رہبر!نہ پھیرنا کبھی ان قربتوں کے زینے سے  رہا نہ شوق مجھے بادہ نوشی کا پیارےسکوں ملے گا نظر سے تمہاری پینے سے  تمہاری کشتی ہے پیارے نجات کا ذریعہاتارنا نہ مجھے اپنے اس...

منقبت در شانِ مولائے کائنات کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم

منقبت در شانِ مولائے کائنات کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم

(درشان مولائے کائنات علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم منقبت کے اکیس اشعار بہ نسبت تاریخِ شہادت) جدھر دیکھو جلوہ ہے مولیٰ علی کاانوکھا تجلا ہے مولیٰ علی کا رہِ عقبیٰ رستہ ہےمولیٰ علی کاعدو بھٹکا پھرتا ہے مولیٰ علی کا گدا گرچہ تنہا ہے مولیٰ علی کاولیکن سہارا ہے مولیٰ علی کا مرے سایےسے بھی بلا کیوں نہ بھاگےمرے سر پہ سایہ ہے مولیٰ علی کا فلک محوِ حیرت ہے . ہے کون اونچاہوں میں یا کہ تلوا ہےمولیٰ علی کا خدا کا وہی ہے نبی کا وہی ہےجو مولیٰ علی کا ہے مولیٰ علی کا مع المرتضیٰ...

یہ باب حرم ہے باب حرم، یہ روح بشر کی جنت ہے

یہ باب حرم ہے باب حرم، یہ روح بشر کی جنت ہے

یہ باب حرم ہے باب حرم، یہ روح بشر کی جنت ہےاحرامِ یقیں ہے زاد سفر، تعلیم یہاں کی محبت ہے تعلیم، جنوں کی ہوتی ہے، یہ مکتب ہے ہشیاروں کااصلاحِ زمانہ مقصد ہے، یہ مذہب ہے مے خواروں کامضبوط یقین وعمل پیہم، یہ مسکن ہے ابراروں کایاں قلب ونظر کی جنگ نہیں، یہ مشرب ہے سرشاروں کا تنہا یاں شریعت ناقص ہے، تنہا یاں حرام طریقت ہےیہ باب حرم ہے باب حرم، یہ روح بشر کی جنت ہے اسلام کا پیکر بن جاؤ، ایمان سے دل کو گرماؤاسلاف کی سیرت لے آؤ، اخلاق نبی میں ڈھل جاؤہر وہم دوئی کو...

उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतार

उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतार

सत्य, अहिंसा, करुणा, कृपा, ब्रह्मज्ञान, संयम और सेवानियम धर्म भक्ति नैतिकता, शुद्ध सनातन की परिभाषा उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतारनबी रसूल मुहम्मद साहब जगतगुरु अंतिम अवतार वाहिद एक वही करतारअहद अकेला सर्जन हारउसकी कु़दरत अपरंपारपूज उसी को पूज गंवार उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतारनबी रसूल मुहम्मद साहब जगतगुरु अंतिम अवतार एक अकेला वही है दाताअमर अगोचर अजर विधाताउसी की महिमा उसी की गाथाअपरंपार वही जग दाता उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतारनबी रसूल मुहम्मद साहब जगतगुरु अंतिम अवतार फूल में जैसे बास बसत हैहर दम हर...

नबियन के सुल्तान मुहम्मद

नबियन के सुल्तान मुहम्मद

नबियन के सुल्तान मुहम्मदआप हैं आलिशान मुहम्मदएक नजर हम दुखियारण परआप हैं किरपा निधान मुहम्मदबांह गहे की लाज तुम्हीं कोमैं हूँ बहुत नादान मुहम्मदतन मन धन और जोबन से हूँआप पे मैं क़ुर्बान मुहम्मदजब से भई सतगुरु की किरपाहिर्दय बीच समान मुहम्मदहे रे सखी सतगुरु की सूरतजैसे आनुमान मुहम्मदरूप अनूप से जान परत हैआप ही हैं क़ुरान मुहम्मदकहत सईदा सीस नवा केतोरी बड़ी है शान मुहम्मद

الف بائے صفویؔ

الف بائے صفویؔ

الف سے اللہ اسمِ ذات ہےبا سے باقی اس کی صفات ہے تا سے توبہ کر دنیا سےثا سے ثابت رہ مولیٰ سے جیم سے جنت تیرا گھر ہےحا سے حق کی چاہ اگر ہے خا سے خدمت کر مرشد کیخدا نما ہے اس کی ہستی دال سے دل اللہ کا گھر ہےذال سے ذاکر قلب اگر ہے را سے ریاضت کا پھل توڑوزا سے زہدِ نفس نہ چھوڑو سین سے سجدے میں کھو جاؤشین سے شرک و دوئی مٹاؤ صاد سے صوفی صافی ہو جاضاد سے ضعفِ ارادت بے جا طا سے طاہر دیکھ سراپاظا سے ظہور اللہ کا...

دعائیہ حمد - اے خالق و مالک جگ داتا

دعائیہ حمد - اے خالق و مالک جگ داتا

اے خالق و مالک جگ داتا، گُن گان ہے تیری وحدت کا کس طرح تجھے دیکھوں میں بھلا، تو رنگ اور روپ سے ہے نیاراہر آن ہے تیری شان جدا، اے خالق و مالک جگ داتا اے خالق و مالک جگ داتا، گُن گان ہے تیری وحدت کا کس طرح کروں تری حمد و ثنا، تو سب سے الگ تو سب سے جداتو سب سے غنی تو سب سے بڑا، اے خالق و مالک جگ داتا اے خالق و مالک جگ داتا، گُن گان ہے تیری وحدت کا اوّل بھی توہی آخر بھی توہی، ظاہر بھی توہی باطن بھی توہیتو...

