مسلمانوں کی نئی نسل، فتنۂ الحاد و ارتداد اور مسلم قیادتوں کا فکری انتشار

مسلمانوں کی نئی نسل، فتنۂ الحاد و ارتداد اور مسلم قیادتوں کا فکری انتشار

پس منظر

سید سلیمان ندوی کے ’’خطبات مدراس‘‘(۱۹۲۵ء) یقیناً نئے عہد میں تفہیم سیرت کے حوالے سے اولین نقوش میں شامل ہیں۔ آل انڈیا مجلس مشاورت کی جانب سے خطبات مدراس کی ’’صد سالہ یادگاری تقریب‘‘ کو ’’تجدید فکر ونظر کی ایک صدی اور صورت حال‘‘ کے طور پر منایا جانا ایک خوش آئند اور قابل تحسین قدم ہے۔ استاذ محترم پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے اس مناسبت سے راقم السطور کو’’مسلمانوں کی نئی نسل، فتنۂ الحاد و ارتداد اور مسلم قیادتوں کا فکری انتشار‘‘ پر مقالہ پڑھنے کی دعوت دے کر عزت بخشی اور اس اہم موضوع پر غور وخوض اور تبادلۂ خیالات کا موقع فراہم کیا، جس کے لیے ہم مجلس مشاورت اور استاذ محترم کے ممنون ہیں۔ محترم احمد جاوید صاحب کا بھی دل سے شکریہ جو ہمارے بیچ وسیلہ ہیں۔

تعارف

موضوع تین کلیدی کلمات پر مشتمل ہے:

۱-مسلمانوں کی نئی نسل
۲- فتنۂ الحاد و ارتداد
۳- مسلم قیادتوں کا فکری انتشار

یہ الفاظ ایک دوسرے سے مل کر ایک سنگین کینوس کی تشکیل کرتے ہیں جس پر گفتگو مشکل بھی ہے اور ضروری بھی۔ ضروری ہونا تو واضح ہے، مشکل اس لیے ہے کہ اس سے منکشف ہوگا کہ آج الحاد  و ارتداد سے بڑا قیادت کا فتنہ بن گیا ہے، جس کے علاج کی تدبیر دور دور تک نظر نہیں آتی۔

مسلمانوں کی نئی نسل اس وقت سخت آزمائش سے دو چار ہے: ایک طرف الحاد کی بڑھتی لہر ہے، جو ان کے ایمان ویقین کے لیےآتش گیر مادے کی حیثیت رکھتی ہے تو دوسری طرف مسلم قیادتوں کا فکری انتشار اور مسلکی منافرت ہے، جو اس کو شعلۂ جوالہ بنانے کے لیے ہمہ دم تیار ہے۔ ایسے نازک وقت میں اللہ کی توفیق سے نئی نسل کی فکری واخلاقی تربیت اور ان کی ذاتی شعوری بیداری سے ہی امید لگائی جاسکتی ہے۔

 وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم نسل پر منفی اثرانداز ہونے والے ان دونوں عوامل کے اسباب ومحرکات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور ان کے ازالے یا ان سے تحفظ کے ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تاکہ بدلتے حالات میں آنے والی نسل کے دین وایمان کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مسلم قیادتوں کا فکری انتشار اور باہمی جدل کس طرح فتنۂ ارتداد کو تقویت فراہم کررہا ہے یانئی نسل کے ذہن پر اس کے اثرات کو گہرا کر رہا ہے، تاکہ ہماری قیادت متنبہ ہو اور اسے اس بات کا ادراک ہو کہ اس کی کوششیں ملت کی تعمیر کے بجائے کس طرح سے ملی تخریب اور دینی انہدام کا کام کر رہی ہیں۔

فتنۂ الحاد و ارتداد-پس منظر و پیش منظر

الحاد (Atheism) عربی لفظ "لحد" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ’’راستے سے ہٹ جانے‘‘ یا ’’درست سمت سے منحرف ہوجانے‘‘ کے ہیں۔ نظریاتی اصطلاح پر الحاد اس فکری نظام سے عبارت ہے جو انکار خدا کے تصور پر قائم ہے۔ اسی طرح ارتداد ((Apostasy کے معنی ہیں لوٹنا اور پلٹنا، جب کہ شرعی اصطلاح میں ’’اسلام قبول کرنے کے بعد اسے خیرباد کہنے‘‘ کو ارتداد کہا جاتا ہے۔

