۱۸؍ جنوری ۲۰۲۶ء کی شام محترمی سید ضیا علوی کی وفاتِ حسرت آیات کی غیر متوقع خبر سے ہم دل مسوس کر رہ گئے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ ہمارا ذہن اس کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھا۔ آناً فاناً خبر کی تصدیق ہوگئی۔ اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ زندگی اسی کی بخشش ہے۔ جب چاہے موت کی سواری پر بٹھا کر اپنے پاس بلالے۔ کسے یارا کہ اس کے فیصلے پر سوال اٹھائے؟ مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ! میں نے اپنے فیس بک پیج پر یہ کلماتِ تعزیت لکھے اور خود کو دلاسا دیا:
’’شعر و سخن کے ماہر، زبان و ادب کے شناور، دبستانِ خیرآباد کے گلِ سرسبد سید ضیا علوی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ ان کی محبت، ادب دوستی، فصاحت بیانی، اصاغر نوازی اور خیرآباد کی حکایات گوئی ہمیشہ یاد رہیں گی۔ رحمہ اللہ رحمۃً واسعۃً وغفر اللہ لہ۔ ان کے صاحب زادۂ گرامی محترم لاریب علوی میاں اور دیگر اہلِ خانہ و اہلِ محبت کی خدمت میں دلی تعزیت پیش ہے۔‘‘↗️
ذات و کائنات کے مسائل میں الجھا ہوا ذہن مزید ایک سانحے سے بوجھل ہو اٹھا۔ ان کی یادوں کے جھلملاتے چراغ یکے بعد دیگرے سطحِ ذہن پر ابھرنے لگے۔ ابھی میں اسی ادھیڑبن میں تھا کہ ازہری صاحب نے کہا کہ آپ لوگوں کو تدفین میں جانا چاہیے۔ عرض کیا کہ دیکھیے کیا حکم آتا ہے۔ ضیا میاں کی جو خاص عنایات اس فقیر پر تھیں، ان کا تقاضا تھا کہ میں لازمی طور پر شریک ہوتا۔ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ حسن میاں صاحب کا فون آیا، اور صبح سات بجے مجھے اور مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب کو تیار رہنے کا حکم موصول ہوگیا۔
راستے بھر قافلے پر کسی قدر خاموشی چھائی رہی۔ میں کبھی سماع و موسیقی سے شغل کرتا تو کبھی ضیا میاں کی یادوں میں کھو جاتا۔ یہ ایک بڑا سانحہ تھا۔ ہم آسانی سے اسے فراموش کرنے والے نہیں تھے۔ ایسا محسوس ہوتا کہ ایک روشنی تھی جو اچانک بجھ سی گئی ہو۔ اب خیرآباد کی انجمن جیسے ویران ہوگئی ہو۔ بڑے مخدوم صاحب کے عرس میں جب بھی ہم لوگ شریک ہوتے، ضیا میاں ہمارے اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے کا خاص اہتمام کرتے۔ ان کے گرد شاعروں، ادیبوں، درویشوں اور رندوں کا ہجوم ہوتا اور وہ میرِ مجلس بنے مسلسل اپنی باتوں کی خوشبو اور یادوں کی حکایات سے محفل کو گرم رکھتے۔
