اپنی ضروریات و حاجات اللہ کے حضور رکھنا، اسی پر اعتماد کرنا، اس کے علاوہ کسی سے امید نہ لگانا، اسی سے ہر چیز مانگنا، ہمیشہ توحید پر قائم رہنا۔
محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ (۴۷۰ھ – ۵۶۱ھ) کا شمار ان اکابر اولیا میں ہوتا ہے جو توحید اعتقادی کا عملی مظہر اور اسی کے داعی و مبلغ ہوتے ہیں۔ آپ کی تعلیمات کا اصل الاصول توحید ہے۔ جیسا کہ آپ نے اپنے صاحب زادے شیخ عبد الوہاب قادری رحمہ اللہ کو وصیت کی تھی:
’’اپنی ضروریات و حاجات اللہ کے حضور رکھنا، اسی پر اعتماد کرنا، اس کے علاوہ کسی سے امید نہ لگانا، اسی سے ہر چیز مانگنا، ہمیشہ توحید پر قائم رہنا کہ توحید ہی تمام نیکیوں کی جامع ہے‘‘۔ (فتوح الغیب، مقالہ: ۷۹)
آپ پر توحید کا ایسا غلبہ ہے کہ ایک مقام پر طالبین آخرت کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے دنیا و آخرت کے پرستارو! تم ابھی اللہ اور اس کی بنائی ہوئی دنیا کی حقیقت سے ناواقف ہو۔ تم نے اپنے اور اللہ کے درمیان دیواریں کھڑی کر لی ہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ کسی نے دنیا کو اپنا بت بنا رکھا ہے تو کوئی آخرت کا پرستار ہے۔ کوئی خواہش و لذت کا اسیر ہے تو کوئی مخلوق کی تعریف و ستائش اور پذیرائی کا خواہاں ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ ایک بت ہے۔ طالبینِ مولیٰ کو صرف اور صرف اللہ ہی کا طالب رہنا چاہیے‘‘۔ (جلاء الخاطر، ص: ۱۹)
آپ دعوت و تبلیغ، ارشاد و ہدایت، اخلاق و کردار کے ساتھ کشف و کرامت ہی کے امام نہیں تھے بلکہ ان تمام خوبیوں کے ساتھ آپ عظیم مفسر، بڑے محدث، ماہر مفتی، زمانہ شناس فقیہ اور نحوی و بلاغی بھی تھے۔ علم و عمل اور اخلاق و روحانیت کے اس آفتابِ عالم تاب کو اللہ نے قوتِ گویائی اور تاثیرِ سخن بھی بلا کی عطا فرمائی تھی۔ آپ کے وعظ و خطاب کے دوران سامعین پر ایک قسم کی وجدانی و روحانی کیفیت طاری رہتی، پوری محفل آہ و بکا اور رقت آمیز کیفیت سے دوچار رہتی اور جب آپ اپنی تقریر سے فارغ ہوتے تو سامعین کی ایک بڑی تعداد اپنے سابقہ گناہوں سے تائب ہو چکی ہوتی۔
معاصرین سے لے کر بعد کے ادوار تک جن بلند و بالا القاب و خطابات سے ائمہ و محدثین نے آپ کو یاد کیا ہے اور آپ کے تبحرِ علمی، دینی ثبات قدمی، روحانی بلندی کا اعتراف کیا ہے، آپ کے بعد کسی کو اس طرح یاد نہیں کیا گیا ہے۔ چناں چہ آپ کی عظمت و شان بیان کرنے والوں میں شیخ علی بن ہیتی، شیخ ابو سعد قیلوی، شیخ ابو العباس سید احمد کبیر رفاعی، شیخ ابو نجیب سہروردی، شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ ابو مدین شعیب مغربی، شیخ عبد اللہ یافعی، امام عبد الوہاب شعرانی، امام سمعانی، حافظ ابن جوزی، حافظ عبد الغنی مقدسی، حافظ ابن قدامہ حنبلی، امام برزالی اشبیلی، امام ابن النجار، امام عز الدین بن عبد السلام، امام نووی، شیخ ابن تیمیہ (شیخ ابن تیمیہ قادری سلسلہ میں صاحبِ خرقہ ہیں)، حافظ ذہبی، حافظ ابن قیم الجوزیہ، حافظ ابن کثیر، حافظ ابن رجب حنبلی، حافظ ابن حجر عسقلانی وغیرہم جیسے سلاطینِ تصوف و عرفان، اساطینِ علم و فن اور اکابرینِ فقہ و حدیث شامل ہیں۔
حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ کی ولادت جیلان کے نواحی خطہ ’’نیف‘‘ میں ہوئی۔ آپ نجیب الطرفین سید یعنی والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسینی ہیں۔ آپ کی پیدائش کے ایک سال بعد ہی والد بزرگوار شیخ ابو صالح سید موسیٰ جنگی دوست رحمہ اللہ کا وصال ہو گیا تھا۔ چناں چہ یکہ و تنہا ہونے کے باوجود آپ کی والدہ ماجدہ ام الخیر سیدہ فاطمہ رحمہا اللہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا۔ تیرہ/چودہ سال تک آپ جیلان میں تعلیم حاصل کرتے رہے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بغداد تشریف لے گئے، جہاں متداول علوم و فنون مثلاً: تفسیر، حدیث، فقہ، ادب و بلاغت اور تصوف کی تعلیم ان علوم و فنون کے ماہر اساتذہ و ائمہ سے حاصل کی۔ جن میں خصوصیت کے ساتھ امام محمد بن حسن باقلانی، امام محفوظ بن احمد کلوذانی، امام ہبۃ اللہ ابن مبارک سقطی، امام یحیٰ بن علی تبریزی، شیخ حماد بن دباس اور شیخ مابرک مخزومی بہت نمایاں ہیں۔
کتبِ تواریخ و سیر آپ کے سفر بغداد کے سلسلے میں اس بات پر متفق ہیں کہ بغداد جانے کے بعد آپ کا کوئی ایک مستقر نہیں تھا بلکہ آپ وقتاً فوقتاً جگہ تبدیل کرتے رہتے، جس کی وجہ سے آپ کو بے شمار مصائب سے دوچار بھی ہونا پڑا: رہنے سہنے کی دقت، کھانے پینے کی پریشانی اور اسی کے ساتھ گزر اوقات کے لیے معاشی تگ و دو۔ آپ خود فرماتے ہیں:
’’جس قدر بکثرت مشقتیں اور دقتیں مجھ پر پڑتی تھیں اگر کسی پہاڑ پر پڑتیں تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا‘‘۔ (قلائد الجواہر، ص: ۱۹۷)
بسا اوقات تو کئی کئی دن کے فاقے ہو جاتے اور بھوک ایسی محسوس ہوتی گویا جان ہی نکل جائے گی۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں دریائے دجلہ کے کنارے اور صحراؤں میں اگ آنے والے خود رو پودے: گھاس پھوس اور جنگلی سبزوں کی پتیوں سے اپنی بھوک مٹاتے۔ ایسی مشقت و پریشانی میں کوئی دوسرا ہوتا تو یہ کہتا ہوا اپنے وطن لوٹ جاتا کہ: جان بچی تو لاکھ اوپائے۔ مگر آپ سراپا صبر و استقلال بنے ڈٹے رہے، ہر طرح کی مصیبتیں برداشت کیں لیکن اکتسابِ علم و فیض میں کسی طرح کی کمی آنے نہیں دی اور اپنے کام میں مخلص لوگوں کی یہی پہچان بھی ہے کہ کسی قیمت پر وہ اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹتے۔
تعلیمی حصولیابیوں کے ساتھ حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ بڑے سخت مجاہدات بھی کیا کرتے تھے۔ اکثر صحراؤں، جنگلوں اور بیابانوں میں ایسے گشت کرتے ہوتے کہ انھیں کوئی پہچان نہیں پاتا تھا۔ اس طرح تعلیم و تربیت اور ریاضت و مجاہدہ کرتے تقریباً عمر کے چالیس/پینتالیس سال گزر گئے، تب جا کر آپ لوگوں کی تعلیم و تربیت اور رشد و ہدایت کی طرف مائل ہوئے، جس کی وجہ آپ کے مرشدِ خلافت و اجازت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمہ اللہ بنے۔ شیخ مخزومی نے آپ کو اپنا خلیفہ و مجاز بنا کر اپنے قائم کردہ ’’مدرسہ لطیفیہ‘‘ باب الازج، بغداد میں درس و تدریس پر مامور کیا، جہاں آپ نے درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور فتویٰ نویسی کے ساتھ وعظ و خطابت کے ذریعہ خلقِ خدا کی دینی، علمی، فکری اور اصلاحی رہ نمائی فرمائی۔
چناں چہ آپ کے تلامذہ اور خلفا میں آپ کی اولاد (شیخ عبد الوہاب، شیخ عبد الرزاق، شیخ عبد العزیز وغیرہم) کے علاوہ بے شمار اکابرینِ علم و عرفان شامل ہیں، جن میں خصوصیت کے ساتھ شیخ ابو علی حسن قادسی، حافظ عبد الغنی مقدسی، شیخ عمر بن مسعود بزاز، شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ علی بن ابراہیم حدادی یمنی، شیخ محمد بن بطائح، شیخ بدیع الدین شارعی، شیخ ابو السعود حریمی وغیرہم سر فہرست ہیں۔
آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔ آپ کی طرف جن کتابوں کا انتساب کیا جاتا ہے ان میں فتوح الغیب، الفتح الربانی، غنیۃ الطالبین، جلاء الخاطر نمایاں ہیں۔
حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ نے جس دور میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا شروع کیا، اس دور میں حکومت سے لے کر رعایا تک اور عوام سے لے کر خواص تک ہر طبقے میں افتراق و انتشار، فتنہ و فساد اور دین بیزاری و بے راہ روی کا بازار گرم تھا۔ ایسے وقت میں اس بگڑے ہوئے ماحول کو درست کرنے کے لیے جس ایمانی کیفیت اور جلالی لہجے کی ضرورت تھی اللہ رب العالمین نے اس لہجے سے آپ کو بھرپور حصہ بھی عطا کیا تھا اور آپ کی طرف لوگوں کے قلوب کو بھی مائل کر دیا تھا تاکہ لوگ آپ کی باتیں سن کر اپنی اصلاح کر سکیں۔
ایک مرتبہ آپ نے اپنے مریدوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے منافق! اے مخلوق اور اسباب کے پجاری! اے اللہ کو بھلا دینے والے! تم چاہتے ہو کہ ان سب بد اعمالیوں کے باوجود تمھیں عزت اور قدر و منزلت حاصل ہو جائے۔ ہرگز نہیں! نہ تمھارے لیے کوئی عزت ہے اور نہ کوئی قدر و منزلت۔ پہلے اسلام لاؤ، پھر توبہ کرو، پھر علم سیکھو، پھر عمل کرو، پھر اخلاص حاصل کرو۔ ورنہ تم ہدایت نہیں پا سکتے‘‘۔ (الفتح الربانی، مجلس: ۳)
اپنے دور کے ظاہر داروں کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’صرف اولیاء اللہ کے نام لینے، ان کے احوال و کرامات بیان کرنے، ان کی طرح لباس پہننے اور ان کی طرح باتیں کرنے پر اکتفا نہ کرو، کیوں کہ اگر تم ان کے اخلاق و سیرت اور طرزِ عبادت کی پیروی نہ کروگے، ان کے نقشِ قدم پر نہ چلوگے تو یہ سب ظاہرداریاں تمھیں کچھ فائدہ نہیں دیں گی۔ تمھاری حالت تو یہ ہے کہ تم سراپا کدورت ہو، صفائے باطن سے بالکل خالی ہو۔ تمھارے دل و دماغ میں مخلوق ہے، خالق نہیں۔ تم طالبِ دنیا ہو، طالبِ آخرت نہیں۔ تم ظاہر پرست باطل کے دلدادہ ہو، حقیقت اور باطن سے تمھیں کوئی علاقہ نہیں۔ تم قول کے غازی ہو، عمل اور اخلاص کے مردِ میدان نہیں ہو‘‘۔ (السابق، مجلس: ۴۹)
ایک مقام پر آپ نے فرمایا:
’’اے تصنع اور دکھاوا کرنے والے! تو کس حال میں مبتلا ہے! اگر نفس، خواہش، طبیعت، جہل اور بد خلقی تجھ پر حاوی ہے تو محض دن کے روزے، رات کے قیام اور کھانے پینے کے معاملے میں خود پر سختی برتنے سے تجھے اللہ کا قرب میسر نہیں ہوگا۔ اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے۔ اپنے اندر اخلاص پیدا کرو اور بری عادتوں، بری خصلتوں سے اپنے آپ کو پاک کرو‘‘۔ (جلاء الخاطر، ص: ۴۵)
مزید ایک جگہ اس طرح گویا ہوتے ہیں:
’’قربِ الٰہی محض ظاہری اعمال سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ نعمت پہلے قلب، پھر جسم سے متعلق اعمال کے انجام دینے سے ملتی ہے‘‘۔ (السابق، ص: ۴۸)
عوام تو عوام، خواص میں بھی اب زرق برق لباس، اونچے اور موٹے عمامے، سرمئی آنکھوں کے ساتھ نرم و ملائم مخملی قالینوں پر مسند آرائی اور ارد گرد ’’دریں چہ شک‘‘ کہنے والوں کے ہجوم کا نام تقویٰ ہوتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے آپ کا ارشاد ہمیں اپنے اندرون میں جھانکنے اور اپنی اصلاح کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’تقویٰ کی حقیقت تو یہ ہے کہ جو کچھ تمھارے دل میں ہو اسے ایک صاف شفاف طشت میں نکال کر رکھو، پھر اسے بھرے بازار میں لے کر پھرو جہاں ہر ایک کی نظر اس طشت پر پڑے اور اس میں کوئی ایک بھی ایسی چیز نہ ہو جس کی وجہ سے لوگوں کے سامنے لے جانے میں تمھیں حیا آئے‘‘۔ (الفتح الربانی، مجلس: ۵۲)
