خانقاہِ عارفیہ: عرفانِ تصوف کا ایک معاصر گہوارہ
خانقاہ فارسی لفظ خان گاہ کا معرب ہے جس کا معنی ہے: سردار کے رہنے کی جگہ۔ عرف عام میں خانقاہ اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی صوفی اپنے نظام کے تحت ذکر و فکر اور عبادات کے ساتھ مریدین و متوسلین کی روحانی تربیت و تزکیہ کی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ اسلام میں سب سے پہلی خانقاہ ایک روایت کے مطابق خواجہ حبیب عجمی کے لیے دریا کنارے بصرہ میں نبی۔ دوسری روایت کے مطابق صوفی ابو ہاشم کے لیے ملک شام میں واقع رملہ کے جنگل میں بنی۔ (۱) پھر سنہ ۴۰۰ھ کے بعد سے مختلف امصار و اماکن میں خانقاہوں کی تعمیرات ہونے لگیں۔ ہندوستان میں صوفیہ کی آمد سے ہی خانقاہوں کی تعمیرات کی ابتدا ہوئی جہاں سے رشد و ہدایت، دعوت و تبلیغ اور ایصال مطلوب کا کام بڑے پیمانے پر ہوا اور آج بھی تعمیرات خانقاہ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ انیسویں صدی میں قائم ہونے والی خانقاہوں میں خانقاہ عارفیہ سید سراواں کا بھی شمار ہوتا ہے۔
سید سراواں: سید سراواں، یوپی کے ضلع کوشامبی کی تحصیل/ بلوک: چائل کا ایک تعلیم یافتہ اور خوش حال گاؤں ہے۔ یہ گاؤں ضلع ہیڈ کوارٹر کوشامبی منجھن پور سے ۲۴/ کیلومیٹر جانب مشرق، ضلع پریاگ راج سابق نام الہ آباد سے ۲۲/ کیلو میٹر جانب مغرب اور یوپی کی راج دھانی لکھنؤ سے ۱۹۳/ کیلومیٹر کی دوری پر پریاگ راج سے کانپور جانے والی نیشنل ہائی وے(جگہ: ۱۳/ میل) سے ڈیڑھ کیلو میٹر جانب شمال دہلی کولکاتا ریلوے لائن کے کنارے آباد ہے۔ یہاں سید سراواں نام سے ہی ایک چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن بھی ہے۔
اس گاؤں کی وجہ تسمیہ: ساتویں صدی کے معروف سہروردی بزرگ شعبان ملت سید علی مرتضی جھونسوی قدس سرہ (۶۶۰ھ- ۷۶۰ھ) کے بڑے داماد اور خلیفہ عارف ربانی سید محمد بن علی بن علاء حسینی سبزاواری معروف بہ میر سید محمد حقانی سبزاواری قدس سرہ([1]) (متوفی اواخر قرن ہشتم) نے موجودہ سید سراواں، پرگنہ چائل کو اپنا مسکن بنایا جو دیکھتے دیکھتے دعوت و تبلیغ کا مرکز بن گیا ۔ اللہ نے آپ کو ایسی مقبولیت بخشی کہ آپ کے وجود مسعود کی برکت سے یہ خطہ آپ ہی کی جانب منسوب ہو کر سید سراواں کہلایا۔ آپ کی ذات سے اس خطے کی تاریکی کو نور ایمان سے منور ہونے کا موقع ملا۔ اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کی چکی میں پستی انسانیت کو مساوات کا عملی درس ملا ۔ ٹوٹے اور شکستہ دلوں کو محبت ، عزت اور خدمت سے قریب ہونے اور جڑنے کا موقع ملا ۔ یہی وجہ ہے کہ چھ سو سالوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس خطے کے بسنے والے لوگوں کے دلوں میں آج بھی آپ کا بڑا مقام و مرتبہ ہے۔ چناں چہ لوگوں کا یہ عام مشاہدہ ہے کہ ہر جمعرات مسلمانوں کے بالمقابل غیر مسلم حضرات کثرت سے آپ کے مزار پر عقیدت و احترام کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ گزرتے زمانے کے ساتھ جب بعد کے ادوار میں دعوتی کام موقوف ہو گیا تو میر سید محمد حقانی سبزاواری قدس سرہ کے اسی مشنِ دعوت کے احیائے نو کے لیے سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی عرف شیخ امیر علی چشتی قدس سرہ نے تیرہویں صدی کے اواخر میں انھیں کے مزار پر انوار کے قریب خانقاہ قائم کی، جو آج خانقاہ عارفیہ سید سراواں کے نام سے عالَم میں مشہور ہے۔
بانیٔ خانقاہ عارفیہ: مخدوم شاہ عارف صفی عرف شیخ امیر علی چشتی قدس سرہ پرگنہ چائل ضلع کوشامبی کے مشہور عثمانی زمین دار گھرانے میں شیخ وارث علی عثمانی کے گھر ۱۲۷۸ھ/ ۱۸۶۱ء کے قریب پیدا ہوئے۔ آپ کے مورث اعلی شیخ بہاء الدین سالار غزنی کے رہنے والے تھے۔مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی کے مورث اعلیٰ فاتح کڑا سید قطب الدین محمد حسنی رحمہ اللہ (۶۶۷ھ) کے ساتھ بغرض جہاد ہندوستان تشریف لائے، قلعہ کڑا فتح کیا اور محی الدین پور چروا ضلع الہ آباد میں مقیم ہوئے۔ جملہ شیخ زادگانِ سید سراواں آپ ہی کی اولاد سے ہیں جن میں آپ کا گھرانا بھی شامل ہے۔ (۲)
تاریخ آئینۂ اودھ میں مولانا سید ابو الحسن مانک پوری نے شیخ بہاء الدین سالار غزنی کے محی الدین پور چروا کی بجاے سید سراواں ، پرگنہ چائل ہی میں اقامت گزینی کا قول کیا ہے ۔ (۳)
تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم گھر پر ہی ہوئی بقیہ تعلیم بھی سید سراواں کے مقتدر علما خصوصاً مولانا سید ابو میاں اور مولانا منظور حسین رحمہما اللہ سے پائی اور ۱۶/ سال کی عمر میں رسمی علوم کی تکمیل سے فارغ ہو گئے۔
بیعت و خلافت: تعلیم سے فراغت کے بعد آپ کے والد بزرگوار آپ کو زمین داری میں لگانا چاہتے تھے۔ لیکن، آپ کا دل کسی طور اس کی طرف مائل نہ ہوا اور آپ نے ملازمت کو ترجیح دی۔ چناں چہ آپ محکمۂ پرمٹ سے ملحق ہو کر ضلع بارہ بنکی میں تعینات ہو گئے۔ آپ بچپن سے ہی خدا ترس، دین دار اور پاک باطن تھے۔ چناں چہ دوران ملازمت معروف بزرگ حضرت حاجی وارث علی شاہ قدس سرہ- جن کا مزار دیوا شریف میں ہے- کی خدمت میں مرید ہونے کے لیے حاضر ہوئے۔ پھر ، حضرت وارث علی شاہ قدس سرہ ہی کے حکم سے قطب العالم واقف سرِّ قل ھو اللہ شاہ عبد الغفور محمدی صفوی([2]) (۱۳۲۵ھ) کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور ان سے روحانی تعلیم و تلقین حاصل کرنے لگے۔ تکمیل سلوک کے بعد انھیں سے ۱۱/ رمضان المبارک ۱۲۹۸ھ کو خلافت و اجازت پائی اور ’’شاہ عارف صفی‘‘ کے لقب سے سرفراز کیے گئے ۔ اس وقت آپ کی عمر صرف بیس سال تھی۔
وطن واپسی: خلافت سے پہلے ہی آپ نے ملازت ترک کر دی تھی، چناں چہ بعد خلافت مرشد برحق نے اجودھیا کی ایک مسجد میں متوکلاً علی اللہ اقامت گزیں ہونے کا حکم دیا جہاں پہنچ کر آپ ریاضت و مجاہدہ میں مشغول ہو گئے۔ ادھر والدین کریمین کو آپ کی جدائی گراں گزر رہی تھی ۔ چناں چہ والدہ ماجدہ کی خصوصی درخواست پر مرشد برحق نے آپ کو ایودھیا سے وطن عزیز سید سراواں لوٹنے کی اجازت مرحمت فرما دی، لیکن گھر کی بجائے سید سراواں میں موجود سید السادات میر سید محمد حقانی قدس سرہ کے مزار کے پاس رہنے اور دن میں صرف ایک دفعہ والدہ کی زیارت کے لیے گھر جانے کا حکم دیا۔ آپ پیر و مرشد کے حکم پر سید سراواں لوٹ آئے اور میر سید حقانی قدس سرہ کے مزار سے متصل املی کے درخت کے سایہ میں ایک کٹیا بنا کر سالہا سال کے لیے ریاضت و مجاہدے میں مشغول ہو گئے ۔ رفتہ رفتہ جب طالبین کی تعداد بڑھنے لگی تو آپ نے تیرہویں صدی کے اواخر میں خانقاہ([3]) قائم کی اور کثیر خلق خدا کو اپنی روحانیت سے فیض یاب کیا۔
تصانیف: سالکین و طالبین کی تعلیم و تربیت کے ساتھ قلم و قرطاس سے بھی آپ کا تعلق رہا ۔ چناں چہ گنجینۂ اسرار (فارسی)، مرآت الاسرار (اردو)، مثنوی معرفت(فارسی)، دیوان فارسی، دیوان اردو اور دیوان ہندی جیسی تصنیفات آپ کی یادگار ہیں۔ (۴)
خلفا و مجازین: آپ نے متعدد افراد کو خلافت و اجازت سے سرفراز کیا جن میں چند مشاہیر کے اسما یہ ہیں:
۱۔ حضرت مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی عرف شاہ نیاز احمد عثمانی (خلف اکبر و سجادہ نشین اول)
۲۔ حضرت شاہ ظہور اللہ محمدی عرف سید عبد اللطیف، پرخاص کوشامبی
۳۔ حضرت شاہ نعمت اللہ محمدی عرف مولانا سید محمد امین بخاری، کولکاتا
۴۔ حضرت شاہ علیم اللہ محمدی عرف عبد العلی، نیم سرائے ، الہ آباد
۵۔ حضرت شاہ نعیم اللہ محمدی عرف خان بہادر حافظ محی الدین صدیقی، لکھنؤ