الحاد کی تاریخ کافی پرانی ہے۔نمرود اور فرعون کا دعویٔ خدائی دراصل الحاد کی ہی ایک شکل تھی۔ ہندوستان کے قدیم چارواک فلسفے نے یہ دعویٰ کیا کہ صرف محسوسات ہی کل حقیقت ہیں۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ پانچویں صدی قبل مسیح کے یونانی فلسفی دیاغوراس پہلا معروف ملحد ہے جس نے خداؤں کے وجود کو رد کیا۔ چین کے کنفیوشس اور لاؤزے نے خدا کے وجود پر کوئی بحث نہیں کی، انہوں نے صرف اخلاقیات اور فطرت پر زور دیا۔ تقریباً یہی حال بودھ مت کا ہے، جسے بہت سے اہل نظر ملحدانہ مذہب سمجھتے ہیں۔ مسلم دنیا کے اندر ابتدائی صدیوں میں ایسے فلاسفہ موجود تھے جو مذہب پر تنقید کرتے تھے، جو زنادقہ کہلاتے تھے۔ البتہ جدید الحاد کا آغاز سترہویں صدی میں یورپ کی روشن خیالی (enlightenment) سے ہوتاہے، جب تحقیق کائنات کے بجائے تسخیر کائنات کو علم (Science) مقصد قرار دے دیا گیا۔

ارتداد کا فتنہ بھی کوئی نیا نہیں۔عہد رسالت مآب میں اہل کتاب اہل اسلام کو رسوا کرنے کے لیے اسلام قبول کرکے مرتد ہوجانے کی سازشیں کر رہے تھے۔( آل عمران،آیت:۷۲) نبی کریمﷺ کے وصال کے فوراً بعد بعض قبائل مرتد ہوگئے تھے جن کا سد باب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نےبڑی حکمت سے فرمایا۔ برصغیر میں اس حوالے سے عہد اکبری کا ’’دین الٰہی‘‘ شریعت اسلامی کے خلاف بغاوت کی ایک نئی شکل کے طور پر سامنے آیا۔ گذشتہ صدی کے آغاز میں شدھی تحریک برطانوی ہند میں ارتداد کے فروغ کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوا، جس کی بازگشت موجودہ صدی کے آغاز کے ساتھ پھر سے سنائی دی جانے لگی ہے۔ارتداد کی اس نئی لہر کو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمزپر الحادی مواد، تعلیمی اداروں میں سیکولر اور اباحی نظریات کی حوصلہ افزائی اورنوجوانوں بالخصوص خواتین کو نشانہ بنانے والی بعض منظم کوششوں سے غذائیت فراہم کی جارہی ہے۔ قانونی اور سماجی سطح پر بھی کہیں نہ کہیں اس کے لیے ماحول بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

الحاد کے جدید اسباب وعوامل

جدید عہد میں الحاد کے بعض نئے اسباب وعوامل سامنے آئے، جن کا تجزیہ وتحلیل ضروری ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ اسباب عہد قدیم میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھے، تاہم نئے عہد میں یہ زیادہ وضاحت، قوت اور آزادی کے ساتھ معاشرے پر چھاتے جارہے ہیں۔ ان اسباب کی کئی نوعتیں ہیں، ان میں بعض علمی وفکری اورعقلی و نفسیاتی قسم کے ہیں تو بعض سماجی واقتصادی اور قانونی وابلاغی نوعیت کے، مثلاً:

۱۔ مقصدیت کا بحران: علمی وسائنسی، فکری وعقلی، سیاسی وتمدنی، معاشی واقتصادی اور ذہنی ونفسیاتی قدروں کی تبدیلی نے انسانی سفر کی سمت کو مشکوک ومشتبہ بنادیا ہے۔ صارفیت کے اس عہد میں انسان اپنی مقصدیت سے بے خبر ہوگیا ہے۔ زندگی کی حقیقی قدروں کا تعین، مقصد، شناخت اور معنویت کی تحقیق اس کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ کار عبث بنتی جارہی ہے۔ الغرض نئی نسل میں الحادی رجحانات کی تشکیل میں معاصر وجودی بحران (existential crisis) بھی ایک اہم محرک ہے۔

۲۔  روحانی خلا اور تزکیہ نفس کی کمی: دین سراپا تزکیہ یعنی قلبی وروحانی طہارت وپاکیزگی سے عبارت ہے۔ قرآن کے مطابق کامیاب وہی ہے جو اپنے نفس کا تزکیہ کرلے۔ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا (الشمس:9) افسوس کہ موجودہ عہد میں دینی و روحانی تربیت کا فقدان عام ہے۔اس کا نتیجہ ہے کہ نئے عہد کا انسان روحانی ونفسیاتی کرب کا شکار اور عبادت ومراقبے کی روح سے دورہوگیا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ اخلاقی تربیتی نظام-جسے صوفیہ نے ڈیویلپ کیا- کوبدعت کہتا ہے تو دوسرا اسے نفع بخش تجارت سمجھتا ہے۔ 

