حضرت علامہ مدنی میاں دام ظلہ کے بیان کی توضیح اوربعض حضرات علماکے شبہات کا ازالہ!
ذیشان احمد مصباحی([1])
اصل مسئلہ کی تفہیم
حلال جانور اگر اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کیا جائےتو اس کا کھانا حلال ہے، اِلا یہ کہ شریعت نے ذبح کے بعض شرائط بیان کیے ہیں، جن کی پاس داری ضروری ہے۔ ذبح ہونے والے جانور کے سلسلے میں فقہا نےمتعدد شرائط ذکر کیے ہیں جن میں یہ دوباتیں خاصی اہم ہیں:
۱-ذبح کرتے وقت وہ جانور زندہ ہو۔
۲-ذبح کرنے کے سبب ہی اس کی روح نکلے۔
اسی طرح ذبح کرنے والے کے سلسلے میں بھی فقہا نے متعدد شرائط ذکر کیے ہیں، جن میں یہ دو باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں:
۱-ذبح کرنے والا عاقل ہو۔
۲-ذبح کرنے والا مسلمان یا کتابی ہو۔
اس آخری پوائنٹ کی وضاحت میں علما نے لکھا ہے کہ بت پرست اور مجوسی کا ذبیحہ جائز نہیں ہے اور یہ بات اہل اسلام کے یہاں متفق علیہ ہے۔ اہل علم نے اس کی توجیہ یہ فرمائی ہے کہ چوں کہ یہ حضرات خلوص کے ساتھ اللہ کا نام نہیں لےسکتے۔ کیوں کہ بت پرست یا تو ذبح کرتے ہوئے اپنے بتوں کا نام لیتے ہیں یا انہیں اپنے بتوں کے آستانوں پر ذبح کرتے ہیں اور قرآن نے ان دونوں ذبیحوں کو حرام کردیا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
وَ مَا اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ ۔’’اللہ تعالیٰ نے تم پرغیراللہ کے نام کاذبیحہ حرام کردیا ہے۔‘‘ ( البقرۃ: ۱۷۳)
وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ اورجو بتوں کے آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو، اسے بھی حرام کردیا گیا ہے۔(المائدۃ: ۳)
اور جہاں تک مجوسیوں کی بات ہے تو وہ ذبح کرتے وقت کسی کا نام نہیں لیتے اور ان کے تعلق سے پیغمبر اسلام ﷺ نے یہ خاص تاکید فرمائی ہے کہ مجوس کے ساتھ نکاح کرنے اور ان کا ذبیحہ کھانے کے علاوہ ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اہل کتاب کے ساتھ کرتے ہو۔ سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْل الْكِتَابِ غَيْرَ نَاكِحِي نِسَائِهِمْ وَلاَ آكِلِي ذَبَائِحِهِمْ.(موطا، بیہقی، ابن ابی شیبہ وغیرہ بسند ضعیف)چوں کہ مرتد بھی غیر مسلم ہوتا ہے، اس لیے علما نے اس کا ذبیحہ بھی بت پرست کے ذبیحے سے ملحق کردیا ہے۔
گذشتہ دنوں کچھوچھہ مقدسہ کے نامور اور اہم ترین شخصیت علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی مدظلہ العالی کے ایک ویڈیو بیان کے بعداہل بدعت کے ذبیحے کے جواز وعدم جواز کےسلسلے میں ایک بحث نکل پڑی، جس میں بعض بحث کرنے والےتحقیق و شرافت کے دامن سے دست بردار ہوتے نظر آئے، جو افسوس ناک ہے۔ علامہ مدنی میاں صاحب حفظہ اللہ سے در اصل موجودہ عہد کے وہابی حضرات کے ذبیحے سے متعلق سوال کیا گیا تھا،جسے آپ نے جائز کہا تھا،اب یہاں ایک دوسری بحث بھی نکل پڑی کہ موجودہ وہابی اور دیوبندی حضرات کس زمرے میں آتے ہیں؟، اہل بدعت میں آتے ہیں،یا اہل کفروارتداد میں آتے ہیں؟یہی سوالات اس تحریر کا باعث ہیں۔ واللہ ھوالھادی وھوالموفق للسداد!
وَ مَا اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللہ کی تفسیر
اس بحث کا غالب حصہ آیت کریمہ وَ مَا اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ( بقرہ:۱۷۳)سے متعلق ہے۔ اس لیے اس کی قدرے تفسیر وتوضیح ضروری ہے۔اس کی تفسیر میں امام فخر الدین رازی (۱۲۱۰ء) لکھتے ہیں:
’’اِھلال‘‘ رفع صوت کو کہتے ہیں۔ جو شخص بھی اپنی آواز بلند کرے اسے مُہِلّ کہا جائےگا۔ ابن احمر نے کہا:
یُھِلُّ بِالْفَدفَدِ رُکبَانُھَا
کَمَا یُھِلُّ الرَّاکِبُ الْمُعْتَمِرُ
میدان جنگ میں مجاہدین ایسے ہی اپنی آواز بلند کرتے ہیںجیسے کوئی سوار حاجی بلند آواز سے تکبیر کہتا جارہا ہو۔
یہ اِھلال کا لغوی معنی ہے۔ پھر احرام پوش کو بھی مُہِلّ کہا جاتا ہے؛ کیوں کہ احرام پوشی کے وقت وہ بلند آواز سے صدائے تکبیر بلند کرتا ہے۔ یہی اِھلال کا مفہوم ہے۔ جب کوئی شخص حج یا عمرہ کا احرام باندھ لےتو کہا جاتا ہے:أَھَلَّ فُلَانٌ بِحَجَّۃٍ أوْعُمْرَۃٍ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ احرام پوشی کے وقت حاجی زور زور سے لبیک کی صدائیں بلند کرتا ہے۔ اسی طرح ذبح کرنے والے کو بھی مُہِلّ کہا جاتا ہے، کیوں کہ عرب ذبح کرتے وقت بتوں کو اپنی بات سناتے تھے اور بلند آواز سے ان کانام لیتے تھے۔ اسی سے اِسْتَھَلَّ الصَّبِیُّ ماخوذ ہے۔ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب بچے کی آواز بلند ہوتی ہے۔ اب ارشاد باری: وَ مَا اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللہ کا مطلب یہ ہواکہ جو بتوں کے لیے ذبح کیا گیا۔ مجاہد، ضحاک اور قتادہ کا یہی قول ہے، جب کہ ربیع بن انس اور ابن زید کہتے ہیں اس کے معنی ہیں وہ جانور جس کو ذبح کرتے ہوئےغیراللہ کا نام لیا گیا ہو۔ یہ قول زیادہ مناسب ہے؛ کیوں کہ یہ مفہوم لفظ سے زیادہ قریب ہے۔
علما کہتے ہیں کہ اگرمسلمان کسی غیراللہ کے تقرب کی نیت سے جانور ذبح کرتا ہے تو وہ مرتد ہوجائےگا اور اس کا ذبیحہ مرتد کے ذبیحے کے حکم میں ہوگا اور یہ حکم اہل کتاب کے ذبیحےکے لیے نہیں ہے؛ کیوں کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ۵(مائدہ)اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لیے مباح ہے۔
مزید فرماتے ہیں:
بعض علما اِس طرف گئے ہیں کہ اس سے بت پرستوں کا ذبیحہ مراد ہےجو اپنے بتوں کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ اورجو بتوں کے آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو، اسے بھی حرام کردیا گیا ہے۔ (المائدۃ: ۳) یہ حضرات عیسائیوں کے ذبیحے کو حلال کہتے ہیں، خواہ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے نام پر کیوں نہ کررہا ہو۔ عطا، مکحول، حسن بصری، شعبی اورسعید بن مسیب کا یہی مذہب ہے،جب کہ امام مالک،امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور اُن کے اصحاب اُسے حرام کہتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب اُنھوں نے جناب مسیح کے نام پر ذبح کیا تو یقیناً اُنھوں نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا، اس لیے اس کا حرام ہونا واجب ٹھہرا۔ چنانچہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں:
’’جب تم غیراللہ کے نام پر ذبح کرتے ہوئے یہود ونصاریٰ کی آواز سنو تو اُسے مت کھاؤ اور اگر آواز نہ سنوتو کھالو؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذبیحہ حلال فرمایا ہے اور وہ ان کی باتوں سے باخبر ہے۔‘‘(تفسیر کبیر، سورہ بقرہ، آیت: ۱۷۳)
امام رازی کی اس تفسیر وتوضیح سے واضح ہوگیا کہ کسی بھی جانور کو غیر اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کیا جائے یا غیر اللہ کے تقرب وعبادت کے لیے ذبح کیا جائے، وہ بہر کیف حرام ہے۔ اسی طرح اہل کتاب کے استثنا کے ساتھ دیگر تمام کفارو مشرکین کا ذبیحہ حرام ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو آیت مذکورہ سے ثابت ہیں اور اس پر امت کا اتفاق ہے۔ اب ایک سوال یہ رہ جاتا ہے کہ ذبح کرنے والا مسلم ہو، وہ نہ تو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے اور نہ ہی غیر اللہ کے تقرب وعبادت کے لیے ذبح کرے، لیکن وہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام بھی نہ لے، خواہ اللہ کانام لینا ہی بھول جائے،خواہ جان بوجھ کروہ ایسا کرے،بہر دو صورت اس کے ذبیحے کا کیا حکم ہے؟
اس سلسلے میں علماے اسلام نے لکھا ہے کہ اگرجان بوجھ کرکسی نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا تو جمہور کے نزدیک اس کا کھانا جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ( الانعام:۱۲۱)جس جانور پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا، اسے مت کھاؤ، یہ گناہ ہے۔اس کے برخلاف اگرکوئی مسلمان ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو ایسی صورت میں وہ ذبیحہ جائز ہے۔اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے: الْمُسْلِمُ يَكْفِيهِ اسْمُهُ، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ حِينَ يَذْبَحُ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللهِ وَلْيَأْكُلْهُ .مسلمان کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے، البتہ اگرذبح کے وقت اللہ کا نام لینا بھول گیا تو بھی اللہ کا نام لے کر کھالے۔(السنن الکبریٰ للبیھقی، كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ،بَابُ مَنْ تَرَكَ التَّسْمِيَةَ وَهُوَ مِمَّنْ تَحِلُّ ذَبِيحَتُهُ/سنن الدارقطنی،الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ)