۶۔ حضرت شاہ مظہر اللہ محمدی عرف سید اولادِ حسین، بھوپال
۷۔ حضرت شاہ حلیم اللہ محمدی عرف مولوی عبد الرحمن، چک ہدایت اللہ، الہ آباد
۸۔ حضرت شاہ حجت اللہ صفوی عرف سید رحمت علی، بھانے مئو
۹۔ حضرت شاہ بشیر اللہ صفوی عرف بشیر الدین ، چھیتے مئو
۱۰۔ حضرت شاہ جماعت علی افغانی، نئی گڑھی ، ایم پی
۱۱۔ حضرت شاہ محمد شفیع
وصال: سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ کا وصال ۱۸/ ذو قعدہ ۱۳۲۰ھ مطابق ۱۷/ فروری ۱۹۰۳ء سہ شنبہ کے دن بوقت صبح صادق ہوا۔ آپ کا وصال آپ کے پیر و مرشد کی حیات ہی میں ہوا جس پر انھوں نے پردرد آہ کے ساتھ فرمایا: ’’آج میری کمر ٹوٹ گئی‘‘۔ آپ کے حسب منشا آپ کے معالج مشہور طبیب مولانا حکیم سید مسیح الدین قادری نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ سید سراواں میں قائم شدہ اپنی خانقاہ میں آسودۂ خاک ہوئے۔
اولاد: آپ کے دو صاحب زارے اور تین صاحب زادیاں ہوئیں۔
خلفا کے احوال
مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی: مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی عرف شاہ نیاز احمد عثمانی کی ولادت ۲۸/ رمضان المبارک ۱۳۰۵ھ – ۹/ جون ۱۸۸۸ء کو سید سراواں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والد بزرگوار سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ سے پائی اور انھیں سے بیعت و خلافت کا شرف پایا اور ان کے جانشین اول قرار پائے۔ اس وقت آپ کی عمر ۱۵/ سال تھی۔ والد بزرگوار کے وصال کے بعد اعلی تعلیم لکھنؤ سے حاصل کی۔ لکھنؤ سے دوران تعلیم ہمیشہ اپنے جد طریقت صاحب سرِ قل ھو اللہ شاہ عبد الغفور ب محمدی قدس سرہ سے روحانی تربیت بھی پاتے رہے اور خط و کتابت کے ذریعہ برابر رابطہ جاری رہا۔ جد طریقت کے وصال کے بعد لکھنؤ سے سید سراواں واپس ہوئے اور خانقاہ نشیں ہو گئے۔ ان زمانوں میں جد طریقت کے صاحب زادگان حضرت شاہ مشہود صفی، حضرت شاہ محراب صفی اور حضرت شاہ شمشاد صفی قدست اسرارہم سے بھی باطنی استفادہ جاری رہا۔ آپ کے زہد و تقوی اور مقام رفیع کا یہ عالم تھا کہ اکابر سلسلہ آپ کو اپنے سلسلہ کا ’’شیر نر‘‘ کہا کرتے تھے۔
آپ کی دو شادیاں تھیں۔ ایک بسیڑھی، الہ آباد میں جن سے شاہ نہال عارف عرف حکیم آفاق احمد قدس سرہ (والد بزرگوار صاحب سجادہ حضور داعی اسلام دام ظلہ) کا ظہور ہوا۔ دوسری بھرگواں ، ریواں ، ایم پی میں جن سے تین صاحب زادے: حضرت شاہ صابر حسین (۱۹۸۲ء- مدفون کراچی)، حضرت شاہ الہام صفی محمدی عرف شیخ امتیاز احمد (۲۰۱۱ء- مدفون کراچی) اور حضرت انیس احمد عثمانی دام ظلہ اور ایک صاحب زادی مسمیٰ نعمت النساء بی بی کی ولادت ہوئی۔ ۱۹۵۰ء میں آپ مع اہل و عیال پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن، ۱۹۵۴ء میں جب ہندوستان آئے تو واپس جانے کی بجاے ویزے کی مدت بڑھواتے رہے ۔ آخر کار ۲۸/ شعبان ۱۳۷۴ھ مطابق ۲۲/ اپریل ۱۹۵۵ء کی صبح آپ کا وصال ہوا۔ نماز جنازہ کے بعد خانقاہ عارفیہ کے احاطہ ہی میں مرشد گرامی کے قدموں میں مدفون ہوئے۔ آپ کے بعد آپ کے برادر خورد مخدوم شاہ احمد صفی قدس سرہ جانشین ہوئے اور ان کے بعد اس وقت آپ کے نبیرہ داعی اسلام شیخ ابو سعید صفوی ابن مخدوم شاہ حکیم آفاق احمد قدس سرہ مسند ارشاد کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی ادا فرما رہے ہیں۔
آپ کے خلفا میں برادر خورد و جانشین مخدوم شاہ احمد صفی ، حضرت رجال اللہ شاہ صفوی ، حضرت شاہ محمد صفی، حضرت شاہ مسعود صفوی، حضرت شاہ قرآن صفی، حضرت شاہ عزیز صفی، حضرت شاہ ممتاز صفی، حضرت شاہ احسان صفی، حضرت شاہ عظمت صفی، حضرت شاہ طہ صفی، حضرت شاہ امام صفی، حضرت شاہ مصطفی صفی، حضرت شاہ مجتبی صفی اور حضرت شاہ حامد صفی شامل ہیں۔(۵)
مخدوم شاہ ظہور اللہ محمدی: مخدوم شاہ ظہور اللہ محمدی عرف سید عبد اللطیف کی ولادت اَسراوے خورد، الہ آباد میں سید منور علی کے گھر تقریباً ۱۲۷۸ھ میں ہوئی۔ وہیں ابتدائی تعلیم دینیات کے ساتھ مڈل اسکول تک پائی ۔ بعد بیعت مرشد گرامی سلطان العارفین قدس سرہ کے حکم سے دینی تعلیم سے بھی خوب مستفید ہوئے۔ ۱۴/ شوال ۱۳۰۶ھ مطابق ۱۳/ جون ۱۸۸۹ء کو پیر و مرشد نے خلافت و اجازت دے کر پُرخاص، کوشامبی کی ولایت عطا فرمائی، جہاں مخلوق خدا کے رشد و ہدایت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے ۲۴/ جمادی الثانی ۱۳۶۴ھ مطابق ۶/ جون ۱۹۴۵ء کو آپ کا وصال ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔
آپ کے خلفا میں حضرت سید اختر حسین، حضرت منظور صفی، حضرت حیدر صفی، حضرت محمود صفی، حضرت برحق صفی، حضرت اسرار صفی، حضرت برکت صفی اور حضرت مستان شاہ احرام پوش شامل ہیں۔ (۶)
مخدوم شاہ نعمت اللہ محمدی: مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الدین بخاری قدس سرہ کی نسل سے مخدوم شاہ نعمت اللہ محمدی عرف مولانا سید محمد امین بخاری ابن سید عثمان علی ابن سید بشارت علی کی ولادت مخدوم پور، الہ آباد میں ہوئی۔ آپ نے دینی و دنیوی دونوں تعلیم پائی تھی۔ ابتداءاً انتظامی امور کے محکمے میں ملازمت کی، پھر محکمہ پولیس ، اٹاوہ اور فرخ آباد میں ۱۲/ ۱۴ سالوں تک تعینات رہے اور ایک سال گورکھپور میں بھی ملازم رہے۔ اس کے بعد اجمیر، ممبئی عدن ہوتے ہوئے حرمین شریفین پہنچے۔ حج کا فریضہ انجام دیا اور وہیں مکۃ المکرمہ ۵/ سالوں تک مقیم رہے۔ ہندوستان لوٹنے کے بعد چار سال کانپور میں رہے اور وہیں سلطان العارفین کا شہرہ سنا ۔ سید سراواں حاضر ہوئے ، لیکن اظہار تمنا کے باوجود فوراً بیعت سے مشرف نہیں کیا گیا۔ کچھ دنوں بعد ۲۱/ ربیع الثانی ۱۳۱۶ھ مطابق ۷/ ستمبر ۱۸۹۸ء کو سلطان العارفین قدس سرہ سے بیعت ہوئے اور دو سالوں کے بعد اسی تاریخ میں یعنی: ۲۱/ ربیع الثانی ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۶/ اگست ۱۹۰۰ء کو خلافت و اجازت کے ساتھ ’’نعمت اللہ شاہ‘‘ کے لقب سے سرفراز کیے گئے۔
خلافت پانے کے بعد مرشد گرامی کے حکم سے پہلے محلہ اٹالہ، الہ آباد ، پھر موضع شیرگڑھ ، الہ آباد میں رشد و ہدایت پر معمور ہوئے۔ شیرگڑھ ، الہ آباد میں خانقاہ اور مسجد کی تعمیر بھی کروائی۔ لیکن، اخیر وقت میں باطنی اشارہ پا کر کولکاتا تشریف لے گئے اور پندرہ ہی دنوں بعد ۲۲/ جمادی الثانی ۱۳۶۰ھ مطابق ۲۸/ جون ۱۹۴۰ء کو آپ کا وصال ہو گیا۔ برجونالہ، مٹیابرج، کولکاتا میں آپ کی آخری آرام گاہ ہے۔ آپ کے بعد آپ کے صاحب زادہ سید شاہ جمال عارف قدس سرہ جانشین ہوئے۔ ان کے بعد آپ کے خلیفہ حضرت شاہ علیم صفی عرف بابو عبد الشکور آپ کی خانقاہ : خانقاہ نعمتیہ مٹیابرج کے جانشین ہوئے اور اس وقت اِنھیں کے نواسے برادر طریقت جناب غلام دستگیر میاں صاحب (خلیفۂ داعی اسلام دام ظلہ) سجادہ نشین ہیں۔
مخدوم شاہ نعمت اللہ محمدی کے خلفا میں حضرت سید شاہ جمال عارف صفوی (صاحب زادہ و جانشین اول) ، حضرت شاہ علیم صفی عرف بابو عبد الشکور (جانیشن دوم)، حضرت شاہ قتیل عارف عرف بکو میاں، حضرت شاہ سلیم صفی، حضرت شاہ محمد یعقوب خان صفوی، حضرت شاہ محمد صفی، حضرت شاہ سالار بخش صفیر، حضرت شاہ گجراج خان صفوی، حضرت شاہ محرم صفی، حضرت شاہ وزیر علی اور حضرت شاہ ابدال عارف منشی عبد العزیز شامل ہیں۔
بیعت و ارشاد کے ساتھ آپ تصنیف و تالیف کا ذوق بھی رکھتے تھے۔ چناں چہ سراج المعرفت، شرح مثنوی معنوی اور دیوان نعمت جیسی کتابیں آپ ہی کی یادگار ہیں۔ (۷)
