نگاہِ یار نے لوٹا بڑے قرینے سے
نگاہِ یار نے لوٹا بڑے قرینے سےرہا نہ واسطہ مرنے سے اور جینے سے
تڑپ رہاہے مرا دل، تڑپ رہی ہے جاںلگالے یار مجھےآج اپنے سینے سے
جو تونے کی ہے کرم کی نظر، جزاک اللہوگر نہ بات بھی کوئی کرے کمینے سے
خدائے پاک کا احساں ہے یہ وجود تراکہ ایک دنیا ہے آباد اس خزینے سے
چڑھا دیا ہے جہاں تو نے، مجھکو اے رہبر!نہ پھیرنا کبھی ان قربتوں کے زینے سے
رہا نہ شوق مجھے بادہ نوشی کا پیارےسکوں ملے گا نظر سے تمہاری پینے سے
تمہاری کشتی ہے پیارے نجات کا ذریعہاتارنا نہ مجھے اپنے اس...