تاریخی پس منظر، موجودہ چیلنجز اور نصاب و نظامِ تعلیم میں مجوزہ اصلاحات پر مدلل گفتگو ۔
اسلامی علمی روایت
غلط العوام صحیح کی قبیل سے تواتر سے ایسا کہا جاتا رہا ہے کہ مدارس کا مقصد علومِ دینیہ کی حفاظت و اشاعت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تصورِ مدارس کی یہ تحدید عہدِ استعمار کی پیداوار ہے، ورنہ مدارس ہمیشہ مراکزِ علوم رہے، نہ کہ صرف مراکزِ علومِ اسلامی۔ اسلامی تاریخ سے اسی نظریے کی توثیق ہوتی ہے۔ اور اگر بر سبیلِ تنزل یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اسلامی تاریخ میں مدارس علومِ دینی کے ہی مراکز تھے تو پھر یہ بات دل چسپی سے خالی نہ ہوگی کہ ہم دیکھیں کہ اسلامی روایت میں علمِ دین کا تصور کیا رہا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ عہدِ رسالت میں اصحابِ رسول مختلف پیشوں سے جڑے ہوئے تھے اور وہ اپنا ہر عمل اللہ و رسول کی رضا جوئی کی نیت سے کرتے تھے، اس لیے ان کے بظاہر دنیوی کام بھی خالص دینی جذبے سے ہونے کے سبب بباطن دینی ہوتے۔ رسول و اصحابِ رسول ﷺ کا جو تصورِ دین و دنیا ہے، اسے حضرت مولانا نے بڑی خوب صورتی اور جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے:
چیست دنیا از خدا غافل بدن
نے قماش و نقرہ و فرزند و زن
ملبوسات، زیورات اور زن و فرزند کا نام دنیا نہیں ہے، دنیا تو بس یہ ہے کہ انسان خدا سے غافل ہو جائے۔
عہدِ رسالت مآب میں اصحابِ رسول، تعلیمِ قرآن اور صحبتِ پیمبر کے علاوہ اپنے اوقات کو قراءت و کتابت، حساب و کتاب، زراعت و تجارت، سفارت و سیاست، انتظام و انصرام، سپہ گری و اسلحہ سازی اور دیگر پیشوں میں مصروف رکھتے اور وہ یہ سارے کام خالص دینی جذبے سے کیا کرتے تھے۔ وہ اپنی جان و مال سب کچھ اللہ سے فروخت کر چکے تھے (۱)، اس لیے دنیا میں کوئی بھی چیز ان کے لیے دنیا نہیں تھی۔ قرآن کے الفاظ میں ان کی حالت یہ تھی:
رِجَالٌۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ (النور، 37)
یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں خرید و فروخت اور تجارت، ذکرِ الٰہی اور نماز و زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتی۔
ہاں! اس کے ساتھ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اصحابِ رسول کی نظر میں دین کے مصادر و مراجع ہمیشہ کتابُ اللہ و صحبتِ پیمبر تھے، نہ کہ ان کے دیگر پیشے اور کام۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مصدرِ دین کے اعتبار سے تو خود اصحابِ رسول کے یہاں دین و دنیا کی تقسیم تھی، تاہم حصولِ علم کے باب میں ان کی نظر میں دین و دنیا کی کوئی تفریق نہیں تھی۔ وہ ہر اس علم کی طرف بصد شوق لپکتے تھے، جس سے ان کے معاش و معاد کے مسائل متعلق ہوتے، کیوں کہ بشرطِ اخلاص مآلِ کار یہ دونوں دینی علوم ہی تھے، نہ کہ دینی و دنیوی علوم۔ اس نکتے کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو واضح ہوگا کہ علوم کی جو دینی و دنیوی تقسیم ہے، وہ محض لفظی ہے، اس میں کوئی معنوی گہرائی نہیں، إِلّا یہ کہ یہ تقسیم کسی بھی علم کی تحقیر یا اس سے بے اعتنائی کا سبب بن جائے۔
امام غزالی رحمہ اللہ نے احیاء العلوم کے بابُ العلم میں اس حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جسمانی صحت کی بحالی کے لیے میڈیکل سائنس کی ضرورت پڑتی ہے اور تقسیمِ وراثت اور معاملات میں علمِ حساب کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح ہر وہ علم جس کی ضرورت امورِ دنیا کی انجام دہی میں درپیش ہوتی ہے، ان سب کا حصول فرضِ کفایہ ہے، کیوں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور دین کا نظم دنیا کے نظام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ (۲)
علامہ مرتضیٰ زبیدی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
أي فكل علمٍ يُحتاجُ إليه في صلاحِ أمرِ الدنيا بحيثُ لا بدَّ منه، فهو من الدين، إذ الوسائل لها أحكام المقاصد، فإصلاحُ الدنيا وسيلةٌ إلى إقامةِ الدين، والدنيا مزرعةُ الآخرة، فما لا يتمُّ الواجبُ إلا به فهو واجب۔ (۳)
یعنی ہر وہ علم، امورِ دنیا کی انجام دہی میں جس کی ضرورت لاحق ہو، جس کے بغیر دنیا کے کام پورے نہ ہو سکیں، وہ دینی ہے، اس لیے کہ وسائل و ذرائع بھی مقاصد و مطالب کا حکم رکھتے ہیں۔ چنانچہ اصلاحِ دنیا ہی اقامتِ دین کا وسیلہ ہے، کیوں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور جو چیز کسی واجب کی ادائیگی کا سبب ہو، وہ چیز بھی واجب ہو جاتی ہے۔
علامہ ابن تیمیہ نے اسی بات کو اور بھی واضح انداز میں واشگاف کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
فإن الشرعيات: ما أخبر الشارعُ بها وما دلَّ الشارعُ عليها، وما دلَّ الشارعُ عليه ينتظم جميعَ ما يحتاجُ إلى علمِه بالعقل۔ (۴)
’’علومِ شرعی وہ علوم ہیں، شارع نے جن کی خبر دی ہو یا جن کی طرف شارع نے رہ نمائی کی ہو اور شارع کی رہ نمائی کے ضمن میں وہ تمام علوم شامل ہیں جن کی ضرورت عقلی اعتبار سے انسان کو لاحق ہوتی ہے۔‘‘