مخدوم شاہ علیم اللہ محمدی: مخدوم شاہ علیم اللہ محمدی عرف عبد العلی ابن عبد الرشید ابن ثابت علی([4]) کی ولادت ۲۴/ ربیع الاول ۱۲۸۴ھ مطابق ۲۷/ جولائی ۱۸۶۷ء کو موضع بہکا، الہ آباد میں ہوئی۔ مولانا حکیم حسام الدین الہ آبادی سے تعلیم و تربیت پائی ۔ جب اردو و فارسی میں خاص دسترس ہو گئی تو عربی کی تعلیم شروع کی، لیکن والد گرامی کے وصال کی وجہ سے تعلیم منقطع کرنی پڑی۔ گھریو ذمہ داریوں کی وجہ سے طلب معاش میں گوالیار پہنچے اور سرکاری محکمہ میں اردو اسامی کے طور پر ملازم ہوئے۔ ملازمتِ گوالیار کے زمانے ہی میں سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہ نے عالم معاملہ میں ولی کامل کے طور پر صاحبِ سرِّ قل ھو اللہ شاہ عبد الغفور قدس سرہ بارہ بنکی سے مستفیض ہونے کا اشارہ فرمایا۔ جس کی تعبیر سلطان العارفین قدس سرہ کی صورت میں ظاہر ہوئی اور آپ حضرت سلطان العارفین قدس سرہ سید سراواں سے مرید ہو گئے اور تکمیل سلوک کے بعد ۲۲/ ذی قعدہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۸۸۳ء میں اِنھیں سے خلافت و اجازت بھی پائی۔
مرشد برحق کے وصال کے بعد مولانا عبد الشکور الہ آبادی اور چند دیگر حضرات کی شراکت سےاپنی سسرال موضع نیم سرائے الہ آباد میں ایک چونے کا کارخانہ خریدا ۔ ۱۹۰۸ء تک سارے شراکت دار ایک ایک کر کے اپنا حصہ لے کر الگ ہو گئے اور آپ تنہا اس کارخانے کے مالک ہو گئے۔ آپ کا وصال ۲۴ نیم سرائے میں / رجب ۱۳۴۹ھ مطابق ۱۵/ دسمبر ۱۹۳۰ء کی شب میں ہوا۔تدفین کا انتظام مخدوم زادہ مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی قدس سرہ نے خانقاہ عارفیہ سید سراواں میں کروایا، لیکن آپ کی بہو کی درخواست پر نیم سرائے ہی میں تدفین کی اجازت مرحمت فرما دی ۔ اس طرح نیم سرائے میں مکان کا سامنے والا باغ آپ کا آخری آرام گاہ قرار پایا۔
آپ نے صرف اپنے صاحب زادے حضرت شاہ مزمل صفی عرف مشتاق احمد قدس سرہ (۱۸۹۸ء-۱۹۴۷ء) کو خلافت و اجازت دی تھی، جو آپ سے نسبت بیعت رکھتے تھے۔ حضرت شاہ مزمل صفی قدس سرہ نے کسی کو خلافت و اجازت نہیں دی۔ اس وقت درگاہ کی دیکھ ریکھ اور اعراس کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری نیم سرائے کا خانوادۂ علیمیہ جو حضرت شاہ مزمل صفی ہی اولاد ہے، صاحبِ سجادہ خانقاہ عارفیہ سید سراواں کی نگرانی میں بحسن و خوبی ادا کر رہی ہے۔(۸)
مخدوم شاہ نعیم اللہ محمدی: مخدوم شاہ نعیم اللہ محمدی عرف خان بہادر حافظ محی الدین صدیقی نجیب آباد ، بجنور کے رہنے والے تھے۔ آپ کی تعلیم اعلی مدارس اور بڑے اداروں میں ہوئی تھی۔ آپ حافظ قرآن ، کئی زبانوں بالخصوص فارسی اور انگریزی کے ماہر اور قدیم کے ساتھ جدید اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ انگریز حکومت کے تحت شعبۂ صحت کے اعلی منصب پر فائز تھے اور رٹائرمنٹ کے بعد پینشن یاب بھی رہے۔ آپ کو انگریزی حکومت کی جانب سے ’’ خان بہادر‘‘ کا خطاب بھی ملا تھا۔
جب کسی اللہ والے کا دامن تھامنے کا خیال آیا تو آپ نے اپنے دور کے تین بزرگوں: حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی (۱۸۹۵ء)، حضرت شاہ جی محمد شیر میاں پیلی بھیتی(۱۳۲۴ھ) اور سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی، سید سراواں (۱۹۰۳ء) قدست اسرارہم کے بیچ قرعہ اندازی کی، جس کے بعد سلطان العارفین قدس سرہ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوئے اور تکمیل سلوک کے بعد خلافت و اجازت سے نوازے گئے۔آپ کا وصال ۱۹۵۵ء میں لکھنؤ میں ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔
مخدوم شاہ مظہر اللہ محمدی: مخدوم شاہ مظہر اللہ محمدی عرف سید اولادِ حسین بھوپال کے رہنے والے تھے۔ آپ کے حوالے سے کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکی۔ ’’تذکرۃ الاصفیاء ‘‘ میں درویش نجف علیمی نے اتنا ذکر کیا ہے کہ سلطان العارفین قدس سرہ اپنے وصال کی شب عالم معاملہ میں اپنے خلیفہ مظہر اللہ شاہ عرف سید اولاد حسین قدس سرہ کے مکان بھوپال تشریف لے گئے ، غسل کیا اور ناشتہ کر کے واپس لوٹ آئے۔ لہذا، جب سلطان العارفین قدس سرہ کے وصال کا تار بھوپال پہنچا تو انھیں اس پر یقین ہی نہیں ہوا۔ انھوں نے اس خبر کی بذریعہ تار تصدیق کروائی اور جب خانقاہ شریف سید سراواں تشریف لائے تو پورا واقعہ سنایا۔اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اپنے مرشد برحق سے بے انتہا اور گہرا قلبی تعلق رکھتے تھے اور دوسری بات یہ کہ مرشد گرامی قدس سرہ بھی آپ پر بے پایاں کرم فرماتے تھے۔
مخدوم شاہ حلیم اللہ محمدی: مخدوم شاہ حلیم اللہ محمدی عرف مولوی عبد الرحمن چک ہدایت اللہ، الہ آباد کےمتعلق راقم کو کوئی معلومات دست یاب نہ ہو سکی۔
مخدوم شاہ حجت اللہ صفوی: مخدوم شاہ حجت اللہ صفوی عرف سید رحمت علی تحصیل سوراؤں کے معروف گاؤں بھانے مئو کے رہنے والے تھے۔ آپ کا شمار سلطان العارفین کے ان خلفا میں ہوتا ہے جو شعرو سخن کا ستھرا ذوق رکھتے تھے۔ چناں چہ فارسی، اردو اور ہندی زبان میں آپنے شاعری کی۔ آپ کا ایک مختصر دیوان ۱۹۵۱ء میں اسرار کریمی پریس ، الہ آباد سے شائع بھی ہوا ۔۱۳۴۵ھ میں آپ کا وصال ہوا اور بھانے مئو ، الہ آباد ہی میں مدفون ہوئے۔
مخدوم شاہ بشیر اللہ صفوی: مخدوم شاہ بشیر اللہ صفوی عرف بشیر الدین چھیتے مئو، الہ آباد کے زمین دار گھرانے سے تھے۔ آپ سلطان العارفین قدس سرہ کے مرید تھے اور انھیں سے خلافت و اجازت بھی پائی تھی۔ آپ کے ذریعہ چھیتے مئو کے علاقے میں رشد و ہدایت کا بڑا کام ہوا ۔ آپ نے حضرت محراب صفی عرف مولوی عبد الرزاق (۱۳۸۵ھ/۱۹۶۵ء) کو خلافت و اجازت دے کر اپنا جانشین بنایا۔ حضرت محراب صفی کے بعد اس روحانی میکدہ کا نظام ان کے مرید و خلیفہ حضرت شاہ سعد اللہ صفوی عرف شیخ صدر الدین عباسی معروف بہ سدّن میاں (۲۷/ ذی قعدہ ۱۴۴۰ھ مطابق ۳۱/ جولائی ۲۰۱۹ء ) نے سنبھالا۔ اس وقت اس خانقاہ کے زیب سجادہ حضرت سدّن میاں کے نبیرہ حضرت محبوب صفی ابن امداد صفی ہیں۔
مخدوم شاہ جماعت علی افغانی: مخدوم شاہ جماعت علی افغانی افغانستان کے سرحدی علاقے سوات بیز کے رہنے والے تھے۔ طلب مولی میں صوبہ کے سرحدی بزرگ خواجہ آخوند رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انھوں نے بیعت کرنے کی بجائے مراقبہ کے بعد آپ کو سلطان العارفین قدس سرہ کی شبیہ دکھائی اور راستہ بتا کر روانہ کیا۔ آپ سید سراواں ، الہ آباد آ کر سلطان العارفین قدس سرہ سے مرید ہوئے اور تکمیل سلوک کے بعد خلافت و اجازت پائی۔ مرشد گرامی کی حیات میں خانقاہ سید سراواں ہی میں مقیم رہے، وصال مرشد کے بعد کچھ وقت چھیتے مئو میں گزار کر صاحب سجادہ خانقاہ عارفیہ مخدوم شاہ صفی اللہ قدس سرہ کے حکم سے نئی گڑھی ، ایم پی تشریف لے گئے ۔ نئی گڑھی ہی میں آپ کا وصال ہوا اور وہیں آپ مدفون ہوئے۔ (۹)
مخدوم شاہ محمد شفیع: مخدوم شاہ محمد شفیع سلطان العارفین قدس سرہ کے چہیتے خلیفہ تھے۔ آپ کے تعلق سے کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکی، لیکن آپ کے نام سلطان العارفین قدس سرہ کا ایک مکتوب([5]) اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ آپ بڑے صاحبِ علم و فضل تھے۔
سلسلۂ طریقت
سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی محمدی قدس سرہ کا سلسلہ طریقت چشتیہ نظامیہ صفویہ ہے۔ جو اس طرح ہے:
مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ(۱۸/ ذو قعدہ ۱۳۲۰ھ) سید سراواں، کوشامبی
مخدوم صاحبِ سر ِّ قل ھو اللہ شاہ عبد الغفور قدس سرہ(۲۲/ جمادی الاولی ۱۳۲۴ھ) محلہ رسول پور، بارہ بنکی