میرے آقا مرے سرکار مدینے والے

میرے آقا مرے سرکار مدینے والے

میرے آقا مرے سرکار مدینے والےآپ پہ صدقہ ہے گھر بار مدینے والے سر بسر احمد مختار مدینے والےآپ ہیں نبیوں کے سردار مدینے والے پنجتن پاک کا آیا ہوں وسیلہ لے کرتیری سرکار میں سرکار مدینے والے بس یہی ایک تمنا ہے کہ مرتے دم تکمیں رہوں آپ کا بیمار مدینے والے من راٰنی کے اشارے سے یہ معلوم ہوادیدِ حق ہے ترا دیدار مدینے والے کون سمجھے گا حقیقت میں سوا ذاتِ خدامرتبہ آپ کا سرکار مدینے والے آپ کے نام کے صدقے ہے ابھی تک زندہ بو سعیدؔ آپ کا سرکار مدینے والے وردِ جاں ہے سعیدؔ اب...

یہی ہے مری آرزو یا الٰہی

یہی ہے مری آرزو یا الٰہی

یہی ہے مری آرزو یا الٰہیکہ دیکھوں تجھے چار سو یا الٰہی یہی اِک تمنا ہے روزِ ازل سےکہ دل میں ہو بس تو ہی تو یا الٰہی ترا آئینہ ہیں ترے خاص بندےزمیں پر ہیں یہ تیری بو یا الٰہی وہ کیوں کر نہ کھو جائے جلوؤں میں تیرےکرے جو تری جستجو یا الٰہی جدھر دیکھتا ہوں جہاں دیکھتا ہوںنظرمیں ہے بس تو ہی تو یا الٰہی کدھر جاؤں میں چھوڑ کر تیرے در کوکہ مولیٰ ہے بس میرا تو یا الٰہی سعیدؔ اللہ اللہ کس سے کہوں میںکہ ہے میرے پردے میں تو یا الٰہی سعیدؔ آئینہ خانۂ...

حقیقت میں تیرے سوا یا الٰہی

حقیقت میں تیرے سوا یا الٰہی

حقیقت میں تیرے سوا یا الٰہینہیں ہے کوئی دوسرا یا الٰہی ترے لائق حمد و ثنا یا الٰہیزباں سے ہو کیسے ادا یا الٰہی کوئی تجھ کو سمجھے تو کس طرح سمجھےخرد سے ہے تو ماوریٰ یا الٰہی تری ذاتِ اقدس کو تیرے علاوہ کوئی بھی سمجھ نہ سکا یا الٰہی خیال و قیاس و گماں سے ہے باہرتری ذاتِ ربِّ عُلا یا الٰہی بایں شانِ تنزیہ و تقدیس مولیٰیہ دل ہے ترا آئینہ یا الٰہی سعیدؔ اللہ اللہ ہر سمت و ہر سوتو ہی تو ہے جلوہ نما یا الٰہی

فریاد ببارگاہ خیر العبادﷺ

فریاد ببارگاہ خیر العبادﷺ

کس قدر مشک اور عنبر میں نہائی ہوئی ہےصبحِ میلاد بھی کس شان سے آئی ہوئی ہے! کس قدر فرحت و نکہت کی فضا چھائی ہےجیسے اس خاک پہ جنت سی اتر آئی ہے لیکن اس حال میں اس دل کا ہے کچھ حال براکچھ تمنائیں ہیں دل میں تو زباں پر شکوہ پہلا موقع ہے قلم مدح پیمبر میں چلاپہلا موقع ہے کہ فریاد میں رونا آیا نعت کیا لکھوں کہ مجبور ہوں لاچار ہوں میںبارِ عصیاں غمِ دوراں سے بھی دوچار ہوں میں ذات جب خود ہی محمد ہے تو مدحت کیسی؟روشنی کی بھلا خورشید کو حاجت کیسی؟...

درس گاہِ علم و عرفاں، مکتب اہلِ یقیں

درس گاہِ علم و عرفاں، مکتب اہلِ یقیں

ہے سراپا معجزہ سید سراواں کی زمیںدرس گاہِ علم و عرفاں، مکتب اہلِ یقیں عقل سجدہ ریز ہے اور ہوش بھی ہے گم کہیںاِس نرالی شان سے کھلتے ہیں یاں اسرارِ دیں اس جگہ ہے اس ادا سے جلوۂ حق کی نمودروکنے پر بھی جھکی جاتی ہے خود لوح جبیں فکر رازی و غزالی، عشق خسرو، سوز رومچپہ چپہ پر یہاں کے ہر طرف ہے جا گزیں اک زمانہ کیوں نہیں کھنچتا چلا آئے یہاںذرہ ذرہ ہے یہاں کا دل پذیر و دل نشیں سینکڑوں ہیں مرکز عقل و خرد اس ملک میںپر سکوں پاتا ہے تنہا قلب مضطر بس...

قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہے

قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہے

بخدمت عالی گرامی مرتبت ، لائق صد احترام ، عارف باللہ، داعی اسلام حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی زیب سجادہ : خانقاہ عالیہ عارفیہ ، سید سراواں شریف ، الٰہ آباد بموقع جشن یوم غزالی ، منعقدہ ۲۷ ، مارچ ۲۰۱۱ ء /اتوار قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہےمکاں میں رہ کے نظر لا مکاں پہ رکھتا ہے روایتوں کا امیں ہے وہ پاسبان سلفمگر وہ ہاتھ بھی اپنا سناں پہ رکھتا ہے کسی بھی شخص کی وہ نبض دیکھتا ہی نہیںشفا کا ہاتھ ہی بیمار جاں پہ رکھتا ہے ہے...