Donate Now

Poetry / Kalam

داعی اسلام شیخ ابو سعید دام ظلہ العالی کی خدمت میں جناب قاری محمود عالم صاحب کا منظوم استقبالیہ

جناب ڈاکٹر محمد اشتیاق صاحب (بمرولی) کے دولت کدے پر تشریف آوری کے موقع پر داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ العالی کی خدمت  میں جناب قاری محمود عالم صاحب کا منظوم استقبالیہ چھلکی کچھ اِس طرح سے مئے گلفامِ آرزوخود بھر رہا ہے آج مرا جامِ آرزواللہ رے یہ جلوۂ پیغامِ آرزو آئی ہے جھومتی ہوئی فصلِ بہار آجسرشار پھر رہا ہے ہر اک بادہ خوار آج یہ رنگ و بو ، یہ پھول ، یہ نکہت نہ پوچھئےیہ جلوہ  بارِ بزمِ سعادت نہ پوچھئےبمرولیؔ تیری کیسی ہے قسمت نہ پوچھئے نذرِ سلامِ...

تو عارفوں کا ہے نقیب تو صوفیوں کا ہے خطیب

مرادِ قلب ہر مرید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒسکون و راحت مزید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ مرا نظام اور فرید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒجنیدِ وقت و بایزید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ ترے کرم سے کیا بعید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒشقیٔ ازلی ہو سعید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ امیر ہے فقیر ہے تو شہہ صفی کا پیر ہےخداکی دید تیری دید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ تو عارفوں کا ہے نقیب تو صوفیوں کا ہے خطیب تو معرفت کی ہے کلید شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ اگر ہے مجمع السلوک کسی کی ذات بے شکوکتو بس فقط ابوسعیدؔ شیخ سعدؒ شیخ سعدؒ

There is no doer in the world except that lord.

There is no doer in the world except that lordProphet Mohammad peace be upon him is teacher of the world and Last messenger of Allah He is the One and he is only the doer in the worldHe alone is the creatorHis power is limitlessWorship Him only, o ignorant! There is no doer in the world except that lordProphet Mohammad peace be upon him is teacher of the world and Last messenger of Allah Just like the scent of a flowerevery moment He is with usHe is not seen with eyesThough He is present in every moment There is no doer...

چشمِ کرم خدارا مخدوم شاہ مینا

چشمِ کرم خدارا مخدوم شاہ میناؒبندہ ہوں میں تمہارا مخدوم شاہ میناؒ گردابِ معصیت میں کشتی پھنسی ہوئی ہےملتا نہیں کنارا مخدوم شاہ میناؒ مہرِ منیر تم ہو روشن ضمیر تم ہوایمان ہے ہمارا مخدوم شاہ میناؒ کعبہ ہے عاشقوں کا قبلہ ہے واصلوں کایہ سنگِ در تمہارا مخدوم شاہ میناؒ روحانیت تمہاری بے شک مدد کو آئیجب بھی تمہیں پکارا مخدوم شاہ میناؒ سعد اور صفی کا صدقہ سارنگ ولی کا صدقہ بنواز ایں گدا را مخدوم شاہ میناؒ آقا سعیدؔ کا ہے مولیٰ سعیدؔ کا ہےسعدؔ اور صفیؔ کا پیارا مخدوم شاہ میناؔؒ

کہیں روتی ہوئی شبنم ، کہیں گل پھاڑتے دامن

کہیں روتی ہوئی شبنم ، کہیں گل پھاڑتے دامنکہیں نالہ بلب بلبل ، کہیں ہنستا ہوا گلشن  کہیں افسردہ شاخِ غم، کہیں ہے خوف کی جھاڑیکہیں سرسبز ہے کھیتی، کہیں سوکھے پڑےخرمن کہیں منظر بہ منظر ہے حسیں تر ، دید کے قابلکہیں شیخ و ہرہمن کی ، کہیں جنگ زمین و زن یہ فرحت کی جگہ ہرگز نہیں عبرت کی جا ہے یہکہیں روشن بھی ہےظلمت،کہیں ظلمت بھی ہےروشن باندازِ وفا جور و جفا بھی رہتی ہے جاریسحرؔ پرہیز از دنیائے رنگ و بو و مکر وفن

جان ہے بے تاب، اور قلب و جگر پر اضطراب

جان ہے بے تاب، اور قلب و جگر پر اضطرابکب بھلا ! ناچیز کو ،مقصود ہوگا دستیاب بارِ خاطر جو نہ گزرے تو مری فریادسناب عطا کردے مرے دل کے سوالوں کا جواب صدقے جاؤں تیرے ،ساقی!ظرف کو میرےسمجھہوش میں آؤں نہ ایسا کر عطا مجھ کو شراب دل کو لے ڈوبا غمِ ہجر و فراق، اور کر دیااشتیاقِ یار کے سیلاب نے جاں کو خراب سوزشِ عشق و محبت نے تپایا اس قدرآتشی رنگ آگیا دل ہو گیا سیخِ کباب  کوئی آمیزش نہ ہو، خالص رہوں تیرے لئےہو عطا مجھکو ،تری دیوانگی کا ہی خطاب کب تلک میں انتظارِ...