مخدوم شاہ محمد خادم صفی قدس سرہ (۱۳/ رجب المرجب ۱۲۸۷ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ محمد حفیظ اللہ قدس سرہ ( ۲۰/ جمادی الاخریٰ ۱۲۸۱ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ محمدی عرف غلام پیر قدس سرہ(۱۵/ جمادی الاولیٰ ۱۲۵۱ھ) صفی پور ، اناؤ
مخدوم شاہ افہام اللہ قدس سرہ(۲۱/ ربیع الاول ۱۱۹۶ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ عبد اللہ قدس سرہ (۶/ ربیع الاول ۱۱۶۳ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ بھولن قدس سرہ (یکم / رجب المرجب ۱۱۰۴ھ ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ زاہد قدس سرہ (۳/ رمضان المبارک ۱۰۹۵ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ عبد الواحد قدس سرہ(۳/ ربیع الاول ۱۰۷۵ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ عبد الرحمن قدس سرہ (۱۱/ شوال ۱۰۴۷ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ بندگی اکرم قدس سرہ (۳/ ربیع الآخر ۱۰۲۶ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شاہ بندگی مبارک قدس سرہ(۲۴/ رجب المرجب ۹۵۶ھ) صفی پور، اناؤ
شیخ الاسللام شیخ عبد الصمد عرف مخدوم شاہ صفی قدس سرہ (۱۹/ محرم الحرام ۹۴۵ھ) صفی پور، اناؤ
مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی قدس سرہ(۱۶/ ربیع الاول ۹۲۲ھ) خیرآباد، سیتاپور
مخدوم شیخ محمد عرف شاہ مینا قدس سرہ ( ۲۳/ صفر المظفر ۸۸۴ھ) لکھنؤ
مخدوم شیخ سارنگ قدس سرہ (۱۷/ شوال المکرم ۸۵۵ھ ) مجھگواں
مخدوم سید ابو الفضل عرف راجو قتال قدس سرہ (۱۶/ جمادی الاخریٰ ۸۲۷ھ ) اوچ شریف، ملتان
مخدوم جہانیاں جہاں گشت سید جلال الحق بخاری قدس سرہ (۱۰/ ذو الحجہ ۷۸۵ھ ) اوچ شریف، ملتان
چراغ چشت خواجہ نصیر الدین محمود چراغ دہلی قدس سرہ(۱۸/ رمضان المبارک ۷۵۷ھ ) دہلی
سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا محبوب الہی قدس سرہ (۱۸/ ربیع الآخر ۷۲۵ھ ) دہلی
پھر آگے بابا فرید الدین گنج شکر(۵/ محرم الحرام ۶۶۴ھ) اور قطب صاحب (۱۴/ ربیع الاول ۶۳۳ھ )کے ذریعہ خواجۂ خواجگاں خواجہ معین الدین حسن چشتی قدس سرہ (۶/ رجب المرجب ۶۳۲ھ )اجمیر شریف اور پھر خواجگانِ چشت شریف کے ذریعہ مولائے مومنین مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم (۲۱/ رمضان المبارک ۴۰ھ )اور سید المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ (۱۲/ ربیع الاول ۱۱ھ )تک جا پہنچتا ہے۔ (۱۰)
جانشینی: مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ کے وصال کے بعد اس خانقاہ کے جانشین آپ کے خلف اکبر محتسب العارفین شاہ صفی اللہ محمدی قدس سرہ ہوئے۔ آپ کے بعد آپ کے چھوٹے بھائی حجۃ العارفین شاہ احمد صفی محمدی خادم محمد صفوی قدس سرہ ([6]) مسند نشین ہوئے اور اپنے مشائخ کے طریق پر خانقاہی ذمہ داریاں نبھائیں۔
موجودہ سجادہ نشین: خانقاہ عارفیہ سید سراواں کے موجودہ سجادہ نشین مخدومنا و مولانا عارف باللہ شاہ احسان اللہ محمدی صفوی معروف بہ شیخ ابو سعید ادام اللہ ظلہ علینا ہیں جن کا اصل نام شاہد الآفاق ہے۔ حجۃ العارفین شاہ احمد صفی محمدی خادم محمد صفوی قدس سرہ نے اپنے بھتیجے و خلیفہ مخدوم شاہ حکیم آفاق احمد قدس سرہ کے صاحب زادے داعی اسلام مخدوم شاہ احسان اللہ محمدی حفظہ اللہ و رعاہ کو مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ کے عرس کے موقع پر ۱۸/ ذو قعدہ ۱۳۹۸ھ کو بیعت فرما کر خلافت و اجازت سے سرفراز کیا اور اپنا جانشین مقرر کیا۔ اس وقت آپ کی صرف عمر اکیس سال تھی۔ اپنے شیخ کے علاوہ حضور داعی اسلام کو حضرت مولانا حافظ شاہ مجتبیٰ حیدر قلندر کاکوروی (۲۰۱۰ء) سے بھی سلاسل سبعہ کی خلافت و اجازت حاصل ہے۔ (۱۱)
۵/ محرم الحرام ۱۳۷۷ھ مطابق ۲/ اگست ۱۹۵۷ء بروز جمعہ آپ کی ولادت ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جسے تقریبا گزشتہ ڈیڑھ صدی سے دین و تصوف کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے روحانی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ اسی دینی و روحانی ماحول میں آپ کی تربیت ہوئی۔ قرآن کی تعلیم خالہ جان محترمہ منفوسہ بی بی سے پائی، جب کہ فارسی جناب علی ظہیر عثمانی علیگ نے اور انگریزی جناب درویش نجف علیمی نے پڑھائی۔ ہائی سکول لالہ پور ضلع الہ آباد سے پاس کیا۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوئے جہاں پہلے پری یونیورسٹی کورس پاس کیا پھر فارسی سے بی اے (آنرس ) کرنے لگے۔ یہی زمانہ ہے جب صاحب سجادہ خانقاہ عارفیہ مخدوم شاہ احمد صفی محمدی خادم محمد صفوی قدس سرہ (آپ کے چھوٹے دادا) نے آپ کو طلب فرمایا اور بیعت کے ساتھ خلافت و اجازت اور جانشینی سے سرفراز فرمایا۔ آپ کی زندگی کا یہ وہ غیر متوقع واقعہ تھا جس نے آپ کی زندگی ہی بدل کر رکھ دی۔ ایک سال دو مہینہ ہی آپ کو اپنے شیخ و مرشد کی صحبت ملی جس میں مرشد گرامی استغراقی کیفیت کی وجہ سے ہر وقت خاموش رہا کرتے تھے، مگر اسی خاموشی میں آپ کو اپنی روحانیت سے خوب خوب مستفیض کیا۔
مرشد برحق کے وصال کے بعد آپ ریاضت و مجاہدہ اور کثرت ذکر و اذکار میں مشغول ہو گئے۔ اُن دنوں چند سالوں تک کے لیے آپ پر بھی ایک قسم کی استغراقی اور نیم جذبی حالت طاری رہی۔جب افاقہ ہوا تو مطالعہ و تحقیق کی طرف مائل ہوئے اور اکابر مشائخ خصوصاً: امام محمد غزالی، خواجہ نظام الدین اولیا، مخدوم اشرف کچھوچھوی، شیخ شرف الدین احمد یحیی منیری، مخدوم شیخ سعد خیرآبادی، شیخ عبد الحق محدث دہلوی، قاضی ثناء اللہ پانی پتی وغیرہم کی کتابوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور خوب حظ اٹھایا۔
۲۳/ جولائی ۱۹۸۹ء کو موضع اودھن ، ضلع الہ آباد کے شیخ ریاض احمد صاحب کی صاحب زادی مخدومہ نسیمہ بی بی سے آپ کا عقد مسنون ہوا جس کی برکت سے آج خانقاہ میں حسن ، حسین، علی، زینب اور فاطمہ نام کی کہکشاں آباد ہیں۔ شادی خانہ آبادی کے بعد جب آپ باضابطہ طالبین کے رشد و ہدایت اور تعلیم ارشاد کی طرف مائل ہوئے تو علما و طلبہ، دراویش و مجاذیب کے ساتھ عوام و خواص ہر سطح کے لوگوں کی آمد شروع ہو گئی، اور آپ ہر شخص کو اس کے وسعت و ظرف اور طلب کے مطابق فیض یاب کرنے لگے۔ لیکن واردین کے اس ازدحام میں مستقبل کی دینی، اخلاقی اور روحانی وسیع تعمیر کے لیے آپ کو جو چیز مطلوب تھی وہ ندارد تھی۔ چناں چہ ۱۹۹۳ء میں شریعت و طریقت کے ایسے جامع افراد تیار کرنے کے لیے خانقاہ کے احاطہ میں جامعہ عارفیہ قائم کیا جو مقاصد شریعت اور اصول دین سے واقفیت کے ساتھ فرائض و واجبات کے سختی سے پابند ہوں، جن پر اہل سنت کی وسطیت و اعتدال قولا و عملا واضح ہو اور اسلامی بنیادی عقائد دلوں میں اترے ہوئے ہوں، جو اپنے ایمان و عمل کے محاسبہ کے ساتھ کسی پر مسلط ہوئے بغیر دوسروں کے مذہبی اور مسلکی داروغہ گیری سے بے نیاز ہو کر بلا خوف لومۃ لائم جہد مسلسل اور عمل پیہم پر یقین رکھتے ہوں۔ اس وقت جامعہ عارفیہ اپنے تعلیمی معیار و منہاج کے اعتبار سے اترپردیش کے مدارس میں کئی جہات سے نمایاں اور منفرد ہے۔ یہاں درس نظامی میں ضروری اور مفید ترمیم کے ساتھ باضابطہ The National Institute of Open Schooling (NIOS) سے میٹرک اور انٹر کے عصری مضامین : سائنس، پولیٹکل سائنس، کمپیوٹر سائنس، انگریزی، حساب اور ہندی کے ساتھ سنسکرت کی بھی تدریس ہوتی ہے۔ اور نہ صرف تدریس ہوتی ہے، بلکہ باضابطہ (NIOS) سے 10th اور 12th کے امتحانات دلوائے جاتے ہیں تاکہ فارغین کو عصری جامعات کے جملہ شعبہ جات میں جانے کے یکساں مواقع حاصل رہیں۔ اس ادارے میں اخلاقی تربیت کے لیے کتب تصوف مثلاً: آداب المریدین، عوارف المعارف، رسالہ مکیہ وغیرہ بھی شامل درس ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ خانقاہ خود بھی طلبہ کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے علاوہ گلستان سعدی، مرج البحرین ، فوائد الفواد، کیمیاے سعادت، مثنوی معنوی اور مجمع السلوک جیسی کتابوں کا درس دیتے ہیں۔ خانقاہ کے احاطہ جامعہ قائم کر کے شیخ نے شریعت و طریقت، تعلیم و تربیت، قال و حال اور فقہ و تصوف کا ایسا حسین سنگم آباد کیا ہے جس کی مثال سید سراواں کے علاوہ ملک میں کہیں اور نظر نہیں آتی۔ مزید مکتبۃ الاحسان (۲۰۰۵ء)، شاہ صفی اکیڈمی (۲۰۰۸ء)، دار الافتاء عارفیہ (۲۰۱۷ء) ، نائلیٹ کمپیوٹر سینٹر(۲۰۲۲ء) ، سینٹ سارنگ کانوینٹ اسکول ( ۲۰۲۱ء) اور دیگر ذیلی تعلیمی اداروں کے ذریعہ بھی یہی مشن فروغ پا رہا ہے۔