اس کے معنی یہ ہوئے کہ انسانی عقلی علوم جیسے میڈیکل سائنس، انجینئرنگ، ریاضیات، آسٹرونومی، فزکس، کیمسٹری اور دیگر عصری علوم بھی بالواسطہ طور پر شرعی علوم کے ضمن میں شامل ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام کی علمی روایت کا یہ وسیع تناظر صرف نظری نہیں ہے، بلکہ اس علمی روایت کا تاریخی جائزہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کا تعلیمی نظام، یا بلفظِ دیگر مسلمانوں کی مدرسی روایت اسی نظریے کی عملی تصویر رہی ہے۔ چنانچہ یہ بات بتانے کی نہیں کہ مسلمانوں نے صدرِ اوّل میں نہ صرف یہ کہ قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا، بلکہ ان کی تفہیم و تشریح کے لیے اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، اصولِ فقہ اور علمُ الکلام جیسے متعدد عقلی علوم ایجاد کیے۔ اس کے لیے انہوں نے یونانی علومِ منطق و فلسفہ سے بطورِ خاص استفادہ کیا، ساتھ ہی انہوں نے یونانی عقلی علوم کو محفوظ کیا اور شرح و بیان کے ساتھ ان کی تدوینِ جدید کی۔ ان کی اصلاح و ترمیم کی اور ان میں اضافات کیے، حتیٰ کہ مغرب کا جدید علمِ سائنس انہی کی قائم کردہ بنیادوں پر استوار ہے۔
یہاں میں جناب احمد جاوید کی تازہ کتاب ’’مدارسِ اسلامیہ اور نصابِ تعلیم‘‘ سے ایک اقتباس نقل کروں گا:
’’جس وقت اسلامی مدارس اور جامعات معراجِ کمال پر پہنچی ہوئی تھیں، مغربی اقوام اور یوروپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ یوروپ میں بیداری آئی تو انہوں نے علوم اہلِ اسلام سے حاصل کیے اور یونیورسٹیاں اسپین، مصر، بغداد اور نیشاپور کے مدارس کے نمونے پر بنائیں۔ یہ اسلامی مدارس کی تعلیم اور ان کا نصاب تھا جس نے قانون، فلسفہ، طب، ادویہ، ہیئت، طبعیات، کیمیا، جغرافیہ، عمرانیات، الہیات اور دیگر علوم و فنون (سائنس اور آرٹ) کے مختلف شعبوں کو ابوحنیفہ (فقہ)، ابن حیان (کیمیا)، الخوارزمی (الجبراء)، ابن الہیثم (طبعیات و بصریات)، ابن ابی منصور، ابوریحان البیرونی (ریاضی، فلکیات اور عمرانیات)، ابن فراس (پہلا ہوا باز)، ابن سعید الجوہری اور سند بن علی (آلاتِ رصد)، ابن شاکر (گھڑی جیسے متحرک آلات کا موجد)، محمد بن زکریا (کیمیا)، العدلی القائنی، ابن رستم کوہی اور ابو الوفا بوزجانی (ماہرینِ ریاضی)، ابن سینا (طب و حکمت)، غزالی (فلسفہ و کلام)، ابن رشد (قانون و ریاضیات)، ابن خلدون (تاریخ و عمرانیات) اور میر شیرازی (ہندسہ، ریاضی، منطق و فلسفہ اور ٹکنالوجی) جیسے باکمال پیشوائے علوم و فنون دیے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوا کہ وقت آگے نکل گیا، ہم پیچھے رہ گئے‘‘ (ص: ۱۶)
یہ بتانے کی بالکل حاجت نہیں کہ مسلمانوں نے یہ سارا کام مدرسے میں کیا۔ یہ بات اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ اسلامی تاریخ میں ’’مدرسہ‘‘ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے معنی میں تھا، نہ کہ مخصوص مذہبی نصابی ادارے کے معنی میں۔ حد یہ ہے کہ مغل عہد میں شروع ہونے والا ملا نظام الدین فرنگی محلی کا نصابِ تعلیم بھی اس عہد کے مغربی مذہبی مدارس کے نصاب سے وسیع اور مروج عقلی علوم پر محیط تھا۔ پروفیسر ابراہیم موسیٰ نے اپنی کتاب What is a Madrasa? میں اس پہلو کا علمی تجزیہ کیا ہے۔
استعماری نظریۂ تعلیم
۱۸۳۵ء میں لارڈ میکالے (۱۸۹۲ء) کے ذریعے پیش کردہ نئی تعلیمی پالیسی ہندوستانی نظامِ تعلیم کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ اس رپورٹ کا یہ جملہ بہت معروف ہے:
’’ہم ایک ایسا تعلیم یافتہ طبقہ وجود میں لائیں جو ہمارے اور کروڑوں ہندوستانیوں کے بیچ رابطہ بن سکے۔ یہ ایسا طبقہ ہوگا جو اپنے خون اور نسل کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہوگا مگر فکر و خیال اور ذوق و مزاج کے اعتبار سے انگریز ہوگا۔‘‘ (۵)
لارڈ میکالے کی اس منصوبہ بندی نے مسلمانوں کے لیے صرف اعتقادی اور نظریاتی مسائل پیدا نہیں کیے، بلکہ بعد میں پیدا ہونے والی تعلیمی ثنویت اور معاشی بحران کا بھی اس سے گہرا رشتہ ہے۔ چنانچہ ۱۸۳۷ء میں فارسی کو بطورِ سرکاری زبان منسوخ کر دیا گیا اور اس کی جگہ انگریزی نے لے لی۔ یہیں سے شروع ہوتا ہے دینی و فقہی نصاب پڑھنے والوں کے لیے معاشی دشواریوں کا مرحلہ، کیوں کہ اس سے پہلے دفتری، انتظامی اور عدالتی مناصب کے دروازے عربی، فارسی اور فقہ پڑھنے والوں کے لیے ہی کھلے ہوئے تھے۔ وہ یہی نصاب پڑھ کر منسٹر، ایڈمنسٹریٹر اور جج بنا کرتے۔
یہی وہ تاریخی موقع ہے جب سماج کے اشرافیہ نے مدارس کا رخ کرنا کم کیا اور مدارس کا پیٹ بھرنے کے لیے عوامی چندہ پر منحصر یتیم و نادار بچوں کی کفالت کا نیا نظام شروع کیا گیا، ورنہ اس سے پہلے مدارس کا نظم سلاطین اور نوابین کے زیرِ سایہ تھا۔ دینیات پڑھنے والے اشرافیہ ہوا کرتے۔ وہی دنیوی مناصب کے حصول کے لیے فقہ و فتاویٰ کی مہارت حاصل کرتے۔ اسی بنا پر امام غزالی نے علمِ فقہ کو علومِ دنیا میں شمار کیا ہے۔
