Alehsan Media

Poetry / Kalam - Manqabat

6 Published Kalam

چشمِ کرم خدارا مخدوم شاہ مینا

چشمِ کرم خدارا مخدوم شاہ مینا

چشمِ کرم خدارا مخدوم شاہ میناؒبندہ ہوں میں تمہارا مخدوم شاہ میناؒ گردابِ معصیت میں کشتی پھنسی ہوئی ہےملتا نہیں کنارا مخدوم شاہ میناؒ مہرِ منیر تم ہو روشن ضمیر تم ہوایمان ہے ہمارا مخدوم شاہ میناؒ کعبہ ہے عاشقوں کا قبلہ ہے واصلوں کایہ سنگِ در تمہارا مخدوم شاہ میناؒ روحانیت تمہاری بے شک مدد کو آئیجب بھی تمہیں پکارا مخدوم شاہ میناؒ سعد اور صفی کا صدقہ سارنگ ولی کا صدقہ بنواز ایں گدا را مخدوم شاہ میناؒ آقا سعیدؔ کا ہے مولیٰ سعیدؔ کا ہےسعدؔ اور صفیؔ کا پیارا مخدوم شاہ میناؔؒ

منقبت در شانِ مولائے کائنات کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم

منقبت در شانِ مولائے کائنات کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم

(درشان مولائے کائنات علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم منقبت کے اکیس اشعار بہ نسبت تاریخِ شہادت) جدھر دیکھو جلوہ ہے مولیٰ علی کاانوکھا تجلا ہے مولیٰ علی کا رہِ عقبیٰ رستہ ہےمولیٰ علی کاعدو بھٹکا پھرتا ہے مولیٰ علی کا گدا گرچہ تنہا ہے مولیٰ علی کاولیکن سہارا ہے مولیٰ علی کا مرے سایےسے بھی بلا کیوں نہ بھاگےمرے سر پہ سایہ ہے مولیٰ علی کا فلک محوِ حیرت ہے . ہے کون اونچاہوں میں یا کہ تلوا ہےمولیٰ علی کا خدا کا وہی ہے نبی کا وہی ہےجو مولیٰ علی کا ہے مولیٰ علی کا مع المرتضیٰ...

قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہے

قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہے

بخدمت عالی گرامی مرتبت ، لائق صد احترام ، عارف باللہ، داعی اسلام حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی زیب سجادہ : خانقاہ عالیہ عارفیہ ، سید سراواں شریف ، الٰہ آباد بموقع جشن یوم غزالی ، منعقدہ ۲۷ ، مارچ ۲۰۱۱ ء /اتوار قدم زمیں پہ نشاں آسماں پہ رکھتا ہےمکاں میں رہ کے نظر لا مکاں پہ رکھتا ہے روایتوں کا امیں ہے وہ پاسبان سلفمگر وہ ہاتھ بھی اپنا سناں پہ رکھتا ہے کسی بھی شخص کی وہ نبض دیکھتا ہی نہیںشفا کا ہاتھ ہی بیمار جاں پہ رکھتا ہے ہے...