مولانا عبیداللہ خان اعظمی
پیدائش: 11 مارچ 1949ء، خالص پور، اتر پردیش، بھارت
معروف خطیب، عالمِ دین اور سابق رکنِ راجیہ سبھا
ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر
مولانا عبیداللہ خان اعظمی کی پیدائش خالص پور، اتر پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، بعد ازاں جامعہ اشرفیہ، مبارک پور سے دینی تعلیم حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ہی خطابت سے وابستگی پیدا ہوئی اور رفتہ رفتہ یہ ان کی شخصیت کی نمایاں شناخت بن گئی۔
علمی و عملی خدمات
مولانا عبیداللہ خان اعظمی کا شمار ہندوستان کے معروف اور مؤثر خطباء میں ہوتا ہے۔ خصوصاً 1980ء کی دہائی میں ان کی ولولہ انگیز تقاریر نے انہیں ملک گیر شہرت عطا کی۔ شاہ بانو مقدمے کے موقع پر ان کی تقاریر بڑے پیمانے پر مقبول ہوئیں اور مسلم پرسنل لا کے تحفظ کے لیے انہوں نے نمایاں آواز اٹھائی۔
عملی سیاست میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ 1990ء سے 2008ء تک مختلف ادوار میں راجیہ سبھا کے رکن رہے اور اتر پردیش، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش کی نمائندگی کی۔ جنتا دل میں جنرل سیکریٹری اور بعد ازاں نائب صدر کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ مسلم مسائل، مذہبی آزادی اور ملی حقوق سے متعلق قومی مباحث میں بھی ان کی آواز نمایاں رہی۔
اعزازات و نمایاں کامیابیاں
ان کی سب سے بڑی شناخت ملک گیر خطابت اور طویل پارلیمانی سیاسی سفر ہے۔ شاہ بانو مقدمے کے دوران ان کی تقاریر نے انہیں قومی سطح پر نمایاں کیا۔ راجیہ سبھا میں مختلف ریاستوں کی نمائندگی اور جنتا دل میں اہم تنظیمی ذمہ داریاں ان کے سیاسی سفر کی نمایاں کامیابیاں ہیں۔ متعدد دینی و تعلیمی اداروں کی معاونت بھی ان کی عملی خدمات میں شامل ہے۔
شخصیت اور علمی مقام
مولانا عبیداللہ خان اعظمی کی شخصیت میں دینی وابستگی، مؤثر خطابت، سیاسی بصیرت اور ملی شعور نمایاں ہے۔ ان کا بے باک اندازِ بیان اور مسلمانوں کے اجتماعی مسائل پر واضح موقف انہیں ہندوستان کے مذہبی و سیاسی منظرنامے میں ایک نمایاں شخصیت بناتا ہے۔