جمہور کے خلاف امام شافعی، علامہ ابن رشد مالکی کا موقف اور امام احمد ابن حنبل کا قول غیر معروف یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا مستحب ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی مسلمان جان بوجھ کر بھی ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لے پھر بھی اس کا ذبیحہ جائز ہوگا۔
بدعتی کا ذبیحہ
علما نے بدعت کی دو قسمیں کی ہیں، ایک بدعت مکفرہ ، یعنی عقیدے کا ایسا انحراف جو کفر تک پہنچ گیا ہو اور دوسرا بدعت غیر مکفرہ، یعنی عقیدے کا ایسا انحراف جو کفر تک نہ پہنچا ہو۔ بدعت کے انہیں دونوں اقسام کے پیش نظر قسم اول کے حامل بدعتی کی علما نے تکفیر کی ہے، جب کہ ثانی الذکر کی تکفیر نہیں کی ہے ، بلکہ جماعت مسلمین میں ہی شامل رکھا ہے۔ عام طور پر بدعتی یا گمراہ کا اطلاق اسی معنی پر ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو چوں کہ بدعتی اپنے عمومی اطلاق میں مسلمان ہی ہوتا ہے اور مسلمان کا ذبیحہ جائز ہے، اس لیے بدعتی کا ذبیحہ بھی جائز ہی ٹھہرے گا۔ علامہ سید محمد مدنی دام ظلہ نے اپنا جواب اسی اصول کے تناظر میں دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’ذبیحہ جو حرام ہے وہ کسی کافر کا ذبیحہ ہے۔کسی کافر کا ذبیحہ[ہو] وہ حرام ہے۔ گمراہ بہت سے ہیں۔ گمراہوں کی لسٹ بناؤ [تو] بڑی لمبی چوڑی ہے۔ مگر ہر گمراہ کافر نہیں۔ہر گمراہ کافر نہیں، جب تک کہ اس کی گمراہی کفر تک نہ پہنچ جائے۔ کسی شخص کے بارے میں آپ کو یہ یقین ہو کہ اس نے کفر کیا ہے۔ اس کفر کی آپ کو اطلاع شرعی ہو۔ بالکل شک نہ ہو۔ تو ایسے کے ہاتھ کا ذبیحہ آپ نہیں استعمال کرسکتے۔ مگر جس کے بارے میں آپ کو خبر ہی نہ ہو۔ جب خبر ہی نہیں ہو تو اس کو آپ کافر نہیں کہہ سکتے اور جب کافر نہیں کہہ سکتے تو مسلمان کہنا پڑے گا۔ جو کافر نہیں ہے وہ مسلمان ہے۔ اور جب مسلمان ہے تو اس کا ذبیحہ بھی ٹھیک ہے۔
Kya wahabi dewbandi ka zabeeha Jaiz hai? Allama saiyad Madani Miyan
وہابی کا ذبیحہ
مسلمانوں کے بیچ رائج مسالک میں ایک مسلک وہابیت بھی ہے۔ اس گروہ سے متعلق افراد کا دعویٰ ہے کہ وہ بدعات سے بیزار اور اسلاف کے منہج پر ہیں، اسی لیے وہ خود کو سلفی بھی کہتے ہیں، جب کہ ان سے اختلاف رکھنے والے انہیں امت کے جمہور مسلک- تقلید وتصوف- کا باغی اور بہت سے فروعی عقائد ومسالک میں امت کےسواد اعظم سے منحرف سمجھتے ہیں، اسی لیے انہیں غیر مقلد بھی کہتے ہیں۔ لیکن نقد وجرح کی تمام تر سختیوں کے باوجود اہل تصوف وتقلید بھی مجموعی لحاظ سے انہیں مسلمان ہی شمار کرتے ہیں۔
علامہ سید محمد مدنی میاں دام ظلہ سے جو اصل سوال ہوا تھا وہ انہیں کے ذبیحے کے تعلق سے تھا۔ اصل جواب سے پہلے آپ نےمذکورہ بالا اصولی بات بتادی جس سے اصل سوال کا جواب از خود واضح ہوجاتا ہے۔اس کے بعد وابستگان وہابیت کے ذبیحے کے جائز ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے بارے میں اپنی اس رائے کا اظہار فرمایا:
’’آپ نے [سوال میں]وہابی کا نام لے لیا۔ وہابی ایک گمراہ جماعت ہے۔ اس کی گمراہی میں کوئی شک نہیں۔‘‘
Kya wahabi dewbandi ka zabeeha Jaiz hai? Allama saiyad Madani Miyan
وہابیت کے تعلق سے تقریباًیہی رائے جمہور اہل اسلام کی ہے۔ چنانچہ وہابیت کے خلاف جو علما نبرد آزما رہے ہیں، ان کی تحقیقات وتنقیدات کی روشنی میں بھی علامہ مدنی میاں کا یہ جواب بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔ میری محدود معلومات کے مطابق جن علما نے وہابی فکر کا رد کیا ہے وہ اس بات کے شاکی تو رہے ہیں کہ وہابی اپنے علاوہ دیگر مسلمانوں کوکافر کہتے ہیں، مگرلطف کی بات یہ ہے کہ رد کرنے والے علما وہابیت اور بانی وہابیت کی زیادہ سے زیادہ تفسیق وتضلیل کرتے ہیں،خود ان کی تکفیر نہیں کرتے ۔بانی وہابیت شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی(۱۷۹۲ء) کا رد کرنے والوں میں سرفہرست ان کے بھائی شیخ سلیمان ابن عبد الوہاب(۱۷۹۵ء) کا نام لیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایاہے کہ اہل قبلہ کواختلاف کی بنیاد پر کافر کہنا اور ان کو مباح الدم سمجھنا خوارج کا طریقہ ہے جس پر وہابی گام زن ہیں۔ لیکن ان تمام تر شکایات کے باوجود شیخ سلیمان نے خود پلٹ کر وہابی علماوقائدین کی تکفیر نہیں کی ہے۔(دیکھیے شیخ سلیمان ابن عبد الوہاب کی کتاب : الصواعقُ الاِلٰھیۃ فِی الرَّدِّ عَلَی الوَھَابِیَّۃ)
وہابیت کا ہندوستانی ایڈیشن شاہ محمداسماعیل دہلوی(۱۸۳۱ء) کی کتاب تقویۃ الایمان سے سامنے آیا۔ان کے معاصر مولانا فضل حق خیرآبادی ( ۱۸۶۱ء) اور بعض دیگر علما نے شاہ اسماعیل کی بعض عبارتوں پر تکفیر کی لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ تکفیر شاہ اسماعیل کے کسی عقیدۂ کفر کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ ان کی بعض تعبیرات کے سبب تھی جو مولانا فضل حق خیرآبادی کی نگاہ میں گستاخی رسالت پر مشتمل تھیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ان کے دوست اور رد وہابیہ میں ان کے شریک وسہیم مولانا شاہ فضل رسول بدایونی (۱۸۷۲ء) اپنی کتاب المعتقد المنتقد میں شاہ اسماعیل کی تکفیر نہیں کرتے، بلکہ صرف گمراہ، مبتدع اور ہویٰ پرست کہنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اسی طرح وہابیت کے خلاف سب سے زیادہ سخت گیر سمجھے جانے والے عالم اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی ( ۱۹۲۱ء) شاہ اسماعیل دہلوی پر مختلف طریقوں سے کفر کے لزوم کے تو قائل ہیں مگر ان کے نزدیک بھی التزام کفرمتحقق نہیں ہے،جس کی وجہ سے وہ کف لسان کرتے ہیں۔ فاضل بریلوی نے ’’رسالہ امور عشرین ‘‘کے اندر جس میں اہل سنت کے دس امتیازات لکھے ہیں، شیخ ابن عبدالوہاب نجدی اور شاہ اسماعیل دہلوی کو گمراہ لکھا ہے، کافر نہیں لکھا ہے۔آٹھویں نمبر پر یہ جملہ ہے:
’’ وہابیہ کا معِلّم اوّل ابن عبدالوہاب نجدی اور معلمِ ثانی اسمٰعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان دونوں سخت گمراہ بددین تھے۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ: ۲۹/رسالہ امورِ عشرین درامتیازِ عقائد سُنّیین)
ایک مقام پر ان کے خلاف طول طویل بحثیں کی ہیں اور دلائل وشواہد کے انبار لگادیے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تکفیر کے معاملے میں کف لسان اور احتیاط کا موقف اختیار کیا ہے۔ تکفیر کے حوالے سے بہت سے اقوال نقل کرنے کےبعد آخر میں لکھتے ہیں:
’’ ہمارے نزدیک مقام احتیاط میں اِکفارسے کف لسان ماخوذ مختار ومرضی ومناسب۔ واللہُ سبحٰنَہُ وَتَعَالٰی اَعلَم‘‘
(فتاویٰ رضویہ: ۱۵/۲۳۶)
ان حوالوں سےوہابیت کے تعلق سے فاضل بریلوی کے موقف کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اگر ان کے خلاف ان کی کوئی ایسی عبارت آتی ہے جس میں تکفیر کا پہلو نکلتاہو تو تطبیق کی صورت یہی ہوگی کہ وہ کفر فقہی لزومی کے تو قائل ہیں مگرکفر کلامی التزامی کے قائل نہیں ہیں اور یہی ان کا اصل مذہب ہے ، کیوں کہ وہ جگہ جگہ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ تکفیر کے باب میں میرا مسلک متکلمین محققین کا ہےاور متکلمین محققین کے نزدیک کفر لزومی حقیقت میں کفر ہی نہیں ہوتا، کیوں کہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ لازم المذھب لیس بمذھب یعنی جو نظریہ کسی کی واضح صراحت سے ثابت نہ ہو، بلکہ اس کے کسی دوسرے قول سے لازم آئے، اسے اس کانظریہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔
جدید دور میں علماے عرب کی بڑی تعداد وہابیت کارد کرتی ہے۔ان رد کرنے والوں میں ڈاکٹرمحمدسعید رمضان بوطی(۲۰۱۳ء) اور شیخ یوسف ہاشم رفاعی(۲۰۱۸ء) کے نام نمایاں ہیں۔لیکن یہ حضرات بھی وہابیہ کی تکفیر نہیں کرتے بلکہ شیخ رفاعی کی ایک کتاب نَصِیحَۃٌ لِاِخوَانِنا عُلَماءِنَجد عرب دنیامیں بہت مشہور ہوئی۔اس پر ڈاکٹر سعید رمضان بوطی کا مقدمہ ہے۔ان دونوں بزرگوں نے نجدی علماکی تکفیر کرنے کے بجائے انہیں مکالمے کی میز پر بلایا ہے اوروہابیت اور صوفیت کی جنگ ختم کرنے کی دعوت دی ہے اور دونوں نے علماے نجد کو ایک دینی بھائی کے طورپرمخاطب کیا ہے۔
اس پوری گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہابیہ پر خواہ جتنی جہت سے سخت تنقید ات کی گئی ہوں، لیکن اس کےباوجود اہل سنت کے بڑے سخت گیر اور ناقد علما نے بھی انہیں مسلمان ہی سمجھا ہے۔اس لیے ان کے ذبیحہ کے تعلق سے علامہ مدنی میاں نے جو کچھ کہا ہے،نہ صرف یہ کہ ایک درست موقف کا اظہار ہے، بلکہ یہ موقف ان بے شمار علما کے مطابق ہے جو ماضی میں وہابیت کے خلاف نبرد آزما رہے ہیں۔
دیوبندی کا ذبیحہ
علامہ سید محمد مدنی میاں سے اصل سوال وہابی کے ذبیحے سے متعلق کیا گیا تھا، لیکن جس طرح انہوں نے اصولی طورسے اہل بدعت کے ذبیحے کا حکم بیان کردیا، اسی طرح ضمنی طور سے وابستگان دیوبندیت کے ذبیحے کا حکم بھی بیان فرمادیا۔ فرماتے ہیں:
’’ان وہابیوں[دیوبندیوں] کے اندر کون درجۂ کفر تک پہنچا ، ہمارے جلیل القدر علما جب انہوں نے پہچان کرائی، تو صرف پانچ ہیں۔درجۂ کفر تک پہنچنے والے پانچ ہیں۔ اور ان کا کفر ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ ان کی کتابیں مشہور ہیں۔ وہ پانچ ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والے جو ان کے کفر کو نہیں جانتے، وہ بھی کافر نہیں۔ کافر ہونے کے لیے ان کا کفر جاننا ضروری ہے۔ یہ پانچ تو ہیں وہ جنہوں نے کفر کیا۔ اور میں سمجھتا ہوں پانچ ہزار پانچ لاکھ ہوں گے وہ جو ان کے پیچھے چلتے ہیں۔ مگر وہ جانتے ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کفر کیا۔ جب جانتے ہی نہیں تو اس کا کچھ نہیں۔ وہ گمراہ رہیں گے۔ ان سے بچنا ضروری ہے۔ ان سے ، گمراہ سے دور رہنا اچھا ہے۔ ضروری ہے، لازمی ہے۔وہ سب بات صحیح ہے۔مگر شرعی مسئلہ اگرآپ پوچھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کا ذبیحہ کیسا ہے؟ تو اس کے لیے تو کفر کا قطعی علم ہونا چاہیے۔ اور جو کسی کو ہوتا نہیں ہے۔ نہیں ہوتا۔ بہت سارے مولوی حضرات بھی ہیں، ان کو بھی نہیں ہوتا۔ وہ نہیں جانتے۔ کفر کو نہیں جانتے۔ اب سوچیے اتنی بڑی دنیا میں صرف پانچ کو کافر کہنا اور باقی کو گمراہ کہہ کے چھوڑ دینا، اس میں بھی تو کوئی حکمت ہے۔ اس میں تو کوئی مصلحت ہے۔ آپ نے جو سوال کیا ہے، ذبیحے والا معاملہ، آپ یقین جانیے اور امید رکھیے کہ جتنے ذبیحہ کرنے والے ہیں، وہ [عام قصاب ہیں جو]درجۂ کفر تک نہیں پہنچے ہیں۔ لہٰذا ان میں کرید کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
Kya wahabi dewbandi ka zabeeha Jaiz hai? Allama saiyad Madani Miyan
اس پوری عبارت میں علامہ مدنی میاں نے اگرچہ دیوبندی کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے، بلکہ وہابی کا لفظ استعمال کیاہے- جیسا کہ عام طور پر بریلوی حلقے میں دیوبندیوںکو بھی وہابی کہا جاتا ہے-مگر درست بات یہ ہے کہ یہ بیان دیوبندیوں سے متعلق ہے،کیوں کہ اس میں جن علما کی تکفیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ علماے دیوبند ہیں، جن کی تکفیراعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی نے حسام الحرمین میں کی ہے۔
یہاں اولاً یہ بات سمجھنے کی ہے کہ علماے دیوبند کی تکفیر فاضل بریلوی اور بعض دیگر علما نے کی، لیکن اس عہد میں اکابر علماےاسلام کی ایسی بڑی تعداد ہے جو اس تکفیر سے متفق نہیں ہے۔ لہٰذااس تکفیر کا وہ درجہ نہیں ہوسکتا جو کسی اجماعی تکفیر کا ہوتا ہے۔ آج بھی عرب اوردیگر بلادشرق وغرب میں انہیں عام طور سےحنفی ماتریدی علما کے طور پر ہی جانا جاتا ہے۔جہاں تک تصوف کی بات ہے تو وہ اپنے اعتبار سے تصوف کی اصلاح کے ساتھ اس کے قائل ہیں، جب کہ اپنے مخالفین کی نظر میں وہ تصوف کی بعض باتوں کے قائل ہیں، جب کہ بعض کے منکر ہیں۔لیکن بہر کیف، ان کی تکفیر نہ تو اجماعی ہے اور نہ ہی جماعتی اور گروہی۔ عالم اسلام قادیانیوں کی طرح نام زد طور پر ان کی جماعتی تکفیر نہیں کرتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ وہ حضرات علما جن کی فاضل بریلوی نے تکفیر کی، وہ دنیا سے رخصت ہوگئے، اب ان کے ذبیحے کی حلت وحرمت کا مسئلہ بھی نہیں رہا، بلکہ وہ رہتے تو بھی عملاً اس مسئلے کا سامنا شاید ہی کسی کو ہوتا۔
اب رہا یہ سوال کہ ان کے متبعین جو لاکھوں کی تعداد میں برصغیر اور باہر کی دنیا میں موجود ہیں، ان کے ذبیحے کا کیا حکم ہے؟تو ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب اس وقت معلوم ہوگا جب یہ معلوم ہو کہ ان پر حکم کفر ہے یا نہیں ہے؟ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ علماے دیوبند کی تکفیر کرنے والے بریلوی علما کے یہاں بھی ان کی تکفیر افرادی تکفیر ہے، جماعتی تکفیر نہیں ہے۔ یعنی اس وقت کوئی بھی مستند بریلوی عالم پوری دیوبندی جماعت کی تکفیر نہیں کرتا، بلکہ چند افراد کی نام زد طور پر تکفیر کرتا ہے۔علامہ سید محمد مدنی میاں کا مذکورہ جواب اس تناظر میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت علامہ کا شمار اس وقت بریلوی دنیا میں نمبر ایک عالم کے طور پر ہوتا ہے، یا کم از کم وہ صف اول کے منتخب ترین علما میں تسلیم کیے ہی جاتے ہیں۔ ہماری دانست میں بریلوی حلقے کے دیگر اکابر کا بھی تقریباً وہی موقف ہے جو حضرت والا کا ہے، الا ماشاء اللہ۔
بریلوی علما میں جو حضرات اس فکر سے مختلف ہیں،وہ بھی کھل کر عام دیوبندیوں کی تکفیر نہیں کرتے، بلکہ وہ ایک مبہم اور عمومی بات کہتے ہیں کہ جو بھی علماے دیوبند-جن کی فاضل بریلوی نے تکفیر کی ہے-کے کفر پر شرعی اطلاع کے بعد بھی انہیں مسلمان سمجھتا ہے، وہ کافر ہے۔ اس مبہم بیانیے کے بعد بہت سے بریلوی علما وہ ہیں جو متعین طور پر کسی بھی دیوبندی عالم یا جاہل کی تکفیر نہیں کرتے، سواے ان کے جن کی تکفیر حسام الحرمین میں ہوچکی ہے۔ صف اول کے ممتاز بریلوی فقیہ ومناظر علامہ مفتی محمدمطیع الرحمٰن مضطر رضوی نے میرے اور میرے احباب کے سامنے اپنا موقف بھی یہی بیان کیا اور کہا کہ جن چار علماے دیوبند کی حسام الحرمین میں تکفیر کی گئی ہے، ان کے علاوہ میں کسی پانچویں دیوبندی کی تکفیر نہیں کرتا، یہاں تک کہ میں مولانا انور شاہ کشمیری اور قاری محمد طیب کی بھی تکفیر نہیں کرتا۔ بعض جو ان سے سخت ہیں وہ دیوبندی علما کی تکفیر تو کرتے ہیں، مگر عوام کی نہیں کرتے۔ البتہ اس جماعت میں ایک شرذمہ قلیلہ ایسا ہوسکتاہے جو عوام وخواص سب کی تکفیر کی جرات کرتا ہو ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ چوں کہ عوام وخواص کم از کم ان علما کو اپنا پیشوا تو سمجھتے ہی ہیں جن کے کفر پر اعلیٰ حضرت نے فتویٰ دیا ہے اور ہمارے علما نے بار بار اسے واضح کردیا ہے، لہٰذا وہ سب کافر۔یہ حضرات بے چارے عوام پر اسی طرح کفر کا مقدمہ چلاتے ہیں جس طرح کسی شاعر نے اپنےاس شعر میں پروانوں کے قتل کا الزام شہد کی مکھیوں پر ڈال دیا ہے:
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانوں کا ہوگا
بہر کیف! اگر حسام الحرمین کی تکفیر کو درست مانا جائے پھر بھی دیوبندیوں اور ان کے ذبیحے کے بارے میں وہی حکم ہوگا جو علامہ سید مدنی میاں نےیہاں بیان فرمایا ہے۔ کتاب وسنت اور قیاس وبصیرت سے انہیں کے موقف کی درستگی ثابت ہوتی ہے۔ اس تعلق سےمزید تفصیل وتوضیح شبہہ نمبر چار اور پانچ کے ذیل میں ملاحظہ کیجیے۔
چند شبہات اور ان کا ازالہ
علامہ مدنی میاں کے مذکورہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر اختلاف بلکہ بدتمیزی کا ایک طوفان امنڈ آیا۔ بدتمیزیوں سے قطع نظر ، حضرت موصوف کے بیان پر جو سوالات اٹھائے گئے ہیں، ان میں سے بعض کا اجمالی تجزیہ ضروری ہے۔ اس کے بغیر یہ بحث ادھوری رہے گی۔