اک نیا ماڈل مدرسہ
عہدِ استعمار میں انقلاب ۱۸۵۷ء کے بعد دارالعلوم دیوبند (۱۸۶۶ء) کے ذریعے ہندوستان میں مدرسے کی ایک نئی روایت قائم ہوئی۔ دلی کالج سے استفادہ کرنے والے چند علمانے مدرسے کا ایک نیا تعلیمی و انتظامی خاکہ زمین پر اتارا۔ اس نئے خاکے کے اوّل نقاش مولانا قاسم نانوتوی کو بتایا جاتا ہے جنہوں نے دارالعلوم دیوبند کے اصولِ ہشت گانہ میں یہ رقم کیا ہے:
’’تا مقدور کارکنانِ مدرسہ کو ہمیشہ تکثیرِ چندہ پر نظر رہے۔۔۔ سرکار کی شرکت اور امرا کی شرکت بھی مضر معلوم ہوتی ہے۔۔۔ آمدنی اور تعمیر وغیرہ میں ایک نوع کی بے سروسامانی ملحوظ رہے۔‘‘
یہ وہ زمانہ تھا جب نئے علوم و فنون نے ملک میں دستک دے دی تھی، نئے معاشرے کی تشکیل انہی علوم و فنون کے زیرِ سایہ ہو رہی تھی اور مستقبل میں فکر و تہذیب، سیاست و معیشت اور تصورِ ذات و کائنات کی تعمیر انہی کے دم قدم سے ہونی تھی، لیکن ۹؍ جنوری ۱۸۷۴ء کے جلسۂ تقسیمِ اسناد میں ان کے تعلق سے مولانا نانوتوی نے اپنی پالیسی کی وضاحت ان الفاظ میں کی:
’’[دارالعلوم میں] علومِ جدیدہ کو اگرچہ شاملِ نصاب نہیں کیا گیا ہے، لیکن علومِ قدیمہ عقلیہ و نقلیہ کے ذریعے طلبہ کے اندر ایسی استعداد پیدا کر دی گئی ہے کہ امید ہے کہ یہ طلبہ علومِ جدیدہ والوں سے فائق ہوں گے اور کبھی انہیں علومِ جدیدہ کی تحصیل کا موقع ملا تو جو کمی ان میں رہ گئی ہے، اس کی بھی تلافی ہو جائے گی۔‘‘ (۶)
افسوس کہ مدارس کے علومِ قدیمہ کے تعلق سے مولانا نانوتوی کی جو امیدیں تھیں وہ حقیقت کی زمین پر سچ ثابت نہیں ہو سکیں، حتیٰ کہ نصابِ مدارس سے علومِ قدیمۂ عقلیہ کی مقدار بھی دن بہ دن کم ہوتی گئی اور فہم و درایتِ دین کا شعور بھی کمزور ہوتا گیا۔
الغرض! دارالعلوم دیوبند نہ صرف یہ کہ مدرسے کے ایک نئے ماڈل کے طور پر سامنے آیا، بلکہ اس نے تعلیمی ثنویت کی بنیاد بھی مستحکم کر دی، جس کے اوپر تعمیرات کا سلسلہ دراز ہوتا رہا اور علم کی ان دونوں روایتوں کے بیچ خلیج وسیع ہوتی رہی۔
حالاں کہ اس میں شک نہیں کہ اس نئی مدرسی روایت سے کم از کم یہ ضرور ہوا کہ حکومتی تعاون کے بغیر عالمِ بے سروسامانی میں علومِ شرعیہ کی حفاظت کا ایک بہتر انتظام امت کے ہاتھ لگ گیا، اگرچہ اس کے ساتھ ایک نقص بھی در آیا اور وہ یہ کہ اب یہ نئے مدارس صرف علومِ قدیمہ شرعیہ کی حفاظت کے مراکز نہیں رہے، بلکہ اب ان میں مسلکیت کی پخ لگ گئی اور ۱۸۵۷ء کے بعد ظہور پذیر ہونے والے یہ نئے مدارس مسلکی اکھاڑے بن گئے۔
مولانا نانوتوی ایک ایسے موڑ پر کھڑے تھے، جہاں دو میں سے ایک راستے کا انتخاب ضروری تھا اور کسی وسط طریق کی تشکیل ان کے لیے بظاہر ممکن نہیں تھی۔ افسوس اس کا ہے کہ بعد میں قائم ہونے والے دیگر بڑے مدارس کی مجموعی تعلیمی و اقتصادی پالیسی بھی یہی رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماے مدارس کا ورلڈ ویو، دائرۂ علم اور دائرۂ عمل سب کچھ محدود و مختلف ہو گیا۔ مدارس کے موجودہ تعلیمی و معاشی بحران کی جڑیں اسی زمین میں پیوست ہیں۔
اصلاح کی کوششیں
انیسویں صدی کے اواخر میں قدامت پرستی اور جدّت طرازی کی دو لہریں جداگانہ بہ رہی تھیں، تعلیم کے قدیم و جدید تصورات اور طریقِ کار کے بیچ خلیج بڑھتی جا رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ اہلِ دین میں ایسے اہلِ نظر ہمیشہ موجود رہے جنہیں اس بات کا ادراک رہا کہ مدارس کا قدیمی نصاب فی الجملہ نئے زمانے کے نوع بنوع چیلنجز کا ساتھ نہیں دے پا رہا ہے۔ شاید یہ کہنا درست ہو کہ شبلی اس ضرورت کا ادراک کرنے والے پہلے شخص تھے۔ ندوۃ العلماء (۱۸۹۸ء)، مدرسۃ الاصلاح (۱۹۰۸ء) اور جامعۃ الفلاح (۱۹۶۲ء) نے اسی اصلاح و ترمیم کے سلسلے کو آگے بڑھایا، یہ الگ بات ہے کہ ان اصلاحات نے علومِ جدیدہ کے باب میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت کے بجائے، روایتی عقلی علوم کا بھی دیس نکالا کر دیا۔ اب رفتہ رفتہ فارغینِ مدارس کا ذہن روایتی مسلم فکر کے فہم سے بھی قاصر ہوتا چلا گیا، چہ جائے کہ وہ علم کے نئے کارواں سے ہم رکاب ہوتا اور نئی فکری یلغار کا جواب تیار کرتا۔ اس سے بھی برا حال جامعہ سلفیہ، بنارس (۱۹۶۳ء) اور اس کے تابع اداروں کا ہے۔ انہوں نے سارا زور علمِ حدیث پر صرف کر دیا اور فہمِ حدیث کے متوارث عقلی علوم کو بھی اپنے نئے نصاب سے خارج کر دیا۔ نصابی خاکے میں اضافہ فقط اتنا کیا کہ فہمِ دین کے فقہی و حدیثی منہج کے بیچ برپا قدیم جنگ کو نئے آب و تاب کے ساتھ تازہ کر دیا، جس کے نتیجے میں حرف پرستی اور فکری و عملی تشدد نے نئے بال و پر نکالنے شروع کر دیے۔
رہے ان کے بالمقابل دیگر بڑے مدارس مثلاً جامعہ نظامیہ، حیدرآباد (۱۸۷۶ء)، منظرِ اسلام، بریلی (۱۹۰۴ء) اور جامعہ اشرفیہ، مبارک پور (۱۹۳۵ء) تو علومِ جدیدہ کے تناظر میں ان کا رویہ بھی دارالعلوم دیوبند سے کچھ مختلف نہیں رہا۔ دیوبندی مدارس کے ساتھ ان کا اختلاف محض مسلکی تھا، دونوں کا علمی افق قریب قریب ایک تھا۔