گورا رنگ صفاے باطن کا عنوان، کتابی چہرہ علم دوستی کا ثبوت، اس پر جمال و شرافت کے آثار اور ہیبت و وقار کی گہری لکیریں؛ ستواں ناک عظمتِ رفتہ کی علامت؛ ابھری مگر جھکی ہوئی مونچھیں بڑپن اور اصاغر نوازی کی دلیل؛ کشادہ پیشانی پر ذہانت کی چمک؛ ابھری ہوئی بھنویں جن پر مشیخت کا وقار؛ لبوں سے جھانکتی ہوئی تبسم؛ ذہانت اور مسرت افزا طنز و مزاح؛ جمال کے ساتھ جلال کا آمیزہ؛ لباس میں سادگی اور وضع داری—کبھی علی گڑھی شیروانی پر شاعرانہ رنگ تو کبھی ٹائی اور کوٹ کے ساتھ کارپوریٹ ایٹی ٹیوڈ؛ گفتگو کی سلاست لکھنوی زبان اور اودھی تہذیب کی حکایت ہوتی، تو مجلسی رکھ رکھاؤ خاندانی وضع داری اور قصباتی ثقافت کی زندہ تصویر۔
سید ضیا علوی سلسلۂ صفوی مینائی میں ایک منفرد مزاج کی شخصیت تھے۔ وہ ایک پرگو شاعر تھے اور مقامی سطح سے لے کر عالمی سطح تک کی مجالسِ شعر و سخن میں شریک ہوتے اور داد و تحسین وصول کرتے۔ وہ لیبیا کے مشاعرے میں معمر قذافی کو بھی اپنے اشعار سنا چکے تھے۔ اس کے ساتھ وہ کارپوریٹ سیکٹر سے جڑے ہوئے تھے جہاں اپنا پسینہ بہا کر دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتے۔ انہوں نے خود کو پیری مریدی سے نہیں جوڑا؛ نہ انہیں موجودہ پیروں کی ناز ادائیاں اور دل ربائیاں پسند تھیں۔ انہوں نے مشائخِ کبار کے تذکرے پڑھے تھے۔ اپنی شعور کی آنکھوں سے اپنے نانا سجاد میاں اور عارف بھیا کو دیکھا تھا۔ سجاد میاں واقعی ایک درویش تھے جو ایک مزدور کی طرح اپنی زمین میں کھیتی باڑی کرتے اور اسی پر اپنا گزر بسر کرتے۔ عارف میاں تو بے تاج بادشاہ تھے جن کی درویشی و شاہی، جذب و شوق اور کشف و کرامات کی اپنی دنیا تھی۔ اب ان کے بعد، ان کی نظر میں کوئی اور نہیں جچتا۔ کہتے: ’’ذیشان میاں! یہ سب رنگ برنگے کپڑے پہنے محافلِ سماع میں جھومنے والے پہلی صف میں بیٹھنے کے لیے پریشان ہوتے ہیں؛ یہ سب مکر و فریب کے دھندے ہیں۔ جو کچھ چمک ہے ان کے ظاہر پر ہے، باطن بالکل ویران ہے۔‘‘
ضیا میاں سے پہلی یادگار ملاقات ۲۰۱۶ء میں بڑے مخدوم صاحب (۱۵۱۶ء) کے پانچ سو سالہ عرس میں ہوئی تھی، جب پہلی بار ہم مرشدِ گرامی کے ساتھ خیرآباد حاضر ہوئے تھے۔ وہیں پہلی بار مجمع السلوک چھپ کر دہلی سے آئی اور تقریباتِ عرس میں اس کی رونمائی ہوئی۔ ضیا میاں صاحب ہمارے میزبان تھے۔ ہم نے اس موقع پر ان سے ملاقات کی روداد کچھ یوں قلم بند کی تھی:
’’محترم ضیاء علوی صاحب۔۔۔ زندہ دلانِ خیرآباد کی یادگار ہیں۔ وہ اپنے گھر کے باہر ہی جلوہ افروز تھے۔ حسن میاں کو دیکھتے ہی کھڑے ہوگئے۔ یکے بعد دیگرے سلام و مصافحہ اور معانقہ سے گزرتے ہوئے جب مولانا ضیاء الرحمٰن تک پہنچے تو فرطِ محبت میں ان کی پیشانی چوم لی۔ کہا: ’’مولانا! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں، میں آج آپ کا ہاتھ چوموں گا۔ آپ نے مجمع السلوک کا ترجمہ کرکے وہ احسان کیا ہے جس کا بوجھ اتارنا ہمارے لیے ناممکن ہے۔‘‘
مولانا ضیاء الرحمٰن اپنا ہاتھ بڑھانے کے بجائے ضیاء میاں کی قدم بوسی کے لیے نیچے کی طرف جھک گئے۔ ضیاء میاں نے روکنا چاہا اور بالآخر بیٹھ کر ضیاء الرحمٰن صاحب کے دونوں بازوؤں کو زور سے تھام لیا۔ میں نے دیکھا کہ لاکھ چاہنے کے بعد بھی ضیاء میاں نے ان کو اپنی قدم بوسی کرنے نہیں دی۔
