کیا کفر فقہی کا مرتکب کافر ہے؟

کیا کفر فقہی کا مرتکب کافر ہے؟

اس سوال کے ضمن میں کئی ایک سوالات شامل ہیں۔ مثلاً یہ کہ کفر حقیقی کیا ہے؟کفر فقہی کیا ہے؟ کیاکفر فقہی بھی کفر حقیقی ہے؟ اس کی بنیاد پر تکفیر کون لوگ کرتے ہیں اور کیسے کرتے ہیں؟ کیا اس کے بعد ایک شخص ملت سے نکل جاتا ہے؟ اور جن حضرات نے ایسا قول کیا ہے ان کی مراد کیا ہے؟اور کیا ان کا وہ قول معتبر ہے؟ ہمارے مرکزی سوال کے حل کے لیے ان تمام ضمنی سوالات پر غور وخوض کرنا ضروری ہے۔

ایمان وکفر

 مسلم معاشرے اور اسلامی اصطلاح میں کفر اسلام کی ضد ہے۔ وہ تمام لوگ مومن ہیں جو دین اسلام کو قبول کرتے ہیں اور جو اسے ایک سچا اور آخری دین کے طور پر تسلیم نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔گویا مسلم معاشرے میں ملت اسلام کی قبولیت ایمان ہے اور اس کا انکار کفر ہے۔ مسلم معاشرے میں یا اہل اسلام کی اصطلاح میں جب بھی لفظ کفر بولا جاتا ہے تو اس سے یہی مفہوم متبادر ہوتا ہے۔ مسلم معاشرے میں کفر کے دیگر اطلاقات کے برخلاف اسی مفہوم کو کفر حقیقی کہا جاتا ہے۔کفر کے جو دیگر اطلاقات ہیں وہ مسلم معاشرے یا اہل اسلام کی اصطلاح کے اعتبار سے غیر حقیقی کفر کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ اہل اسلام کے یہاں جب لفظ کافر بولاجا تا ہے تو اس سے مراد وہی شخص ہوتا ہے جو مذکورہ حقیقی کفر کا مرتکب ہو۔اسی طرح علماے اسلام کی طرف سےکفر کے جو احکام جیسے زوال ملکیت، فسخ نکاح، حرمان وراثت،فساد اعمال، ترک جنازہ،خلود فی النار وغیرہ نافذ کیے جاتے ہیں، وہ سب بھی اسی حقیقی کفر کے ارتکاب پر نافذ ہوتے ہیں۔ مطلق انکار، مخالفت، بغاوت، ناشکری ، بدعملی ،عدم اطاعت وغیرہ کے ارتکاب پر نہ تو مطلقاً کفر کا اطلاق کیا جاتا ہے نہ مذکورہ بالا احکام کا اجرا کیا جاتا ہے۔