اکیسویں صدی میں کچھ نئے ادارے بھی سامنے آئے ہیں جو اپنے اضافات و اصلاحات کے ساتھ اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہاں میں ان میں سے جنوب میں مرکز الثقافۃ السنیہ، کالی کٹ اور شمال میں جامعہ عارفیہ، کوشامبی کا بطورِ خاص ذکر کروں گا۔ مدرسی روایت کے ان تمام دھاروں میں بہت سے محاسن و اصلاحات موجود ہیں، جن کی تائید و تحسین کی جانی چاہیے، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ ان مدارس کے تعلیم یافتہ اب خود کو مین اسٹریم سے جوڑنے لگے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج مدارس اور فارغینِ مدارس کی کثرت ہے، لیکن ان دونوں کی علمی و معاشی صورتِ حال ناگفتہ ہے، جس کا نقصان یہ ہے کہ مدارس اور علماے مدارس نہ صرف ملک پر بلکہ عام مسلمانوں کے ذہن پر بھی بوجھ بننے لگے ہیں۔
اس المیے کا مداوا کیا ہے؟ اس کے نظری و عملی امکانات کیا ہیں اور کس نہج سے مدارس و فارغینِ مدارس اپنی علمی و معاشی اہمیت کو ثابت اور ضرورت کی تکمیل کر سکتے ہیں؟ اہلِ مدارس کے سامنے یہ ہوش ربا سوالات کسی بھیانک اژدہے کی طرح منہ کھولے کھڑے ہیں۔
موجودہ صورتِ حال
سابقہ پس منظر کے نتیجے میں آج مدارس کی مجموعی صورتِ حال کچھ یوں ہے:
۱۔ قدیم علومِ شریعت مثلاً تفسیر، حدیث و فقہ کی تعلیم، جن میں نئی کتب و مباحث کی شمولیت بہت کم ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی آخری جماعت ہشتم عربی صرف دس متونِ حدیث کے دورے پر مشتمل ہے۔ علمی اور فنی قدیم و جدید مباحث اس سے خارج ہیں۔ ظاہر ہے حدیثِ پاک کا یہ دورہ، ورق گردانی کی برکتیں تو عطا کر سکتا ہے، لیکن جدید و قدیم مسائل کے تناظر میں دقیق فہمِ حدیث بخشنے میں قطعاً غیر معاون ہے۔
۲۔ منطق و فلسفہ و کلام کی کتابوں کا مکمل اخراج، یا ایک آدھ کتاب کی بطورِ تبرک شمولیت۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلفی مدارس نے علمِ حدیث کی روایت کو زندہ کرنے کی کوشش تو کی، لیکن اصول سے دوری نے انہیں فہم و درایتِ حدیث کے باب میں عالم کے بجائے مہندس بنا دیا۔ وہ ہر چیز کو دو دو چار کی طرح سمجھنے لگے، جب کہ علم و عرفان کی دنیا حساب و ہندسے کی دنیا سے مختلف ہے۔
۳۔ انگریزی، کمپیوٹر اور بعض جگہ سائنس کی بھی اتنی تعلیم کہ دوسروں کو بتایا جا سکے کہ ہم جدید علوم کے دشمن نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے زبانی طور سے اپنا بھرم ہی بچایا جا سکتا ہے، علومِ جدیدہ کے تناظر میں کوئی بڑا کام تو ہونے سے رہا۔
۴۔ بڑے مدارس نے غیر نصابی طور پر ایک اچھا کام یہ کیا کہ انہوں نے عصری جامعات سے اپنا الحاق کرا لیا۔ اس سے کئی فائدے ہوئے، بہت سے طلبہ نے جدید عربی کی مہارت سیکھی، کچھ نے اردو ادب میں اپنی جگہ بنائی، کچھ نے تاریخ، فلسفہ اور دیگر سماجی علوم کو اپنا مطمحِ نظر بنایا، کچھ نے میڈیکل کی دنیا میں بھی پنجہ آزمائی کی۔ اِکے دُکے نے سول سروسیز کی طرف بھی رخ کیا۔ اس سے اہلِ مدارس کا علمی و فکری کینوس کشادہ ہوا اور ان کے لیے معاش کے نئے امکانات روشن ہوئے۔ لیکن اس کا ایک بڑا نقصان یہ شمار کیا گیا کہ عصری جامعات کی طرف آنے کے بعد طلبہ کے اندر راسخ العقیدگی یا کم سے کم راسخ المسلکی کمزور ہو گئی۔ عصری جامعات کا رخ کرنے والوں کے حوالے سے اہلِ مدارس کے لیے آج بھی سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہی ہے کہ وہاں پہنچ کر ان کا دینی تشخص سلامت نہیں رہتا۔
۵۔ فارغینِ مدارس کے لیے عصری جامعات کے دروازے کھلنا انہیں مین اسٹریم سے جوڑنے کا ایک ممکنہ متبادل راستہ تھا۔ تاہم دو وجوہات کے سبب اس کے خاطر خواہ فوائد سامنے نہیں آ سکے:
الف۔ فارغینِ مدارس کے لیے عصری جامعات کے دروازے تو کھول دیے گئے، لیکن اس کے لیے ان کی مناسب ذہن سازی نہیں کی گئی۔ نتیجے کے طور پر انہیں اپنے لیے مناسب کورسیز کے انتخاب میں خاصی دشواریوں کا سامنا رہا۔ مزید یہ کہ ان میں سے بیشتر کے اندر کالجز سے آئے طلبہ کے بالمقابل احساسِ کمتری پیدا ہو گئی۔
ب۔ دسویں جماعت تک کی تعلیم درجاتِ عالیہ کی تعلیم کے لیے بنیاد کا کردار ادا کرتی ہے۔ معاصر نظامِ تعلیم میں دسویں کے بعد سے ہی کورسیز میں تخصص و تقیید پیدا ہونا شروع ہوتا ہے، ورنہ اس سے پیش تر تو معاصر علوم و فنون کی تقریباً تمام مبادیات ایک ساتھ پڑھا دی جاتی ہیں۔ اتفاق سے موجودہ عہد میں خالص مدارس ایسے تعلیمی ادارے ہیں، جن میں اوّل روز سے ہی مشترکہ عمومی نصاب پڑھائے جانے کے بجائے طلبہ کو مخصوص نصابِ تعلیم کے سپرد کر دیا جاتا ہے، جس کے مطابق انہیں چاہے اَن چاہے دینیات کی تکمیل کرنی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے دو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں؛ ایک یہ کہ بہتوں کو دینی حلقۂ عمل پسند نہیں ہوتا، لیکن نہ چاہ کر بھی انہیں اسی حلقے سے وابستہ رہنا پڑتا ہے اور دوسری یہ کہ بہت سے عصری علوم ایسے ہیں کہ وہ چاہ کر بھی انہیں حاصل نہیں کر سکتے۔