بہ ہر شئے تو مشہود لاریب فیہ

بہ ہر شئے تو مشہود لاریب فیہتوئ توئی موجود لاریب فیہ چوں خواہی بہ لحظے جہاں محو شدچناں کہ ایں نابود لاریب فیہ توئی بود و ہست و بود تو فقطتو مسجود و معبود لاریب فیہ بعید از گماں فضلِ ربِ جہاںکرم غیر محدود لاریب فیہ مع العسر یسرا بخوان و بداںخدا را ایں فرمود لاریب فیہ سر آید غمِ دہر بالکلیہغمِ دین افزود لاریب فیہ مریضِ محبت را تریاقیتبود زہرآلود لاریب فیہ فریبِ نظر ہست رنگِ جہاںوفا ہست مفقود لاریب فیہ من عمر گرانمایہ کردم تلفبامید نابود لاریب فیہ شود اہلِ حالے سحؔر، گر گذربدیں قالی پیمود لاریب فیہ...

او احمد او محمود لاریب فیہ

او احمد او محمود لاریب فیہاو مطلوب و مقصود لاریب فیہ  ہماں مظہرِ ذاتِ رب العلیٰاو شاہد او مشہود لاریب فیہ  جہاں در ولائے حبیبِ خداہمہ خاک آلود لاریب فیہ انا سیدالناس یوم الجزاءنبی خود ایں فرمود لاریب فیہ دلِ سوختہ ام او شمعِ فروزبتدریج افزود لاریب فیہ لقد جائکم چونکہ فرمود رباو را ذکرِ مولود لاریب فیہ !سراجا منیرا ،اے خورشیدِ ماشوی مخزنِ جود لاریب فیہ بعہدِ وفائے رسولِ حشمہمہ فضل معہود لاریب فیہ چوں خوشنودیِ مصطفیٰ یافتیخدا از تو خوشنود لاریب فیہ گرفتارِ گستاخیِ مصطفیٰز سر تا پا مردود لاریب فیہ نماند اگر عشقِ شہ، اے سحرؔشود زہد...

نگاہِ یار نے لوٹا بڑے قرینے سے

نگاہِ یار نے لوٹا بڑے قرینے سےرہا نہ واسطہ مرنے سے اور جینے سے  تڑپ رہاہے مرا دل، تڑپ رہی ہے جاںلگالے یار مجھےآج اپنے سینے سے  جو تونے کی ہے کرم کی نظر، جزاک اللہوگر نہ بات بھی کوئی کرے کمینے سے  خدائے پاک کا احساں ہے یہ وجود تراکہ ایک دنیا ہے آباد اس خزینے سے  چڑھا دیا ہے جہاں تو نے، مجھکو اے رہبر!نہ پھیرنا کبھی ان قربتوں کے زینے سے  رہا نہ شوق مجھے بادہ نوشی کا پیارےسکوں ملے گا نظر سے تمہاری پینے سے  تمہاری کشتی ہے پیارے نجات کا ذریعہاتارنا نہ مجھے اپنے اس...

منقبت در شانِ مولائے کائنات کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم

(درشان مولائے کائنات علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم منقبت کے اکیس اشعار بہ نسبت تاریخِ شہادت) جدھر دیکھو جلوہ ہے مولیٰ علی کاانوکھا تجلا ہے مولیٰ علی کا رہِ عقبیٰ رستہ ہےمولیٰ علی کاعدو بھٹکا پھرتا ہے مولیٰ علی کا گدا گرچہ تنہا ہے مولیٰ علی کاولیکن سہارا ہے مولیٰ علی کا مرے سایےسے بھی بلا کیوں نہ بھاگےمرے سر پہ سایہ ہے مولیٰ علی کا فلک محوِ حیرت ہے . ہے کون اونچاہوں میں یا کہ تلوا ہےمولیٰ علی کا خدا کا وہی ہے نبی کا وہی ہےجو مولیٰ علی کا ہے مولیٰ علی کا مع المرتضیٰ...