۳۔ نئے سائنسی مفرضات: نئے عہد میں بعض ایسے سائنسی نظریات سامنے آئے ہیں، جو بہت سے اذہان میں سائنسی مفروضات کے بجاے سائنسی حقائق کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ مثلاً ڈارونزم اور میکانکی کائنات کا نظریہ۔ گذشتہ صدی سے ہی ان نظریات کو مذہب کے خلاف مضبوط دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا رہاہے۔ تاہم اہل مذہب کی طرف اس کا مطلوبہ تجزیہ ہنوز نامکمل معلوم ہوتا ہے۔

۴۔ مغرب کا جدید لادینی فلسفہ: نطشے، ہیوم، مارکس، رسل جیسے مغربی مفکرین کے نظریات نے خدا اور مذہب کے تصور کو چیلنج کیا۔ ان نئے فلاسفہ نے کہیں نہ کہیں اس تصور کو فروغ بخشا کہ اب نئی ریاست ومعاشرت کسی مذہبی قانون کے بجائے سیکولر اقدار کے تحت بہتر طور پر آگے بڑھ سکتی ہے۔

۵۔ آزادئ فکر کی غلط تشریح: آزادی فکر کی غلط تعبیر وتشریح نے بھی فتنۂ الحاد و ارتداد کو توانائی بخشنے میں ایک اہم کردار نبھایا ہے۔ یہ غلط تشریح دو طرفہ ہوئی ہے۔ نوجوانوں میں ایک فکرپروان چڑھی ہے کہ ہر بات سے انکار کرنا حریت فکری کا حصہ ہے، خواہ اس انکار کے پیچھے کوئی بھی منطقی توجیہ نہ ہو،اسی طرح بہت سے بوڑھوں نے بھی آزادیٔ فکر کا مطلب غلط سمجھا، ان کے مطابق نوجوانوں کی طرف سے مذہب کے تعلق سے کسی بھی سوال کا اٹھنا مذہبی اصولوں سے بغاوت ہے، خواہ وہ سوال برائے تفہیم یا تلاش دلیل کے طور پر ہی کیوں نہ ہو۔

۶۔ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا منفی کردار: نئی نسل جدید ذرائع ابلاغ، خصوصاً سوشل میڈیا کی گرفت میں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 95٪ نوجوان روزانہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، اس طرح ان کی سوچ پر سوشل میڈیا کی گرفت انتہائی مضبوط ہے۔ ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ بعض برقی ذرائع کے مطابق جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر مذہبی مواد کی مقدار زیادہ ہے، تاہم الحادی مواد کی نمائش اور اثر نمایاں ہے۔ الغرض! ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے توسط سے آج نئی نسل تک الحادی مواد کی رسائی آسان ہوگئی ہے اور میڈیا کا گمراہ کن پروپیگنڈا نوجوانوں میں فکری انتشار کا سبب بن رہا ہے اور یہ بات دینی حلقوں سےجڑے لوگوں کے لیے تشویش ناک ہے۔

۷۔ ناموافق تعلیمی رجحانات: برطانوی عہد میں پیدا تعلیمی ثنویت نے بھی دین اور سائنس کے بیچ فاصلے پیدا کردیے، جس کا نتیجہ ہوا کہ عصری اداروں میں پڑھنے والے مذہبی مبادیات سے بے خبر ہوتے گئے اور دینی مدارس میں مذہبی مبادیات اور روایتی علوم تو پڑھائے جاتے رہے لیکن ان کے تعلق سے جدید سائنسی اشکالات اور علمی استدلالات سے کامل بے خبری رہی۔ نتیجۃً نئی نسل کے ذہن میں دین اور دنیا کے بیچ خلیج کا تصور ابھرنے لگا۔

۸۔ معاشی محرومی اورتعلیمی پسماندگی: غربت انسان کو ایمان بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ایک روایت میں اسی حقیقت کو ان الفاظ میں واشگاف کیاگیا ہے :

كاد الفقر أن يكون كفرا. ([1]) غربت انسان کو کفر سے قریب کردیتی ہے۔

بھارت کا مسلم معاشرہ یوں ہی تعلیمی اور معاشی بحران سے دوچار ہے، ایسے میں بعض دیگر مذہبی طبقات کی جانب سے تبدیلی مذہب کے لیے مالی تعاون کی پیش کش عجب نہیں کہ مذہبی تعلیم سے دور ،فقر وافلاس سے دوچار نئی نسل کو ترک دین کی طرف مائل کردے۔ ہم نے بعض سادات خانوادے دیکھے ہیں جو فقر وافلاس کو جھیلتے جھیلتے حلال وحرام کی شرعی پابندیوں سے خود کو آزاد کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے۔مختلف واقعات کی روشنی میں یہ بھی مانا جارہا ہے کہ مسلم لڑکوں کی بے روزگاری اور تعلیمی کمزوری کے باعث بہت سی مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے متاثر ہو کر ارتداد کا شکار ہو رہی ہیں۔