۶۔ موجودہ دینی مدارس کے مخصوص نظامِ تعلیم سے فراغت کے بعد بالعموم طلبہ خود کو ذہنی اعتبار سے معاشرے میں اجنبی اور معاشی اعتبار سے حیران و پریشان محسوس کرتے ہیں۔ گھر سے بازار تک ان کے سامنے نوع بہ نوع چیلنجز ہوتے ہیں جن کا سامنا کرنا ہر ایک کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ بطورِ تفصیل عرض ہے کہ پس منظر کے اعتبار سے فارغینِ مدارس کے مختلف گروپس ہوتے ہیں اور ہر گروپ کے جداگانہ مسائل، مثلاً:
الف۔ مدارس میں زیرِ تعلیم ۷۰؍ فیصد یا اس سے زائد طلبہ معاشی اعتبار سے پسماندہ فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اوسط اور اعلیٰ فیملی سے تعلق رکھنے والے کل ۳۰؍ فیصد یا اس سے بھی کم ہوتے ہیں۔ اس ۳۰؍ فیصد میں اعلیٰ خانوادوں کے بچے ۵ سے ۱۰؍ فیصد ہوتے ہیں، جب کہ اوسط خانوادوں کے بچے ۲۰ سے ۲۵؍ فیصد ہوتے ہیں۔ ایک دلچسپ اتفاق یہ ہے کہ مدارس میں تعلیمی لیاقت کے اعتبار سے بالعموم وہی طلبہ فائق ہوتے ہیں جو پسماندہ بیک گراؤنڈ سے آتے ہیں اور روایتی دینی کام ’’تدریس و امامت و خطابت‘‘ کا بارِ گراں بھی اکثر یہی اٹھا کر آگے بڑھتے ہیں۔ ان میں جو نسبتاً زیادہ قابل یا پرجوش ہوتے ہیں وہ مدارس سے فراغت کے بعد عصری جامعات یا عرب جامعات کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے لیے اکثر طلبہ کو بڑی مشقتوں اور آزمائشوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ البتہ جو طلبہ اس مرحلے سے بھی گزر جاتے ہیں بالعموم ان کے معاشی اور معاشرتی وقار میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔
ب۔ رہے متوسط اور اعلیٰ خانوادوں کے ۳۰؍ فی صد طلبہ تو مدارس میں پڑھنے کے دوران اور وہاں سے نکلنے کے بعد سب سے زیادہ ذہنی کرب کا شکار یہی ہوتے ہیں۔ تعلیمی لیاقت کے اعتبار سے یہ بالعموم کمزور ہوتے ہیں۔ اس کمزوری کا سبب دینی تعلیم سے ان کی بے رغبتی اور غیر تعلیمی مصروفیت ہوا کرتی ہے۔
ج۔ ۵ سے ۱۰؍ فی صد طلبہ جو اعلیٰ فیملی سے متعلق ہوتے ہیں وہ یا تو پیرزادے ہوتے ہیں یا پھر امیرزادے۔ پیرزادوں کے لیے مدرسی تعلیم، خواہ کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو، بے شمار برکات کی حامل ہو جاتی ہے۔ اس سے ان کی روحانی عظمتوں میں چار چاند لگ جاتے ہیں اور عوامی توجہات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان کا معاشی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کی معاشی ترقی غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے اور ان کی درگاہ Developing State سے نکل کر Developed State میں پہنچ جاتی ہے۔ امیرزادگان کے لیے بھی کوئی خاص مسئلہ نہیں رہتا۔ وہ تھوڑے دنوں تک تو دینی تعلیم کے ساتھ جد و جہد جاری رکھتے ہیں، پھر بہت جلد اپنے آبائی کاروبار سے جڑ جاتے ہیں یا اپنے طور پر کوئی نہ کوئی اچھی تجارت و معیشت کی راہ نکال لیتے ہیں۔ ہاں! اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح جدید تعلیمی اسناد نہ ہونے کے سبب اعلیٰ ملازمتیں حاصل نہیں کر پاتے، بسا اوقات جس کا انہیں قلق رہتا ہے۔
اصل مسئلہ متوسط خانوادوں کے طلبہ کے ساتھ در پیش ہوتا ہے جن کے لیے ’’نہ جائے رفتن اور نہ پائے ماندن‘‘ کی صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ نہ ادنیٰ فیملی کے طلبہ کی طرح فقر و قناعت کی زندگی گزار سکتے ہیں نہ اچھے مدارس میں تدریسی ملازمت پا سکتے ہیں، کیوں کہ ان کی تعلیمی صورتِ حال بہت اچھی نہیں ہوتی۔ ان کا معاشی بیک گراؤنڈ بھی ایسا نہیں ہوتا کہ وہ باپ کے پیسے کے بل بوتے پر کوئی بڑا کاروبار شروع کر سکیں۔ عام طور پر ان کے دیگر برادران اور عم زادے ایک معتدل اور متوسط زندگی گزار رہے ہوتے ہیں جس کا حصول ان کے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔ ایسے علما کے بیوی بچوں کو بھی اپنی فیملی میں مختلف طرح کے تیرو نشتر کا سامنا رہتا ہے جس کے بعد مسکرا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان تمام احوال نے فارغینِ مدارس کے اندر بالعموم یاسیت، احساسِ کمتری، اخلاقی کمزوری، معاشرے سے دوری، غیر ضروری قیامِ مدارس اور مدارس کے صحن میں چندے کا کرپشن اور رشوت کی گرم بازاری جیسے مذہبی، ایمانی اور اخلاقی امراض پیدا کر دیے ہیں۔
۷۔ دینی مدارس کے فارغین کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج دعوتی اور تبلیغی راہ میں در پیش ہوتا ہے۔ چوں کہ وہ جدید سائنسی و سماجی علوم کی مبادیات سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لیے عام تعلیم یافتہ طبقہ کے ساتھ ان کی زبان و اصطلاحات میں communicate کرنا ان کے لیے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔ گویا یہ ایسے وارثینِ انبیا ہیں جو اپنی قوم کی زبان و اصطلاح و عرف سے واقف ہی نہیں ہیں۔ اس سیاق میں بعض فارغینِ مدارس کا اپنی ذاتی کوششوں کی بنیاد پر اپنے اندر علمی رابطہ (academic communication) کی صلاحیت پیدا کر لینا استثنائی ہے، جسے مدارس کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