شیخ خانقاہ کے حوالے سے ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی لکھتے ہیں:
’’حضرت شیخ کی شخصیت ایک دور اندیش صاحب نظر، مدبر و مربی اور حکیم داعی و مصلح کی ہے۔ اللہ کریم کی توفیق بے ایمانوں کو ایمان کی دولت عطا کرنا، بے عملوں کو عامل و پارسا بنانا، ناکاروں کو برسرکار اور ناپختہ لوگوں کو پختہ بنانا حضرت کا مشن ہے۔ وہ دوسروں کی ہدایت ، اصلاح، کامیابی اور سرخروئی کے لیے حریص واقع ہوئے ہیں اور اس کے لیے وہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ان کی بارگاہ میں ہندو مسلم، مومن کافر، سنی شیعہ ، حنفی شافعی ، دیوبندی بریلوی اور امیر و فقیر، عالم و جاہل، گورے کالے، ہر طرح کے پیاسے آتے ہیں اور حضرت صوفی مشرب پر عمل کرتے ہوئے بلا تفریق سب کو سیراب کرتے ہیں۔ وہ سب کی اصلاح چاہتے ہیں اور ایک حکیم دانا کی طرح جس کے لیے جو دوا اور جیسا پر ہیز مناسب سمجھتے ہیں تجویز فرما دیتے ہیں۔ وہ سب کی دل جوئی کرتے ہیں اور سب کے لیے سعادت دارین کے متمنی رہتے ہیں۔ وہ پورے معنوں میں دل بدست آوری کو حج اکبر تصور کرتے ہیں۔ وہ پکے مسلم ہیں مگر غیر مسلموں کی فریاد رسی، دست گیری اور عیادت سے شغف رکھتے ہیں۔ وہ پورے سنی ہیں مگر غیر سنیوں سے منہ نہیں پھیرتے ، بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ انھیں صحیح طور سے قبلہ رخ کر سکیں۔ وہ حنفی ہیں مگر ان کی تقلید میں جمود نہیں ، عصر حاضر میں دعوتی اور تبلیغی مقاصد کے پیش نظر نومسلموں پر حسب ضرورت مال زکوۃ خرچ کرنے کو بھی بہتر سمجھتے ہیں‘‘۔ (۱۲)
خانقاہ عارفیہ اور تجدید تصوف
سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ نے تیرہویں صدی کے اواخر میں سید سراواں میں موجود میر سید محمد حقانی قدس سرہ کے مزار کے پاس خانقاہ قائم کی۔ آپ کے بعد آپ کے بڑے صاحب زادے مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی قدس سرہ اور ان کے بعد ان کے چھوٹے بھائی مخدوم شاہ احمد صفی محمدی خادم محمد صفوی قدس سرہ (۱۴۰۰ھ) نے خانقاہی نظام کو آگے بڑھایا۔ گویا گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصوں میں مشائخِ خانقاہ عارفیہ نے خاموشی اور گوشہ نشینی کے طور پر اپنے پاس آنے والے محبین و طالبین کی روحانی تربیت پر توجہات مرکوز رکھیں اور جن معمولات پر اپنے مشائخ کو کاربند پایا ان کی پاسداری کرتے رہے۔ خانقاہ عارفیہ میں تجدید تصوف کا دور موجودہ صاحب سجادہ داعی اسلام شیخ ابو سعید صفوی دام ظلہ کے عقد مسنون (۲۳/ جولائی ۱۹۸۹ء ) کے بعد شروع ہوتا ہے جب آپ باضابطہ طور پر پورے انہماک کے ساتھ رشد و ہدایت کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
دروس کا ماحول: شیخ خانقاہ حضور داعی اسلام دام ظلہ کو وہم و گمان کے برخلاف اچانک اشارۂ غیبی سے خلافت و سجادگی کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ وہی دور ہے جب آپ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ میں زیر تعلیم تھے۔ خلافت و اجازت کے بعد شیخ کی خاموش صحبت کے علاوہ سارے مشاغل منقطع ہو گئے۔ وصال شیخ کے بعد استغراقی اور نیم جذبی کیفیت، پھر افاقہ کے بعد جب علم الکتاب کی کمی کا احساس جس کا ازالہ آپ نے اکابر صوفیہ کی کتابوں کے مطالعہ و تحقیق سے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے خانقاہ میں اپنے مریدین و متوسلین کے بیچ احیاے تصوف و روحانیت کا آغاز دروس کے اہتمام سے کیا، جن میں خصوصیت کے ساتھ مثنوی مولانا روم، کیمیاے سعادت، فوائد الفواد، گلستان سعدی اور مرج البحرین وغیرہ کتابیں شامل ہوتیں۔ جس کا اولین ثمرہ یوں نمودار ہوا کہ پہلے سے چلی آ رہی خانقاہی ا ٓداب کے ساتھ علم الکتاب کی طرف لوگوں کی رغبت بڑھنے لگی۔ لیکن، آپ نے احیاے تصوف و روحانیت اور اصلاح ظاہر و باطن کے لیے جو خواب سجایا تھا اس کی تعبیر کے لیے اتنا کافی نہیں تھا۔
علما کی روحانی تربیت: شریعت و طریقت، جذب و سلوک، قال و حال اور دعوت و اصلاح کا انقلابی کارنامہ جتنی عمدگی کے ساتھ ناخواندہ یا نیم خواندہ حضرات کے بالمقابل مذکورہ اوصاف کے جامع علماے ربانین کر جائیں گے کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ اسی لیے شیخ نے سب سے زیادہ توجہ علما کی روحانی تربیت پر مرکوز رکھی۔ لیکن، ضروریات و خواہشات کی ملی جلی کثرت اور مادیت کی نت نئی بڑھتی سہولیات کے بیچ خالص روحانیت کے دلدادہ ایسے علما کا جمع ہونا جو ایک طرح سے تمام تر علائق دنیوی سے منقطع ہو کر متوکلاً علی اللہ خانقاہ کی چہار دیواری میں خود کو مقید کر لیں ، بظاہر ممکن نہیں تھا۔ چناں چہ بہت سارے مقاصد کے ساتھ علما کو خانقاہ میں روکنے کی غرض سے بھی شیخ نے احاطۂ خانقاہ میں ۱۹۹۳ء میں جامعہ عارفیہ قائم کیا۔اس وقت اہل سنت کا نقیب ، سادات صوفیہ کا ترجمان یہ ادارہ اپنی تعلیمی و تربیتی، علمی و فکری، تحقیقی و تدوینی اور دعوتی و اصلاحی خدمات و کارنامے کی وجہ سے ملک و بیرون ملک ایک مستقل اور منفرد شناخت رکھتا ہے۔
روحانی تربیت کے دو راستے ہیں ۔ اول: جذب اور دوم: سلوک
جذب کا راستہ یہ ہے کہ شیخ اپنی توجہ خصوصی سے طالبین مولی کے دلوں میں عشق الہی کی ایسی آگ لگا دے جو ان کے دلوں سے ہر ایک شے کا نام و نشان مٹا کر خود فراموشی کی اس منزل تک لے جائے جہاں صرف اور صرف یاد الہی، ذکر الہی اور تصور الہی ہو۔ اس طرح وہ بہت جلد عشق و معرفت کی منزلیں طے کر لیتے ہیں۔ اور سلوک کا راستہ یہ ہے کہ نوافل کی کثرت، ذکر و اذکار، وظائف و تسبیحات، چلہ کشی اور مختلف قسم کی پابندیوں کے ساتھ معرفت خدابندی کے لیے کوشاں رہنا۔ اس طریقے سے بھی عشق و عرفان کی منزلیں طے ہوتی ہیں، لیکن یہ وقت طلب راستہ ہے۔ جذب و سلوک کے ان دونوں راستوں میں یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جو لوگ مجذوب محض ہوتے ہیں کہ جذب کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے بعد ان کی تنزلی ہوئی ہی نہیں، انھیں اپنے احوال کی خبر ہی نہ رہی ایسے لوگ اور وہ حضرات کہ ہمیشہ سالک محض رہے، ان میں کبھی جذبۂ زبانی پیدا ہی نہیں ہوا، یہ دونوں مقتدا بنائے جانے کے قابل نہیں ہوتے۔ مقتدی اور شیخ بنائے جانے کے لائق صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جو مجذوب سالک یا سالک مجذوب ہوں۔ مجذوب سالک وہ شخص ہے کہ ابتداءً جذب طاری ہوا، لیکن پھر سیر نزولی کرتے ہوئے اپنے احوال سے واقف ہوا اور سلوک کی راہ اختیار کی ۔ اور ایسے لوگ جن کی ابتدا سلوک سے ہوئی اور تکمیل سلوک کے بعد ان پر جذب طاری ہوا، سالک مجذوب کہلاتے ہیں۔