۹۔ خاندانی نظام کی کمزوری: نئے عہد میں خاندانی نظام چرمرا کر رہ گیا ہے۔ زمانۂ سابق میں جب خاندانی نظام مستحکم تھا، اس کے دباؤ میں فکر وعمل کے بہت سے جذبے اپنے اندرون میں ہی سمٹ کر رہ جاتے۔ چوں کہ خاندانی نظام کے دباؤ کے زیر اثر خاندانی روایت کی پاس داری لازم ہوتی۔ ظاہر ہے اس کا فائدہ مسلم گھرانوں کو بھی خوب ملا، کہ اعلیٰ فکری تربیت کے بغیر بھی خاندانی نظام بہت سے غیر اسلامی جذبات وخیالات کو اندر ہی اندر دفن کردیتا۔ لیکن آج جب کہ حریت فکری کے عمومی فروغ کے عہد میں خاندانی تانے بانے بڑی حد تک کمزور ہوگئے ہیں، صرف کسی خاندان سے وابستگی اس کی دینی روایت سے وابستگی کے لیے لازم نہیں رہی۔ مشاہدہ ہے بہت سے سادات کے گھرانے کی لڑکیاں جدید تعلیمی وثقافتی نظام سے متاثر ہونے کے بعد اپنی خاندانی دینی وثقافتی روایات کو روندتی ہوئی آگے بڑھ گئیں۔

۱۰۔ خواتین کے حقوق کی پامالی: مسلم نسائیات جدید عہد کا ایک انتہائی حساس موضوع ہے۔ پوری دنیا میں ایک عام تصور قائم کیا گیا کہ مذہب، خصوصاً اسلام -یا محتاطین کے لفظوں میں اہل اسلام- نے خواتین کے حقوق کو سلب کیا ہے۔ اس لیے آج یہ بہت ضروری ہوگیا ہے کہ خواتین کے مسائل سے متعلق منصوص اور غیر منصوص مسائل میں تفریق کی جائے، دینی اور ثقافتی روایات کا فرق سمجھا جائے، اصلی اور زمانی احکام کے بیچ امتیاز برتا جائے، عورتوں سے متعلق آزادی،ظلم ، انصاف اور استحصال کے تصورات کو واضح کیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ عہد کے تناظر میں خواتین کے اجتہاد طلب مسائل میں از سرنو غور وخوض کیا جائے۔ پھر یہ کہ مسلم علما اس موضوع پر خواہ جتنی محتاط گفتگو کرلیں، ان کی باتیں تہمت جنبہ داری سے پاک نہ ہوں گی۔ اس لیے واقعہ یہ کہ اس موضوع پر اس وقت تک مطلوبہ گفتگو نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے لیے مسلم معاشرے سے ایسی دین دار، باشعور، تعلیم یافتہ اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی نزاکتوں کو سمجھنے والی بیٹیاں ہی خود کھڑی نہ ہوجائیں۔

۱۱۔ مخلوط نظام تعلیم و ملازمت: تعلیمی اداروں اور دفاتر میں مرد وزن کے آزادانہ اختلاط کو بھی الحاد  و ارتداد کے اسباب میں شمار کیا جاتا ہے،جس سے غیر شرعی تعلقات کی راہیں ہموار ہوتی ہیں، گو کہ یہ اختلاط دعوت واصلاح کے نادر مواقع بھی پیدا کرتا ہے اور بہت سے باشعور نوجوان ان مواقع سے دعوتی فائدہ بھی اٹھاتے ہیں،تاہم دینی تربیت اور فکری پختگی سے محروم نوجوانوں میں اس سے الحاد  و ارتداد کے جراثیم بھی پنپتے ہیں، جن کا صحیح علاج دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت ہے۔

۱۲۔ قانونی اور سیاسی پیچیدگیاں: ایسا مانا جاتا ہے کہ بعض اوقات سیاسی و سماجی حالات بھی الحاد  و ارتداد کے ذمہ دار ہوتے ہیں، اگر قانون میں شفافیت نہ ہو اور معاشرہ آزادی مذہب کے لیے پورے طور پرتیار نہ ہو۔ چوں کہ برصغیر کی مختلف ریاستوں میں دستوری جمہوریت تو قائم ہوگئی ہے، لیکن عوام کا مزاج ابھی اسے پورے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا ہے۔ ظاہر ہے اس زخم پر صرف تاریخ ہی مناسب مرہم رکھ سکے گی۔

