مرشدِ عشق ؛ تعارف و تجزیہ

مرشدِ عشق ؛ تعارف و تجزیہ

کتاب : لمعات الانوار فی شرح نغمات الاسرار (مرشدِ عشق )
متن:مثنوی نغمات الاسرار (627 اشعار پر مشتمل)

مرشدِ عشق ، موسوم بہ لمعات الانوار فی شرح نغمات الاسرار، جس کا متن ایک شاہ کار نظمِ تصوف، خورشیدِ اسرارِ معرفت ہے اور شرح ان عرفانی رموز کی نورانی کرن ہے۔ بے شک عارفانہ کلام کی یہ مثالی تشریح و تمثیلی تفہیم  امور تصوف سے آشنائی اور رموزِ حقیقت سے عقدہ کشائی میں   اہل علم و معرفت قارئین  کے لیے خضرِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے، اور  بیدار دلوں کے لیےسراپا چراغِ رشدو ہدایت ہے۔
حضورِ ماتن ادام اللہ ظلہ و فیوضہ علینا ایک آفاقی داعی، مرشد و مربی کی حیثیت سے اس دار العمل میں کارفرما ہیں۔ اسی سبب سے آپ کی توجہ تصنیف و تالیف کی بجائے مردم سازی اور متوسلین کی تربیت کی طرف  ہے۔الا یہ کہ واردات قلبی و آمدات غیبی کو نظم یا نثر کی صورت کسی حد تک ضبط ِتحریر کرا دیا کرتے ہیں۔
آپ کا یہ مجموعہ نغمات الاسرار در حقیقت الہامی واردات کا نتیجہ ہے۔ آپ مغلوب المعرفت قلبی واردات کو سلک نظم میں جب پرونا چاہا تو مثنوی کا انتخاب کیا ۔ کہ اصنافِ شعر و سخن میں مثنوی کو  ہی یہ شرف حاصل ہے کہ صوفیائے کرام نے مذہبی تعلیمات کو پیش کرنے کے لیے زیادہ تر اسی صنف کا انتخاب فرمایا ہے۔ مثنوی کا میدان بہت وسیع ہے۔ اس میں قصیدوں کی شان و شوکت سے لے کر گیتوں کا حسن اور لوچ تک در آسکتے ہیں۔ مثنوی خارجی پہلوؤں کو بھی بخوبی بیان کرتی ہے اور داخلی جذبات و کیفیات کا اظہار بھی بطریقِ احسن کرتی ہے۔ اسی لیے ظاہر و باطن ہر دو کے بیان   کے لیے اس کا انتخاب کار گر ثابت ہوتا ہے۔
مثنوی نغمات الاسرار، 627 اشعار پر مشتمل سلسۂ معرفت کی ایک اہم کڑی ہے۔جو کہ  فکری گہرائی اور علمی لطافت کو اس انداز سے پیش کرتی ہے کہ قاری نہ صرف تصوف کے رموز سے آشنا ہوتا ہے بلکہ معرفت کے اسرار میں بھی بصیرت حاصل کرتا ہے۔
 مرشد عشق کے ساتھ متن کا  یہ پانچواں ایڈیشن  ہے بقول مصنف: ’’ پچھلی اشاعتوں کے جو اشعار اس میں شامل نہیں انہیں منسوخ سمجھا جائے ۔ اس طرح پیش نظر نسخہ ہی اب تک کا صحیح ترین اور معتمد نسخہ ہے۔‘‘ (مرشد عشق، ص:21)