کفر اکبر اور کفر اصغر

اس بات کی مزید وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ آیت کریمہ: وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ۔ جو اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، وہ کافر ہیں۔(المائدة: ۴۴)کی تفسیر میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: كُفرٌ دُونَ كُفرٍ۔ یہ کفر حقیقی یا کفر اکبر کے بجائے ایک کمتر درجے کا کفر ہے۔  (مستدرک، كِتَابُ التَّفْسِيرِ، تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَة)
ایک مسلمان کفراکبر یا کفر حقیقی کی وجہ سے اسلام سے خارج ہوتا ہے ، کفر اصغر ، کفر عملی یا ترک فرائض کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اگرچہ اس کے یہ اعمال مومنانہ نہیں بلکہ کافرانہ ہیں۔ اسی لیے جب کوئی شخص ان کافرانہ اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو علماے محققین اس سے ایمان کی نفی نہیں کرتے، بلکہ کمال ایمان کی نفی کرتے ہیں۔
حدیث پاک ہے : لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَشْرَبُ الخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِن۔ زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا اور چور چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا ۔(صحیح البخاری،كِتَاب المَظَالِمِ وَالغَصْبِ، بَابُ النُّهْبَى بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ) 
علماے اسلام فرماتے ہیں کہ ان نصوص میں ایمان کی نفی سے مراد کمال ایمان کی نفی ہے، کیوں کہ زانی، شرابی اورچورکو حضور اکرم ﷺ نے مسلمان ہی شمار کیا ہے۔ ان پر کفر کے احکام جاری نہیں فرمائے ہیں۔
شارح صحیح مسلم علامہ ابوزکریا ابن شرف نووی تارک نماز کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
’’تارک نماز اگر نماز کی فرضیت کا منکر ہوتو اجماع مسلمین سے کافر اور ملت اسلام سے خارج ہے، اِلّا یہ کہ ابھی ابھی اسلام میں داخل ہوا ہو اور مسلمانوں کے ساتھ اسے اتنا رہنے کا موقع نہیں ملا کہ اسے فرضیت نماز کا ادراک ہوتا۔ اور اگر فرضیت کا اعتقاد ہوتے ہوئے محض تساہل کے سبب ترک نماز ہو، جیسا کہ بہت سے لوگوں کا یہ حال ہے، تو اس سلسلے میں علما کا اختلاف ہے۔ 
امام مالک، امام شافعی اور جمہور علماے سلف و خلف کا موقف یہ ہے کہ اس کی تکفیر نہیں کی جائےگی، محض اسے فاسق کہا جائے گا اور توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگر توبہ کرلے تو بہتر ورنہ اسے قتل کردیا جائےگا۔ اسلاف امت کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ ایسا شخص کافر ہو جائے گا ۔ یہی رائے حضرت علی سے بھی منقول ہے۔ امام احمد ابن حنبل کا بھی ایک قول یہی ہے۔ عبد اللہ ابن مبارک اور اسحاق ابن راہویہ کا موقف بھی یہی تھا اور بعض شوافع بھی اسی طرف گئے ہیں۔ 
امام ابوحنیفہ، اہل کوفہ کی ایک جماعت اورامام شافعی کے شاگرد مزنی اس بات کے قائل ہیں کہ ایسا شخص نہ کافر ہوگا اور نہ اسے قتل کیا جائے گا، صرف توبہ کا مطالبہ ہوگا اور تعزیر ہوگی اور اس وقت تک قید میں رکھا جائے گا جب تک کہ نماز نہ شروع کردے۔ 
جمہور نے حدیث پاک: بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ. (ترک نماز بندے کو کفر سے ملادیتا ہے۔) کی تاویل یوں کی ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ بندہ ترک نماز سے کافر کی سزا کا مستحق ہوجاتا ہے اور وہ قتل ہے۔ یا یہ حدیث اس شخص کے لیے ہے جو ترک نماز کو جائز سمجھتا ہے۔ یا اس کے معنی یہ ہیں کہ ترک نماز کے گناہ کے سبب وہ ایک دن کفر تک پہنچ جائےگا۔ یا یہ کہ اس کا عمل کفار کا عمل ہے۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ‘‘( شرح النووی علیٰ مسلم: ۲/۷۱)