۔۔۔ ضیاء میاں نے ہم آشفته سروں کے لیے قیام و طعام کا خصوصی اہتمام فرمایا تھا۔ ناشتے اور کھانے کے علاوہ وہ مسلسل اپنی سخن ہائے دل نواز سے ہماری ضیافت فرما رہے تھے۔
’’اب آپ مستقل خیرآباد میں سکونت پذیر ہوجائیں۔‘‘ حسن میاں نے ان سے گزارش کی۔
’’جی! میرا دل بھی یہی چاہتا ہے، بس آپ دعا فرمائیں کہ اللہ کریم یہاں اکلِ حلال کا کوئی بند و بست فرما دے۔‘‘
’’آپ یہاں مدرسہ بھی قائم فرما لیں اور۔۔۔!‘‘
’’میاں! مجھے اس سے معاف رکھیے، مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا۔ مدرسہ تو صرف ابو میاں صاحب کو زیب دیتا ہے اور اس کے لیے صرف ایک ہی خانقاہ ہے: خانقاہِ عارفیہ۔ جس نے اپنے بچوں کو کانوینٹ اسکولوں میں پڑھایا ہو، وہ دوسروں سے کس منہ سے کہے گا کہ آپ اپنے بچوں کو مدرسے میں پڑھائیے۔ میاں! مجھ سے نفاق اور دو رُخا پن نہیں ہوسکتا۔ اپنے پورے سلسلے میں بس ایک ہی خانقاہ ہے۔ ایمان و احسان اور علم و عمل کے حوالے سے جو کچھ ہونا ہے وہیں سے ہونا ہے۔ اب اس سے زیادہ مجھ سے نہ بلوائیے۔ شکیب جلالی کا شعر یاد آتا ہے:
ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر‘‘

ضیا میاں کہتے تھے کہ ابو میاں سے میری پہلی ملاقات عرسِ مخدومی، صفی پور میں ہوئی۔ ان کی سادہ وضع اور آستانۂ مخدوم پر نیاز مندی سب سے منفرد تھی۔ انہوں نے اسی ملاقات میں مجمع السلوک کے بارے میں دریافت کیا۔ میں سمجھ گیا کہ اس بازار میں یہ الگ ڈھب کے فقیر ہیں۔ ظاہر ہے، ہمارے پاس مجمع السلوک تو نہیں تھی۔ آزادی سے قبل تک تو خانقاہ شریف میں موجود رہی ہے، لیکن تقسیمِ وطن نے مسلمانوں کو جس انتشار میں مبتلا کیا، ظاہر ہے اس میں اس قسم کے لعل و گہر بھی کہیں کھو گئے۔ لیکن ابو میاں کی متجسس طبیعت نے بالآخر اسے ڈھونڈ نکالا، اور اس کے اولین ترجمے اور اشاعت کا کام بھی اپنی خانقاہ سے کرایا، جو انہی کا حصہ تھا۔ مجمع السلوک دیکھنے کے بعد کمال احسان شناسی کے ساتھ انہوں نے حضرت سے کہا تھا:
’’ابو میاں! آپ نے مجمع السلوک کی اشاعت سے جو کارنامہ انجام دیا ہے، اس کے اظہار و اعتراف کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔‘‘
اس طرح سجاد میاں اور عارف بھیا کے بعد ایک تیسری شخصیت جو ابھر کر سامنے آئی وہ ابو میاں کی تھی، جس کا اظہار و اعتراف تقریباً وہ ہر مجلس میں کیا کرتے تھے۔