۸۔ اسی طرح یہ صورتِ حال بھی کرب انگیز ہے کہ موجودہ مدارس مسلکی اور فقہی جدلیات کے متعصب ماہرین تو پیدا کر رہے ہیں، لیکن ان کے اندر جدید علم الکلام کا ذوق پیدا نہیں کرتے جو عہدِ جدید اور علومِ جدیدہ کا زائیدہ ہے اور جس کی زد میں محض اسلامی عقائد ہی نہیں، بلکہ اسلامی احکام، علوم، شخصیات، واقعات اور تاریخ و فلسفہ سب کچھ ہیں۔
۹۔ آزادی کے بعد سیکولر ہندوستان کی مختلف ریاستوں نے مدارس کو گرانٹ دیے، اس سے علما کی ایک بڑی تعداد فارغ البال ہوئی، اگرچہ اس کے نتیجے میں مذہبی طبقے میں کرپشن اور تعلیمی میدان میں زوال کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ لیکن اب مشکل یہ آن پڑی ہے کہ مدارس حکومت کی نظر میں کھٹکنے لگے ہیں اور مستقبل میں حکومتی نوازشات کے دروازے بھی اب بند ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں مدارس کے خلاف جو ماحول بنتا جا رہا ہے، اس سے یہ خیال مزید مستحکم ہوتا ہے۔
۱۰۔ استعماری عہد میں جو نئے مدارس معرضِ وجود میں آئے، ان کی بنیاد عوامی چندہ پر تھی۔ علما نے رہ نمائی کی کہ ’’مدارس زکات کے بہترین مصارف ہیں۔‘‘ اس کے نتیجے میں مسلم اہلِ ثروت نے مدارس کی طرف اپنی عطیات کے دہانے کھول دیے۔ لیکن اب صورتِ حال بدل رہی ہے۔ مدارس کے حوالے سے عام مسلمان کے حسنِ ظن میں کمی آئی ہے، جس کی وجہ مدارس کے تعلیمی معیار کی گراوٹ اور مدارس انتظامیہ کا مشکوک کردار ہے۔ مسلم اہلِ ثروت اب اپنی زکات و عطیات کو مدارس کے بجائے دیگر تعلیمی و رفاہی مصارف پر خرچ کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ یہ صورتِ حال مدارس کی اقتصادیات کے حوالے سے نئی مشکلات کا اشاریہ ہے۔
راہِ عمل
مدارس کے نصاب و نظام میں اب تک جو کچھ اصلاحات ہوئی ہیں، وہ سب کی سب جزوی نوعیت کی ہیں، ان سے وقتی طور پر مدارس کے درد کو دبانے کی کوشش کی جاتی رہی، لیکن ظاہر ہے کہ وہ اس درد کا درماں نہیں ہیں۔ ان سے نئے عہد کے سیلاب کے سامنے کوئی مضبوط بند نہیں باندھا جا سکتا، جس کی موجیں مسلم شناخت اور ثقافت کو غرقاب کر دینے کی درپے ہیں۔ یہاں سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ سماج کا فعال حصہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ مدرسی نصابِ تعلیم بنیادی اعتبار سے جدید تعلیم سے ہم آہنگ ہو۔ زمینی صورتِ حال جزوی نہیں، بعض بنیادی اور کلیدی اصلاحات کی متقاضی ہے۔ یہاں اس سلسلے کی چند ابتدائی باتیں ذکر کی جاتی ہیں، جن میں غور و خوض کے ذریعے مزید نکات سامنے لائے جا سکتے ہیں۔
۱۔ سب سے پہلے اہلِ مدارس اور مذہبی اشرافیہ کو اپنا تعلیمی تصور اور ورلڈ ویو واضح کرنا چاہیے۔ اس کے لیے جدید تصورِ تعلیم سے استفادے میں انہیں عار محسوس نہیں کرنا چاہیے، جس کے مطابق دسویں تک کی تعلیم ہر طالب علم کے لیے یکساں ہونی چاہیے، علمی و فنی تخصصات کا مرحلہ اس کے بعد آتا ہے۔ اور خدا نخواستہ اس میں انہیں کسی قسم کا عار محسوس ہو تو اپنی فکر کو قدیم مسلم روایت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے، جس کے مطابق تفسیر و حدیث ہی نہیں، طب و صحت اور صنعت و حرفت کے علوم بھی فرضِ کفایہ تھے اور جس کے زیرِ اثر مسلمانوں نے نہ صرف عقلی انسانی علوم کا احیا کیا بلکہ ان کی روشنی میں فہمِ کتاب و سنت کے لیے اصولی علوم بھی وضع کیے۔ مسلمانوں نے اسلامی علوم کی تدوین و تشکیل کے ساتھ مختلف سائنسی علوم کی آبیاری کی جس میں جدید علمِ سائنس کی بنیادیں پیوست ہیں۔
۲۔ مسلمانوں کے سامنے جو دینی تعلیمی چیلنج ہے، اس کا جواب مسلمان اپنے روایتی مدارس کے روایتی نصاب و نظام سے حاصل نہیں کر سکتے، نہ دیگر سرکاری یا پرائیوٹ اسکولوں میں ان کی اس ضرورت کی تکمیل ممکن ہے۔ اس لیے انہیں روایتی مدارس کی نئی تشکیل کرنی ہوگی، یا از سرِ نو جدید مدارس کی تعمیر کرنی ہوگی۔ انہیں جدید مدارس کا ایک ایسا نیٹ ورک قائم کرنا ہوگا، جہاں دسویں تک یا علی الاقل آٹھویں تک وہ معاصر نصاب ہو جو اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے، ساتھ ہی عربی، اردو، ہندی اور فارسی زبانوں کے ساتھ دینیات کا اضافی سبجیکٹ ہو جو دسویں درجے کی سطح کے مطابق ان کی دینی و اخلاقی تربیت پر مشتمل ہو۔ دینیات میں تخصص کا مرحلہ آٹھویں یا دسویں کے بعد آئے۔ دسویں کے بعد ہی طلبہ اپنے ذوق و شوق کے مطابق آرٹ یا سائنس کا انتخاب کرتے ہیں، اب آرٹ انتخاب کرنے والے طلبہ کے سامنے ایک سبجیکٹ دینیات کا بھی ہو جسے پڑھ کر وہ دینی رہ نما اور اسلامی اسکالر بن سکیں۔ آج ایسا بہت ہوتا ہے کہ دینیات پڑھنے والے دینی ذوق و شوق سے محروم ہوتے ہیں، ان کے پاس چوں کہ دوسرا آپشن نہیں ہوتا، اس لیے دینیات کی تعلیم ان کی مجبوری ہوتی ہے۔ اسی طرح اسکول میں زیرِ تعلیم طلبہ کے اندر سنِ شعور میں پہنچنے کے بعد جب دینی ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے اور وہ دینیات پڑھنا چاہتے ہیں تو مدارس کے نصاب سے کلی طور پر غیر مانوس ہونے کی وجہ سے اب پھر سے دینیات کے ابتدائی درجات میں داخلہ لینا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے ان میں سے بہت کم ہی ہمت جٹا پاتے ہیں اور جو ہمت جٹاتے بھی ہیں انہیں وقت اور مال کا بڑا ضیاع برداشت کرنا پڑتا ہے۔