کفر فقہی

 جیسا کہ ابتدائی سطور سے معلوم ہوتا ہے کہ مخصوص تناظرات میں کفر کا استعمال انکار اسلام یا خروج من ملۃ الاسلام کے علاوہ دیگر معانی میں بھی ہوتا ہے۔ کفر فقہی کا مفہوم بھی انہیں معانی میں سے ایک ہے۔ کفر اصغر بھی درحقیقت کفر فقہی کی ہی ایک صورت ہے۔ اس سے یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ کفر فقہی بھی کفر حقیقی نہیں ہے۔ پھر کفر فقہی ہے کیا؟ اور اس کی جامع وضاحت کیا ہے؟
اس کے لیے ہمیں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے رسالہ سبحان السبوح عن عیب الکذب المقبوح کے خاتمہ کی اس عبارت کو دیکھنا چاہیے:
’’ جان برادر! یہ پوچھتا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ[امکان کذب باری] کیساہے اورا ن کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے، یہ پوچھ کہ امام وماموم پر ایک جماعت ائمہ کے نزدیک کتنی وجہ سے کفرآتاہے۔ 
حاش للہ حاش للہ ہزار ہزار بار حاش للہ! میں ہر گز ان کی تکفیر پسند نہیں کرتا۔ ان مقتدیوں یعنی مدعیان جدید کوتو ابھی تک مسلمان ہی جانتاہوں ،اگرچہ ان کی بدعت وضلالت میں شک نہیں اور امام الطائفہ[مولانا اسماعیل دہلوی] کے کفر پر بھی ہم حکم نہیں کرتے کہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اہل لا الہ الا اﷲ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے، جب تک وہ وجہ کفر آفتاب سے زیادہ روشن وجلی نہ ہوجائے اور حکم اسلام کے لیے کوئی ضعیف ساضعیف محمل بھی نہ رہے۔ 
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سید العالمین محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جو کچھ اپنے رب کے پاس سے لائے ان سب میں ان کی تصدیق کرنا اور سچے دل سے ان کی ایک ایک بات پر یقین لانا ایمان ہے۔ ۔۔اور معاذاللہ! ان میں کسی بات کا جھٹلانا اور اس میں ادنیٰ شک لانا کفر۔۔۔
پھر یہ انکار جس سے خدا مجھے اور سب مسلمانوں کو پناہ دے، دو طرح ہوتاہے، لزومی والتزامی، التزامی یہ کہ ضروریات دین سے کسی شے کا تصریحاً خلاف [انکار] کرے یہ قطعا ًاجماعاً کفر ہے۔۔۔ اس کے یہ معنی کہ جو انکار اس سے صادر ہوا یا جس بات کا اس نے دعویٰ کیا وہ بعینہ کفر ومخالف ضروریات دین ہو۔۔۔
اور لزومی یہ کہ جوبات اس نے کہی عین کفر نہیں مگر منجر بکفر ہوتی ہے یعنی مآل سخن ولازم حکم کو ترتیب مقدمات وتتمیم تقریبات کرتے لے چلیے توانجام کار اس سے کسی ضرور دین کا انکار لازم آئے جیسے روافض کا خلافت حقہ راشدہ خلیفۂ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت جناب صدیق اکبر وامیر المومنین حضرت جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انکار کرنا کہ تضلیل جمیع صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی طرف مؤدی اور وہ قطعا کفر مگر انھوں نے صراحۃً اس لازم کا اقرار نہ کیا تھا بلکہ اس سے صاف تحاشی کرتے اور بعض صحابہ یعنی حضرات اہل بیت عظام وغیرہم چند اکابر کرام علی مولا ھم وعلیھم الصلٰوۃ والسلام کو زبانی دعووں سے اپناپیشوا بناتے اور خلافت صدیقی وفاروقی پر ان کے توافق باطنی سے انکار رکھتے ہیں۔ 
اس قسم کے کفرمیں علماء اہل سنت مختلف ہوگئے ،جنھوں نے مآل مقال ولازم سخن کی طرف نظر کی حکم کفر فرمایا اور تحقیق یہ ہے کہ کفر نہیں بدعت وبدمذہبی وضلالت وگمراہی ہے۔۔۔
امام علامہ قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ شفا شریف میں فرماتے ہیں:
من قال بالماٰل یؤدی الیہ قولہ ویسوقہ الیہ مذھبہ، کفرہ، فکانھم صرحوا عندہ بماأدی الیہ قولھم، ومن لم یرأخذھم بماٰل قولھم ولاألزمھم موجب مذھبھم لم یراکفارھم قال لانھم اذاوقفوا علی ھٰذا قالوا لانقول بالماٰل الذی الزمتموہ لنا۔ ونعتقد ونحن وانتم انہ کفر، بل نقول ان قولنا لایؤل الیہ علی ما اصلنا، فعلی ھٰذین المأخذین اختلف الناس فی الکفار اھل التاویل والصواب ترک اکفار ھم اھ ملخصا۔