پہلا شبہہ-حکم کفر صرف پانچ پر کیوں؟
علامہ سید محمد مدنی میاں کےبیان کے رد عمل میں موجودہ اکابربریلوی علما کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا، جو توقع کے عین مطابق ہے۔ بعض اصاغر -جوچائے سے زیادہ پیالی گرم کے مصداق ہیں-اس میدان میں کود پڑے۔ ایک صاحب نے لکھا کہ علامہ مدنی میاں کا یہ بیان اس لیے غلط ہے، کیوں کہ انہوں نے وہابی حلقے سے صرف پانچ کی تکفیر کا ذکر کیا ہے، جب کہ پوری جماعت وہابی اسلام سے خارج ہے۔
اس بیان سے کم از کم اتنا واضح ہوتا ہے کہ عالم اسلام کے عام علماے اہل سنت کے برخلاف ہندوستانی بریلوی حلقے میں ایک گروہ پرلے درجے کا خارجی مزاج اورتکفیری ہے۔ عالم اسلام کی گنگا الگ بہتی ہے اور اس تکفیری گروہ کا نالہ خوارج کی طرح الگ بہتا ہے۔ اللہ کریم انہیں ہدایت بخشے۔ یہ لوگ فی الواقع اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی سے بھی خود کو زیادہ سخت سنی ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں اور دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ فتاویٰ رضویہ سے بعض عبارات بھی لے کر آتے ہیں، جو اپنے آپ میں مجمل ہیں۔ ایسے حوالات سے استدلال کرنے والوں کے بارے میں مفتی محمد عثمان برکاتی مصباحی (قاضی نیپال )نے بجا طور پر یہ لکھا ہے:
’’جہاں جہاں میرے امام[اعلیٰ حضرت بریلوی]نے مطلق لفظ ’’وہابی‘‘ پر حکم کفر دیا ہے، وہ عبارت مجمل ہے اور جہاں جہاں قیود وشرائط سے مقید ومشروط فرمائی ہے، وہاں وہاں مفسَّر[توضیح شدہ] ہے۔ لہٰذا اب اگر کوئی مطلق لفظ وہابی دیوبندی سن کر حکم کفر لگاتا ہے، ایسوں کے لیے مجھ ناچیز کا خیال یہ ہے کہ یا تو وہ لوگ فتاویٰ رضویہ کو سمجھتے نہیں، یا پھر قصداً فتاویٰ رضویہ کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔ ‘‘
Qazi E Nepal Muhammad Usman Barkati - Facebook Post
ایک بات اور بہت اہم ہے، وہ یہ کہ اہل سنت کے موقف کو سمجھنے کے لیے صرف فتاویٰ رضویہ پر ہی انحصار کیوں؟ بریلوی کوئی فرقہ تو ہے نہیں کہ بانی فرقہ کے علاوہ اس حلقے میں کسی اور کی بات نہ سنی جائے۔ اگر بات اہل سنت کی ہے تو عرب وعجم کے دیگر علماےاہل سنت کا بیان بھی دیکھنا چاہیے۔ قابل ذکر ہے کہ بریلوی حلقے کا تکفیری ٹولہ کاٹ چھانٹ کر فتاویٰ رضویہ سے مجمل عبارات تو اپنے موقف پر پیش کرسکتا ہے، مگر عرب وعجم کے اکابر علماے اہل سنت میں سے کسی اور کا بیان ان کی تکفیری فکر کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ اس تعلق سے پچھلے صفحات میں ’’وہابی کا ذبیحہ‘‘کے ذیل میںبعض مشاہیر اہل سنت کے حوالے دیکھے جاسکتے ہیں۔
دوسرا شبہہ-وہابی کم از کم کافر فقہی تو ہیں؟
ایک دوسرا اعتراض یہ آیا کہ بدعتی کا ذبیحہ تو درست ہے، لیکن وہ بدعتی جس کی بدعت حد کفر تک پہنچ گئی ہو، اس کا ذبیحہ جائز نہیں اور فاضل بریلوی نے وہابیہ کا شمار اسی میں کیا ہے۔اس سلسلے میں فاضل بریلوی کی حسب ذیل عبارت پیش کی جاتی ہے:
’’قادیانی صریح مرتد ہیں۔ ان کا ذبیحہ قطعی مردار ہے۔ اور غیر مقلدین وہابیہ پر بوجوہ کثیرہ الزام کفر ہے۔ ان میں جو منکر ضروریات دین ہیں وہ تو بالاجماع کافرہی ہیں، ورنہ فقہائے کرام ان پر حکم کفرفرماتے ہیں اور ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے، خصوصاً وہی احتیاط کہ مانع تکفیر ہو، یہاں ان کے ذبیحہ کے کھانے سے منع کرتی ہے کہ جمہور فقہاء کرام کے طورپر حرام ومردار کا کھانا ہوگا، لہٰذا احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، جلدنمبر: ۲۰، مسئلہ نمبر ۹۶)
یہ بات کئی جہات سے محل نظر ہے:
اولاً- فاضل بریلوی نے یہاں قادیانی اور وہابی کا فرق کیا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ لہٰذا جو قطعی حکم قادیانیوں کے کفر اور ان کے ذبیحے کا ہے ، وہ اہل توہب کے کفر و ذبیحے کا نہیں ہے۔یہ فرق بہت سے ابہامات کو واضح کردیتا ہے۔
ثانیاً- فاضل بریلوی کی تحقیق کے مطابق ’’ غیر مقلدین وہابیہ‘‘پر صریح اور قطعی حکم کفرنہیں ہے، بلکہ الزام کفر ہے، جسے بعض متاخر فقہا قبول کرتے ہیں، لیکن محققین-فقہا ومتکلمین- کے نزدیک لزوم کفر کفر نہیں ہے، اس لیےاصولاً ان کے نزدیک بھی وہابی مسلمان ٹھہرے اور ان کا ذبیحہ حلال ہوا۔
رہا یہ دعویٰ کہ لزوم کفرکا کفرہونا فقہاے محققین کا مذہب نہیں ہےتو اس کی دلیل علامہ ابن ہمام کا یہ ارشاد ہے۔ممتاز حنفی فقیہ علامہ کمال الدین ابن ہمام (۱۴۵۷ء)-جنہیں فاضل بریلوی محقق علی الاطلاق کے لقب سے یاد کرتے ہیں- کفر لزومی کو کفر نہیں سمجھتے اور نہ اس پر تکفیر درست سمجھتے۔ آپ خوارج کے تعلق سے فرماتے ہیں:
هَؤُلَاءِ يُسَمَّونَ بِالْخَوَارِجِ يَسْتَحِلُّونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالَهُمْ وَيَسْبُونَ نِسَاءَهُمْ وَيُكَفِّرُونَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَحُكْمُهُمْ عِنْدَ جُمْهُورِ الْفُقَهَاءِ وَجُمْهُورِ أَهْلِ الْحَدِيثِ حُكْمُ الْبُغَاةِ.۔۔۔نَعَمْ يَقَعُ فِي كَلَامِ أَهْلِ الْمَذَاهِبِ تَكْفِيرٌ كَثِيرٌ وَلَكِنْ لَيْسَ مِنْ كَلَامِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ هُمْ الْمُجْتَهِدُونَ بَلْ مِنْ غَيْرِهِمْ، وَلَا عِبْرَةَ بِغَيْرِ الْفُقَهَاءِ، وَالْمَنْقُولُ عَنْ الْمُجْتَهِدِينَ مَا ذَكَرْنَا۔(فتح القدير،كِتَابُ السِّيَر، بَابُ الْبُغَاةِ،۶/۱۰۰)
’’انہیں خوارج کہاجاتا ہے، یہ مسلمانوں کے جان و مال کو مباح سمجھتے ہیں، مسلم عورتوں کو قیدی بناتے ہیں اور اصحاب رسول ﷺ کی تکفیر کرتے ہیں۔ جمہور فقہا اور محدثین کے نزدیک وہ باغیوں کے حکم میں ہیں۔ ۔۔ہاں! مذاہب فقہ کےعلما کی عبارات میںان کے حوالے سے کثرت سے تکفیر کا قول بھی منقول ہے، لیکن یہ مجتہد فقہا نہیں ہیں، یہ غیر مجتہد ہیںاور غیر مجتہد فقہا کے اقوال ناقابل اعتبار ہیں۔ مجتہدین سے وہی منقول ہے جو ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ ‘‘
علامہ ابن ہمام کی اس تحقیق کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ لزوم کفر پر تکفیر، محققین- بشمول فقہا ومتکلمین اور محدثین-کا مذہب نہیں ہے، بلکہ متاخر فقہا کی کتابوں میں ایسی باتیں آگئی ہیں ، جو فقہاے مجتہدین کے خلاف اور ناقابل اعتبار ہیں۔ ایسے میں اہل توہب پر لزوم کفر کی بنیاد پر بھی سرے سے تکفیر نہیں بنتی، نہ متکلمین ومحدثین کے نزدیک اور نہ ہی فقہاکے نزدیک۔لزوم کفر کے کفر نہ ہونے کی تفہیم میں مفتی مطیع الرحمٰن مضطر کی کتاب اہل قبلہ کی تکفیر (ص: ۳۴)کا یہ حاشیہ بہت مفید ہے:
’’نبر اس میں ہے: اِنَّہُ قَد تَقَرَّرَ فِی الشَّرعِ أَنَّ التزامَ الکُفرِ کُفرٌ لَا لُزومُہُ۔(ص: ۱۲۸ ([2]) حاشیہ خیالی میں ہے: اللُّزُومُ غَیرُالاِلتِزامِ وَلَا کُفرَ اِلَّا بِالاِلتِزَامِ۔ (ص: ۹۸،۹۹)([3])فواتح الرحموت میں ہے: وَأَمَّا لُزُومُھُم تَکذِیبَ مَا ثَبَتَ قَطعاً أَنہَّ دِینٌ مُحَمَّدِیٌّ فَلَیسَ کُفراً،وَاِنَّمَا الکُفرُ اِلتِزامُ ذٰلِکَ۔ (ج۲،ص۲۴۴)([4])
اسی میں ہے: لُزُومُ الکُفرِ لَیسَ بِکُفرٍبَل اِلتِزامُہُ([5])
، فتاویٰ حدیثیہ میں ہے: وَضَابِطَۃُ الاِعتِقَادِ أَنَّ مَن أَثبَتَ لَہُ تَعَالیٰ مَاھُوُ صَرِیحٌ فِی النَّقصِ کُفِّرَوَمَا ھُو مَلزُومٌ لِلنَّقصِ لَم یُکَفَّر، لِأَنَّ الأَصَحَّ أَنَّ لَازِمَ المَذھَبِ لَیسَ بِمَذھَبٍ۔ (ص۲۰۰)([6])
ثالثاً- اس قدر وضاحت کے بعد اب فاضل بریلوی کا یہ ارشاد’’ فقہائے کرام ان پر حکم کفرفرماتے ہیں‘‘بھی محتاج تبصرہ نہیں رہ جاتا۔
رابعاً-عام فقہی کتب میں مذکور کفریات پر حکم کفر سرے سے درست ہی نہیں ہے، یعنی محققین ومجتہدین کے برخلاف کفر لزومی پر تکفیر کرنا سرے سے غلط ہے۔ فاضل بریلوی کے بعض ارشادات سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’کسی قول یافعل کا موجب کفر ہوناتو خود افعالِ مکلفین ہی سے بحث ہے۔ اس کے بیان کو کتب فقہ میں ‘باب الردۃ مذکور اور صدہا اقوال وافعال پر انہی مشائخ کے بےشمار فتوائے کفر مسطور، مگر محققین محتاط تارکین تفریط وافراط باآنکہ سچے دل سے حنفی مقلد اور ان مشائخ کرام کے خادم و معتقد ہیں،زینہار ان پر فتوی نہیں دیتے اور حتی الامکان تکفیر سے احتراز رکھتے بلکہ صاف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی روایت ضعیفہ اگر چہ دوسرے ہی مذہب کی دربارہ اسلام مل جائے گی اسی پر عمل کریں گے، اور جب تک تکفیر پر اجماع نہ ہولے کافر نہ کہیں گے، وہی درمختار جس میں اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ الخ تھا اسی میں ہے:
الفاظہ تعرف فی الفتاوٰی بل افردت بالتالیف مع انہ لا یفتی بالکفر بشیئ منھا الا فیما اتفق المشایخ علیہ کما سیجیئ، قال فی البحر: وقد الزمت نفسی ان لا افتی بشیئ منھا یعنی الفاظ کفر کتب فتاوٰی میں معروف ہیں بلکہ ان کے بیان میں مستقل کتابیں تصنیف ہوئیں، اس کے ساتھ ہی یہ کہ ان میں سے کسی کی بناء پر فتوی کفر نہ دیاجائےگا مگر جہاں مشائخ کا اتفاق ثابت ہو جیسا کہ عنقریب کلام مصنف میں آتا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا: میں نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ ان میں سے کسی پر فتویٰ نہ دوں۔۔۔مگراصالۃً اس مسئلہ کافن علم عقائدوکلام، وہاں تحقیق ہوچکا ہے کہ جب تک ضروریات دین سے کسی شئے کاانکارنہ ہو کفرنہیں، تو ان کے غیرمیں اجماع ہرگز نہ ہوگا اور معاذاﷲ ان میں سے کسی کاانکارہوتو اجماع رُک نہیں سکتا، لہٰذا تمام فتاوٰیٰ ونقول سے قطع نظر کرکے مسائل اجماعیہ میں حصر فرمادیا۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ: ۹/ ۹۴۱،۹۴۲)
خامساً- رہا آپ کا یہ فرمانا کہ ’’ذبیحہ کا حلال ہونا نہ ہونا حکم فقہی ہے‘‘تو محقق علی الاطلاق([7])، صاحب الدر المختار علامہ حصکفی، دیگر فقہاے اکابر ، حتیٰ کہ خود’’ تحقیق رضوی ‘‘ سے واضح ہوا کہ فقہاے محققین کے مذہب کے مطابق لزوم کفر کفر ہے ہی نہیں، لہٰذا وہابی-لزوم کفر کے مقدمے کی باوجود بھی- فقہاے محققین کے نزدیک مسلمان ٹھہرے،اس لیےفقہاے مجتہدین کے مطابق ان کا ذبیحہ بھی جائز ٹھہرا۔ رہے فقہاے متاخرین جو لزوم کفر پر کفر کا اطلاق کرتے ہیں تو بقول علامہ ابن ہمام یہ مجتہد فقہا نہیں ہیں، یہ غیر مجتہد ہیںاور غیر مجتہد فقہا کے اقوال اس سلسلے میں ناقابل اعتبار ہیں۔کیوں کہ ان کے یہ اقوال فقہاے مجتہدین کے اقوال کے خلاف ہیں۔
سادساً- فاضل بریلوی کا یہ فرمانا’’خصوصاً وہی احتیاط کہ مانع تکفیر ہو، یہاں ان کے ذبیحہ کے کھانے سے منع کرتی ہے‘‘غلو فی الاحتیاط کے باب سے ہے۔ یہ احتیاط وتقویٰ کا وہی طریق ہے جس پر چل کر امام زفر نے غیبت کو مفسد صوم قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ تقوے کا یہ معیار فتوے میں تو نہیں چل سکتا۔پھر احتیاطی ممانعت، حرمت کو ثابت نہیں کرتی۔ اس مقام پر ان علماے معاصرین کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جو یہاں فاضل بریلوی کی احتیاطی ممانعت سے حرمت ذبیحہ تو ثابت کرلیتے ہیں، لیکن ان کے احتیاطی عدم تکفیر- جوبشمول فقہا ومتکلمین ومحدثین تمام محققین کا مذہب ہے-کو پورے طور سے ہضم کرجاتے ہیں اور ڈکار بھی نہیں لیتے۔
سابعاً- مذکورہ بالا احتیاطی ممانعت فقہاے متقدمین کے یہاں نہیں ملتی، بلکہ یہ قول مطلقاً ملتا ہے کہ مسلمان کا ذبیحہ حلال ہے، یہاں تک کہ مسلمان ذبح کرتے وقت اللہ کا نام بھول جائے تو بھی وہ ذبیحہ جائز ہے، یہاں تک کہ شوافع کے نزدیک اگر اس نے عمداً اللہ کا نام نہیں لیا تو بھی جائز ہے۔اسی طرح کتابی جو قطعی کافر ہیں، ان کا ذبیحہ بھی حلال ہے، یہاں تک کہ حضرت عطا، مکحول، حسن بصری، شعبی اورسعید بن مسیب سے منقول ایک قول- جسےائمہ مجتہدین نے رد کردیا ہے-کے مطابق اگر کتابی نے سیدنا مسیح کا نام لیا تو بھی جائز ہے۔ اب ایسے میں موجودہ حالات کے تناظر میں وہابی -جو فی الواقع اہل قبلہ ہیں-ان کے ذبیحہ کو عمومی طور پر حرام ٹھہرانا کس قدرتحقیق سے پرے بات ہے۔
ثامناً- اس قسم کی شگوفہ بیانی کرنے والے بعض حضرات نے اس سلسلے میں فاضل بریلوی کا قول تو پیش کیا ہے، لیکن خود فاضل بریلوی نے اس کے لیے کوئی حوالہ نہیں دیا ہے اور فاضل بریلوی کوئی مجتہد مطلق نہیں کہ ان کی بات بلا حوالہ تسلیم کرلی جائے۔ فقہی مسئلہ کتاب وسنت اور اجماع واجتہاد سے حوالہ چاہتا ہے، اس کے بغیر بات ادھوری ہوتی ہے اور مذکورہ بالاحوالہ جات سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس قسم کے خیالات محققین کے مطابق درست نہیں ہیں۔
الغرض ! ایمان وکفر کے باب میںمحققین کے یہاں صرف ضروریات دین کے انکار سے کوئی شخص کافر ہوتا ہے اور حقیقت میں وہی بدعت، بدعت مکفرہ ہے، جو ضروریات دین کے انکارپر مشتمل ہو اور اس بات پر عرب وعجم اور حل وحرم کے علما کا اجماع ہے کہ وہابی جماعتی حیثیت سے ضروریات دین کے منکر نہیں ہیں۔ متکلمین محققین کے مذہب پر جب فاضل بریلوی بات کرتے ہیں تو ان کا موقف بھی یہی ہوتا ہے۔ ایسے میں لازمی طور پر عند التحقیق ان کا مسلمان ہونا ثابت ہوا اور جب ان کا مسلمان ہونا عند التحقیق ثابت ہوا، پھر ان کا ذبیحہ کیوں کر حرام ہوسکتا ہے؟
تاسعاً- عالم اسلام کی قدیم ترین درس گاہ اور عظیم ترین مرکزِ اسلام وسنیت جامعۃ الازہر مصر ہے۔ وہاں کے علما نے وہابیت پر اپنی تمام ترتنقیدات وتعاقبات کے باوجود وہابی کو مسلمان ہی تسلیم کیا ہے۔ عالم اسلام کے دیگر عظیم مراکز اور شخصیات کا بھی تقریباًیہی موقف ہے۔ایسے میں مذکورہ بالا قول نہ صرف خلاف تحقیق ہے، بلکہ غایت احتیاط کے مفروضے پر ایک شاذ قول ہے، جس پر کم از کم موجودہ حالات میں فتویٰ دینا قطعاً غیر مناسب ہے۔ آج عالم کفر مسلمانوں پر ٹوٹاپڑا ہے۔ خصوصاً ہندوستان میں مسلمان اپنی شناخت، اپنے مساجد ومدارس بلکہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، ایسے میں احتیاط کے نام پر مسلمانوں کی صفوں میں اس قسم کی تفریق وتضعیف علم واخلاق اور فکروبصیرت سے کس قدر دوری کی بات ہے، بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ علامہ مدنی میاں دام ظلہ العالی نے یقیناً انہیں پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے اہل توہب کے ذبیحے کے تعلق سے وہ موقف پیش کیا ہے جو نہ صرف حالات زمانہ کے عین مطابق ہے، بلکہ وہی موقف عند التحقیق فقہا، محدثین اور متکلمین کا درست موقف بھی ہے۔
تیسرا شبہہ-وہ ہمیں مشرک کہتے ہیں!
اس سلسلے میںایک تیسرا اعتراض یہ آیا کہ وہابیہ ہمیں مشرک کہتے ہیں اور ہم یقیناً مسلمان ہیں۔ اب مسلمان کو کافر ومشرک کہنے والے مسلمان کیسے ہوسکتے ہیں۔ پھر یہ کہ کفر کسی ایک طرف لوٹتا ہے تو لامحالہ وہ کافر ہوئے۔
یہ اعتراض عوام اور علماے اصاغر کی نظر میں بہت وزن رکھتا ہے، مگر اہل فہم پر اس قسم کے اعتراضات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔وہ تو حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے مسلک پر ہیں جنہوں نے اپنی تکفیر کرنے والے خوارج کو کافر ومشرک یا منافق کہنے کے بجائے ’’باغی بھائی‘‘کہنا پسند کیا۔
جہاں تک کفر کے کسی ایک طرف لوٹنے والی اس حدیث کی بات ہے تواس کی تخریج امام بخاری نے ان الفاظ سے فرمائی ہے: اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا.جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہہ کر مخاطب کرتاہےتو کفر ان میں سے کسی ایک کی طرف ضرور لوٹتا ہے۔(صحیح البخاری،كِتَابُ الأَدَبِ، بَابُ مَنْ كَفَّرَ أَخَاهُ بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ فَهُوَ كَمَا قَالَ)
واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد فتنۂ تکفیر کو حتی الامکان روکنے اور احترام کلمہ قائم فرمانے کے لیے ہے۔ یہ ارشاد تکفیر کرنے والو ںکو متنبہ کرتا ہے کہ اس میں ذرا بےاحتیاطی بہت مہنگی پڑسکتی ہے اور یہ کہ جرات تکفیر انسان کو ایمان کی بےتوقیری تک پہنچا سکتی ہے جو کفر ہے۔ لیکن افسوس کہ تکفیریوں اور فتنہ پروروں نے اس ارشاد سے نصیحت اور عبرت لینے کے بجائے اپنے فتنے کو مزید تیز کردیا۔ اب ان کے لیے ایک وجہ تکفیر اور مل گئی اور وہ یوںکہ وہ سارے تکفیر کرنے والے جن کی تکفیر سے وہ راضی نہیں تھے، خود ہی ان سب کی تکفیر کرنے بیٹھ گئے۔ والعیاذ باللہ!