مسلم قیادتوں کا فکری انتشار: اسباب، مظاہر اور اثرات

فتنۂ الحاد و ارتداد کے پس منظراور الحاد کے جدید اسباب وعوامل کے جائزے کے بعد یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں کہ اس سد باب کی اولین ذمہ داری مسلم قیادتوں پر عائد ہوتی ہے جو بد قسمتی سے قیادت قیادت کھیلنے میں مصروف ہیں۔ یہاں سب سے بڑی فکرمندی کی بات، جس پر گفتگو کے لیے مجھے متوجہ کیا گیا ہے، یہ ہے کہ مسلم قیادتیں انتشار میں مبتلا ہیں۔ ظاہر ہے جب ہم لفظ ’’ قیادتیں‘‘ جمع کے ساتھ بول رہے ہیں تو گویا کہ خود ہی یہ اس بات کا اعلان ہے کہ قیادت منتشر ہے، ورنہ قیادت کبھی قیادتیں نہ ہوتیں۔

واضح رہے کہ مسلم قیادت عدم مرکزیت کے ساتھ شدید فکری انتشار میں بھی مبتلا ہے۔ ہمارے قائدین کے اندر نظریاتی، فکری اور عملی یکجہتی کا فقدان ہے۔ یہاں یہ نکتہ ملحوظ خاطر رہے کہ اسلامی تاریخ میں جب بھی قیادت میں فکری جمود، فرقہ واریت، یا ذاتی مفادات غالب آئے، امت زوال کا شکار ہوگئی۔

ملی قیادتوں کے موجودہ فکری انتشار کے اسباب کیا ہیں؟ اس سوال پر غور کرنے سے حسب ذیل امور نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں:

۱۔ شورائیت کی جگہ موروثیت: اسلام نے شورائیت کا جومثالی نظام دیا تھا، خاندانی اور قبائلی ذہن سے متاثر مسلمان بہت دیر تک اس سے ہم آغوش نہیں رہ سکے اور جلد ہی خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئی۔ مغرب نے نئے عہد میں شورائیت سے قریب جمہوری نظام کو دریافت کیا، لیکن اہل مشرق اب بھی اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہمارے ملی قائدین اور مسلم ادارے اور تنظیمیں بھی اس عمومی مزاج سے باہر نہیں ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستان سے بادشاہی نظام کا تو خاتمہ ہوگیا لیکن اسلام اور ملت کے نام پر ظہور پذیر ہونے والی یہ چھوٹی چھوٹی مسلم تنظیمیں، جن کی باگ ڈور عموماً ہمارے تقویٰ شعار علماے کرام کے ہوتھوں میں ہوتی ہے،ملی اجتماعیت کے بجائے خاندانی ملوکیت کی چھوٹی چھوٹی جاگیریں بن کررہ گئی ہیں، جہاں صلاحیت بے اعتبار اور موروثیت برسراقتدار ہے اور قیادت ضعیف و ناتواں اورشکستہ حال ہے۔

۲۔ دین کی جگہ مسلک: موروثی نظام کے ساتھ موجودہ قیادت مسلکی بحران کا بھی شکار ہے۔ ہندوستانی سنی مسلمانوں کے مسالک اربعہ-بریلوی، دیوبندی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی- بھی کیا کم تھے، اب تو ان میں سے ہر ایک کی ذیلی کونپلیں پھوٹ پڑی ہیں۔ اس کاایک تماشہ اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب قائدین کی کرسیاں سجائی جاتی ہیں تو منتظمین کے لیے یہ طے کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے کہ پہلی رو میں کتنی کرسیاں سجائی جائیں اور دوسری رو میں کن کو بٹھانے کی کوشش کی جائے۔ سوچیے کہ جب ہماری قیادتیں اس قدر انتشار کا شکار ہوں تو امت میں اجتماعیت کا خواب کس درجے کی خود فریبی بن جاتی ہے۔ مسلم مجلس مشاورت بھی اپنے ترازو پر اول روز سے مینڈک تولنے میں مصروف ہے۔اب اس میں اسےکتنی کامیابی ملی ہے، مجھ سے زیاسہ آپ لوگ واقف ہیں۔

۳۔ باہمی اختلافات اور انتشار: اس کے بعد تیسرے درجے میں ذاتی رنجشوں اور مخاصمتوں کا نمبر آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ خود پرستی سےبڑھ کر کون سا طاغوت ہوگا۔ خود پرستی خدا پرستی کی حریف بن کرسامنے آتی ہے۔ الغرض! اخلاص کے پانی سے غرور کی اس آگ کو بجھانا بہر کیف ضروری ہے۔باہمی اختلاف وانتشار کے ساتھ ملی تدبیر وتعمیر کا کامدیر تک نہیں کیا جاسکتا۔