حضرتِ شارح دام ظلہ ایک باکمال عالمِ دین ، ماہر قلم کار ، پی ایچ ڈی ، کہنہ مشق ادیب، قابل مدرس و مصنف اور صاحبِ بیعت و ارشاد مربی ہیں۔ باوجود اس کے مذکورہ تصنیف کے حوالے سے اپنی مہارت و صلاحیت سے کہیں بڑھ کر حضورِ ماتن کی صحبت میں رہ کر متن کی تحقیق و تشریح میں خواندہ سے زیادہ شنیدہ و دیدہ پر اعتماد کیا ہے۔ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی صاحب نے مرشدِ عشق کو معنوی محاسن کے ساتھ ظاہری زیبائش و آرائش میں بھی خوب سے خوب تر بنانے کی سعی   فرمائی ہے اور اس کے لیے کہیں انہیں روایت سے ہٹنا پڑا ہےتو اسے بھی گوارا کیا ہے ۔ مثلاً :متن منظوم کے بعد لفظی تشریح سے معنوی ربط کو ٹوٹتا دیکھ انہوں نے یہ طریقہ بروئے کار لایا کہ آخر کتاب میں لفظی تشریح پر مشتمل بہ ترتیب حروفِ تہجی فرہنگ مقرر کردیے جو کہ  نعم البدل ثابت ہوا ہے ۔ یہ بھی حضرتِ شارح کا کمال ہے کہ حصولِ مقاصد کے لیےاصول روایات کو درکنار کرنا بھی منظور کیا جانا چاہیے۔ 
اس تصنیف کی خصوصیات جو کہ خود مصنف نے تعارف میں شمار کرائے ہیں، ملخصاً پیش کیے جاتے ہیں، بنظر غائر ملاحظہ فرمائیں:
(1) حتی الامکان اختصار  کی گئی ہے متقاضیٔ تفصیل مضامین کی قدرے تفصیل کرتے ہوئے۔
(2) حسبِ مضامین ایک یا پھر کئی ایک اشعار کی مجموعی تشریح کی گئی ہے۔
(3) آمدہ مشکل الفاظ کی توضیحی الف بائی فرہنگ آخر کتاب میں دی گئی ہے۔
(4) عقیدۂ توحید سے متعلقات کی شرح بتقاضۂ ضرورت طویل ، مکرر اور متنوع   کی گئی ہے ۔
(5) زبان و اسلوب میں جہاں تک بن پڑا عام و خاص کے لیے یکساں قابلِ استفادہ بنانے کی سعی کی گئی ہے۔
 مذکورہ بالا خصوصیات کے ساتھ ساتھ مزید اورجو راقم السطور کو باصرہ نواز ہوئیں ان میں سے مشتے از خروالے قلم بند کرتا ہوں۔  
حضرتِ شارح نے مرشدِ عشق کی تشریح و توضیح میں اسلامی مسلمات کو سائنسی نظریات کے تحت برتنے کا ہنر بانداز خوب اپنایا ہے، اس موقف کو باور کراتے ہوئے کہ یہ بس تقریب فہم کے لیے ہے ۔  اور یہ کہ صاحبانِ علوم عصریہ کے فہم میں آسانی ہو نیز ع: ز دیا میں کشد صیاد دام آہستہ آہستہ 
پہلے ایک مختصر اقتباس جوں کہ توں مطالعہ فرما لیں تا کہ شرح کی جامعیت اور افادیت کا اندازہ ہو جائے :
باب: نور ظہور ذات
عنوان: مقام وحدت

