مرشدِ عشق؛ مشکل صوفیانہ شاعری کی علمی وعارفانہ توضیحات

مرشدِ عشق؛ مشکل صوفیانہ شاعری کی علمی وعارفانہ توضیحات

علامہ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی کی شرح جو مثنوی ’’نغمات الاسرار‘‘ کے اشعار، رموزِ تصوف اور عرفانی نکات کو عام قاری کے لیے قابلِ فہم بناتی ہے۔

احسان، جس کا ذکر حدیثِ جبریل میں آیا ہے، دراصل وہ باطنی کیفیت ہے جسے تصوف کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چوں کہ یہ فن نہایت دقیق اور لطیف مطالب رکھتا ہے، اس لیے بسا اوقات اس کے بعض مضامین کو نثر میں پیش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے صوفیا اپنے کاروانِ جذب و شوق، حال و وجد، اسرار و رموز، عشقِ الٰہی، لطائفِ عرفانی، قلبی کیفیات، حکایات و امثال اور قرآن و سنت کی حکیمانہ تعبیرات کو مثنوی کی شکل میں پیش کرتے ہیں، اور اس لیے بھی کہ نثر کے بہ نسبت نظم انسانی اذہان پر زود اثر اور مسحور کن ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ:

شعر آن باشد کہ خیزد از دلے
وز رساند آن بجانِ دیگری

مثنوی کی زبان چوں کہ رمزی اور استعارتی ہوتی ہے، اس لیے اس کے شرح و بیان کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رومی و سنائی اور عطار و جامی وغیرہ کی مثنویوں پر اب تک متعدد شرحیں تصنیفی مراحل سے گزر چکی ہیں۔

زیرِ نظر کتاب ’’مرشدِ عشق‘‘ عصرِ حاضر کی معروف روحانی شخصیت داعیِ اسلام، شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی عارفانہ مثنوی ’’نغماتُ الاسرار فی مقاماتِ الابرار‘‘ کی تشریح و توضیح ہے جسے علامہ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے تصنیف کیا ہے۔ آپ صاحبِ طرز ادیب، مشائخِ صوفیا کے نقیب، فقہ و تصوف کے رمز آشنا، صاحبِ مثنوی کے معتمد خلیفہ اور شیخ کے علوم و معارف و افکار و نظریات کے ترجمان ہیں۔

مثنوی ’’نغماتُ الاسرار‘‘ اب تک بغیر کسی شرح و بیان کے چار بار اشاعتی مراحل سے گزر چکی ہے۔ یہ اس کا پانچواں ایڈیشن ہے جو شرح و بسط کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس کی شرح اس لیے ناگزیر تھی کہ مثنوی کے بعض اشعار اور اصطلاحات و تعبیرات کی تفہیم عام قاری کے لیے نہایت مشکل تھی۔ اس حقیقت کا اعتراف خود صاحبِ مثنوی نے اِن اشعار میں کیا ہے:

اعتبارات و جہات اس کے سمجھ
اصطلاحات و لغات اس کے سمجھ
گر سمجھ سے دور ہو یہ علم و فن
پوچھ مردانِ خدا سے جانِ من

حضرت شارح نے مردانِ خدا کی صورت میں مثنوی کے اعتبارات و جہات اور فنِ تصوف کے اصطلاحات و تعبیرات کی تفہیم میں نہایت کامیاب سعی کی ہے جس کا اندازہ اگلے سطور میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔

تین سو ساٹھ صفحات پر مشتمل یہ کتاب مولانا جلال الدین رومی کے جذبہ و شوق کے نام نذر ہے، جس میں شیخ ابو سعد حسن سعید صفوی کی تقریظ کوزہ میں سمندر جمع کرنے کے مرادف ہے۔ ’’تعارف‘‘ کے زیرِ عنوان شارح نے صاحبِ مثنوی کے احوال و کوائف، مثنوی ’’نغماتُ الاسرار‘‘ پر تبصرہ اور کتاب ’’مرشدِ عشق‘‘ کی اہم خصوصیات کو بیان کیا ہے۔ اسی کے معاً بعد مولانا غلام مصطفیٰ ازہری کا محقق مقدمہ توحید و رسالت اور احسان و سلوک سے متعلق معلومات کا ایک تحقیقی دستاویز ہے جو ہر سنجیدہ قاری کے ذہن کو نئی جہتوں سے روشناس کراتا ہے۔