جس نے اس مآل کی طرف دیکھا جس کی طرف اس کا قول مؤدی تھا جس کی طرف ا س کا مذہب چلا جاتا ہے تو اس نے اس کی تکفیر کی گویا اس نے ان کے مؤدی قول کو سمجھا ہے اور جنھوں نے ان کے مآل کو نہ دیکھا اورنہ ان کے تقاضا مذہب کا لزوم دیکھا انھوں نے تکفیر نہیں کی اس لئے جب وہ اس سے آگاہ ہوگئے توانھوں نے کہا ہم اس مآل کا قول دونوں اسے کفر تصور کرتے ہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے اصل کے مطابق ہمارے قول کا وہ مآل ہی نہیں، ان دونوں ماخذوں کی وجہ سے اہل تاویل کے کفر میں لوگوں کااختلاف ہوا اور درست رائے یہی ہے کہ ان کے کفر کا قول نہ کیا جائے ۔ (ت)
جب یہ امر ہو لیا تو اب ان امام وماموم [مولانا اسماعیل دہلوی اور ان کے متبعین]کے کفریات لزومیہ ہوگئے۔۔۔بالجملہ آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ ایک مذہب علمائے دین پر یہ امام و مقتدی سب کے سب نہ ایک دوکفر بلکہ صد ہا کفر سراپا کفر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔۔ معاذاللہ ! اس قدر ان کے خسار وبوار کو کیاکم ہے اگرچہ ائمہ محققین و علمائے محتا طین انھیں کافر نہ کہیں اور یہی صواب ہے۔، وھو الجواب وبہ یفتی و علیہ الفتوی وھو المذھب وعلیہ الاعتما دوفیہ السلامۃ و فیہ السداد۔ جواب یہی ہے ، اس کے ساتھ فتویٰ دیا جاتاہے اور اسی پر فتویٰ ہے، یہی مذہب اور اسی پر اعتماد ہے، اسی میں سلامتی اور یہی درست ہے ۔ (ت)‘‘
(رسالہ سبحان السبوح  مشمولہ فتاویٰ رضویہ جلد :۱۵)
اس پوری عبارت کو غور سے پڑھیے تو نمایاں طور پر حسب ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
۱۔ امکان کذب باری جیسے عقائد تمام علماے اسلام کے نزدیک کفر نہیں ہے، بلکہ بعض ایک جماعت کے نزدیک کفر ہے۔
۲۔ مذکورہ عقیدے کو اعلیٰ حضرت بریلوی بدعت وضلالت کہتے ہیں اور اس کے حامل مولانا اسماعیل دہلوی اور دیگر علما اور ان کے متبعین کی تکفیر نہیں کرتے، نہ تکفیرپسند کرتے ہیں۔
۳۔ اہل قبلہ یا اہل کلمہ کی تکفیر اس وقت کرنا درست ہے جب ان کا کفر آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہوجائے اور تاویل کا کوئی ضعیف سے ضعیف احتمال بھی باقی نہ رہے۔
۴۔ نبی اکرم ﷺ کی کسی بات کا بھی انکار ہو، یہ کفر ہے ۔ تاہم اس انکار یا کفرکی دو قسم ہے:
الف۔ کفر التزامی۔ ضروریات دین میں سے کسی امر ضروری دینی کا صریح انکار، اس کے کفر ہونے پر اجماع ہے۔
ب۔ کفر لزومی،یہ عین کفر نہیں ہوتا،البتہ منجر الی الکفر ہوتا ہے۔ یعنی وہ عقیدہ ایسا ہوجو اپنے آپ میں حقیقی کفر تو نہ ہو، البتہ اس سے کوئی دوسرا حقیقی کفر لازم آتا ہو۔
۵۔ کفر لزومی کی بنیاد پر تکفیر کرنے کے سلسلے میں علماےاہل سنت کا اختلاف ہے۔ جنھوں نے مآل مقال ولازم سخن کا اعتبار کیا، انہوں نے تکفیر کو درست قرار دیا، البتہ یہ عمل خلاف تحقیق ہے، کیوں کہ کفر لزومی عند التحقیق کفر نہیں بلکہ محض بدعت وضلالت ہے۔
۶۔ ائمہ محققین و علمائے محتا طین کفر لزومی کی بنیاد پر تکفیر نہیں کرتے،یہی قول صواب اورقول معتمد و مفتیٰ بہ ہے۔
واضح رہے کہ اسی کفر لزومی کو کفر فقہی کہا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر کی جانے والی تکفیر کو تکفیر فقہی کہا جاتا ہے۔ اس کی دوسری تعبیر کفر محتمل بھی ہے، جیسا کہ کفر التزامی کی دوسری تعبیر کفر متعین ہے۔ اعلیٰ حضرت کے مذکورہ بالا ارشاد سے اس کا حکم بھی واضح ہے کہ ایسے لزومی محتمل کفر پر کی جانے والی تکفیر ائمہ محققین وعلماے محتاطین کے خلاف، غیرمعتمد، غیرمفتیٰ بہ،غیر صواب اور خطاہے۔