اللہ کا شکر ہے کہ مجمع السلوک اور اس کے مصنف بڑے مخدوم صاحب پر پی ایچ ڈی کرنے کا شرف اس فقیر کے نصیبے میں آیا۔ غالباً ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو کہ علماے خانقاہ میں مولانا ضیاء الرحمٰن صاحب کے علاوہ مجھ سے سب سے زیادہ محبت کیا کرتے تھے۔ جن دنوں میں اپنی پی ایچ ڈی کی تھیسس لکھ رہا تھا، بارہا دہلی میں ان کی قیام گاہ پر آنا جانا ہوا۔ ضیا میاں نے اگر عصر بعد بلایا ہے تو رات کے گیارہ بج گئے ہیں، لیکن ان کی گفتگو ختم ہونے کو نہیں آئی۔ اکثر فہیم بھائی بھی میرے ساتھ ہوتے۔ ’’ذیشان میاں! بس ایک چائے اور‘‘—اور پھر گفتگو کا سلسلہ دراز ہوجاتا۔ اودھ، لکھنؤ اور خیرآباد کی تاریخ و ثقافت؛ بڑے مخدوم صاحب کا خاندان؛ مولانا نجم الحسن خیرآبادی؛ عارف بھیا؛ سجاد میاں؛ ابو میاں؛ مضطر خیرآبادی؛ ملا میاں؛ جاوید اختر—جیسے مختلف صوفیوں، شاعروں، ادیبوں، مولویوں، قوالوں، گویوں اور اوباشوں کے واقعات، حکایات، مضحکات، چٹخارے لے لے کر—ہنستے ہنساتے—بعض دفعہ جوشِ بیانی میں نان ویج لطائف و مزاحیات بھی سنا جاتے اور ہم لوگ زیر لب مسکراتے آگے بڑھ جاتے۔
جب میں کسی قدر موقع پاتا تو اپنے موضوع سے متعلق سوال کرتا؛ اس کا جواب دیتے، اور پھر بات نکلتی ہوئی کہاں سے کہاں پہنچ جاتی—اس کا احساس نہ انہیں ہوتا، نہ ہمیں ہوتا۔
حضور! اب ساڑھے گیارہ بج گئے، اجازت دیجیے!
’’ذیشان میاں! آپ زیادہ وقفہ کر دیتے ہیں، آپ آتے رہا کریے، اِن شاء اللہ! ابھی بہت سی باتیں کرنی ہیں۔ میں دل سے آپ کا احترام کرتا ہوں، اور آپ سے میں خود بھی سیکھتا ہوں۔‘‘
ضیا میاں لفظوں کے اس جادو سے اس تکان کو بھی اتار دیتے جو کئی گھنٹے بیٹھنے کے بعد اٹھتے ہوئے اچانک محسوس ہوتی۔
تھیسس لکھنے کے دوران میں نے موضوع سے متعلق بہت سی شخصیات سے گفتگو کی، لیکن اس سیاق میں سب سے زیادہ فائدہ مجھے ضیا میاں سے ہوا۔ اسی لیے میں نے اپنی تھیسس کے ’’تشکر‘‘ میں بجا طور پر لکھا ہے:
’’اس تحقیقی کام میں جن دو اشخاص نے سب سے زیادہ معلومات بہم پہنچائی وہ ہیں محترم سید ضیا علوی، جن کی والدہ شیخ سعد خیرآبادی کے سابق سجادہ نشیں میاں سجاد حسین خیرآبادی کی صاحب زادی ہیں، جب کہ وہ خود بھی شیخ سعد کے والد قاضی بڈھن اناوی کے آستانۂ اناؤ کے سجادہ نشین اور مقیمِ حال دہلی ہیں۔ اس سیاق میں دوسرا نام صاحب زادۂ گرامی والاتبار مولانا حسن سعید صفوی کا ہے۔ موصوف باوصفِ جواں سالی علومِ شریعت و اخلاقِ طریقت کے پیکر و امین، تصوف اور ادبیاتِ تصوف کے رمز آشنا، اور بطورِ خاص سلسلۂ مینائیہ سعدیہ کی معلومات میں طاق ہیں۔‘‘
حسن میاں کے یہی وہ کمالات ہیں جن کے سبب ضیا میاں نوجوان علما/پیرزادگان میں سب سے زیادہ ان کا احترام کرتے تھے۔ مجھ سے ایک بار کہنے لگے کہ جنابِ معاویہ سے میرا دل صاف نہیں تھا۔ اس سلسلے میں میں نے حسن میاں سے دریافت کیا۔ حسن میاں اٹھے اور ریک سے فوائد الفواد اٹھائی، اور بلا تامل فوراً ایک صفحہ کھولا اور پڑھ کر ان کے بارے میں سلطان جی کا ملفوظ سنا دیا۔ اس سے ایک چیز تو یہ ہوئی کہ میرے دل سے غبار جاتا رہا، لیکن دوسری چیز جس نے مجھے بہت زیادہ متحیر کیا وہ یہ کہ اس نوجوان کی نظر کتنی گہری اور حافظہ کتنا کامل ہے کہ کون سی بات فوائد الفواد کی کس مجلس میں اور کس صفحے پر ہے، اسے ازبر ہے۔ حسن میاں نے خود مجھ سے بتایا کہ ضیا میاں کو مجھ پر اتنا اعتماد تھا کہ کسی مسئلے میں اگر میں [حسن میاں] کچھ کہہ دیتا تو ان کو اطمینان ہوجاتا۔