مثنوی کا آغاز ’’طائرِ قدس‘‘ کے زیرِ عنوان ہے جس میں کل سات اشعار ہیں۔ مثنوی کا پہلا شعر کچھ یوں ہے:

طائرِ قدسی حقیقت آشنا
لحنِ داؤدی میں ہے نغمہ سرا

حضرت شارح نے اِن ساتوں اشعار کے مضامین کو ’’نغمۂ روحِ انساں‘‘، ’’سازِ الہام‘‘ اور ’’اشارتِ بے خودی‘‘ کے ذیلی عنوانات کے تحت تقسیم کر کے نہایت نفیس تشریح کی ہے۔ شارح نے یہی انداز مثنوی کے دیگر اشعار کی توضیح کے لیے بھی اختیار کیا ہے۔ مثنوی کے پہلے شعر کی وضاحت کرتے ہوئے شارح لکھتے ہیں کہ:

’’پہلا شعر دراصل روحِ انسانی کی صدائے دل نواز ہے جس کا صحیح ادراک انہی کو ہو سکتا ہے جنہیں
گفتہ او گفتہ اللہ بود گرچہ از حلقوم عبداللہ ابود
کا صحیح شعور حاصل ہو‘‘۔

کتاب ’’مرشدِ عشق‘‘ تصوف کے تین بنیادی مضامین: توحید، حقیقتِ محمدیہ، احسان و سلوک اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔

توحید سے متعلق کل بیاسی اشعار کی شرح و وضاحت میں مصنف کا اندازِ تفہیم نہایت خوب، عمدہ اور لاجواب ہے۔ فلسفۂ توحید، معرفتِ خداوندی اور توحیدی عقائد کی تفہیم کے لیے حضرت شارح نے جن عقلی و نقلی دلائل کا سہارا لیا ہے، یقیناً وہ دلچسپ، محقق، قابلِ مطالعہ اور ذہن کشا ہیں۔

تشریحِ اشعار میں شارح کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مثنوی کے ایک یا چند اشعار کو یکجا کرتے ہیں، پھر حسبِ مضمون عنوانِ سخن قائم کرتے ہیں۔ اس کے بعد ان اشعار کی تشریح و توضیح کے لیے قرآن و سنت، کتبِ اسلاف، اقوالِ صوفیا اور فارسی و اردو کے قدیم استاد شعرا کے حوالے سے اپنی باتوں کو اس قدر مدلل و مبرہن کرتے ہیں کہ اعتراض و انکار اور شک و شبہات کی بدلیاں چھٹ جاتی ہیں۔ بسا اوقات کسی شعر کی تشریح ایک نہیں، متعدد طریقوں سے کرتے ہیں، جس سے شارح کا علمی تعمق، تحقیقی شعور اور فکری تدقیق نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔

بابِ توحید میں حضرت شارح نے صوفیا کے عقیدۂ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی جو نفیس وضاحت کی ہے وہ الہامات و واردات کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ وحدت و شہود کا مسئلہ بہت سے اہلِ علم کے مابین آج بھی ایک معمہ کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ’’مرشدِ عشق‘‘ کے مطالعے سے یہ معمہ ایک واضح حقیقت کی صورت میں سامنے آ جاتا ہے۔ مجھ ناقص کے لیے بھی یہ مسئلہ برسوں سے پیچیدہ، گنجلک اور مشکل ترین تھا، لیکن صاحبِ مثنوی کی عرفانی مجالس میں رفتہ رفتہ اس مسئلے کی گتھیاں سلجھتی ہوئی نظر آئیں، جس کے بعد منکشف ہوا کہ وحدت الوجود عقائدِ صوفیہ کا حصہ نہیں بلکہ ایمانِ حقیقی کا نام ہے اور وحدت الشہود اسی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔

حضرت شارح نے صاحبِ مثنوی کی عرفانی مجالس سے استفادہ کرتے ہوئے اس مسئلے کی یوں وضاحت کی ہے:
وحدت الوجود یہ ہے کہ وجودِ حقیقی، وجود بالذات، وجود ازلی و ابدی صرف ایک ہے۔ اسی بات کو [قل ہو اللہ احد] (الاخلاص، ۱) میں بیان کیا گیا ہے کہ معبود ایک ہے۔ اس دعوے میں اس کی دلیل بھی پوشیدہ ہے، کیوں کہ جب وجودِ حقیقی ایک ہے تو معبود بھی ایک ہی ہوگا۔ اور وحدت الشہود کا مطلب یہ ہے کہ ہر مخلوق اپنے خالق کا پتا دے رہی ہے؛ جس چیز کو دیکھو وہ ایک خالق کی شہادت فراہم کر رہی ہے، جس پر نگاہ ڈالو وہاں جلوۂ حق موجود ہے۔ اس بات کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: [فاینما تولوا فثم وجہ اللہ] (البقرہ، ۱۱۵) — تم جہاں نگاہ کرو وہاں جلوۂ حق موجود ہے۔

