Donate Now
سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول میں تقریبِ حلف برداری، تفویضِ ذمہ داری اور تقسیمِ اعزازات

سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول میں تقریبِ حلف برداری، تفویضِ ذمہ داری اور تقسیمِ اعزازات

Read in:
हिन्दी English اردو

اولمپیاڈ کے کامیاب طلبہ میں میڈلز و اسناد تقسیم؛ ریاستی ٹاپر کو نقد وظیفہ

سید سراواں، کوشامبی، ۲۷ جولائی ۲۰۲۶ء: سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول، سید سراواں، کوشامبی میں سالانہ تقریبِ حلف برداری، تفویضِ ذمہ داری اور تقسیمِ اعزازات نہایت منظم اور پُروقار انداز میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا مقصد منتخب طلبہ کو قائدانہ و انتظامی ذمہ داریاں سونپنا، انہیں دیانت داری اور نظم و ضبط کے ساتھ فرائض انجام دینے کا حلف دلانا اور تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

تقریب میں جناب ساجد سعیدی (مینیجر) اور شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی (پریزیڈنٹ) نے طلبہ کی کامیابیوں کو سراہا، منتخب طلبہ قائدین کو بیج (Badge) اور اعزازی سیش (Sash) عطا کیے اور اولمپیاڈ میں کامیاب طلبہ کو میڈلز اور اسناد پیش کیں۔

تقریب کی نظامت ثانیٔ زہرا (ٹیچر، سینٹ سارنگ) نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔ پروگرام کا آغاز اجتماعی دعا اور معروف دعائیہ نغمہ ’’تیری ہے زمیں، تیرا آسماں‘‘ سے ہوا۔ بعد ازاں اولمپیاڈ امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو گولڈ، سلور اور برونز میڈلز کے ساتھ اسناد پیش کی گئیں۔ تقریب کا نمایاں لمحہ اس وقت آیا جب جماعت دوم کے طالب علم محمد مدیر کو ریاستی سطح پر اول مقام حاصل کرنے پر خصوصی طور پر اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ انہیں کامیابی کی سند، اعزاز اور ایک ہزار روپے کا نقد تعلیمی وظیفہ پیش کیا گیا۔ اسی طرح جماعت ششم کے طالب علم عطاء الرحمٰن کو نمایاں کارکردگی پر Excellence Award سے نوازا گیا۔ طلبہ کی کامیابی میں اساتذہ کی رہنمائی اور مسلسل محنت کا اعتراف کرتے ہوئے اساتذہ کو بھی اعزازات پیش کیے گئے۔

تقریب کے دوسرے مرحلے میں تعلیمی سال 2026–2027ء کے لیے طلبہ کونسل کے عہدیداران کو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ جماعت ہشتم کے محمد فہیم کو ہیڈ بوائے اور اقراء فاطمہ کو ہیڈ گرل مقرر کیا گیا۔ دونوں طلبہ کو بیج (Badge)  اور اعزازی سیش (Sash) عطا کیے گئے، جس کے بعد محترمہ عروس خانم نے انہیں حلف دلایا۔

منتخب طلبہ نے عہد کیا کہ وہ اسکول کی اقدار، نظم و ضبط اور وقار کی حفاظت کریں گے، اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور لگن کے ساتھ انجام دیں گے اور دوسرے طلبہ کے لیے اچھا نمونہ بنیں گے۔ اس کے علاوہ وائس ہیڈ بوائے، وائس ہیڈ گرل، ڈسپلن انچارج، اسپورٹس کیپٹن، کلچرل ہیڈ، ہاؤس کیپٹنز، پریفیکٹس اور کلاس مانیٹروں کو بھی مختلف ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ رمن ہاؤس کے لیے یمنیٰ فاطمہ اور ایان احمد، کلام ہاؤس کے لیے زینا شاہد اور ممشاد احمد، سروجنی ہاؤس کے لیے بشریٰ فاطمہ اور فرقان امیر، جب کہ سر سید ہاؤس کے لیے نبیہا مستقیم اور انصار خان کو ذمہ داریاں دی گئیں۔ ہاؤس انچارج اساتذہ نے منتخب طلبہ کے حوالے ان کے ہاؤس کے پرچم کیے۔ پرچموں کی حوالگی کے موقع پر بتایا گیا کہ ہر ہاؤس کا پرچم اتحاد، ذمہ داری، ٹیم ورک اور ادارے کے وقار کی علامت ہے۔ ہاؤس کیپٹنز کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے ساتھی طلبہ میں صحت مند مقابلے، باہمی تعاون اور اجتماعی کامیابی کا جذبہ پیدا کریں۔ جماعت اوّل سے جماعت ہشتم تک کے متعلقہ کلاس اساتذہ نے بھی اپنے منتخب مانیٹروں کو بیج (Badge) پیش کیے۔

اس موقع پر اسکول کو Indian Talent Olympiad (ITO) کی جانب سے دو اہم اعزازات سے نوازا گیا۔ پہلا State Level Golden School Award تھا، جو Little Champ Olympiad Exams 2025–26 میں طلبہ کی غیر معمولی شرکت، معیاری تدریس، تعلیمی عمدگی، اساتذہ کی انتھک محنت اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے اعتراف میں دیا گیا۔ اس کے علاوہ اسکول کو National Level Golden School Award بھی عطا کیا گیا، جو Indian Talent Olympiad Exams 2025–26 میں طلبہ کی نمایاں شرکت، اعلیٰ تعلیمی معیار، شاندار علمی کارکردگی، طلبہ کی ہمہ جہت ترقی اور تعلیمی میدان میں ادارے کے مثالی کردار کے اعتراف کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ دونوں اعزازات اسکول کی مسلسل ترقی، اعلیٰ تعلیمی روایات اور نمایاں کارکردگی کا مظہر ہیں۔

تقریب کے آخری مرحلے میں تمام منتخب طلبہ قائدین نے اجتماعی حلف لیا کہ وہ اسکول کی عزت، نظم و ضبط اور بنیادی اقدار کی حفاظت کریں گے اور ادارے کی ترقی کے لیے خلوص، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں گے۔

پروگرام کا اختتام قومی ترانے ’’جن گن من‘‘ کے ساتھ ہوا۔ یہ تقریب طلبہ کی تعلیمی کامیابیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ان میں قیادت، خدمت، نظم و ضبط، ٹیم ورک، دیانت داری اور حب الوطنی جیسی اعلیٰ اقدار پیدا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ثابت ہوئی۔ پروگرام نے یہ واضح پیغام دیا کہ ایک کامیاب طالب علم صرف امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنے والا نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، بااخلاق اور دوسروں کے لیے قابلِ تقلید انسان بھی ہوتا ہے۔


 

Ad Image