علما کی روحانی تربیت کے لیے شیخ خانقاہ حلت و حرمت اور فرائض و واجبات میں ظاہر شریعت کی سخت پابندی کے ساتھ جذب کا راستہ اختیار کرتے ہیں، لیکن، اسی کے ساتھ وہ سب کو سلوک کا راہی بھی بنائے رکھتے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: تصوف کے تین درجے ہیں- پہلا درجہ تزکیہ کا ہے جس کا حکم قرآن میں اس طرح آیا ہے ’’قد افلح من زکّھا‘‘- تزکیہ تصوف کا پہلا زینہ ہے۔ تصوف کا دوسرا درجہ اخلاق ہے، وہ اخلاق جس کے بارے میں ارشاد ہے ’’انک لعلیٰ خلق عظیم‘‘- یہ وہ اخلاق ہے جس کی وضاحت حدیث رسول میں ملتی ہے کہ جو تمھیں نہ دے اس کو دو اور جو تم پر ظلم کرے اس کے ساتھ احسان کرو اور جو تمھارے ساتھ برا چاہے اس کے ساتھ بھلا چاہو۔ اخلاق کی انتہا مکمل طمانیت اور صبر ہے، کہ پورے اختیار ہونے کے ساتھ، انتقام اور بدلے کا کوئی خوف نہ ہونے کے باوجود آپ اپنی جانی دشمنوں کو کہہ سکیں ’’لا تثریب علیکم الیوم- اللھم اھد قومی‘‘۔ اور تصوف کا تیسرا درجہ ہے احسان، کہ عبادت ایسے کریں گویا آپ خدا کو دیکھ رہے ہیں اور اگر یہ نہ ہو سکے تو کم از کم یہ کیفیت ضرور ہو کہ خدا آپ کو دیکھ رہا ہے۔(۱۳)
شیخ اپنے مسترشدین میں تصوف کے یہ تینوں درجات ایک ساتھ منتقل کرتے ہیں اور ہمہ دم ان کی نگہبانی کی تلقین فرماتے ہیں۔ لیکن، آج کے اس دور پر فتن میں جب کہ لوگوں کا رجحان دین کی طرف سے ہٹتا جا رہا ہے، لوگ مغربیت کے دلدادہ اور دین بیزار ہوئے جا رہے ہیں، انھیں دوبارہ دین سے جوڑنے، ان کے قلوب میں اللہ و رسول کی محبت اور اسلامی اقدار کو راسخ کرنے ، نیز ان کے دلوں میں عشق و معرفت کی شمع روشن کر کے انھیں واصل باللہ کرنے کے لیے شیخ خانقاہ عموماً مشائخ شاذلیہ کی روش کو مؤثر اور کارگر مانتے ہوئے اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
مشائخ شاذلیہ کی روش کے حوالے سے شیخِ محقق عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ (۱۰۵۲ھ) لکھتے ہیں:
’’مشائخ شاذلیہ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ حضرات اپنے مریدوں اور طالبوں کی تربیت و ہدایت ان کی طبیعت کے موافق اس کے آرام اور راحت کا خیال رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔ ان کو ان کی پہلی حالت سے اسی وقت زور زبردستی کر کے نہیں نکالتے ہیں اور نہ ریاضت و مجاہدہ کرانے میں سختی سے کام لیتے ہیں ، بلکہ ، مرید و طالب کی مزاج و طبیعت کے موافق اسے اوراد و وظائف میں مشغول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ رفق و راحت کا برتاؤ کرتے ہوئے رفتہ رفتہ بہ آسانی انھیں منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں‘‘۔ (۱۵)
صحبت و اطاعت واجب ہے: تربیت روحانی کے لیے تمام تر نرمی اور راحت و آسائش کا خیال رکھتے ہوئے صحبت و اطاعتِ شیخ کو لازمی گردانتے ہیں۔ کیوں کہ کسی بھی بندے کو روحانی کمالات اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے ہیں جب تک بندہ ایمان کو اپنے وجود میں راسخ کرتے ہوئے کم از کم حواس خمسہ کو ظاہری اور باطنی گناہوں سے محفوظ نہ کر لے۔ اور یہ حالات اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتے جب تک مرید شیخ کی صحبت اور اطاعت کو اپنے اوپر واجب نہ کر لے۔ کیوں کہ جب تک وہ اپنی خواہشات کا پیرو کار ہوگا گناہوں سے محفوظ ہونا دشوار ترین ہوگا۔ اور جب تک گناہوں سے محفوظ نہیں ہوگا روحانیت سے حصہ بھی نہیں پا سکےگا۔
تمسک بالکتاب و السنۃ: ابو نعیم احمد بن عبد اللہ اصفہانی (۴۳۰ھ) سید الطائفہ امام ابو القاسم جنید بغدادی قدس سرہ کا قول نقل کرتے ہیں:
’’علمنا مضبوط بالكتاب والسنة، من لم يحفظ القرآن ولم يكتب الحديث ولم يتفقه لا يقتدى به‘‘-(۱۵)
ہم اہل صوفیہ کا علم کتاب و سنت سے مضبوط و مستحکم ہے۔ لہذا، جو قرآن و حدیث کا علم حاصل نہیں کرتا اور اس کی سمجھ نہیں رکھتا ، وہ مقتدا بننے کے لائق نہیں ہے۔
اسی کو خطیب بغدادی (۴۶۳ھ)نے تاریخ بغداد (8/ 170 ) میں اور علامہ ذہبی (۷۴۸ھ ) نے سير ا علام النبلاء (14/ 67) میں بھی نقل کیا ہے۔
شیخ خانقاہ اپنے ہر ان مریدین و متوسلین کے لیے جو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں، کتاب و سنت کے مطالعہ کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ اور جو لوگ ناخواندہ ہیں ان کے لیے علماے ربانیین کی صحبت لازم بتاتے ہیں۔ شیخ اپنی مجلسی گفتگو میں اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہماری کوئی بھی بات خواہ تصوف سے متعلق ہو یا عقیدہ و عمل سے اس کی اساس کتاب و سنت پر ہونی چاہیے۔ اور جو باتیں کتاب و سنت کی مخالف ہوں وہ مردود اور ناقابل قبول ہوں گی۔یہاں تک کہ فقہ و فتاویٰ کے باب میں بھی شیخ اپنے علما کو اس بات کی تلقین فرماتے ہیں کہ جو بھی مسئلہ یا فتویٰ بتائیں اس میں ائمۂ فقہ کے اقوال و آرا کےساتھ قرآنی آیات اور احادیث کریمہ کی نشان دہی لازمی کی جائے کہ یہ مسئلہ کس آیت یا کس حدیث سے مستنبط ہے؟ ہاں! جو باتیں ایسی ہوں جو کتاب و سنت کی صریح مخالف تو نہیں ہیں، لیکن بہت واضح بھی نہیں ہیں۔ ایسی باتوں کی تردید میں جلد بازی نہیں کریں گے۔ تاویل ممکن ہو سکے گی تو تاویل کی راہ اختیار کریں گے، ورنہ سکوت اختیار کریں گے ۔کیوں کہ عین ممکن ہے جس جہت سے وہ باتیں کہی گئی ہوں، ان تک ابھی ہماری رسائی نہ ہوئی ہو۔ لیکن، اتنا ضرور ہے کہ جب تک ہم پر وہ باتیں بالکل واضح نہ ہو جائیں ہم تقلید بھی نہیں کریں گے۔
اہل سنت و جماعت پر ارتکاز: خانقاہ عارفیہ اور اس کے جملہ مشائخ کا تعلق اعتقاداً و عملاً اہل سنت و جماعت سے ہے جس میں قرون اولی سے لے کر اب تک کے دنیا بھر کے محدثین، متکلمین ، فقہا اور صوفیہ سب شامل ہیں۔ جن کی ایک پہچان خطیب بغدادی اور امام بیہقی کے استاد امام لالکائی ابو القاسم ہبۃ اللہ بن حسن بن منصور طبری (۴۱۸ھ)نے اپنی کتاب ’’شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ‘‘ میں حضرت سہل بن عبد اللہ تستری رحمہ اللہ سے نقل کی ہے جسے دسویں صدی ہجری کے بڑے عالم و فقیہ صوفی بزرگ مخدوم شیخ سعد خیرآبادی نے مجمع السلوک میں بیان کیا ہے۔ شیخ سعد خیرآبادی لکھتے ہیں:
’’ حضرت سہل تستری سے دریافت کیا گیا : یہ کیسے معلوم ہوگا کہ کوئی اہل سنت و جماعت سے ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ جب انسان اپنے اندر دس باتیں پائے تو وہ اہل سنت و جماعت پر قائم ہے: (۱) نماز پنجگانہ جماعت سے ادا کرے۔ (۲) کسی صحابی کا تذکرہ نقص و عیب کے ساتھ نہ کرے۔ (۳) سلطان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کرے۔ (۴) اپنے ایمان میں شک نہ کرے۔ (۵) تقدیر خواہ اچھی ہو یا بری اس کے اللہ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھے۔ (۶) اللہ کے دین میں بحث و تکرار نہ کرے۔ (۷) گناہ کی بنا پر اہل توحید میں سے کسی کی تکفیر نہ کرے۔ (۸) اہل قبلہ میں سے کسی کی موت ہو جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شریک ہو۔ (۹) مسح علی الخفین کو سفر و حضر میں جائز سمجھے۔ (۱۰) ہر نیک اور فاجر کے پیچھے نماز ادا کرے‘‘۔(۱۶)
عقائد اہل سنت کی مزید توضیح و تشریح کے لیے جس پر خانقاہ قائم ہے عارف باللہ حضرت شاہ عزیز اللہ عزیز صفی پوری قدس سرہ (۱۳۴۷ھ/۱۹۲۸ء) کی معرکہ آرا تصنیف عقائد العزیز دیکھی جانی چاہیے۔