اسی مفہوم کی وضاحت صاحبِ مثنوی کے اس شعر میں ہے:

آئینۂ جمالِ الٰہی ہے چار سو
جس سمت دیکھتا ہوں نظر آ رہا ہے تو

بعض سالکین نے غلبۂ حال میں اسی جلوۂ حق کو عینِ حق کہہ دیا، جس سے دوسروں کو غلط فہمی پیدا ہوئی۔ مزید یہ کہ بعض حضرات نے اسے وحدت الوجود سمجھ لیا اور پھر اس کے ثبوت کے لیے دلائل و شواہد پیش کرنے لگے۔

مجھے لگتا ہے کہ اس وضاحت نے وحدت و شہود کے مسئلے کی تفہیم ہر خاص و عام کے لیے آسان کر دی ہے۔ جو بھی اس توضیح کو پڑھے گا وہ برملا اس حقیقت کا اعتراف کرے گا کہ وحدت الوجود کمالِ ایمان اور کمالِ توحید ہے، تو وحدت الشہود کمالِ احسان اور کمالِ عبدیت ہے۔ اس لیے حضرت شارح کہتے ہیں کہ ہمیں ایک ساتھ وحدت الوجودی بھی ہونا چاہیے اور وحدت الشہودی بننے کی بھی کوشش کرنی چاہیے، جس کا حکم حدیثِ جبریل میں ہے کہ: عبادت اس طرح کرو گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔

رسالتِ محمدی کے تحت مثنوی میں کل ۱۷۷ اشعار ہیں۔ شارح نے توضیحِ اشعار کے ضمن میں حقیقتِ محمدیہ کا اثبات، تصرفاتِ مصطفوی کے دلائل، حدیثِ لولاک پر محدثانہ گفتگو، بشریت و نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ اور عقیدۂ علمِ غیب سے متعلق فکر و تحقیق کی جو شجر کاری کی ہے، اس کے سائے میں ہر مکاتب و مسالک کو سکون و راحت کی سانس ملتی نظر آتی ہے اور باہمی اختلاف و انتشار کا جنازہ اٹھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

حقیقتِ محمدیہ کے ضمن میں مثنوی کے بعض اشعار کی تفہیم اخص الخاص افراد تک محدود تھی۔ جناب شارح کی نفیس توضیح نے ان اشعار کو عوام و خواص کے ذہنِ نارسا کے لیے بھی مفید بنا دیا ہے۔ اس لیے حلاج، ابنِ عربی، ابو سعید ابو الخیر، ابن الفارض اور رومی و بوصیری جیسے صالحین کے اشعار و تعبیرات پر نقد و جرح کرنے والوں کے لیے ’’مرشدِ عشق‘‘ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔

اس حوالے سے حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر ایک عرصے تک ہمارے فکری اضطراب کا سبب رہا:

وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہو کر
اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہو کر

اس کے شرح و بیان میں جناب شارح نے مفتی عبدالرحمن رشیدی رحمہ اللہ کا جو اقتباس نقل کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، اور اس نوعیت کے بہت سے اشعار کی تفہیم میں مدد ملتی ہے۔

بعض مقامات پر شارح نے سلفی مکتبِ فکر کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا ہے اور علمی و تحقیقی اسلوب میں اپنا مقدمہ رکھا ہے۔ چنانچہ عقیدۂ اہلِ سنت کے مطابق حضرت محمد ﷺ فرما روائے کائنات اور مختارِ کل ہیں، جب کہ سلفی مکتبِ فکر کو اس عقیدے پر سخت کلام ہے۔ وہ فرما روائے کائنات صرف اللہ جل شانہ کو قرار دیتے ہیں۔ اس نزاع کے پیشِ نظر شارح نے اس عقیدے کی جو برزخی توضیح کی ہے وہ یقیناً دلچسپ اور قابلِ مطالعہ ہے۔ خاص بات یہ کہ مصنف نے اس عقیدے کی وضاحت کے لیے سلفی جماعت کے امام و پیشوا مولانا اسماعیل دہلوی کی تحریر کو بطورِ سند پیش کیا ہے۔

اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی بشریت و نورانیت کے حوالے سے طرفین میں بہت گرما گرم بحثیں ہوئی ہیں۔ حضرت شارح اپنے موقف کے اثبات پر متعدد دلائل پیش کرنے کے بعد طرفین کی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے اپنا مقدمہ کچھ یوں رکھتے ہیں:
’’اب سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود جو ان کو اپنے جیسا بشر کہیں ان کا کیا حکم ہے؟ قابلِ غور ہے کہ حضور ﷺ کو اپنے جیسا بشر کہنا ممکنہ طور پر چند اسباب کے تحت ہو سکتا ہے:
(١) بطورِ توہین و تخفیف ہو، جیسا کہ کفار و مشرکین کہتے تھے۔ یہ کفر و بے دینی ہے۔
(۲) ہم انسانوں کے بالمقابل جو حضور ﷺ کے فضائل ہیں اس کے انکار کے لیے ہو۔ یہ کفر و ضلالت ہے۔
(۳) اس واقعی یا فرضی احتمال کو رد کرنے کے لیے ہو کہ کچھ لوگ حضور ﷺ کو بشر نہیں مانتے۔ یہ حسبِ ضرورت جائز ہے۔
(۴) اس عقیدے کو رد کرنے کے لیے ہو کہ کچھ لوگ حضور ﷺ کو صاحبِ تصرف و اختیار سمجھتے ہیں۔ یہ وہابیت ہے۔ یہ مسئلہ صوفیا اور وہابیہ کا مختلف فیہ مسئلہ ہے؛ ایسا کہنا وہابیہ کی روش اور اس سے بیزاری صوفیا کا امتیاز ہے۔‘‘

اسی طرح علمِ غیب کا مسئلہ، جو کہ 19ویں اور بیسویں صدی میں سب سے زیادہ موضوعِ بحث رہا ہے، اس حوالے سے صاحبِ مثنوی کے درج ذیل منتخب اشعار اس مسئلے کی وسطیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں:

وہ نبی حکمِ خدا سے سر بسر
غیب کے اسرار سے ہے باخبر
جس قدر چاہا خدائے پاک نے
اس قدر واقف ہوا وہ غیب سے
جس قدر چاہا رسول اللہ نے
اس قدر بخشا اسے اللہ نے

حضرت شارح کے مطابق علمِ غیب کا یہ اختلاف حقیقی نہیں، لفظی ہے۔ اس لیے کہ جو طبقہ غیب کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف جائز سمجھتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ تو متفق علیہ عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ کو علومِ غیبیہ حاصل ہیں۔ اور جو طبقہ علمِ غیب کا انتساب حضور ﷺ کی طرف درست نہیں سمجھتا، اس کے مطابق یہ انتساب قرآنی محاورے کے خلاف ہے، اس لیے یہ لوگ حضور ﷺ کی طرف علمِ غیب کے بجائے اطلاع علی الغیب کو منسوب کرتے ہیں۔

اس اختلاف کے بیچ صاحبِ مثنوی کے مذکورہ اشعار پر ریمارک دیتے ہوئے شارح لکھتے ہیں کہ:
’’امتی کو یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ جتنا اللہ نے چاہا اتنا بخشا، جتنا رسول اللہ نے چاہا اتنا پایا۔ علمِ غیب مصطفیٰ کے تعلق سے یہ ایسی تحقیق ہے کہ اگر اسے نظر میں رکھا جائے تو تمام مناظرے اور جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔‘‘

’’مرشدِ عشق‘‘ کا آخری باب احسان و سلوک پر مشتمل ہے، جس میں عظمت و شانِ اولیا، آدابِ شیخِ کامل، ضرورتِ شیخ، بیعت و ارادت، آدابِ بارگاہِ شیخ، سماع و وجد، شریعت، حقیقت اور معرفت کے اشتراکات و امتیازات، فضائلِ تصوف، منکرینِ تصوف کا رد، صوفیائے جاہل و مکار کی مذمت، فقیہانِ خشک، علمائے سُوء اور علمائے حق کے احوال و امتیازات، طالبانِ حق کے لیے پند و نصائح اور اذکار و اشغال جیسے عناوین شامل ہیں۔