کفر فقہی کی تین صورتیں

یہ واضح ہوجانے کے بعد کہ کفر فقہی کفر لزومی کو کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس کی تین صورتیں ممکن ہیں۔ یہ صورتیں احتمال فی الکلام، احتمال فی التکلم اور احتمال فی المتکلم پر مبنی ہیں۔ یعنی جو احتمال اسے کفر حقیقی بننے سے روک رہا ہے، وہ یا تو اس جہت سے ہے کہ اس کلام کے کفر ہونے پر ہی اجماع نہ ہو، یا اس کفر کا بالارادہ تکلم یقینی نہ ہو، یا شخص معین کی طرف اس کا انتساب یقینی نہ ہو۔ تفصیل یہ ہے:
کفر فقہی کی پہلی صورت
وہ کفر ایسا ہوجو ضروریات دین کے انکار پر مشتمل نہ ہو، یا دوسرے لفظوں میں  جس کے کفر ہونے میںعلماے اسلام کا اختلاف ہو۔ مثال کے طور پرشاتمان صحابہ اور منکرین خلافت شیخین کے تعلق سے بہت سے فقہا نے تکفیر کاقول کیا ہے۔ لیکن اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نےاس سیاق میں کتب فقہ سے درجن بھر سے زائد تکفیری عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اگر ایسے بدتمیز لوگ کسی امر ضروری دینی کے منکر نہ ہوں، تو متکلمین ان کی بھی تکفیر نہیں کرتے اور اس حوالے سے میرا موقف بھی یہی ہے۔ فرماتے ہیں:
والأَحوَطُ فِیہِ قَولُ المُتَکَلِّمِینَ أَنَّھُم ضُلَّالٌ مِن کِلابِ النَّارِ لاکُفَّارٌ وَبِہ نَأخُذُ۔
 اس میں محتاط متکلمین کا قول ہے کہ وہ گمراہ اور جہنمی کُتے ہیں کافر نہیں، اور یہی ہمارا مسلک ہے (ت) (فتاویٰ رضویہ:  ۱۴/۲۵۹) 
علامہ شامی(۱۲۵۲ھ) صاحب الاختیار علامہ مجد الدین ابو الفضل حنفی (۶۸۳ھ) کی ایک عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ اس کلام میں خوارج کے عدم تکفیر کی قطعیت ہے اور اس میں اس بات پر صریح دلالت موجود ہے کہ سبِّ صحابہ اگر کسی تاویل کی بنیاد پر ہو، خواہ وہ تاویل فاسد ہی کیوں نہ ہو، اس کی بنیاد پر تکفیر نہیں کی جائےگی اور اس بات پر بھی کہ اس حکم میں سارے صحابہ یکساں ہیں۔ (مجموعہ رسائل ابن عابدین: ۲/۳۶۰)
کفر فقہی کی دوسری صورت
کفر فقہی کی دوسری صورت یہ ہے کہ وہ کفر تو حقیقی اجماعی ہو، ضروریات دین کے انکار پر مشتمل ہو، لیکن اس کا صدور اختیار کے ساتھ نہ ہوا ہو، بلکہ اضطرار کے ساتھ ہوا ہو۔ جیسے اپنی جان بچانے کے لیے کسی نے صریح کلمہ کفر بولا تو اگرچہ کفر صریح حقیقی کا ارتکاب پایا گیا، لیکن اس کا ارتکاب کرنے والا اس کا التزام نہیں کر رہا، بلکہ محض اپنی جان بچانے کے لیےاس کفر کا ارتکاب کر رہا ہے۔ اس لیے اس کی حالت کے پیش نظر اس کے حق میں محض کفر کا لزوم پایا گیا، کفر کا التزام نہیں پایا گیا۔ لہٰذا اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔
 اسی طرح مثال کے طور پر زکات کا انکار کفر حقیقی صریح ہے۔لیکن اگر کوئی ایسا شخص فرضیت زکات کا انکار کر رہا ہے کہ ابھی وہ تازہ تازہ اسلام میں داخل ہوا ہے اور اسے احکام اسلام سیکھنے کا موقع نہیں ملا ہے تو یہ کفر صریح بھی اس کے حق میں فقط لزومی ہے، التزامی نہیں ہے، اس لیے اس صورت میں بھی اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔اس کی ایک واضح مثال علامہ اقبال کا یہ شعر ہے: 