روشِ مشائخ کی پاسداری: شیخِ خانقاہ تمام تر علمی وسعتوں کے ساتھ اپنے دائرے میں اپنے مشائخ کی روش پر گامزن رہنے کو زیادہ پسند فرماتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اس بات پر زیادہ زور دیتے ہیں کہ جب آپ دوسری جگہ جائیں تو وہاں اگلے کی رعایت ضرور کریں۔ مشائخ کے اختلاف روش کو حضرت شیخ ترجیح کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔ کچھ چیزیں ایک خانقاہ اور ان کے مشائخ کے لیے راجح اور مستحب ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں دوسری خانقاہ کے لیے راجح اور مستحب۔لیکن، کسی ایک خانقاہ اور اس کے متوسلین کے لیے شیخ اس بات کو سخت ناپسند کرتے ہیں کہ وہ اپنی ترجیحات کو دوسروں پر نافذ کریں یا اپنے دائرے سے باہر دوسری جگہ بھی اپنی ترجیحات پر ہی بضد رہیں اور اگلوں کو خاطر میں نہ لائیں یا انھیں ان کی ترجیحات کی بنا پر برا بھلا کہیں۔ شیخ بارہا اپنی مجلسی گفتگو میں فرماتے ہیں: ہر مرید و متوسل کے لیے اپنے شیخ کی تحکیم اور دوسرے تمام مشائخ کی تعظیم و تکریم ضروری ہے۔ شیخ خانقاہ کی یہ وہ بات ہے جو موجودہ خانقاہی خلفشار کے دور میں باہمی احترام کی فضا ہموار کرنے میں بہت کارگر ہے۔ مزید دعوتی نقطۂ نظر سے شیخ اس بات پر بھی خصوصی توجہ دلاتے ہیں کہ جب کوئی کہیں کسی کا ماتحت بنا کر بھیجا جائے تو اگلا شخص امیر اور جانے والا مامور ہوتا ہے، ایسی صورت میں جو بھی امیر ہو اسی کا حکم مقدم ہوگا جس کی خلاف ورزی دعوتی مشن کو نقصان پہنچانا ہے۔
تراث صوفیہ کی تحقیق و تدوین جدید: تصوف کی تجدید نو کے لیے شیخ نے علما کی روحانی تربیت کے ساتھ مشائخ صوفیہ کی علمی تراث کی تحقیق و تدوین اور ان کی فکری منہاج کی توضیح و تشریح پر خصوصی توجہ دی اور شاہ صفی اکیڈمی قائم کر کے اب تک تقریبا ڈھائی درجن سے زائد نہایت علمی اور تحقیقی کتابیں ترجمہ و تحشیہ اور تخریج کے ساتھ شائع کروائیں۔ جن میں خصوصیت کے ساتھ رسالہ مکیہ از علامہ قطب الدین دمشقی، مجمع السلوک از شیخ سعد خیرآبادی، مرج البحرین از شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی، تکمیل الایمان از شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی، فوائد سعدیہ از قاضی ارتضا علی خان گوپاموی، محدثین کا مسلک و مشرب از شیخ اسامہ ازہری، مسئلہ تکفیر و متکلمین از ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی، الموسیقیٰ فی الاسلام : علمی، تحقیقی ، شرعی مطالع از ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی، جدید ذرائع ابلاغ سے ثبوت ہلال: ایک تحقیقی مطالعہ از ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی، مثنوی نغمات الاسرار فی مقامات الابرار از داعی اسلام شیخ ابو سعید ، مسئلہ اذان و اقامت : ایک معتدل نظریہ از مولانا اصغر علی مصباحی، پیغام اہل سنت از ڈاکٹر مجیب الرحمن علیمی، تذکرہ مینائیہ در احوال مشائخ صفویہ از مولانا حسن سعید صفوی / ڈاکٹر مجیب الرحمن علیمی، مرشد عشق از ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی ۔ اس کے علاوہ افکار تصوف و صوفیہ کی تفہیم پر مجلہ الاحسان کے گیارہ اردو اور چار عربی شماروں کے ساتھ دعوتی و اصلاحی رسالہ ماہنامہ خضر راہ - جو ۲۰۱۲ء سے اب تک کسی توقف کے بغیر پابندی سے قارئین تک پہنچ رہا ہے- کے اسماء قابل ذکر ہیں۔
خانقاہ عارفیہ کا سماجی کردار: خانقاہ عارفیہ اولِ روز سے ہی سماج سے جڑی ہوئی ہے اور ہر ممکن سطح پر سماج کی خدمت کو اپنا معمول بنائے ہوئی ہے۔ چناں چہ بانیٔ خانقاہ سلطان العارفین قدس سرہ سے لر کر موجودہ صاحب سجادہ حضور داعی اسلام ادام اللہ ظلہ علینا تک سب کا تعلق بلا تفریق مذہب و ملت راست طور پر سماج سے رہا ہے۔ لوگوں کی ضرورتوں میں کام آنا، ہر ممکنہ سطح پر ان کی امداد کرنا ، بیماری ، موت اور شادی وغیرہ مواقع پر خصوصی عنایات کرنا اور آنے جانے والے زائرین حضرات کے لیے خانقاہ میں روزانہ دو وقت کے کھانے کا لنگر چلانا ہمیشہ کا دستور رہا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں مدارس، مکاتب اور مساجد کی سرپرستی ، بلکہ ان میں مدرسین، ائمہ و دعاۃ کا انتظام اور ان کے مشاہرے کا اہتمام بھی خانقاہ کرتی ہے۔ مزید برآں، مسلمانوں کے علاوہ بہت سے غیر مسلم بھی ایسے ہیں جن کے ماہانہ خورد و نوش کے اخراجات خانقاہ سے پورے ہوتے ہیں۔موسمی ضرورتوں کے علاوہ آسمانی یا زمینی آپدا میں بھی خانقاہ عارفیہ ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔ ان تمام کے ساتھ ملک اور بیرون ملک میں تعلیم پا رہے سیکڑوں طلبہ کے ماہانہ تعلیمی وظیفے کا انتظام بھی خانقاہ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ راقم کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ شیخ نے بسا اوقات ضروت مندوں کو لاکھوں روپیے واپسی کی بات کہے بغیر دے دیا اور کبھی دوسروں سے اس کا تذکرہ تک نہ کیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ کئی علاقوں میں حضرت شیخ کے ساتھ دعوتی دورے پر جانے کا اتفاق ہواجہاں یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ آپ نذرانہ لینے کی بجائے منتظمین محافل کو اپنی جیب خاص سے اچھی خاصی رقم دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے واپس ہوئے۔ گویا تصوف اور صوفیہ کا جو اصل مشن تھا ؛ اللہ سے مضبوط تعلق اور خلق خدا کی ہمہ جہت خدمت، اس پر یہ خانقاہ پورے طور پر کھڑی نظر آتی ہے اور اسی کے ساتھ موجودہ عہد میں تصوف اور افکار تصوف کی علمی، فکری اور عملی ہر جہت سے جو کام یہاں سے ہوا ہے اس بنا پر اس خانقاہ کو عرفان تصوف کا معاصر گہوارہ کہنا حق بجانب ہوگا۔
حضرت داعی اسلام کے خلفا: دین متین کی ہمہ جہت دعوت و تبلیغ اور صوفی مشن کے فروغ کے لیے تکمیل سلوک کے بعد حضور داعی اسلام نے اب تک جن باصفا حضرات کو خلافت و اجازت دی ان کے اسما یہ ہیں:
۱ ۔ حضرت شاہ الہام صفی عرف امتیاز احمد عثمانی (۲۰۱۱ء)، کراچی پاکستان (خلیفۂ اول و عم مکرم)
۲-حضرت مولوی شاہ عبد القیوم صفوی، ایم پی
۳۔حضرت شاہ غلام دستگیر صفوی ، کولکاتا
۴۔حضرت شاہ غلام غوث میاں صفوی، فتح پور
۵۔ حضرت مولانا شاہ حسن سعید صفوی(خلف اکبر حضور داعی اسلام)
۶۔ حضرت شاہ محبوب اللہ بقائی صفوی، صفی پور
۷۔ حضرت مولانا شاہ عمران حبیبی صفوی، کوشامبی
۸۔ حضرت مولانا شاہ محمد خامس محدثِ سوڈان ، افریقہ
۹۔ حضرت مولانا شاہ فخر الزماں صفوی، آرہ
۱۰۔ حضرت مولانا شاہ انعام صفی عرف غلام مصطفی ازہری، چھپرہ
۱۱۔ حضرت مولانا شاہ ضیاء الرحمن علیمی صفوی، دربھنگہ
۱۲۔حضرت مفتی شاہ محمد کتاب الدین رضوی صفوی، مظفرپور
۱۳۔حضرت مولانا ڈاکٹر شاہ ذیشان احمد مصباحی صفوی، چمپارن
۱۴۔ حضرت مولانا شاہ فیضان صفی صفوی، مراد آباد
۱۵۔ حضرت شاہ الہام صفی ، بھانے مئو
مصادر و مراجع
۱-تاریخ تصوف، عبد الصمد صارم ازہری، ص:۳۱۸- ۳۱۸، ناشر: ادارہ علمیہ لاہور، ۱۹۶۹ء
۲-مرآۃ جلالی، ص: ۶۶، طبع دوم، کراچی، ۱۹۹۹ء بحوالہ خانقاہ صفویہ: تاریخ اور خدمات کا اجمالی جائزہ، ص: ۷۰-۷۱، مولانا مجیب الرحمن علیمی، ناشر: شاہ صفی اکیڈمی ، خانقاہ عالیہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد، ۲۰۱۵ء
۳- تاریخِ آئینۂ اودھ ، ص: ۶۴، سید ابو الحسن مانک پوری، مطبع نظامی کانپور، ۱۸۸۰ءء
۴- تذکرہ مینائیہ در احوال مشائخ صفویہ، ص: ۰۸- ۳۰۳، ملخصاً، تالیف: مولانا حسن سعید صفوی / ڈاکٹر مجیب الرحمن علیمی، ناشر: شاہ صفی اکیڈمی، خانقاہ عالیہ عارفیہ، سید سراواں، ۲۰۲۰ء
