وہی عشقِ حقیقی ذوالمعالی
ہے مضمر جس میں قربِ ذوالجلالی
دلِ مہجور کو رکھا نہ خالی
سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَال
فَقُلْتُ لِخَمْرَتِیْ نَحْوِیْ تَعَالِیْ
(ترجمہ: محبت نے مجھے وَصْل کے پیالے پلائے، پس میں نے اپنے خمارِ محبت کو کہا کہ میری طرف آ۔)
دکھانے کے لیے اسرارِ ربی
پلائی ہے شرابِ عشق و مستی
حقائق آپ لوگوں نے نہ دیکھی
شَرِبْتُمْ فُضْلَتِیْ مِنْ بَعْدِ سُکْرِیْ
وَلَا نِلْتُمْ عُلُوِّیْ وَاتِّصَالِیْ
(ترجمہ: عشقِ حقیقی کے میرے خمار کے بعد تم نے میرا بچا کُھچا جام پیا، لیکن میرے بلند مرتبے اور قُرب کو نہ پاسکے۔)
مصائب نے تو حد ہی پار کردی
مگر اللّٰہ نے دی ارجمندی
اسی نے بخشی ہے یہ سربلندی
اَنَا فِیْ حَضْرَۃِ التَّقْرِیْبِ وَحْدِیْ
یُصَرِّفُنِیْ وَحَسْبِیْ ذُوالْجَلَالٖ
(ترجمہ: میں بارگاہِ قربِ الٰہی میں یکتا ہوں، ربِّ کریم نے میرے مصائب دور کرکے بااختیار بنا دیا، اور وہی رب ذوالجلال میرے لیے کافی ہے۔)
بنا میں علم کی بھٹی سے کندن
مسلسل سیکھ کر ہر علم ہر فن
ہوا بھی نیم جاں وقتاً فوقتاً
دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتّٰی صِرْتُ قُطْبًا
وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَی الْمَوَالِیْ
(ترجمہ: میں (ظاہری و باطنی) علم پڑھتے پڑھتے قُطب بن گیا، اور میں نے مخلص دوستوں کے مولا عَزَّوَجَلَّ کی مدد سے سعادت کو پا لیا۔)
Leave your comment