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند

شری رام ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق وشنو کے اوتار اور ان کے معبود ہیں۔اقبال کا یہ پورا قصیدہ ان کی مدح میں ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو اس میں معبودان باطلہ کی مدح ہے جو صریح کفر ہے، لیکن اس کے باوجود چوں کہ اس میں ایک تاویل موجود ہے اور وہ یہ کہ شری رام کی ایک حیثیت انسانی بھی ہے، جو اپنے اندر اخلاقیات کا ایک جوہر رکھتا ہے۔ اس اعتبار سے شری رام کی تعریف معبودان باطلہ کی تعریف سے نکل کر صاحبان کردار انسانوں کی مدح میں شامل ہے جو کفر نہیں ہے۔اس احتمال تاویل کی دلیل اس شعر سے پہلے اور بعد کے اور بعد کے یہ دو اشعار ہیں:

اس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشت 
مشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نام ہند 
تلوار کا دھنی تھا شجاعت میں فرد تھا 
پاکیزگی میں جوش محبت میں فرد تھا

کفر فقہی کی تیسری صورت
 کفر فقہی کی تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کفر تو حقیقی ہو، اجماعی ہو، لیکن شخص متعین کی طرف اس کے انتساب میں یک گونہ شبہہ ہو۔ مثال کے طور پرابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ میں دمشق میں حاضر تھا، جمعہ کی نماز کے لیے مسجد گیا تو دیکھا کہ ابن تیمیہ خطاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے دوران خطاب یہ جملہ کہا:اللہ اسی طرح آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جس طرح میں نیچے اتر رہا ہوں۔ إن الله ينزل إلى سماء الدنيا ‌كنزولي هذا۔اور یہ کہتے ہوئے منبر کےایک زینے نیچے اتر گئے۔ 
(رحلة ابن بطوطة،‌‌حكاية الفقيه ابن تيميّة)
ظاہر ہے اس میں نزول ربانی کی واضح طور سے نزول انسانی سے تشبیہ ہے جو تجسیم تک پہنچ جاتی ہے اور حق تعالیٰ کے لیے تجسیم کا صریح عقیدہ کفر ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ روایت صرف ابن بطوطہ کے واسطے سے پہنچی ہے اور خبر واحد میں ظن وتخمین ہوتا ہے اور کسی اہل قبلہ کی ظن وتخمین کی بنیاد پر کافر نہیں کہا جاسکتا۔ اس طرح یہاں بھی لزوم کفر ہے، مگر اس احتمال نے تاویل کی راہ پیدا کردی ہے۔ 
کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کفر بھی لزومی ہو اور شخص متعین کی طرف اس کا انتساب بھی لزومی ہو۔ یہ صورت بھی کفر فقہی کی صورت ہے اور ایسی صورت میں بھی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ مثال کے طور پر اعلیٰ حضرت کے مجموعہ نعت حدائق بخشش جلد سوم صفحہ نمبر۳۷؍ پرام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں ایک طویل قصیدے کے ضمن میں ایک شعر یہ ہے:

تنگ وچست ان کا لباس اور وہ جوبن کا ابھار
مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر

یہ شعر سیدہ کی صریح اہانت پر مشتمل ہے اور ایک جماعت علما کے نزدیک صحابہ وصحابیات کی گستاخی کفر ہے۔ یہ شعر خود اعلیٰ حضرت کی کتاب میں موجود ہے، مگر اس کے باوجود اس کی بنیاد پر تکفیر نہیں کی جائے گی، کیوں کہ یہ حدائق بخشش کی تیسری جلد میں ہے، جس کی اشاعت مولانا محبوب علی خان کی جمع وترتیب سے اعلیٰ حضرت کی وفات کے بعد ہوئی اور کہاجاتا ہے مولانا محبوب علی خان نے اس کے جمع وترتیب میں کمال تحقیق واحتیاط کا مظاہرہ نہیں کیا، اس لیے براہ راست اس شعر کا کلام رضا ہونے میں یک گونہ احتمال ہے۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ شعر دراصل تشبیب کا شعر ہے، اس کا تعلق براہ راست سیدہ سے نہیں ہے، بلکہ ترتیب اوپر نیچے ہوجانے کے سبب غلط مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔ بہرکیف! ان احتمالات کی بنیاد پر اب اس شعر کی وجہ سے شاعر کی تکفیر نہیں ہوسکتی۔
الغرض! کفر فقہی وہ کفر ہے جو یا تو براہ راست کفر حقیقی اجماعی نہ ہو، یا شخص معین کی طرف انتساب کرنے میں یک گونہ احتمال ہو۔ اس میں تاویل کی کوئی ضعیف سے ضعیف صورت موجود ہو۔محققین اس کفر کی بنیاد پر شخص معین کی تکفیر نہیں کرتے، گو بسا اوقات قول کو کفری قرار دیتے ہیں۔