۴۔ قیادتوں کا منافقانہ رویہ: نئی نسل میں الحاد  و ارتداد کے بڑھتے رجحان کے پیچھے ایک اہم محرک مذہبی رہ نماؤں کا منافقانہ رویہ بھی ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جس کی مذمت قرآن میں اس طور پر آئی ہے کہ جو تم خود نہیں کرتے وہ بات دوسروں سے کیوں کہتے ہو؟ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:2)

مذہبی رہ نماؤں کے منافقانہ رویوں کی کئی شکلیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ:

۱۔ وہ دین کی پر زور تبلیغ کرنا چاہتے ہیں، بلکہ دین کے لیے مرنا چاہتے ہیں، لیکن اس دین پر عمل کرنا نہیں چاہتے۔ان کی ذاتی اور اخلاقی زندگی ، ان کی دعوتی وتبلیغی تقریروں سے میل نہیں کھاتی۔

۲۔ خود اہل مذہب حتی کہ اہل اسلام باہم نظری لڑائیوں میں انتہائی درجے کی تکفیریت، نفرت انگیزی اور قول وعمل کے تشدد کو روا سمجھتے ہیں۔ اب اس کے بعد ان کا یہ مقدمہ انتہائی کمزور ہوجاتا ہے کہ پرامن بقاے باہم کے لیے مذہب کی ضرورت ہے۔

۳۔ پر زور دینی نعروں اور مذہبی جذبات کے شور میں مذہب کے نام پر قائم کیے جانے والے اداروں اور تنظیموں کو مختلف حیلوں سے بہت جلد ذاتی ملکیت میں convert کردیا جاتا ہے۔ اس طرح مذہب کا ادارہ، دراصل معاش کا ادارہ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد مذہب پر مارکسی تنقیدوں کا جواز نئی نسل کے ذہن و فکر کو مسخر کرنے لگتا ہے۔

۵۔ سیاسی و سماجی بے اثری: مسلم قیادتوں کا فکری ونظری انتشار کا نتیجہ یہ ہے کہ سیاسی وسماجی سطح پر عملی میدان میں ان کا رول صفر ہوتا جارہا ہے۔ غور سے دیکھیے تو پوری ملت عضو معطل بن کر رہ گئی ہےجس کا ملک کی سیاسی وسماجی زندگی میں نہ کوئی وژن ہے اور نہ وزن ہے۔ ہماری قیادتیں اپنےپوسٹرز اوربینرز چاہے جتنےخوب صورت چھاپ لیں، لیکن اب سماج اور سیاست پر ان کی کوئی گرفت نظر نہیں آتی۔

۶۔ مایوسی اور بے اعتمادی: سیاسی وسماجی بے توقیری کا اگلا قدم یہ ہے کہ امت اب اپنی قیادتوں سے مایوس ہونے لگی اور امت ہی کیا ، یہ قائدین امت بھی اپنے خلوت کدوں میں یاسیت کی تصویر نظر آتے ہیں۔ ذرا سوچیے !فکری انتشار نے مسلم قیادتوں کو کہاں لا کھڑا کیا۔ یہ انتہائی نازک مقام ہے اور اصلاح حال کا آخری موقع۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو پھر ہماری نیند کب موت میں تبدیل ہوجائے، کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔

۷۔ فتنۂ الحاد و ارتداد کا فروغ: فتنۂ الحاد  و ارتداد اور مسلم قیادتوں کے فکری انتشار کے بیچ باہم گہرا تعلق ہے۔ اگر قیادت میں فکری وحدت، بصیرت اور عملی صلاحیت نہ ہو تو معاشرے میں فکری انتشار، الحاد اور ارتداد کے رجحانات کا بڑھ جانا طبعی ہے۔ اسی طرح، جب معاشرے میں الحاد  و ارتداد کا رجحان بڑھتا ہے تو قیادت مزید کمزور اور غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔ یوں یہ دونوں بحران ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہیں۔

سد باب کی ممکنہ تدابیر

الحاد و ارتداد کے بڑھتے جراثیم سے نئی نسل کے تحفظ کے لیے کئی سطحوں پر عملی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ اول تو ممکنہ طور پر انہی ہولز کو بند کرنے کی کوشش کی جائے جہاں سے یہ پانی رس رہا ہے، مثلاً:

نئی نسل کے سامنے مقصد حیات کے فلسفے کو کھولا جائے، ان کے روحانی واخلاقی تزکیے کا بند وبست کیا جائے، جس کا پہلا قدم یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو پاک وصاف کیا جائے، پھر انہیں نیک لوگوں کی صحبتوں تک پہنچایا جائے، ہمارے تعلیم یافتہ حضرات ان سائنسی مفروضات کا علمی رد کریں جو ابھی حقیقت نہیں ہیں، لیکن انہیں حقیقت سمجھ لیا گیا ہے، مغرب کے جدید لادینی فلسفے کا تحلیل وتجزیہ کا سلسلہ جاری رکھا جائے، خصوصاً فلسفۂ آزادی کو منحرف تخیلات سے آزاد کیا جائے، جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا خوب خوب مثبت استعمال کیا جائے، ناموافق تعلیمی ماحول کو موافق بنانے کی تدابیر کی جائے،امت کو معاشی محرومی اورتعلیمی پسماندگی سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، خاندانی نظام کو اسلامی اقدار سے جوڑا جائے،خواتین کے حقوق کو اپنا خاص موضوع بنایا جائے اور انہیں دینی، تعلیمی اور علمی ڈسکورس کا حصہ بنایا جائے، مخلوط نظام تعلیم و ملازمت کے شر کو کم کرنے کی ممکنہ تدابیر اختیار کی جائیں، قانونی تعلیم، بیداری اور چارہ جوئی کے ذریعے قانونی اور سیاسی پیچیدگیوں سے نجات کی راہ تلاش کی جائے ۔

اسی طرح دین وملت کا خالص درد رکھنے والے قائدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ کم از کم اپنے دائرۂ اثر میں شورائی نظام زندہ کرنے کی کوشش کریں اور یہ سمجھیں کہ وقف علی الدین کو وقف علی الاولاد سمجھنا گناہ کبیرہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مسلک ومشرب کو ہمیشہ دین کے تابع رکھیں، نفع میں دین کو مقدم رکھیں اور نقصان اٹھانا پڑے تو اس کے لیے مسلک ومشرب کو آگے بڑھائیں اور ہرگز ہرگزمسلک ومشرب پر دین کو قربان نہ کریں۔باہمی اختلاف وانتشار کے دائرے کو کم سے کم کریں اور کوشش کریں کہ ذاتی رنجش دینی وملی نقصان کا باعث نہ بنے اور نہ حتی الوسع اپنے ذاتی مسائل کو برسراسٹیج لانے کی کوشش کریں۔ اور جہاں تک منافقانہ رویوں کی بات ہے تو ان کے مذموم اور واجب الترک ہونے میں کس کو شبہہ ہوسکتا ہے، بطور خاص جب بات عوام کی نہیں ، خواص اور قائدین کی چل رہی ہو۔ ان امور کی طرف توجہ دی جائے تو اللہ کی رحمت سےبعید نہیں کہ وہ قیادتوں میں قوت ووحدت اور تاثیر پیدا کردے۔

امور بالا کے علاوہ مزید چند ضروری امور ہیں جنہیں ہمارے قائدین کو ترجیحی طور پر اپنے فکر و عمل کا محور بناناچاہیے۔ مثلاً:

۱۔ فرقہ پرستی کا خاتمہ: اس سیاق میں ایک بڑا کام یہ کرنے کا ہے کہ فرقہ پرستی کے خاتمہ کو موضوع بحث بنایا جائے۔ آپ کہیں گے کہ یہ تو ایک پامال موضوع ہے، جس پر سالہا سال سے یک طرفہ غور وخوض کا سلسلہ جاری ہے۔ میں عرض کروں گا کہ حدیث افتراق امت پڑھ کر ہم نے کوئی سبق نہیں لیا ہے۔ یہ حدیث ہمیں دین کو اپنی ترجیح بنانے کی دعوت دیتی ہے، بدقسمتی سے ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ہمارے علاوہ دوسرے گمراہ ہیں، جن کا خاتمہ ضروری ہے اور اس طرح ہر گروہ فرقہ پرستی کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالے جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے اندر دوسروں کے اعتذار اور اپنے احتساب کا داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سلفی جوش توحید، اشعری اصول تاویل،صوفی جذبۂ محبت، بریلوی عشق رسول اوردیوبندی اتباع سنت کے بیچ قدراشتراک تلاش کی جائے اور کم از کم اختلاف کے بعد بھی آداب کو ملحوظ رکھا جائے، جیسا کہ ہم دیگر مذاہب والوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ فرقہ پرستی کے خاتمے کا لفظ سن کر بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم اپنا نظریہ اور مسلک کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟ ان سے عرض ہے کہ مسلک اختیار کرنا فرقہ پرستی نہیں، اس سے دوسروں کو روکنا فرقہ پرستی ہے ۔