۳۔ آٹھویں یا دسویں جماعت کے بعد جو خالص دینیات کا نصاب تشکیل دیا جائے (۷)، اس میں ’’جامعیت‘‘ کو ملحوظ رکھا جائے۔ جامعیت سے ہماری مراد یہ ہے کہ:
الف۔ اس نصاب کو جدید تعلیمی پالیسی اور حکمتِ عملی سے حتی الوسع ہم آہنگ رکھا جائے۔
ب۔ اس کی تشکیل کے وقت ملک و بیرونِ ملک کے دینی مدارس و جامعات کے نصاب کو سامنے رکھا جائے۔
ج۔ اسے عقلی، نقلی، روایتی اور جدید علوم و معارف کا جامع بنایا جائے، جو زبان و ادب، فکر و فلسفہ، سماجیات، فقہ و فتاویٰ، علم الکلام، فنونِ حدیث، اخلاق و تصوف، تاریخ و سیرت اور بحث و مکالمہ کے قدیم و جدید مباحث پر مشتمل ہو۔
د۔ سنسکرت کی مبادیات کے ساتھ عربی اور انگریزی زبان و ادب کی تعلیم پر خاص زور دیا جائے۔ دعوتی نقطۂ نظر سے ہندی اور مقامی زبانوں کو بھی حسبِ امکان و ضرورت اپنے نصاب میں جگہ دیں، آپشنل ہی سہی۔
ھ۔ تدبرِ قرآن، فہمِ حدیث، اجتہادِ مسائل اور اسلاف کی شخصیت و کردار اور اصولوں کے احترام و اتباع پر زور ہو۔ ساتھ ہی تنقیدی و علمی شعور کو پروان چڑھایا جائے، جو تقلیدِ محضیت اور اسلاف بیزاری کی روش سے پاک ہو۔
و۔ NIOS یا دیگر حکومتی بورڈ سے تمام طلبہ ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان دیں اور اسناد حاصل کریں۔
ز۔ عالمیت/بارہویں کی تکمیل کے بعد طلبۂ مدارس کے سامنے کم از کم تین آپشن کھلے ہوں۔ دینیات کی اعلیٰ تعلیم (بی اے کے مساوی) اسی مدرسے کے کلیۂ اصول الدین سے، جو کم از کم تین سالہ ہو، یا اس کے لیے عرب جامعات، یا پھر عصری جامعات کے دروازے کھلے ہوں۔
ح۔ گریجویشن کے بعد ایم اے یا اَیڈوانس ڈپلوما کے طور پر تخصصات کے مختلف کورسیز متعارف کرائے جائیں، جیسا کہ اس کا نظم عام طور سے بڑے مدارس کے اندر موجود ہے، اس میں اصلاح و ترمیم کی بس اتنی ضرورت ہے کہ اس کی منہجیت سے گروہی عصبیت کو خارج کر کے اس میں علمی تنقیدی شعور پروان چڑھانے کی کوشش کی جائے۔
۴۔ نصاب کی یہ تبدیلی، لازمی طور پر نظام کی تبدیلی کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ مذکورہ بالا نصاب کو کسی بھی روایتی مدرسے میں یکایک شروع کر دیا جائے، بلکہ اس کے لیے مسلمانوں کو ثنویت پسندانہ نصابِ تعلیم کے ساتھ ثنویت پسندانہ نظامِ تعلیم سے بھی شعوری طور پر نکلنا ہوگا اور رفتہ رفتہ ایسا تعلیمی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا جس میں نہ صرف یہ کہ مذکورہ بالا نصاب رائج ہو سکے بلکہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ یہ وحدت پسندانہ نظام رفتہ رفتہ روایتی مدارس کی جگہ لے سکے، جہاں تعلیم گاہ سو فیصد عطیات و صدقات پر قائم نہ ہو، اس کا نظم جاہل اور بے شعور لوگوں کے ہاتھ میں نہ ہو، بلکہ پوری تعلیم مناسب فیس کے ساتھ ہو، البتہ جو طلبہ معاشی تنگی کے سبب خود اپنی تعلیمی ضروریات کے بندو بست سے قاصر ہوں، ان کے لیے مفت تعلیم کی سیٹیں مختص ہوں۔ اندرونی نظام جدید طرز کا صاف و شفاف ہو، کلاس روم، بیڈروم، ڈائننگ ہال وغیرہ up to date ہوں، مثلاً اسمارٹ بورڈ، میز کرسی، بنچ، تخت وغیرہ کا اہتمام ہو، نظم و نسق اور سہولیات ایسی ہوں جو امیر و غریب ہر طرح کے طلبہ کے لیے باعثِ کشش ہوں۔ واضح رہے کہ یہ باتیں بڑے مدارس کے تناظر میں کہی جا رہی ہیں۔
۵۔ نصاب و نظام میں اس کلیدی تبدیلی سے قبل یہ ضروری ہوگا کہ روایتی مدارس ممکنہ حد تک خود کو جدید صالح اور قدیم نافع کے پیکر میں ڈھالیں اور اپنے طلبہ کی دعوتی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ان میں سے ایک بڑی تعداد کو عصری اور عربی جامعات تک بھیجنے کا بندو بست کریں۔ ماضی میں یہ کام بڑی حد تک ہوا بھی ہے لیکن ابھی اس سمت میں مزید خوش نظمی اور پیش قدمی کی ضرورت ہے۔ عصری جامعات میں پہنچ کر فارغینِ مدارس کے اندر روایت سے بغاوت کے جراثیم پیدا ہونے کی کئی وجوہات ہیں، مثلاً:
الف۔ مدرسے کے اندر علم و فکر کا محدود اور متعصبانہ رجحان۔
ب۔ دین کے بجائے مسلک پر زور اور دوسرے مسالک کے تعلق سے غیر علمی متعصبانہ طرزِ فکر۔
ج۔ اسلام پر ہونے والے نوع بنوع اعتراضات کو مدارس میں زیرِ بحث نہ لایا جانا۔
د۔ عصری جامعات کے تعلق سے ایک عمومی منفی نقطۂ نظر۔
ھ۔ اس بات کا عدم اہتمام کہ طلبہ کو بتایا جائے کہ اسلامی فکر کی عصری تفہیم و تشریح کے لیے کون سے جدید علوم اہم ہیں اور محض معاش کی بہتری کے لیے ان میں سے کون سے نسبتاً زیادہ موزوں ہیں۔
مدرسے میں رہتے ہوئے اگر ان امور کو سامنے رکھ کر طلبہ کی پیشگی ذہن سازی اور تربیت کر دی جائے تو بعد میں ان سے فکر و تشخص کی تبدیلی کے حوالے سے شکایت کے امکانات بہت کم رہ جائیں گے۔