یہ باب حرم ہے باب حرم، یہ روح بشر کی جنت ہے

یہ باب حرم ہے باب حرم، یہ روح بشر کی جنت ہےاحرامِ یقیں ہے زاد سفر، تعلیم یہاں کی محبت ہے تعلیم، جنوں کی ہوتی ہے، یہ مکتب ہے ہشیاروں کااصلاحِ زمانہ مقصد ہے، یہ مذہب ہے مے خواروں کامضبوط یقین وعمل پیہم، یہ مسکن ہے ابراروں کایاں قلب ونظر کی جنگ نہیں، یہ مشرب ہے سرشاروں کا تنہا یاں شریعت ناقص ہے، تنہا یاں حرام طریقت ہےیہ باب حرم ہے باب حرم، یہ روح بشر کی جنت ہے اسلام کا پیکر بن جاؤ، ایمان سے دل کو گرماؤاسلاف کی سیرت لے آؤ، اخلاق نبی میں ڈھل جاؤہر وہم دوئی کو...

उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतार

उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतारनबी रसूल मुहम्मद साहब जगतगुरु अंतिम अवतार वाहिद एक वही करतारअहद अकेला सर्जन हारउसकी कु़दरत अपरंपारपूज उसी को पूज गंवार उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतारनबी रसूल मुहम्मद साहब जगतगुरु अंतिम अवतार एक अकेला वही है दाताअमर अगोचर अजर विधाताउसी की महिमा उसी की गाथाअपरंपार वही जग दाता उस मालिक के सिवा जगत में नहीं कोई दूजा करतारनबी रसूल मुहम्मद साहब जगतगुरु अंतिम अवतार फूल में जैसे बास बसत हैहर दम हर पल साथ रहत हैनैन से नाहीं देख परत हैहर घट में मौजूद रहत है उस...

नबियन के सुल्तान मुहम्मद

नबियन के सुल्तान मुहम्मदआप हैं आलिशान मुहम्मदएक नजर हम दुखियारण परआप हैं किरपा निधान मुहम्मदबांह गहे की लाज तुम्हीं कोमैं हूँ बहुत नादान मुहम्मदतन मन धन और जोबन से हूँआप पे मैं क़ुर्बान मुहम्मदजब से भई सतगुरु की किरपाहिर्दय बीच समान मुहम्मदहे रे सखी सतगुरु की सूरतजैसे आनुमान मुहम्मदरूप अनूप से जान परत हैआप ही हैं क़ुरान मुहम्मदकहत सईदा सीस नवा केतोरी बड़ी है शान मुहम्मद

الف بائے صفویؔ

الف سے اللہ اسمِ ذات ہےبا سے باقی اس کی صفات ہے  تا سے توبہ کر دنیا سے ثا سے ثابت رہ مولیٰ سے  جیم سے جنت تیرا گھر ہےحا سے حق کی چاہ اگر ہے خا سے خدمت کر مرشد کیخدا نما ہے اس کی ہستی دال سے دل اللہ کا گھر ہےذال سے ذاکر قلب اگر ہے را سے ریاضت کا پھل توڑوزا سے زہدِ نفس نہ چھوڑو سین سے سجدے میں کھو جاؤشین سے شرک و دوئی مٹاؤ صاد سے صوفی صافی ہو جاضاد سے ضعفِ ارادت بے جا طا سے طاہر دیکھ سراپاظا سے ظہور اللہ کا...

اے خالق و مالک جگ داتا

اے خالق و مالک جگ داتا، گُن گان ہے تیری وحدت کا کس طرح تجھے دیکھوں میں بھلا، تو رنگ اور روپ سے ہے نیاراہر آن ہے تیری شان جدا، اے خالق و مالک جگ داتا اے خالق و مالک جگ داتا، گُن گان ہے تیری وحدت کا کس طرح کروں تری حمد و ثنا، تو سب سے الگ تو سب سے جداتو سب سے غنی تو سب سے بڑا، اے خالق و مالک جگ داتا اے خالق و مالک جگ داتا، گُن گان ہے تیری وحدت کا اوّل بھی توہی آخر بھی توہی، ظاہر بھی توہی باطن بھی توہیتو سب...

میرے آقا مرے سرکار مدینے والے

میرے آقا مرے سرکار مدینے والےآپ پہ صدقہ ہے گھر بار مدینے والے سر بسر احمد مختار مدینے والےآپ ہیں نبیوں کے سردار مدینے والے پنجتن پاک کا آیا ہوں وسیلہ لے کرتیری سرکار میں سرکار مدینے والے بس یہی ایک تمنا ہے کہ مرتے دم تکمیں رہوں آپ کا بیمار مدینے والے من راٰنی کے اشارے سے یہ معلوم ہوادیدِ حق ہے ترا دیدار مدینے والے کون سمجھے گا حقیقت میں سوا ذاتِ خدامرتبہ آپ کا سرکار مدینے والے آپ کے نام کے صدقے ہے ابھی تک زندہ بو سعیدؔ آپ کا سرکار مدینے والے وردِ جاں ہے سعیدؔ اب...

Most Popular Articles

View All