اس حدیث کی درست تفہیم کے لیےسب سے پہلے ہمیں اس حدیث کے عنوان باب کو دیکھنا چاہیے۔ امام بخاری نے اس کے لیےجو عنوان قائم کیا ہے،وہ یہ ہے: بَابُ مَنْ كَفَّرَ أَخَاهُ بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ فَهُوَ كَمَا قَالَ.امام بخاری نے اس عنوان باب سے اس حدیث کے درست مفہوم کی طرف اشارہ کردیا ہےاور وہ یہ کہ اگرچہ حدیث کاظاہرلفظ ان سب کے کفر کامتقاضی ہے جو دوسرے مسلمانوںکی تکفیر کرتے ہیں، لیکن اس سے مطلوب درحقیقت وہ لوگ ہیں جو بے بنیاد اور بے دلیل، محض ذاتی وگروہی عصبیت کی بنیاد پر دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں۔اس بات کی مزیدتوثیق کے لیےشروحات حدیث دیکھنی چاہیے۔ یہاں حجۃ الاسلام امام محمدغزالی(۱۱۱۱ء)کا یہ ارشاد ملاحظہ کیجیے:
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ میں ان کی تکفیر کروں گا جو میری تکفیر کریں گے اور جو میری تکفیر سے گریز کریں گے میں بھی انہیں کافر قرار نہیں دوں گا۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے؛ کیوں کہ یہ قول کہ ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ منصب امامت کے زیادہ حق دار ہیں‘‘ کفر نہیں ہے ، لہٰذااگر اس قول کا قائل غلطی سے اپنے مخالف کو کافر گمان کرے تو اس ظن و تخمین کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوگا۔ہاں! مسئلہ شرعیہ میں یہ اس کی خطاہوگی۔ چناں چہ کسی حنبلی کو باری تعالیٰ کے لیے اثبات جہت کی بنا پر کافر نہیں قرار دیا جا سکتا۔اب اگروہ حنبلی غلطی سے یہ گمان کرنے لگے کہ جو شخص جہت کی نفی کرتا ہے مکذِّب ہے، مؤوِّل نہیں، تو اس غلط ظن کی بنا پر بھی اسے کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ رہا حضوراکرم ﷺ کا یہ فرمان کہ ’’دو مسلمانوں میں سے کوئی ایک دوسرے پر کفر کی تہمت لگائے تو یہ کفر ان میں سے کسی ایک کی طرف لوٹے گا‘‘([8]) تو اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ تکفیر کرنے والا دوسرے مسلمان کی حالت و کیفیت جاننے کے بعد تکفیر کرے گا تو یہ حکم ہوگا۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کے متعلق جانتا ہے کہ وہ حضور ﷺ کی تصدیق کرتا ہے، اس کے باوجود وہ اسے کافر قرار دیتا ہے تو تکفیر کرنے والا کافر ہو جائے گا اور اگر اس نے اس شخص کی تکفیر اس گمان کی بنا پر کی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والا ہے تو یہ ایک مومن کے بارے میں اس کی فاحش غلطی ہے کہ اسے وہ کافر اور مکذب رسول سمجھتا ہے جب کہ وہ ایسا نہیں ہے اور یہ خطا کفر نہیں ہے۔(فیصل التفرقۃ، آخری صفحہ)
اس تعلق سےاب ایک ارشاد فاضل بریلوی کی بھی سن لیجیے۔ بات چل رہی تھی ان وہابیہ کی جو جناب رسالت مآب ﷺ کے نام سنتے وقت انگوٹھے چومنے کو حرام و کفر اور چومنے والوں کو کافر کہتے ہیں،فاضل بریلوی نے ان کے رد میں دلائل و شواہد کے انبار لگا دیے اور متعدد طرق سے ان کے انحرافات کوواضح کیا۔لیکن کیا وہ متشددین مسلمانوں کی تکفیر کی پاداش میں خود کافر ہوجائیں گے؟ فاضل بریلوی لکھتے ہیں:
’’تاہم کسی پر کفر کا حکم بہت بڑا معاملہ ہے۔ دائرہ اسلام سے کسی شخص کو خارج نہیں کرتا مگر اسلام میں داخل کرنے والے امر کا انکارجب کہ تقبیل کا عمل حضرت آدم علیہ السلام یا دیگر انبیاء علیہم السلام سے پایہ ثبوت کو نہیں پہنچا، چہ جائیکہ درجہ تواتر کو پہنچے اور ضروریات دین کے درجہ میں ہوجائے، ان لوگوں کا اس عمل سے انکار صرف اس بات پر مبنی ہے کہ یہ عمل ثابت نہیں نہ کہ ثابت مان کر ازراہ اہانت انکار کرتے ہیں، لہٰذا اس بناپر ان کو کافر کہنے کی کوئی وجہ نہیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ:۲۲/ ۳۶۴)
چوتھا شبہہ-اہل دیوبند کی جماعتی تکفیر؟
اس سلسلے میں چوتھا اعتراض یہ کیا گیا کہ حضرت مدنی میاں نے مطلقاً وہابی کے ذبیحہ کو حلال قرار دیا ہے، جب کہ کم از کم مقلد وہابی یعنی ارباب حلقۂ دیوبند کی جماعتی تکفیر کی گئی ہے۔لہٰذا کم از کم ان کے تعلق سے حضرت مدنی میاں کی بات تو واقعی غلط ہے۔
یہ نامعقول اعتراض اگرچہ ناقابل التفات ہے، تاہم موجودہ عہد جہالت میں نامعقولین کی بھی ایک معقول تعداد موجود ہے، جن کی تفہیم ضروری ہے۔ اس کے لیے اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے بریلوی حلقے کے ہی دو ممتاز علما کے اقتباسات نذر کرتے ہیں:
▪️معروف پاکستانی عالم دین علامہ احمد سعید کاظمی(۱۹۸۶ء) نے۱۹۴۶ء میں اپنی مرتب کردہ کتاب الحق المبین میں ’’ہمارا مسلک‘‘ کے زیر عنوان تقریباً اسی فکر کا اظہار کیا ہے۔ان کی یہ کتاب بریلوی حلقے میں خاصی مقبول اور متداول ہے، اگرچہ عام متشدد علما کے لیے یہ بات ہمیشہ ناقابل التفات رہی۔ علامہ کاظمی لکھتے ہیں:
مسئلۂ تکفیر میں ہمارا مسلک ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ جو شخص بھی کلمۂ کفر بول کر اپنے قول یا فعل سے التزام کفر کرلے گاتو ہم اس کی تکفیر میں تامل نہیں کریں گے۔ خواہ وہ دیوبندی ہو یا بریلوی، لیگی ہو یا کانگریسی، نیچری ہو یا ندوی۔ اس بارے میں اپنے پرائے کا امتیاز کرنا اہل حق کا شیوہ نہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک لیگی نے کلمۂ کفر بولا تو ساری لیگ کافر ہوگئی، یا ایک ندوی نے ایک التزام کفر کیا تو معاذ اللہ سارے ندوی مرتد ہوگئے۔ (الحق المبین، ص: ۵۲)
مزیدلکھتے ہیں:
’’ہمارے نزدیک صرف وہی کافر ہیں جنہوں نے معاذ اللہ! اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کےرسول اور محبوب ایزدی کی شان میں گستاخیاں کیں اور باوجود تنبیہ شدید کے اپنی گستاخیوں سے توبہ نہیں کی۔ نیز وہ لوگ جو ان گستاخیوں پر مطلع ہوکر اور ان کے صریح مفہوم کو جان کر گستاخیوں کو حق سمجھتے ہیں اور گستاخوں کو مومن، اہل حق ، اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے ہیں اور بس! ان کے علاوہ ہم نے کسی مدعی اسلام کی تکفیر نہیں کی۔ ایسے لوگ جن کی ہم نے تکفیر کی ہے، اگر ان کو ٹٹولا جائے تو وہ بہت قلیل ہیں اور محدود۔ ‘‘(ایضاً)
▪️معروف بریلوی عالم دین مولانا یٰسین اختر مصباحی کی رائے بھی یہی ہے۔ آپ رقم طراز ہیں:
یہ نکتہ یہاں ذہن نشیں رہے کہ دیوبندی وغیر مقلد حضرات کوبلاالتزام کفر کے محض ان کی مخصوص جماعت کا ایک جز اور فرد ہونے کی بنیاد پر تکفیر نہیں کی جاسکتی۔ ہاں! ایسی جماعتوں کے افراد کی تکفیر واجب ہے جن کے کل اور مجموعہ پر حکم تکفیر ہو، جیسے قادیانی وبہائی وغیرہ۔(تکفیری غلط فہمی کا ازالہ، یٰسین اختر مصباحی، مشمولہ اہل قبلہ کی تکفیر، ص: ۵، بحوالہ قومی آواز، نئی دہلی، ۱۷/۱/ ۲۰۰۶ء)
آگے لکھتے ہیں:
زید اگر مدعی اسلام ہے اور وہ کسی ایسی جماعت اور فرقہ کا فرد نہیں جس کے کل اور مجموعہ پر حکم تکفیر ہو، جیسے قادیانی وبہائی وغیرہ تو ایسی صورت میں اس کی تکفیر صرف اس بنیاد پر ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے کسی قول یا عمل سے ضروریات دین یا ان میں سے کسی ایک کا انکار کرے۔(ایضاً، ص: ۶)
مزید لکھتے ہیں:
کسی کا محض قاسمی یا مظاہری یا ندوی یا غیر مقلد ہونا سبب تکفیر نہیں، تاوقتیکہ اس سے کسی کفر کا التزام اور ثبوت شرعی متحقق نہ ہوجائے۔ (ایضاً، ص: ۶)
پانچواں شبہہ-کیا اب تمام وہابی-مقلدین وغیر مقلدین-کافر ہیں؟
ہمارے ایک دوست نے رات فتاویٰ رضویہ کی یہ عبارت بھیجی اور دریافت کیا کہ اس کی صحیح توضیح وتفہیم کیا ہوسکتی ہے۔ غور وخوض کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس قسم کی کچی باتیں اور تکفیری جسارت اعلیٰ حضرت کے عمومی اصول تکفیر کے خلاف اور ناقابل اعتبار ہے۔ پہلے وہ عبارت دیکھیے، بعد ازاں اس پراس ہیچمداں کی معروضات پڑھیے:
’’ان دیار میں وہابی اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو اسمٰعیل دہلوی کے پیرو اور اس کی کتاب تقویۃ الایمان کے معتقد ہیں۔ یہ لوگ مثل شیعہ خارجی معتزلہ وغیرہم اہل سنت وجماعت کے مخالف مذہب ہیں، ان میں سے جس شخص کی بدعت حدِ کفر تک نہ ہو یہ اُس وقت تھا، اب کبرائے وہابیہ نے کھلے کھلے ضروریاتِ دین کا انکار کیا اور تمام وہابیہ اُس میں اُن کے موافق یا کم از کم اُن کے حامی یا اُنھیں مسلمان جاننے والے ہیں اور یہ سب صریح کفر ہیں،تو اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہوئی ہو خواہ غیر مقلد ہو یا بظاہر مقلّد۔‘‘(فتاویٰ رضویہ:۶/مسئلہ نمبر: ۵۹۲)