۶۔ مدارس کے اساتذہ اور مساجد کے ائمہ کی تنخواہیں اتنی کم ہوتی ہیں جن سے ایک متوسط گزارا ممکن نہیں ہوتا۔ اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ معاشی تنگی کے خوف سے اب مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت کم ہونے لگی ہے، اگر اس جانب خصوصی توجہ نہیں دی گئی، تو مستقبلِ قریب میں دینی امور کی انجام دہی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہو سکتا ہے۔ اس جانب اربابِ ثروت، منتظمینِ مدارس، خطبا و واعظین اور دیگر اربابِ بست و کشاد کو خاص توجہ دینی ہوگی۔
۷۔ اس کے ساتھ علما و فضلا کو ہمیشہ یہ نکتہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ دینی دعوت و اصلاح کا منصب پیغمبرانہ منصب ہے، جس کا اصل سرمایہ ایمان، توکل، صبر اور حلم ہے۔ ہزار فکر و تدبیر کے بعد بھی انہیں ان بنیادی اقدار کا حامل ہونا ہی پڑے گا، بصورتِ دیگر انہیں اس پیغمبرانہ مشن سے دست بردار ہو جانا چاہیے۔
۸۔ فارغینِ مدارس کی معاشی فارغ البالی کے لیے مدارس انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ مدارس کے اندر یا مدارس سے ملحق اداروں میں پیشہ ورانہ تعلیم و حرفت کا بندو بست کریں، تاکہ جو طلبہ تصنیف و تالیف، تحقیق و تدریس اور خطیبانہ مہارت پیدا نہ کر سکیں اور جنہیں مناسب تعلیم و تبلیغ کے مواقع حاصل نہ ہو سکیں، وہ اس پیشہ ورانہ تعلیم و حرفت کے ذریعے اپنی معاشی ضرورتوں کی تکمیل کر سکیں۔
۹۔ مدارس کے خلاف مختلف ریاستوں میں آئے دن کے دار و گیر کو روکنے کے لیے ایک بڑا ممکنہ ذریعہ قومی مدرسہ بورڈ کی تشکیل ہے۔ ۲۰۰۹ء میں حکومتِ ہند اس طرح کے ایک مرکزی مدرسہ بورڈ کی تشکیل کے لیے آمادہ تھی۔ اگر وہ بورڈ بن جاتا تو اس کے توسط سے پورے ملک کے مدارس کے تحفظ، ان کی جدید کاری، یکساں نصاب و نظام کے قیام کی کوشش اور قومی سطح پر ان کی اسناد کی منظوری کا مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔ لیکن چوں کہ علماے دین پر تجدید کاری سے یوں ہی خوف سا طاری رہتا ہے، حکومت کی نیتوں کا فساد اس پر مستزاد، چنانچہ علماے دیوبند نے اس حکومتی تجویز کو شدت سے مسترد کر دیا، جب کہ ہماری نظر میں حکومت کا یہ مناسب فیصلہ تھا۔ ہمیں مستقبل میں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے اور ایسی کسی بھی تجویز کو اپنی شرائط کے ساتھ منظور کرنا چاہیے، گو کہ اب اس کے امکانات کم ہی رہ گئے ہیں۔
۱۰۔ موجودہ مدارس عموماً عوامی چندے پر انحصار کرتے ہیں۔ اب بڑے مدارس کو اس کے لیے آمدنی کے مستقل ذرائع تلاش کرنے چاہیے، تاکہ کسی سال چندہ کم ہو جائے تو ان کا نظام متاثر ہوئے بغیر آگے بڑھ سکے۔ یہ ایک مستقل موضوع ہے، جس کی تفصیل یہاں ممکن نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام
استعماری عہد میں عالمِ بے سروسامانی میں علما نے مدرسے کا ایک نیا ماڈل شروع کیا، جو تعلیمی ثنویت کے ساتھ اپنی دیگر جزوی خامیوں کے باوصف مجموعی طور سے روایتی علومِ اسلامی کے تحفظ کا سامان بن گیا۔ اب علما کے سامنے ایک بار پھر بڑا چیلنج ہے کہ وہ ابتدائی سطح پر تعلیمی وحدت کے قیام کے ساتھ دینیات کی تعلیم کو دسویں کے بعد فنی تخصص پر استوار کریں۔ یہ ایسا نظامِ تعلیم ہو جو روایتی علومِ اسلامی میں مہارت اور نئے فقہی و کلامی سوالات کا جواب فراہم کرے اور فارغینِ مدارس کو نظری طور پر مین اسٹریم معاشرے کا فعال فرد بنائے اور معاشی طور پر ایک متوسط فارغ البالی عطا کرے۔ جدید عہد کا یہ بڑا چیلنج ہے، جس کا جواب اس وقت تک فراہم نہیں کیا جا سکتا، جب تک کہ دسویں جماعت سے پہلے اسکولنگ کا نیا فریم ورک تیار نہیں کیا جاتا، جس کی تکمیل کے بعد ہی دینیات کی اعلیٰ تعلیم کا باضابطہ آغاز ہو۔
مصادر و مراجع
-
ابو حامد الغزالی، إحياء علوم الدين، بیروت، دار المعرفة
-
مرتضیٰ الزبیدی، إتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين، بیروت، دار الكتب العلمية
-
ابن تیمیہ الحرّانی، مجموع الفتاوی، السعودیة، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، ١٤٢٥ هـ
-
سید محبوب رضوی، تاریخ دارالعلوم دیوبند، دہلی، مجلسِ شوریٰ دارالعلوم دیوبند
-
احمد جاوید، مدارسِ اسلامیہ اور نصابِ تعلیم، دہلی، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، ۲۰۲۵ء
-
Ibrahim Moosa, What is a Madrasa? Edinburgh University Press, 2007
-
Macaulay's Minute on Education, February 2, 183
تحریر- ذیشان احمد مصباحی
۱۔ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ [ التوبة: 111]
۲۔ ابو حامد الغزالی، إحياء علوم الدين، (ج 1)، بيروت، دار المعرفة، ص 17
۳۔ مرتضیٰ الزبیدی، إتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين، (ج 1)، بيروت، دار الكتب العلمية، ص 31
۴۔ ابن تیمیۃ الحرانی، مجموع الفتاوی، (جلد:۱۹)، السعودية، مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، ١٤٢٥ هـ ص،۲۳۲
۵۔ Macaulay's Minute on Education February 2, 1835
۶۔ دیکھیے: تاریخ دارالعلوم دیوبند: ۱/۱۶۹۔ ۱۷۳
۷۔ اس سلسلے میں جامعہ عارفیہ کے نئے نصاب کو بطور خاص پیش نظر رکھا جاسکتا ہے۔
Comments 0
Leave your comment