۲۔ بین المسلکی مکالمات کا آغاز: ہم مسلکی وگروہی فتح یابی کے لیے گذشتہ ڈیڑھ سو سالوں سے مسلسل مناظرے کرتے آرہے ہیں۔ ہماری ملی قیادتوں کو چاہیے کہ اب ملی فتح مندی کے لیے وہ اپنی صفوں میں بین المسلکی مکالمات کا آغاز کریں، جس میں ایک دوسرے کو زیر کرنے کے بجائے ، ایک دوسرے کو جیتنے کی کوشش ہو، جس میں مسلک کے بجائے دین وملت کو ترجیح ہو،زبان کے بجائے دلیل پر زور ہو اور استہزا کے بجائے احترام کا انداز ہو۔

۳۔ اصلاح نصاب مدارس: مدارس نے صدیوں تک مسلم معاشرے کی دینی وروحانی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، آج مدارس میں جدید فکری چیلنجز، فلسفہ، سائنس اور جدید نظریات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کم نظر آتی ہے۔ نصاب میں عقلی و فلسفیانہ مباحث، جدید سائنسی اعتراضات کے جوابات اور نوجوانوں کے سوالات کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ الغرض فکری چیلنجز کے پیش نظر اہل مدارس کو اپنے نصاب میں دینی وعصری امتزاج پیدا کرنا ہوگا اور بطور خاص لازمی طور پر جدید علم کلام کی نصابی تشکیل کرنی ہوگی۔

۴۔ عصری جامعات میں روشن خیال دین داروں کا وجود: فکری تعمیر یا تخریب کا بڑا مرکز عصری جامعات ہیں۔ ایک زمانے تک علماے دین نے اپنے دین وتقویٰ کے تحفظ کے لیے ان سے فاصلہ بنائے رکھا اور اس طرح روایتی اور جدید تعلیم یافتہ میں غیر ضروری فاصلہ بڑھ گیا۔ دراصل ہمارے تقویٰ شعار بزرگ پر احتیاط اس قدر غالب ہوتا ہے کہ وہ بسا اوقات دعوتی ضرورتوں کو بھی نظر انداز کرجاتے ہیں۔ خیر! اب یہ شکایت نہ رہی، اب مدارس سے عصری جامعات کی طرف فارغین مدارس غول بیابانی کی طرح چلے آتے ہیں۔ لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ ان ’نونہال علماے اسلام‘کے سامنے اپنے معاش کی اصلاح سے زیادہ کی فکر شاز ونادر ہی ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے سفرکو مقصدیت سے جوڑا جائے اور انہیں عصری جامعات میں اسلام کے سفیر کے طور پر بھیجنے کی فکر کی جائے۔ خود ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ علم وتحقیق کے نئے شعبوں میں پہنچ کر امتیازی پوزیشن حاصل کریں اور اس کے بعد وہ علم و حیات کے متعلقہ گوشوں کو دینی واخلاقی قدروں سے منور کرنے کا عزم کرلیں۔ یہ کام ان کے معاشی اور ذاتی ترجیحات پر مستزاد ہے اور ارباب عزیمت ہمیشہ ایسا کرتے آئے ہیں۔

۵۔ انسانی اقدار پر ارتکاز: فروغ ارتداد کے لیے ایک بڑی نفسیاتی وجہ دین کے تعلق سے اس غلط فہمی کا فروغ ہے کہ دین انسانی اقدار واخلاق کے خلاف ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے بہت سے نام نہاد دین دار اس غلط فہمی کے لیے اپنے کردار سے شواہد بھی فراہم کردیتے ہیں۔ ہمارے صوفیہ نے اسی لیے بادشاہی عہد میں دین کے تحفظ وفروغ کا جو کام کیا ہے، اس میں بادشاہوں کے جبر کے بجائے اپنے اخلاق کو ہتھیار بنایا ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم قائدین شاہی جبر اور فقیہانہ تاویل کے بجائے، صوفیانہ اخلاق کو اپنی صفوں میں زندہ کریں۔واضح رہے کہ صوفیانہ اخلاق سے ہماری مراد صرف یہ نہیں ہے کہ لوگوں سے مسکراکر بات کی جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ذات پات، رنگ ونسل اور مذہب ومسلک سے ماورا انسانی و رفاہی خدمات کو اپنے منشور کا ترجیحی حصہ بنایا جائے۔غربت کے خاتمے، تعلیم کی اصلاح و اشاعت، خواتین اور نوجوانوں کی تربیت اور ان کی مالی وسماجی ضرورتوں کا سامان مہیا کرنے کی کوشش ہو۔ دین وملت کا قافلہ جب انسانی اقدار پر سوار ہوگا تو اسے عام توجہ حاصل ہوگی اورہر طرح کی آسانیاں ہم رکاب ہوں گی۔

۸؍ فروری ۲۰۲۶ء | جامعہ عارفیہ | ذیشان احمد مصباحی


  1. قال السخاوي: طرقه كلها ضعيفة.

Comments 3

Advertisement