فتاویٰ رضویہ کی اس عبارت پر کئی پہلوؤں سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اولاً- اس قسم کی عمومی اور کلی تکفیر ، باب تکفیر میں سخت جسارت ہے، جو فاضل بریلوی کے اس اصولی ارشاد سے متصادم ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
’’بالجملہ تکفیر اہل قبلہ واصحاب کلمہ طیّبہ میں جرأت وجسارت محض جہالت بلکہ سخت آفت جس میں وبال عظیم ونکال کا صریح اندیشہ، والعیاذباللّٰہ رب العالمین، فرض قطعی ہے کہ اہل کلمہ کے ہر قول وفعل کو، اگر چہ بظاہر کیسا ہی شنیع وفظیع ہو،حتی الامکان کفر سے بچائیں، اگر کوئی ضعیف سے ضعیف، نحیف سے نحیف تاویل پیدا ہو جس کی رُو سے حکمِ اسلام نکل سکتا ہو تو اس کی طرف جائیں، اور اس کے سوا اگر ہزار احتمال جانبِ کفر جاتے ہوں خیال میں نہ لائیں۔ حدیث میں ہے حضور سیّد العالمین صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :الاسلام یعلوولایعلی۔ اخرجہ الرؤیانی والدارقطنی والبیہقی والضیاء فی المختار ۃ والخلیل، کلھم عن عائذ بن عمر والمزنی رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔ اس کو رؤیانی، دار قطنی، بیہقی، مختارہ میں ضیاء اور خلیل نے عائذ بن عمرو مزنی رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔(ت)
احتمال اسلام چھوڑکر احتمالاتِ کفر کی طرف جانے والے اسلام کو مغلوب اور کفر کو غالب کرتے ہیں والعیاذباللّٰہ رب العالمین۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۱۲/۳۱۷)
ثانیاً- وہابی فکر کے حاملین کے عقائد وافکار کامصدرومنبع، شیخ ابن تیمیہ، شیخ ابن عبد الوہاب اور شاہ اسماعیل دہلوی کی کتابیں ہیں۔ فاضل بریلوی نے ہر جگہ یہی لکھا ہے کہ از روئے تحقیق ان پر گم رہی کا مقدمہ بنتا ہے، کفر کا مقدمہ نہیں بنتا۔ اب یہ بات حیرت انگیز ہوگئی کہ اساطین وہابیت تو مسلمان ٹھہریں، لیکن متبعین وہابیت، وہ بھی ایک دو نہیں کل کے کل، کافر ہوجائیں۔ایسی تکفیری جسارت فاضل بریلوی سے کس قدر بعید معلوم ہوتی ہے۔
ثالثاً- اس قسم کی باتیں خود فاضل بریلوی کی بہت سی اصولی باتوں کے خلاف ہیں۔ مثلاًروافض کے مشہور عالم و محقق علامہ طوسی کے بارے میں حسب ذیل استفتا اور فاضل بریلوی کا محتاط جواب ملاحظہ کیجیے ۔ واضح رہے کہ یہ وہی محقق طوسی ہیں جن کے بارے میں مورخین نے لکھا ہے کہ یہ ہلاکو کے ساتھ تھے، موصوف نے بے شمار سنی علما ، فقہا اور قضاۃ کا قتل کرایااور دینی کتابیں تلف کرائیں۔ابن قیم نے تو انھیں کافر و زندیق تک لکھا ہے۔ لیکن فاضل بریلوی کا احتیاط دیکھیے :
’’کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص نصیر الدین طوسی ملوم ومذموم کو بلفظ مولی الاعظم اورقدوۃ العلماء الراسخین اور نصیر الملۃ والدین قدس اللہ تعالیٰ نفسہ روح رمسہ (بڑا مولیٰ، پختہ علماء کے پیشوا، دین اور ملت کے مددگار، اللہ تعالیٰ ان کے نفس کو پاک کرے اور ان کی ہڈیوں کو آرام پہنچائے۔ ت) سے تعبیر کرے تو ایسے کو فاسق یا کافرنہ جاننے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوا یا نہیں، اگر نہ ہواتوفاسق بھی ہوا یانہیں؟ امید کہ دلیل عقلی ونقلی سے اس کا اثبات فرمایا جائے۔
الجواب:طوسی کا رفض حدکفرنہ تھا بلکہ اس نے حتی الامکان اپنے اگلوں کے کفر کی تاویلات کیں، اور نہ بن پڑی تو منکر ہوگیا اور اس کی ایسی توجیہ گناہ ضرور ہے اور منطقی فلسفی شراح ومحشین معصوم نہیں، جہاں جہاں اس نے خلاف اہل سنت کیا ہے اس کا رد کردیا گیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔‘‘(فتاویٰ رضویہ:۲۱/۲۱۹)
اس سے واضح ہوتاہے کہ ایک ایسا شخص جو خود عالم ومحقق ہواور ایسے لوگوں کو اپنا پیشوا مانتا ہو جن پر کفر ثابت ہو، ان کی کفریات کی تاویل کرتا ہو اور جہاں تاویل نہ بن پاتی ہو ، وہاں سرے سے انکار کردیتا ہو تو بھی ایسے عالم ومحقق کی تکفیر نہیں کی جاسکتی۔کہاں طوسی جیسے عالم وفاضل پیشواے اہل تشیع، مووِّل کفریات اہل رفض کی کفر سے براءت اور کہاں عوام وخواص جملہ وہابیوں کی کلی تکفیر-ع
ببیں تفاوت رہ از کجا ست تا بہ کجا
رابعاً- بریلوی علما میں بہت سے اکابر نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ اعلیٰ حضرت نے تکفیر کے معاملے میں کافی احتیاط برتی ہے اور بہت کم لوگوں کی تکفیر کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کل اہل دیوبند اور کل اہل حدیث مل کر اگرکم ہیں، تو پھراب مزید کتنوں کی تکفیر کی جاتی تو اسے زیادہ کہا جاتا؟
سچ یہ ہے کہ اگر اس قسم کی باتوں کو بلا تاویل تسلیم کرلیا جائے تو پھر غلو فی التکفیر کے حوالے سے جتنے الزمات فاضل بریلوی پر لگائے جاتے ہیں، ان سب کو بخوشی قبول کرنا پڑے گا، اِلا یہ کہ کہا جائے یہاں غالباً کفر سے وہی کفر مراد ہے جس کی برسات بعض فقہاے متاخرین کی کتابوں میں ہوئی ہے، جن کے بارے میں علامہ ابن ہمام نے کہا ہے کہ یہ باتیں فقہاے محققین کے خلاف اور بے اعتبار ہیں۔ تمام علماے محققین-محدثین، فقہا اور متکلمین- کے نزدیک ایسی باتیں کفر نہیں ہیں۔ خود فاضل بریلوی نے بھی جگہ جگہ خود کو متکلمین محققین کے مذہب پر بتایا ہے۔ اس اعتبار سے مذکورہ بالا عبارت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر فقہاے متاخرین کے اقوال غیر معتبرہ کا اعتبار کیا جائے تو کفر سارے وہابیوں پر منطبق ہوگا،اگرچہ یہ بات خلاف علم وتحقیق ہے۔
خامساً- اہل علم کی بارگاہ میں یہ ادنیٰ طالب علم عرض گذار ہے کہ اہل علم کا ایک بہت بڑا سوال خود فتاویٰ رضویہ کی جمع وتدوین پر بھی ہے۔ مولاناحافظ عبد الرؤف بلیاوی رحمۃ اللہ علیہ-جن کی نگرانی میں دارالاشاعت مبارک پور کے زیر اہتمام فتاویٰ رضویہ کی تدوین وطباعت کا مرحلہ طے ہوا-تیسری جلد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’مسائل مبوب اور مفصل نہ تھے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ وہی نقل ہو جو پہلی دفعہ تیار ہوئی تھی، بلکہ نقل در نقل ہوتے ہوتے موجودہ رجسٹر چوتھی نقل ہے۔ مزید برآں کچھ اوراق کی کتابت بھی ہوچکی تھی جس کی طباعت کی نوبت نہ آسکی۔ اس کی اصل مفقود، صرف کاپیاں موجود ہیں۔ ہم مولانا [ مجیب الاسلام نسیم اعظمی]موصوف کے بڑے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے بڑی عرق ریزی سے اس کتاب کو اپنی بساط بھر مبوب ومفصل کرکے مبیضہ کیا۔ ۔۔۔بعض اوراق کیڑوں نے بری طرح چاٹ لیا تھا، ان میں جہاں جہاں اور کتاب کی عبارت سے تصحیح ممکن تھی کردی گئی۔ جہاں تک ماسبق ومالحق سے عبارت بن سکتی تھی، بنادی گئی اور جہاں مجبوری تھی بیاض چھوڑ دی گئی ہے۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، جلد سوم،ص: ر،عرض حال، محررہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۶۱ء،مطبوعہ رضااکیڈمی، ۱۹۹۴ء )
جلد پنجم کے بارے میں مفتی عبد المنان اعظمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اس جلد میں بھی کتاب الطلاق دست استعمال کی دراز ۔۔۔اور کیڑوں کی دستبرد سے اس درجہ خستہ اور کرم خوردہ ہوگیا ہے کہ پوری کتاب میں ۲۴ جگہ کرم خوردہ ہے۔ ہم نے الگ سے چارٹ لگانے کے بجائے اصل موقع پر ہی نشان دہی کردی ہے اور دس جگہ اندازے سے درست کردیا گیا ہے۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ، جلد پنجم، ص: ۲۵، عرض حال، محررہ ۲۱ صفر ۱۳۹۶ھ، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی، ۱۹۹۴ء)
غالباً ترتیب وتدوین کی انہی مشکلات ومضمرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سابق صدر افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پورشارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمہ اللہ رام طراز ہیں:
’’جدید مطبوعہ فتاویٰ رضویہ پر اصولی حیثیت سے مکمل اعتماد میں مجھے تردد ہے۔ کسی مصنف کی کتاب پر مکمل اعتماد اس وقت درست ہے جب کہ وہ مصنف کی تحریر کے وقت سے لے کر اشاعت کے وقت تک عادل، ثقہ، تام الضبط کی تحویل میں مکمل طور پر محفوظ اور مضبوط رہی ہو، جس پر مکمل بحث خود اعلی حضرت قدس سرہ نے حجب العوار عن مخدوم بھار اورالزبدة الزکیة لتحریم سجدة التحیةمیں فرمائی ہے۔ فتاویٰ رضویہ کے قلمی نسخے کس حال میں رہے اور کہاں کہاں گشت کرتے رہے اور کیسے مسودہ سے مبیضہ ہوا، اس کی داستان بہت ’دل خراش‘ ہے۔‘‘( شعور نظر، ڈاکٹر شکیل اعظمی،ص:۲۹۲، برکات اکیڈمی گھوسی،۲۰۱۲ء)