اس کے علاوہ شیخ لوگوں کو تواضع و انکساری کی خصلت اپنانے کا درس دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’تواضع یہ ہے کہ تم جس کسی سے ملو – خواہ وہ تم سے چھوٹا ہو یا بڑا، عالم ہو یا جاہل، متقی ہو یا فاسق و بدعمل، مومن ہو یا کافر – اسے اپنے سے افضل اور بہتر جانو اور اپنے دل میں یہ گمان رکھو کہ اللہ نے کوئی تو ایک خوبی اسے ایسی دی ہوگی جو تم میں نہیں ہوگی اور وہ اسی خوبی کی وجہ سے اللہ کے نزدیک تم سے بہتر و برتر ہوگا‘‘۔ (فتوح الغیب، مقالہ: ۷۸)
اسلام کا اولین مطمح نظر انسانیت کی بھلائی، خیر خواہی اور ان کی داد رسی رہی ہے۔ اسی لیے پیغمبر اسلام ﷺ نے سب سے زیادہ زور خلقِ خدا کی خدمت پر دیا ہے۔ آپ کے سچے جانشین محبوب سبحانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ سلوک و تصوف کے جس انقلابی نظام کو لے کر اٹھے تھے اس میں صفائے قلب اور اخلاصِ نیت کے ساتھ خدمتِ خلق کو بھی بڑا درجہ حاصل تھا۔ چناں چہ ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں:
’’اپنے ہاتھوں کو دنیا میں خرچ کرنے کا عادی بناؤ اور اپنے دلوں میں دنیا سے بے رغبت رہنے کی عادت ڈالو۔ فقرا کو عطا کرنے میں بخل سے کام نہ لو۔ جب تم سے کوئی کچھ مانگے تو منع مت کرو، ورنہ جب تم اللہ سے مانگو گے تو وہ بھی تمھاری دعاؤں کو رد کر دے گا اور کیوں کر رد نہ کرے گا حالاں کہ تم نے اس کے تحفے کو رد کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ دروازے پر آنے والا سائل اللہ کی طرف سے بندے کے لیے بھیجا گیا تحفہ ہے۔ تمھیں اس بات پر شرم نہیں آتی کہ تمھیں اپنے پڑوسی کی محتاجی اور فاقے کا یقینی علم ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود تم اپنے باطل گمان کی وجہ سے اسے کچھ نہیں دیتے۔ تم کہتے ہو کہ وہ صرف اپنی غربت کا دکھاوا کر رہا ہے، ورنہ اس نے اپنے پاس سونا چھپا رکھا ہے۔ تم مدعیِ ایمان ہو کر سو جاتے ہو حالاں کہ تمھارا پڑوسی بھوکا ہوتا ہے، تمھارے پاس زائد کھانا موجود ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود تم یہ کھانا اس محتاج کو نہیں دیتے۔ بہت جلد تمھارا مال تم سے چھین لیا جائے گا، نیز تمھارا دستر خوان بھی تمھارے سامنے سے اٹھا لیا جائے گا۔ تم ذلیل و محتاج بن کر اس دنیا سے جدا ہو جاؤ گے جسے تم نے اپنی محبوبہ بنایا ہوا ہے‘‘۔ (جلاء الخاطر، ص: ۱۷۸)
’’جس نے دنیا میں کسی کو کھلایا ہوگا، قیامت کے دن اسے کھلایا جائے گا۔ جس نے دنیا میں کسی کی پیاس بجھائی ہوگی، قیامت کے دن اس کی پیاس بجھائی جائے گی۔ جس نے دنیا میں کسی کو پہنایا ہوگا، قیامت کے دن اسے پہنایا جائے گا۔ اور جس نے دنیا میں کسی پر رحم کیا ہوگا، قیامت کے دن اس پر رحم کیا جائے گا‘‘۔ (السابق، ص: ۱۳۶)
حضرت محبوب سبحانی قدس سرہ کی یہ وہ تعلیمات و ارشادات ہیں جن پر آج کے دور میں واعظین و خطبا کی کرامت بیانیوں نے پردہ ڈال دیا ہے۔ کاش! صوفیہ سے نسبت کا دم بھرنے والے محبوب سبحانی کی مذکورہ ہدایات کو عملی جامہ پہناتے تو ہمارا مذہبی منظرنامہ کچھ اور ہی ہوتا۔
آفتاب رشکِ مصباحی
شعبہ فارسی، بہار یونیورسٹی، مظفرپور
Comments 0
Leave your comment