(54) ہر طرف ہر سمت ہے جلوہ نما
    بس اسی کا نور بے چون و چرا
(55) شوق اظہارِ خدائی ہے وہ نور
    اور جوش خود نمائی ہے وہ نور 
(56) احدیت کے راز کا پردہ ہے نور
    اور اس کی ذات کا جلوہ ہے نور
(57) از زمیں تا آسمانِ پر غرور
    نور ہی ہے نور ہی ہے نور نور 

وحدت الوجودی اسکیم کے مطابق ذاتِ غیب الغیب کا تنزل اول حقیقت محمدی یا مقام وحدت ہے۔ یہ نور حق تعالیٰ کے نور کا ظہور ہے۔ یہ پوری کائنات اسی نور سے ظہور پذیر ہوئی۔ جدید سائنس کی زبان کا سہارا لیں تو الوجود کا ظہور انفجارِ عظیم (Big Bang) کے ذریعے ہوا۔ دونوں اصطلاحوں میں تقریب فہم کے لیے- نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے، کیوں کہ ایک کا تعلق وجدانیت یا الہامات سے ہے جبکہ دوسرے کا تعلق قیاسات اور تخمینات سے ہے - یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہی (Big Bang) بگ بینگ مقام وحدت ہے۔ اس سے جدید اہل نظر بہ آسانی یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کائنات کس طرح تنزلِ اول کے مختلف تنزلات یا ظہور اول کے مختلف مظاہر ہیں اور کس طرح ان سب کے بیچ وحدت کا رشتہ قائم ہے۔  ’’ وحدت کا بیان‘‘ دراصل اسی نقطے کی تشریح تھی۔  اب ’’ نور ظہور ذات کا بیان ‘‘ اس پہلو کی نقاب کشائی ہے کہ ذات غیب الغیب کا ظہور جس نور کے پردے میں ہوا ، کائنات رنگ و بو میں کس طرح سے اس نور کی جلوہ نمائی ہے شیخ کے بقول اہل فہم پر روشن ہے کہ ذات غیب الغیب کا ظہور جس نور کے پردے میں ہوا ہے ہر طرف وہی نور اپنے مختلف مظاہر میں چھایا ہوا ہے اس نور کے ظہور کے پیچھے حق تعالی کا ہی ارادہ و مشیت کار فرما ہے۔ وہ نور ذات احد کے اسرار اور ان اسرار کے انکشاف کا پردہ ہے۔ وہ نور بطون و ظہور کے بیچ حجاب ہے اس حجاب کے آگے وہ سر الاسرار اور راز سربستہ ہے جو عقل و خیال سے ماورا ہے۔ جبکہ اس کی دوسری طرف سلسلۂ کائنات ہے اللہ نور السماوات والارض (النور35) اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ "
یہ اقتباس بطورِ نمونہ ہے جب کہ ان اشعار کے مضامین آنے والے اشعار میں  کئی زاویوں سے اور واضح ہو جاتے ہیں اور یونہی آگے کی تشریح میں آیات  و روایات اور حکایات و فرمودات کی جلو کاری بھی تفکر و تدبر کی خوب دعوت دیتی ہے۔
حضرتِ شارح نے جس کو پہلی خصوصیت کے طور پر گنایا تھا اس کی بھی جھلکیاں ملاحظہ فرمالیں۔ مرشد عشق میں آداب المریدین سے موسوم ایک باب باندھا گیا جس میں چھ اشعار 500ــ تا ــ505  متن کے لائے گئے اور ان کی توجیہ چھ سات سطور میں ہی اختتام پذیر ہوگئی۔ 
جب کہ  عقیدہ شان وحدت کے باب میں پردۂ کثرت کے عنوان سے تین اشعار 28ــ تا ــ30  لائے گئے اور ان کی آٹھ تشریحات فرمائیں وہ بھی تقریباً آٹھ صفحات پر مشتمل توضیحات ہیں۔ 
پہلی تشریح میں حدیثِ خرقہ پیش فرمائیں۔
دوسری تشریح میں حقیقت مطلقہ کو آیت قرآنی اور اس کی متعدد تفاسیر سے واضح کیا۔
تیسری تشریح میں حدیث نور کو پیش فرمایا۔
چوتھی پانچویں تشریح بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں فرمائی۔
جب کہ چھٹی اور ساتویں تشریح میں فلسفیانہ توضیح کی ہے۔
اور آٹھویں تشریح میں طبیعیاتی سائنسی تشریح انفجار عظیم (Big Bang) نظریہ کے مطابق فرمائی ہے ۔
یعنی کسی شعر کی بہت مختصر تشریح کی گئی جب کہ کسی شعر کی نمبر وار کئی کئی تشریحات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اور کسی شعر کی تشریح میں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ صوفیاء و علماء کے اقوال اور قدیم شعراء کے اشعار پیش کیے گئے تو کسی کی توضیح میں جدید سائنس کے نظریے کی رو سے افہام و تفہیم کا التزام فرمایا گیا ۔
علاوہ ازیں اس کتاب میں بہت کچھ ہے فلسفیانہ افکار، جدید سائنسی نظریات،اورجملہ عناصر میں ہم آہنگی کے ساتھ تطبیق و ترسیل  اور بھی بہت کچھ جو کہ اس کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے والا ہی جان سکتا ہے کہ اس میں کتنے دفینے موجود ہیں، حضرتِ شارح کے کتنے گنجینۂ معانی اور حضورِ ماتن کے کتنے خزینۂ عرفانی ہیں اوران میں سے قاری کس سے کتنا مستفیض ہو سکتا ہے!۔

از: م،ش،ق،سحرؔ اورنگ آبادی 

Comments 0

Advertisement