سیرت النبی ﷺ اورانفرادی جواب دہی

سیرت النبی ﷺ اورانفرادی جواب دہی

سیرتِ نبوی ﷺ کا پیغام: ہر فرد اپنے عمل، کردار اور معاشرتی ذمہ داری کا خود جواب دہ ہے۔

تاریخِ انسانی میں جتنے بھی انقلابات برپا ہوئے، اُن میں سب سے توانا، ہمہ گیر اور دیرپا انقلاب سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کا لایا ہوا انقلابِ فکر و عمل ہے۔ سیرتِ طیبہ کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، تو اُس کا ایک بنیادی اور اصل پیغام جو معاشرے کی کایا پلٹ سکتا ہے، وہ ہے: اِنفرادی ذمہ داری اور جواب دہی کا احساس۔ یعنی ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے اور بارگاہِ الٰہی میں اُسے اپنے ہی اعمال کا حساب دینا ہے۔

موجودہ زمانے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی ناکامیوں، کوتاہیوں اور بداخلاقیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ نظام خراب ہے، حکومت ناکام ہے، ماحول سازگار نہیں ہے۔ یہ وہ بہانے ہیں جو ہمیں اپنی انفرادی ذمہ داریوں سے فرار کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ لیکن سیرت النبی ﷺ ہمیں اس کے بالکل برعکس درس دیتی ہے۔ حضرت اُسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی شخص کسی کے حق میں ہرگز بُرا نہ کرے۔ (ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر ۲۱۸۰)

کیوں کہ ہرشخص خود؛ اپنے بُرے عمل کا ذمہ دار ہے، نہ باپ کے بُرے عمل کا ذمہ دار بیٹا ہے اور نہ بیٹے کے بُرے عمل کا ذمہ دار باپ ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو ہم سے خراب نظام، ناکام حکومت اور ناسازگار حالات کے سلسلے میں نہیں پوچھا جائے گا بلکہ ہم سے ہمارے ذاتی اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ لہٰذا ہمارا حسن عمل اگر ہمیں فائدہ دیتا ہے تو ہماری بدعملی؛ ہمیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

 خود فریبی سے اجتناب:ہم لوگ اکثر؛کثرت اور بھیڑ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جب سب جرم کر رہے ہیں تو میرے اکیلے نہ کرنے سے کیا ہوگا؟ یا جب پورا نظام ہی بےایمان ہے تو میں اکیلا ایمان دار ہو کر کیا بدل لوں گا؟ یہ وہ فریبِ نفس ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ لہٰذا سیرت النبی ﷺ کا اسلوبِ تربیت اِس فکری مغالطے کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی تحریک و ترغیب دیتا ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا ہے: لکیر کا فقیر نہ بنو کہ تم یہ کہنے لگو کہ اگر لوگوں نے اچھا کیا تو ہم بھی اچھا کریں گے، اور لوگوں نے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ تم اپنے آپ سے عہد و پیمان کرو کہ اگر لوگوں نے اچھا کیا تو تم بھی اچھا کرو گے اور اگر اُنھوں نے بُرا کیا تو تم ظلم نہیں کرو گے۔ ( ترمذی، سنن ترمذی، حدیث نمبر ۲۰۰۷)

پس معاشرتی و اخلاقی گراوٹ کا ذمہ دار؛ کثرت یا اندھی تقلید کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور طوفان چاہے جتنا بھی تیز ہو، چراغ کو اپنی لو برقرار رکھنے کے لیے جنگ خود ہی لڑنی ہے۔

اِحساسِ جواب دہی کی تاکید:سیرت النبی ﷺ کا پیغام دراصل قرآنی اصول کا عملی تسلسل ہے جس میں تاکیدی طور پر یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ ’’کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ (القرآن، سورۃ فاطر، آیت 18) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وعظ نہیں فرمایا، بلکہ اپنے عمل سے اُس کو ثابت کیا اور اُسے استحکام بھی بخشا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش، بنو عبد مناف، حضرت عباس، حضرت صفیہ اور اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطم رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر فرمایا:

اے فاطمہ بنت محمد! میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو، لیکن اللہ تعالیٰ کے حضور میں تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ (بخاری، صحیح بخاری، حدیث نمبر ۴۷۷۱)

جب اہل خاندان اور بالخصوص سیدہ کائنات اور خاتونِ جنت کے لیے انفرادی عمل اور جواب دہی کا یہ معیار ہے، تو اُمت کے عام فرد کے لیے کسی خوش فہمی، خاندانی جاہ و جلال یا محض زبانی دعووں کے سہارے بیٹھے رہنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟

مخزومی خاتون کا واقعہ:تاریخ سیرت بے شمار ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں قانون اور اِنفرادی جواب دہی کے سامنے بڑے بڑے حسب و نسب کو جھکا دیا گیا تھا، مثلاً: قبیلہ بنو مخزوم کی ایک معزز خاتون چوری کے جرم میں پکڑی گئی، تو اہل قبیلہ نے ذلت و رسوائی سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے چہیتے صحابی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سفارش کے لیے بھیجا۔ غصے میں آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا، آپ نے فرمایا: تم قانونِ ربانی میں سفارش کرتے ہو؟

اس کے بعد جو تاریخی جملہ آپ نے فرمایا وہ قیامت تک کے لیے اِنفرادی جواب دہی کا آفاقی منشور بن گیا، فرماتے ہیں:بے شک تم سے پہلے کی اُمتیں اِسی لیے تباہ ہو گئیں کہ جب اُن میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے اور غریب چوری کرتا تو اُسے سزا دیتے۔ واللہ! اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اُس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ (بخاری، صحیح بخاری، حدیث نمبر ۳۴۷۵)

آج کی معاشرت و سیاست خواہ اِسلامی ہو یا غیر اِسلامی؛ اِسی طرح کی جانب داری، چھوٹے بڑے، اپنے بیگانے اور قوی و ضعیف کے درمیان امتیازی سلوک کی شکار ہے، اس سے نکلنے کا واحد راستہ اِنفرادی جواب دہی کا اِحساس ہے جس کا پیغام سیرت میں واضح طور پر ملتا ہے۔

اگر ہم آج کے دور پر نظر ڈالیں، تو اِنفرادی جواب دہی کا نبوی اُصول ہماری روزمرہ زندگی کے ہرچھوٹے بڑے عمل سے جڑا ہوا ہے، مثلاً:
۱۔ جب ایک ملازم یہ سوچ کر رِشوت لینے اور کام چوری سے بچے کہ پورا محکمہ بدعنوانی کرتا ہے تو کرتا رہے، مجھے اپنی بدعنوانی کا خود جواب دینا ہے، تو وہیں سے نظام بدلتا نظر آئے گا۔ جب ایک دکان دار ناپ تول پورا رکھتا ہے، تو وہ اُسی انفرادی جواب دہی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے، جس کا مطالبہ سیرت میں کیا گیا ہے۔ اُسی طرح ایک مبلغ و عالم بھی جب اپنے فرائض میں ایمان داری اور وفاداری کا مظاہرہ کرتا ہے تو اُس کے پیش نظر بھی وہی جواب دہی ہوتی ہے کہ اُسے دنیوی زندگی کے مختلف مراحل سے گزرنا ہے اور پھر مختلف منازل طے کرتے ہوئے رب کے حضور بھی حاضر ہونا ہے جہاں اُس سے ایک ایک عمل کا حساب اور جواب طلب کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص اپنی ذمہ داری کا محافظ اور جواب دہ ہے۔ (بخاری، صحیح بخاری، حدیث نمبر ۵۲۰۰)