۵- تذکرۃ الاصفیاء، ج: سوم، ص: ۱۶۳- ۲۱۰، ملخصاً، درویش نجف علیمی، ناشر: مکتبہ فیض عارفی، سید سراواں، ۱۹۹۵ء
۶- ظہور عارفی، ملخصاً، درویش نجف علیمی، ناشر: انجمن خدام عارفی، بیگم سرائے، الہ آباد، ۱۴۰۰ھ
۷- نعمت عارفی، ملخصاً، درویش نجف علیمی، ناشر: انجمن خدام عارفی، بیگم سرائے، الہ آباد، ۱۴۰۰ھ
۸- تکملہ تذکرۃ الاصفیاء، الجزء الثانی، ملخصاً، مرتب: درویش نجف ، ناشر: مکتبہ فیض عارفی، سید سراواں، الہ آباد، ۱۹۹۶ء
۹- تذکرۃ الاصفیاء، ج: سوم، درویش نجف علیمی، ناشر: مکتبہ فیض عارفی، سید سراواں، ۱۹۹۵ء
۱۰- شجرہ شریف، زیب سجادہ خانقاہ عالیہ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی، یوپی
۱۱- نغمات الاسرار فی مقامات الابرار، ص: ۹، داعی اسلام شیخ ابو سعید احسان اللہ چشتی، ناشر: شاہ صفی اکیڈمی، خانقاہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد، ۲۰۱۱ء
۱۲- السابق، ص: ۱۱
۱۳- الاحسان، شمارہ: ۱، ص: ۴۴، ناشر: شاہ صفی اکیڈمی ، جامعہ عارفیہ، سید سراواں، الہ آباد، یوپی، اپریل ۲۰۱۰ء
۱۴- مرج البحرین، اردو ترجمہ: حماد رضا مصباحی ، ص: ۱۵۴، ناشر: شاہ صفی اکیڈمی خانقاہ عارفیہ، سید سراواں ، الہ آباد یوپی، فروری ۲۰۲۱ء
۱۵- حليۃ الاولياء ، ج:۱۰، ص: 255، ابو نعیم احمد بن عبد اللہ اصفہانی، ناشر: دار الفکر بیروت، ۱۹۹۶ء
۱۶- مجمع السلوک، ج:۲ ، اردو ترجمہ از محمد ضیاء الرحمن علیمی، ص: ۳۵۲، ناشر : شاہ صفی اکیڈمی، خانقاہ عارفیہ سید سراواں، الہ آباد، ۲۰۱۶ء
آفتاب رشکِ مصباحی
ریسرچ اسکالر، شعبہ فارسی، بی ، آر، اے، بہار یونیورسٹی، مظفرپور، بہار
([1]) – میر سید محمد حقانی سبزاواری قدس سرہ سبزاوار(خراسان، ایران) سے سات سو سواروں کے ساتھ ہندوستان آئے اور مملکت بنگالہ میں قیام پذیر ہوئے۔ جب آپ کی ملاقات مخدوم شعبان ملت جھونسوی قدس سرہ (۷۶۰ھ)سے ہوئی تو انھیں کے ہو کر رہ گئے۔ دو سال مسلسل تربیت میں رہ کر خلافت و اجازت پائی۔ مزید شرف دامادی سے بھی مشرف ہوئے۔ دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کے لیے مرشد گرامی کی جانب سے چرئی(چروا، پرگنہ چائل ، کوشامبی ) بھیجے گئے، جہاں خود مخدوم شعبان ملت قدس سرہ نے بھی کچھ عرصہ گزارا تھا۔ آپ نے اس علاقے کے ایک دیہات(سید سراواں) کو خرید کر اسے مستقل اپنا مسکن بنایا جہاں آپ کا وصال ۷۸۰ھ میں ہوا اور وہیں مدفون ہوئے۔ (منبع ا لانساب، ص:۶۲-۳۶۱، سید معین الحق جھونسوی، ترجمہ: ڈاکٹر ساحل شہسرامی، ناشر: مدرسہ فیضان مصطفی، زہرہ باغ، علی گڑھ، ۲۰۱۰ء)
(۱)- صاحب سرِّ قل ھو اللہ شاہ عبد الغفور محمدی صفوی ابن قاضی غلام حضرت ابن قاضی غلام غوث کی ولادت: ۱۲۳۵ھ مطابق۲۰ /۱۸۱۹ء میں قصبہ منڈیاؤں ، لکھنؤ میں ہوئی۔ آپ کے مورث اعلیٰ قاضی عبد اللطیف عثمانی کاکوروی مغل بادشاہ اکبر کے زمانے میں قصبہ کاکوری سے منڈیاؤں منتقل ہوئے اور عہدۂ قضا کو زینت بخشی ۔ابتدائی تعلیم منڈیاؤں میں، جب کہ اعلی تعلیم لکھنؤ میں حاصل کی۔ مجدد سلسلۂ صفویہ مخدوم شاہ خادم صفی محمدی قدس سرہ صفی پور سے بیعت و خلافت کا شرف پایا اور انھیں کے حکم سے رشد و ہدایت کی غرض سے محلہ رسول پور بارہ بنکی تشریف لے گئے جہاں آپ کا وصال ۲۲/ جمادی الاولیٰ ۱۳۲۴ھ مطابق ۱۴/ جولائی ۱۹۰۶ کو ہوا اور آپ وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ (تذکرہ مینائیہ در احوال مشائخ صفویہ، ص: ۸۷-۲۸۱، تالیف: مولانا حسن سعید صفوی / ڈاکٹر مجیب الرحمن علیمی، ناشر: شاہ صفی اکیڈمی، خانقاہ عالیہ عارفیہ، سید سراواں، ۲۰۲۰ء)
([3])- آج جو خانقاہ ہماری نظروں میں ہے اس کی تعمیر سلطان العارفین کے وصال کے بعد ان کے خلف اکبر و جانشین اول مخدوم شاہ صفی اللہ قدس سرہ کے عہد میں ہوئی۔ آپ کی امارت و قیادت میں مزار شریف، اس سے متصل قدیم سماع خانہ اور بارہ دری ، قدیم مسجد، مسجد سے متصل ایک چھوٹا سا حجرہ اور کنواں ، کنوئیں کے سامنے ایک چبوترہ کی تعمیر ہوئی۔(ماہنامہ خضر راہ، سید سراواں، کوشامبی، شمارہ: جون ۲۰۲۳ء، ص: ۳۳) جب کہ جدید سماع خانہ، جامعہ عارفیہ اور اس کی درس گاہی بلڈنگیں، مطبخ، اساتذہ کے رہائشی کمرے اور سید محمد حقانی جامع مسجد کی تعمیرات موجودہ صاحب سجادہ کی دین ہیں۔ اس کے علاوہ مزید تعمیرات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
([4]) - بھوانی پور، رائے بریلی سے تعلق رکھنے والے کائسٹھ برادری کی ذی علم شخصیت منشی پھول چند نے برضا و رغبت مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر کے ہاتھ پر مع اہل و عیال اسلام قبول کیا۔ اسی کے نسب سے مولوی نہال الدین بھوانی پور سے ہجرت کر موضع بہکا، الہ آباد کو اپنا مسکن بنایا تھا۔ انھیں کے صاحب زادے مولوی ثابت علی جد امجد مخدوم شاہ علیم اللہ محمدی ، نے ۱۸۵۷ء میں دیگر علما کی طرح انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا تھا، جس کی پاداش میں انھیں باغی قرار دیتے ہوئے ان کی ساری املاک ضبط کر لی گئی۔ ہزاروں سے زائد کتابوں، مسودوں، مخطوطوں اور شاہی فرامین پر مشتمل ان کی ذاتی لائبریری بھی نذر آتش کر دی گئی۔ مولوی ثابت علی ایک جید عالم دین ، باوقار مدرس اور صاحب دل درویش تھے۔ باغی قرار دیے جانے کے بعد بطور سزا تین بار پھانسی کے تختے پر چڑھائے گئے ، مگر ہر بار پھندا ٹوت جانے کی وجہ سے رہا کر دیے گئے۔ اس کے بعد بہکا ہی میں آپ گوشہ نشین ہو گئے اور ۷/ ربیع الاول ۱۲۸۲ھ مطابق ۳۱/ جولائی ۱۸۶۵ء کو مالک حقیقی سے جا ملے۔ آپ کا ذکر معروف تذکرہ نگار مولوی رحمن علی نے اپنی کتاب ’’ تذکرہ علمائے ہند‘‘ میں بھی کیا ہے۔ ( ملخص از تکملہ تذکرۃ الاصفیاء، الجزء الثانی، مرتب: درویش نجف ، ناشر: مکتبہ فیض عارفی، سید سراواں، الہ آباد، ۱۹۹۶ء)
(۱)- یہ مکتوب سلطان العارفین قدس سرہ کے رسالہ گنجینۂ اسرار فارسی ، ص: ۴۰-۴۲ میں موجود ہے جسے انجمن خدام بارگاہ عارفی، نیم سرائے، الہ آباد نے بڑے اہتمام سے ۱۳۸۰ھ میں شائع کیا ہے ۔
(۱)-حضرت شاہ احمد صفی محمدی کی ولادت سید سراواں میں ۱۸۹۶/۹۷ء میں ہوئی۔ آپ سلطان العارفین قدس سرہ کے چھوٹے صاحب زادےاور مرید ہیں، جبکہ خلافت برادر اکبر مخدوم شاہ صفی اللہ محمدی سے پائی۔ سلطان العارفین اور ان کے خلیفہ شاہ نعمت اللہ محمدی سے ابتدائی تعلیم پائی ، پھر شاہ نعیم اللہ محمدی کے ساتھ لکھنؤ تشریف لے گئے اور وہاں مختلف اساتذہ سے علم ظاہری کی تکمیل کی۔ سجادگی سے پہلے اور سجادگی کے بعد ہر دو دور میں آپ کا قیام خانقاہ عارفیہ میں کم ہی رہا۔ آپ نے دعوتی و اصلاحی مشن کے لیے اکثر ان علاقوں کو ترجیح دی جہاں جہالت اور اکھڑپنے کے ساتھ غیروں کے مذہبی اور تہذیبی رسومات بھی مسلمانوں میں بہت اندر تک داخل ہو سکے تھے۔ مثلاً: ایم پی کا ( بقیہ اگلے صفحہ پر ) علاقہ : ریوا، مئو گنج، نئی گڑھی، بھرگواں، کھجراہن، لال گنج اور بھوپال، جبل پور، کٹنی وغیرہ ۔ آپ نے کمال محبت اور جہد مسلسل سے ان علاقوں میں لوگوں کو دین پر راسخ کیا۔ آپ کے خلفا میں حضرت شاہ نہال عارف عرف حکیم آفاق احمد، حضرت داعی اسلام شیخ ابو سعید صفوی، حضرت شاہ محمود صفی عرف محمد حنیف، حضرت شاہ انعام اللہ عرف رحیم اللہ خان، حضرت شاہ فیاض اللہ عرف فیاض احمد، حضرت شاہ نور اللہ، حضرت شاہ انوار اللہ اورحضرت شاہ عین اللہ عرف عبد الواحد شامل ہیں۔ آپ کی وفات ۱۵/ محرم الحرام ۱۴۰۰ھ مطابق ۶/ دسمبر ۱۹۷۹ء کو ہوئی اور آپ خانقاہ کے احاطہ میں مدفون ہوئے۔(تذکرۃ الاصفیاء ، ج: سوم، ملخصاً)
Leave your comment