اس بات پر دل کو بڑا سکون ملا کہ اللہ کریم نے مجھے اور مولانا ضیا کو ان کے غسل و کفن میں شامل رہنے کا شرف بخشا۔ اسے ہم ان کی محبتوں کا صلہ سمجھتے ہیں۔ جنازے میں اہلِ دل اور اہلِ ادب دونوں کا ہجوم تھا۔ صوفی نامہ کے یہ کلماتِ تعزیت، اس عظیم صوفی شاعر کی درست عکاسی کرتے ہیں:
’’صوفی شاعری کی دنیا آج خود کو ایک گہری اور ناقابلِ تلافی خاموشی میں محبوس محسوس کر رہی ہے۔ خیرآباد کے عظیم صوفی شاعر سید ضیا علوی گزشتہ روز ہم سے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے سے صوفی ادب ایک مضبوط آواز سے محروم ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ خیرآباد نے اپنی روح اور جمال کا ایک ٹکڑا کھو دیا۔ ان کی شاعری نے روزمرہ کی انسانی زندگی میں روحانی بصیرت کو شامل کیا۔ تصوف نے ایک زندہ آگہی کا روپ دھار لیا۔ ان کی شاعری نے اندرون کو جگانے کا کام کیا۔ ان کے الفاظ میں عاجزی، وضاحت اور پرسکون جذباتی گہرائی سے لبریز، ایک سچے طالب کی حسن طلب موجود ہے۔
سید ضیا علوی اس روایت پر مضبوطی سے قائم تھے۔ اب شہر میں ہر سو خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ اس کا ادبی اور روحانی دل سکڑتا محسوس ہو رہا ہے، جیسے ہوا سے کوئی مانوس خوشبو اڑ گئی ہو۔ وہ شاعروں کے اسی نایاب سلسلے کی کڑی تھے جو کسی ہنگامہ آرائی کے بغیر اپنے گرد و پیش کی ہر چیز کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ انہوں نے صرف شعر نہیں کہے، ہمارے فکر و احساس کی ترجمانی کی۔ ضیا علوی کی شاعری نے ہمیں پُررونق منظر کے بجائے ہماری عکاسی کرنے والا آئینہ دیا، شدید ردعمل کے بجائے راحت و سکون بخشا، اور سخت ضوابط کے بجائے ہمدردی اور انسانیت عطا کی۔
صوفی نامہ کے ہم وابستگان سید ضیا علوی کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خامیوں کو معاف فرمائے، ان کی روح کو بلندی عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور ان سے محبت کرنے والوں کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ ایک صوفی شاعر حقیقی معنوں میں کبھی بھی ہم سے جدا نہیں ہوسکتا۔ وہ ایسے الفاظ چھوڑ کر عالمِ خاموشی میں چلا جاتا ہے جو خود ہی سانس لیتے رہتے ہیں۔‘‘ (انگریزی سے ترجمہ)
صوفی نامہ نے اپنے فیس بک پیج پر ان کلمات کے ساتھ سید ضیا علوی کا یہ اودھی کلام بھی شامل کیا ہے:
ارج یہی ہے رے بھولے ساجن تم ہی مرا سنگار رے
چڑھتی رہے تورے پریم کی گنگا کبہوں نا آئے اتار رے

Comments 0
Leave your comment