مفتی صاحب قبلہ نے فتاویٰ رضویہ کے استناد پر اپنی اس بے اعتمادی کا اظہارکتابت نسواںکے تعلق سے فتاویٰ رضویہ کی ایک عبارت کے سلسلے میں فرمایا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ کتابت نسواں کے سلسلے میں فتاویٰ رضویہ پر مفتی اشرفیہ کے اعتماد کا یہ حال ہے تو پھرجملہ وہابیوں-دیوبندی اور غیر مقلدین- کی کلی اورجماعتی تکفیر اور ان کے ذبیحے کی عمومی حرمت کے حوالے سے فتاویٰ رضویہ کی مذکورہ بالا عبارت پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ جب کہ خود فتاویٰ رضویہ ہی کی بعض دیگر عبارات سے ان کا عدم کفر ثابت ہے اور یہی موقف پورے عالم اسلام کا ہےاور یہی بات علامہ مدنی میاں دام ظلہ العالی نے کہی ہے۔
حرف اختتام
تاریخ اسلام کی یہ سب سے بڑی ٹریجڈی اور علم ودانش کی دنیا کی یہ سب سے بڑی کامیڈی ہے کہ تین عالموں کی تین کتابوں میں ایک ایک جملہ قابل اعتراض ٹھہرا۔ان میں سے ایک کی ایک چوتھے نے تصدیق کردی ، نیز اس کی بھی ایک دستی تحریر ملی جس میں ایک کفریہ عقیدہ تھا، جس کا بارہا رد کیا گیا اور امید کی گئی کہ یہ تردیدی تحریر اس تک ضرور پہنچی ہوگی، لیکن اس کے باوجود بھی اس نے اعلانیہ توبہ وبراءت نہیں کی، اس طرح قابل اعتراض چار افراد ٹھہرے۔ معترض نے چار جملوں میں سے دو جملوں کو انکار عقیدہ کے معنی میں صریح بتایا اور باقی دو کتابوں کے ایک ایک جملے کو گستاخی رسالت میں صریح بتایا۔ بہت سے دیگر علما نے معترض کی تائید کی ، بہتوں نے انکار کیا اور بہتوں نے سکوت برتا، دستی تحریر والے نے زبانی براءت کا اظہار کرلیا، لیکن لکھ کر توبہ یا براءت نہیں کی،ایک صاحب عبارت انکار عقیدہ سے مسلسل انکار کرتا رہا اور گستاخانہ عبارات والے اپنی عبارات کی تاویل وتوجیہ کرتے رہے، لیکن اس کے باوجود ان کی تاویل وتوجیہ کو اس لیے نہیں سنا گیا کیوں کہ ان کی عبارات ناقابل تاویل تھیں اور اس لیےان کی حتماً جزماً قطعاً تکفیر کر دی گئی۔
بات یہیں تک نہیں رکی، بلکہ جتنے دوسرے علما نے ان عبارات میں تاویل کی ، یا صاحب عبارات کی حمایت کی ان سب کی بھی تکفیر کردی گئی۔ بات یہاں بھی نہیں رکی، بلکہ ایک اصول بنا لیا گیا کہ آج کے بعد سے جن جن کے پاس یہ عبارات پیش کی جائیں گی اور وہ فتویٔ تکفیر کی تصدیق نہیں کریں گے، ان سب کی تکفیر کر دی جائے گی۔
بات یہاں بھی نہیں رکی، بلکہ یہ کہا گیا کہ فتویٔ تکفیر کی تشہیرعامہ ہوچکی ہے، اب عوام وخواص میں جو بھی متعلقہ علما کی تکفیر نہیں کریں گے، ان سب کی تکفیر کردی جائے گی اورپھر بات یہاں بھی نہیں رکی بلکہ فیصلہ کیا گیا کہ ان ’’کفارومرتدین‘‘ کے کفر میں جو جو شک کرتا جائے گا، سب کی تکفیر ہوتی چلی جائےگی۔
سلسلۂ تکفیر یہاں بھی نہیں ٹھہرا، بلکہ بات اس سے آگے بڑھی اور اس تکفیر فکر کے محتاطین نے کہا کہ جو جو افراد وجماعات اس تکفیر سے انکار کریں، انہیں فتویٔ تکفیر دکھایا جائے،اگر وہ وہ اس کے بعد تصدیق کردیں تو بہتر، واِلا فمنھم۔
میں نے استاذ گرامی قدر مفتی بدر عالم مصباحی صاحب سے دریافت کیا: حضور! دیوبندیوں کی تکفیر تو اس لیے کہ ان کے پیشواؤں نے اپنی کتابوں میں کفر لکھا ہے۔ ان وہابیوں کا کیا قصور ہے جن کی تکفیر کی جاتی ہے؟
فرمانے لگے: یہ سوال مجھے بھی ایک زمانے تک پریشان کرتا رہا۔ اتفاق یہ کہ فتاویٰ رضویہ میں دونوں طرح کی عبارات موجود ہیں۔ میں بہت کشمکش میں تھا۔باآخر اس کا حل مل گیا۔
میں نے عرض کیا: وہ کیا؟
فرمانے لگے۔ در اصل وہابیوں کے عقائد تو گم رہی تک ہی ہیں۔ اس لیے شروع میں انہیں بس گمراہ اور گمراہ گر ہی کہا گیا، لیکن جب علماے دیوبند نے صاف صاف کفر لکھا، علماے حق نے ان کی تکفیر فرمادی، لیکن اس کے بعد بھی وہ اس پر جمے رہے اور ان کو مسلمان مانتے رہے، اس لیے اب فتویٔ کفر ان سے بھی متعلق ہوگیا۔
میں نے عرض کیا: حضور! یہ کتنا عجیب بات ہے کہ دیوبندیوں کے کفر کی وجہ سے وہابی بھی کافر ہوجائیں۔ پھر یہ کہ چلیے کل تک دونوں کے مراسم اچھے تھے۔ اب تو خود ہی دونوں آپس میں آمادۂ پیکار ہیں۔ یہاں تک کہ بعض وہابیوں نے بریلویوں اور دیوبندیوں دونوں کو ہی ایک صف میں کھڑا کرکے انہیں قبوری اور شرک کہہ ڈالا۔ اسے بھی چھوڑیے۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کعبے کا امام کیا علماے دیوبند کی ان مخصوص عبارات سے واقف ہے؟ پھر اس کی تکفیر کے کیا معنی؟
فرمانے لگے: بات تو ہے!
غور کیجیے اور تحقیق وانصاف کے ساتھ بتائیے کہ کیا ماضی میں بھی ایسی کسی تکفیر کی کوئی روایت ہے؟تاریخ اسلام کا یہ معمولی طالب علم اب تک کسی ایسی دوسری روایت سے بے خبر ہے۔جن کے علم میں کوئی دوسری مثال آئے تو وہ اپنے افادات سے صاحب تحریر کی معلومات میں ضرور اضافہ کریں گے۔
سوال یہ ہے کہ علما کی ایک جماعت نے ابن عربی اور ابن منصور حلاج کی تکفیر کی ،پھر بعد میں ان کے فتویٔ تکفیر کے بعد بھی بعض دوسرے لوگوں نے ان کی کفریات کی تاویل کی اور یہ کہا کہ جس عقیدے کی بنیاد پر ان حضرات کی تکفیر کی گئی ہے، وہ عقیدہ تو کفر ہے، لیکن وہ کفری عقیدہ ابن منصور اور ابن عربی کی عبارات میں صراحت اور تعین کے ساتھ موجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ اس فتویٔ کفر سے بری ہیں۔ خود ہندوستان میں مولانا فضل حق خیرآبادی نےشاہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر کی ، اس پر خانوادۂ ولی اللہی کے افراد وتلامذہ -جو اپنے وقت کے جید علما تھے-نے تائید کی۔ اس کے باوجود اعلیٰ حضرت بریلوی جیسے بے شمار مشاہیر علم وادب نے اس فتوے کا انکار کیا۔ گو گستاخی رسالت تو ان تمام حضرات موولین کی نظر میں قطعی کفر تھا، لیکن شاہ اسماعیل کی عبارت سے مولانا فضل حق خیرآبادی نے جو گستاخی نکالی تھی، اس سے ارباب تاویل مطمئن نہیں تھے۔ یا ان کے پاس تاویل کی اور دیگر صورتیں تھیں۔ غور کیجیے کہ ان مذکورہ فتووں کے ساتھ بھی امت وہی اہتمام فرمانے لگے جوعلماے دیوبند کے فتویٔ تکفیر کے حوالے سے بعض غالی تکفیری کرتے ہیں تو امت کی کیا بنے گی؟ روئے زمین پر کتنے مسلمان بچیں گے؟ شاید ایک بھی نہیں۔ اللھم اھد قومی فانہ قد ھلک المتنطعون!
علامہ سید محمد مدنی میاں دام ظلہ العالی کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، وہ یقیناً قابل افسوس تھا۔ ایک بزرگ عالم ، سیداورشیخ طریقت کی شان میں یہ نازیبا انداز واسلوب تکلیف دہ تھا۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی تکلیف دہ تھی کہ خدا نخواستہ بدتمیزیوں کے غبار میں حضرت والا کی تحقیق انیق مشکوک وبے اعتبار نہ ہوجائے،نیزموجودہ حالات،جو مسلمانوں کی صفوں میں وحدت ویگانگت کے نسبتاً زیادہ متقاضی ہیں، اس میں ایک مصلحانہ بیان کے بعد اثرپذیری کے بجائے الٹے تفریق وتنفر کی فضا مزید گرم نہ ہوجائے۔ انہی خیالات کے پیش نظر ہم نے اپنے ناقص علم وفہم کی روشنی میں ایک مظلوم کی نصرت وحمایت اورحق وانصاف کی تائید وتوثیق کی اپنی سی کوشش ضروری سمجھی۔کسی نے سچ کہا کہ جس طرح ٹیلی ویژن کے تعلق سے حضرت مدنی میاں کی تحقیق بہت سے لوگوں کو تیس سالوں بعد سمجھ میں آئی، کچھ یہی حال ان کے اس بیان کا بھی ہونے والا۔
مولیٰ کریم حضرت قبلہ کو سلامت رکھے اور میری اس حقیر دینی وعلمی کاوزش کو شرف قبول بخشےاور اسے میرے دفتر حسنات میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید الانبیا ء والمرسلین علیٰ آلہ وصحبہ اجمعین !
ذیشان احمد مصباحی
جامعہ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی، یوپی
تحریر-۸؍ جولائی، ۲۰۲۲ء، بروز یک شنبہ
[1] استاذ: جامعہ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی، یوپی
[2] شریعت میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ التزام کفر، کفر ہے، لزوم کفر، کفر نہیں ہے۔
[3] لزوم التزام کا غیر ہے، اورکفر صرف التزام ہے۔
[4] رہا ضروریات دین محمدی کے انکار کا لزوم تو یہ کفر نہیں ہے، اس انکار کا التزام کفر ہے۔
[5] لزوم کفر کفر نہیں ہے، بلکہ التزام کفر کفر ہے۔
[6] اعتقاد کا ضابطہ یہ ہے کہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ایسی بات ثابت کرے جو صراحتاً نقص ہو تو اس کی تکفیر کی جائے گی اور جس کے قول سے نقص لازم آتا ہو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ اس لیے کہ قول اصح یہی ہے کہ لازم مذہب مذہب نہیں ہے۔
[7] علامہ ابن ہمام کو فتاویٰ رضویہ میں متعدد مقامات پر اسی لقب سے یاد کیا گیا ہے۔
[8] إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا( البخاری،كِتَابُ الأَدَبِ، بَابُ مَنْ كَفَّرَ أَخَاهُ بِغَيْرِ تَأْوِيلٍ فَهُوَ كَمَا قَالَ)
Comments 0
Leave your comment