آج کے حالات میں مدارس و جامعات کے اساتذہ اور طلبہ میں یہ فکر عام ہوتی جا رہی ہے کہ ایک مسلمان کے لیے صوم و صلاۃ کی پابندی اور صالحیت اختیار کر لینا ہی کافی ہے؛ کسی شیخ سے وابستہ ہونا اور پیری و مریدی کی راہ اختیار کرنا غیر ضروری، عبث اور فضول کام ہے۔ اگر کوئی اس راہ کو درست جانتا بھی ہے تو اس مخمصے میں مبتلا ہے کہ اب کوئی خضرِ زمانہ یا مرشدِ کامل نظر نہیں آتا۔ راقمِ خاکسار کا عہدِ طالبِ علمی بھی اسی فکری دھارے کے ساتھ گزر چکا ہے۔ کسی زمانے میں حضرت شارح کی بھی یہی رائے تھی، جس کا اظہار انہوں نے اس کتاب میں بھی کیا ہے، لیکن شارح کا یہ عقدہ شیخ عبدالقادر عیسیٰ کی کتاب ’’حقائق عن التصوف‘‘ کے مطالعے سے حل ہو گیا، جب کہ راقم السطور کے اس فکر و خیال کا محل خانقاہِ عارفیہ کی آغوش میں زمیں دوز ہوا۔

اسی لیے حضرت شارح نے اس کتاب میں ضرورتِ مرشد، انتخابِ مرشد اور بیعت و ارادت کے حوالے سے معترضین کے اعتراضات کا ترکی بہ ترکی جواب عقل و نقل کی روشنی میں دیا ہے، جس کے مطالعے سے ہر خاص و عام پر یہ بات منکشف ہو جاتی ہے کہ اس کائناتِ رنگ و بو میں معرفتِ خداوندی کے لیے کسی شیخ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہونا ناگزیر ہے۔ نہ صرف وابستگی بلکہ ارادت میں توحیدِ مطلب کا ہونا بھی ضروری ہے، یعنی یہ اعتقاد رکھنا زیادہ اہم ہے کہ ایک مرید کو جو کچھ بھی مطلوب حاصل ہوگا وہ صرف اپنے شیخ کے توسط سے ہی حاصل ہوگا، اگرچہ سارا عالم مشائخ سے پُر کیوں نہ ہو۔ گویا امیر خسرو کی زبان میں کہہ لیں:

ہمہ شہر پُر ز خوباں من و خیالِ ما ہے
چہ کنم کہ چشمِ بدخو نہ کند بکس نگاہے

حضرت شارح نے ان لوگوں کے خیالات کی بھی تردید کی ہے جو اپنے شیخ کی وفات کے بعد کسی شیخ سے منسلک ہونے کو خلافِ ارادت سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے شارح کا کہنا ہے کہ شیخ کی وفات کے بعد ارشاد و تربیت کے لیے دوسرے شیخ کی جانب توجہ کرنا واجب و ضروری ہے تاکہ مرید محرومی سے دور اور کمال سے ہمکنار ہو سکے۔ اپنی بات کی تقویت کے لیے شارح نے فتاویٰ صوفیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ:
’’فتاویٰ صوفیہ میں ہے کہ یہ جائز ہے کہ مرید کے لیے شیخِ صحبت، شیخِ ارادت اور شیخِ ارشاد الگ الگ ہوں۔‘‘ (مرشدِ عشق، ص: ۲۰۸)

سماع و وجد پر شارح نے مختصر مگر جامع گفتگو کی ہے اور آلۂ مزامیر کو مطلقاً حرام قرار دینے والوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے انہی کے آدرش امام و پیشوا کے اقتباسات سے اپنے موقف کی تائید پیش کی ہے۔ اس عنوان پر شارح کی کتاب ’’الموسیقی فی الاسلام‘‘ ہندو پاک سے شائع ہو کر مقبولِ خاص و عام ہو چکی ہے۔

ایک مقام پر شارح نے حقیقی عالم و صوفی کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
صوفی کا تعلق خانقاہ کی مسند نشینی یا چِلّم کشی سے نہیں، صفائے باطن سے ہوتا ہے۔ اسی طرح عالم کا تعلق مدرسے کی سند اور جبہ و دستار سے نہیں بلکہ علمِ سینہ اور معرفتِ حق سے ہوتا ہے۔

مثنوی کے خاتمہ میں جہاں شاعر نے اپنے جذب و شوق کا اظہار کرتے ہوئے مثنوی کے قارئین کو وظیفۂ معرفت عطا کیا ہے، وہیں شارح نے اپنے احساسات و کیفیات کی ترجمانی کرتے ہوئے مثنوی کے قارئین کو اس کی تلاوت کا طریقہ، سلیقہ اور ہنر بھی سکھا دیا ہے۔