۲۔ اُسی طرح جب تک معاشرے میں یہ احساس بیدار نہ ہوگا کہ ’’ہر شخص خود اپنا جواب دہ ہے‘‘، تب تک کوئی قانون، کوئی تعزیر اور کوئی اصلاحی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ نیز جب انسان کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کے اعمال کا حساب کسی اور کو نہیں بلکہ خود اُسے ہی دینا ہے، تو وہ ڈیوٹی پر تعینات پہریدار یا دیوار میں نصب کیمرے کا محتاج نہیں رہتا، بلکہ خود اُس کا اپنا ضمیر اُس کا محافظ و نگراں بن جاتا ہے۔ اِس طرح وہ کسی بھی معاشرے کو نقصان پہنچانے کا مرتکب نہیں ہوتا اور وہ خود بھی ہر طرح کے نقصان سے محفوظ و مامون رہتا ہے۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ خود نقصان اُٹھانا جائز ہے اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچانا۔ جس نے کسی کو نقصان پہنچایا، اللہ تعالیٰ اُسے نقصان پہنچائے گا اور جس نے کسی کوتکلیف میں ڈالا، اللہ تعالیٰ اُسے مشقت میں ڈالے گا۔ ( دارقطنی، سنن دارقطنی، حدیث نمبر ۳۰۷۹)اور بلاشبہ اِس قبیح عمل سے محفوظ رہنے کا بہترین ذریعہ؛ جواب دہی کا احساس ہے۔

۳۔ آج اکثر وبیشتر افراد کسی کی پگڑی/عزت اچھالنے، منفی خبریں پھیلانے اور تنقید کا نشانہ بنانے (Trolling) کو معمولی سمجھتے ہیں کہ ’’سبھی کر رہے ہیں تو وہ بھی کر رہے ہیں۔‘‘ لیکن اِنفرادی جواب دہی کا نبوی اُصول یہ احساس دلاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر لکھی گئی ہر سطر اور شیئر کی گئی ہر خبر/پوسٹ کا بوجھ اُسی کی گردن پر ہوگا جس نے اُسے شیئر/پوسٹ کیا ہے۔

۴۔ انفرادی جواب دہی کا یہ احساس انسان کو مایوسی کی دلدل سے بھی نکالتا ہے۔ جب انسان کو اِحساس ہو جائے کہ اُس سے پوری دنیا کی اصلاح کا سوال نہیں ہوگا، بلکہ صرف اُس کی بساط اور اُس کےدائرۂ اختیار سے متعلق پوچھا جائے گا، تو اُس کا سارا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے اور وہ؛ ساری دنیا کو بدلنے کا جوکھم اُٹھانے کے بجائے، اپنے حصے کی شمع جلانے میں مصروف مگن دکھائی دیتا ہے، جو اُس کے لیے انتہائی آسان بھی ہے اور کامیابی کا راز بھی۔

حاصل کلام یہ کہ آج سیرتِ طیبہ کے نام پر جلسے، جلوس اور سیمینارز تو کثرت سے ہوتے ہیں، لیکن معاشرتی و اخلاقی بگاڑ جوں کا توں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کے کفر اور گناہوں کے فیصلے کرنے میں جتنے مستعد نظر آتے ہیں، اپنے اعمال کی اصلاح و تعمیر میں اُتنے ہی سخت غافل دکھائی دیتے ہیں اور یہ احساس جواب دہی سے دوری کا نتیجہ ہے۔چناں چہ اگر ہم واقعی ایک صالح، پُرامن اور فلاحی معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں انگلیوں کا رُخ دوسروں کی طرف کرنے کے بجائے اپنی طرف کرنا ہوگا اور اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ ہمیں یہ مروجہ بیانیہ بدلنا ہوگا کہ ’’پہلے دوسرے ٹھیک ہوں تو میں بھی ٹھیک ہو جاؤں گا۔‘‘ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کا آغاز ’’ہم سے‘‘ ہونا ہے۔ جب معاشرے کا ہر فرد اپنی جواب دہی کا مخلصانہ محاسبہ شروع کر دے گا اور یہ جان لے گا کہ قبر کے اندھیرے سے لے کر حشر کے میدان تک اپنے ہر عمل کا تنہا اور خود ذمہ دار ہے، تو وہیں سے اُس حقیقی انقلاب تک رسائی حاصل ہوجائے گی جسے اُسوۂ حسنہ نے ہمارے سامنے عملی طور پر پیش کیا تھا۔

ماخذ و مراجع

  1. ماہنامہ خضرِ راہ
    اگست، ۲۰۲۶

Comments 0

Advertisement