شارح لکھتے ہیں کہ: مثنوی کے اشعار پڑھتے ہوئے بارہا خود کلامی اور خود احتسابی کی کیفیت معلوم ہوتی ہے، اپنے باطن کی پراگندگی سامنے آتی ہے، گناہوں پر ندامت پیدا ہوتی ہے، توبہ کی تحریک ملتی ہے اور ایک نئی ایمانی زندگی شروع کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ آخری بار جب اشعار کو سابق نسخے سے ملا رہا تھا تو یہ ارادہ پیدا ہو رہا تھا کہ ایک بار پھر شروع سے آخر تک اس مثنوی کی تلاوت کرنی ہے، اس انداز سے کہ جب ایک شعر پر عمل ہو جائے تو پھر اگلا شعر پڑھا جائے۔ اللہ اس آرزو کو عمل میں بدلنے کی توفیق بخشے! (ص: ۳۳۰)!

مذکورہ اقتباس کے ایک ایک سطر سے عشق و محویت، شیفتگی و دل بستگی اور والہانہ پن کا اظہار ہو رہا ہے۔ یقیناً اس جذبہ و شوق کے ساتھ جو اس مثنوی کی تلاوت کرے گا، امید ہے کہ وہ مثنوی کے اس آخری شعر کا کامل ظہور اپنی زندگی میں محسوس کرے گا۔ مثنوی کا آخری شعر ہے:

مثنوی نغماتُ الاسرار ہر زماں
جو پڑھے گا صدقِ دل سے بے گماں
وہ سعید ہو جائے گا حق آشنا
عارف باللہ مقبولِ خدا

خاتمہ کے بعد کتاب کے اخیر میں شارح نے مثنوی کے مشکل الفاظ و مصطلحات کی فرہنگ سازی کی ہے جو مثنوی کے تقریباً تمام مشکل الفاظ و اصطلاحات پر محیط ہے۔

مجموعی اعتبار سے یہ کتاب فنِ تصوف میں ایک محقق اور مستند حیثیت کی حامل ہے؛ محقق اس لیے کہ یہ کتاب قرآن و سنت، سیرت و سوانح، فقہ و اصول، کتبِ عقائد و تصوف، لغات و متفرقات سے مدلل و مبرہن ہے، اور مستند اس لیے کہ مثنوی کی تشریحات خود صاحبِ مثنوی کی عرفانی نگاہ سے گزر چکی ہیں۔ خود شارح نے مختلف مقامات پر کلامِ مثنوی کی وضاحت کے لیے صاحبِ مثنوی کے ملفوظات اور ان کے دیوان کے متفرق اشعار سے استشہاد کیا ہے، جس سے شرح کی استنادی حیثیت اور بھی مستحکم ہو جاتی ہے۔ گویا ’’مرشدِ عشق‘‘ ذخیرۂ تصوف میں ایک اہم ترین ذخیرہ ہے جو راہ روانِ عشق کے لیے مشعلِ راہ، مسافرانِ طریقت کے لیے نورِ بصیرت اور طالبینِ صادقین کے لیے سرچشمۂ ہدایت ہے۔

یہ کتاب طالبانِ سلوک کے لیے بالعموم اور سعیدی و عارفی رندوں کے لیے بالخصوص وہ جوہرِ نایاب ہے جس کی قدر و قیمت لفظوں کی حد میں لانا ممکن نہیں۔ یہ ایسا روحانی و عرفانی سوغات ہے جو شارح کو صبحِ قیامت تک زندہ رکھے گا۔ ان شاء اللہ۔

اخیر میں یہ عرضداشت ہے کہ کتاب ’’مرشدِ عشق‘‘ جہاں حسنِ طبع اور جدتِ تزئین کے اعتبار سے قابلِ تحسین ہے، وہیں اس کا سرورق بھی دلوں کو بھا جاتا ہے۔ ان خوبیوں کے باوجود کتاب میں متعدد مقامات پر پروف کی خامیاں در آئی ہیں۔ امید ہے کہ اکیڈمی کے ذمہ داران اگلی اشاعت میں اس کی تصحیح فرما لیں گے۔ ان شاء اللہ۔

ساجدالرحمن شبرؔ مصباحی
۳۰/جمادی الاولیٰ ۱۴۴۷ھ
۲۱/نومبر ۲۰۲۵ء

Comments 0

Advertisement