کیا کفر فقہی پر تکفیر، فقہا کا مذہب ہے؟

عام سنی حلقوں میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ کفر فقہی پر تکفیر فقہا کا مذہب ہے اورعدم تکفیر متکلمین کا مذہب ہے۔ یہ غلط العوام بلکہ غلط الخواص کا درجہ حاصل کرتا جا رہا ہے، جب کہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔
 واقعہ یہ ہے کہ علماے سلف کے یہاں کفر فقہی وکفر کلامی کی اصطلاح ملتی ہی نہیں ہے، متقدمین کے یہاں لزوم کفر اور التزام کفر کی اصطلاح ملتی ہے اور ساتھ ہی اس کی صراحت بھی ملتی ہے کہ بعض علما نے لزوم کفر پر تکفیر کی ہے، جو درست نہیں ہے، کیوں کہ لزوم کفر کفر ہے ہی نہیں۔ اس سلسلے میں متعدد حوالے پیچھے گزر چکے۔ ماضی قریب میں لزوم کفر کو ہی کفر فقہی سے متعارف کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا حکم بھی وہی ہے جو لزوم کفر کا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ کفر لزومی یا کفر فقہی کی بنیاد پر تکفیر فقہا کا مذہب ہے اور عدم تکفیر متکلمین کا مذہب ہے، بلکہ بات صرف یہ ہے کہ یہ رائے محض بعض فقہاے متاخرین کی ہے،جو تکفیر کے باب میں سخت ہیں۔ جمہور محدثین، فقہا اور متکلمین کا مذہب محقق یہی ہے کہ کفر لزومی پر تکفیر درست نہیں ہے۔ اس بات کی تائید مذکورہ بالا حوالہ جات سے بھی ہوتی ہے، مزید وضاحت وصراحت کے لیے حسب ذیل دو حوالے ملاحظہ کریں:
۱۔ معروف مالکی فقیہ صاحب بدایۃ المجتہد علامہ ابن رشد قرطبی مالکی (۵۲۰ھ) کفر لزومی پر تکفیرکے تعلق سے رقم طراز ہیں : 
وقسم لا يكفرون بإجماع وهم الذين لايؤول قولهم إلى الكفر إلا بالتركيب، وهو أن يقال: إذا قال كذا وكذا، فلزمه عليه كذا أو كذا وإذا قال كذا وكذا لزمه عليه كذا وكذا، حتى يؤول بذلك إلى الكفر. (البيان والتحصيل والشرح والتوجيه والتعليل لمسائل المستخرجة:۱۷/ ۲۰۱)
 ’’ایک طبقہ وہ ہے جس کی اجماعاً تکفیر نہیں ہوگی اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا قول ترکیب کے ذریعے کفر تک پہنچتاہو، ان کا قول براہ راست کفر نہیں ہوتا۔ وہ اس طرح کہ یہ کہا جائے کہ اگر اس نے ایساایسا کہا تو اس سے ایسا یا ایسا لازم آیا ،اور جب اس کی بات کا یہ مفہوم نکلا تو اس سے یہ یہ باتیں لازم آئیں ، یہاں تک کہ اس طرح سے اس کا قول کفر تک پہنچ جائے ۔ 
۲۔ معروف اصولی امام ابراہیم شاطبی(۷۹۰ھ) کے اس ارشاد سے بھی یہ بات مزید واضح ہوجاتی ہے کہ یہ اختلاف فقہا اور متکلمین کا اختلاف نہیں ہے، بلکہ محققین اور غیر محققین کا اختلاف ہے۔ رقم طراز ہیں:
وَلَازِمُ الْمَذْهَبِ: هَلْ هُوَ مَذْهَبٌ أَمْ لَا؟ هِيَ مَسْأَلَةٌ مُخْتَلَفٌ فِيهَا بَيْنَ أَهْلِ الْأُصُولِ، وَالَّذِي كَانَ يَقُولُ بِهِ شُيُوخُنَا الْبِجَائِيُّونَ وَالْمَغْرِبِيُّونَ وَيَرَوْنَ أَنَّهُ رَأْيُ الْمُحَقِّقِينَ أَيْضًا: أَنَّ لَازِمَ الْمَذْهَبِ لَيْسَ بِمَذْهَبٍ، فَلِذَلِكَ إِذَا قُرِّرَ عَلَى الْخَصْمِ أَنْكَرَهُ غَايَةَ الْإِنْكَارِ، فَإِذًا اعْتِبَارُ ذَلِكَ الْمَعْنَى عَلَى التَّحْقِيقِ لَا ‌يَنْهَضُ۔ (الاعتصام، فَصْلٌ هَلْ فِي الْبِدَعِ صَغَائِرُ وَكَبَائِرُ)
کیا لازم مذہب بھی مذہب ہوتا ہے؟ یہ مسئلہ علماے اصول کے یہاں[بھی] مختلف فیہ ہے۔ البتہ ہمارے بجائی اور مغربی مشائخ کی رائے جسے وہ محققین کی رائے سمجھتے ہیں، یہ ہے کہ لازم مذہب مذہب نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب خصم پر لازم مذہب پیش کیا جاتا ہے تو وہ شدت کے ساتھ اس کا انکار کردیتا ہے۔ اس لیے تحقیق یہی ہے کہ لازم مذہب کا اعتبار نہ کیا جائے۔ 
بہر کیف! یہ بات تحقیق سے ثابت ہوگئی کہ کفر لزومی پر تکفیر یا کفر فقہی پر تکفیر فقہا کا مذہب نہیں ہے، بلکہ کفر فقہی محض عہد اخیر کی ایک اصطلاح ہے جس پر بعض ایسے فقہا، متکلمین اور محدثین واصولیین نے تکفیر کو درست سمجھا ہے جن کا یہ قول علماے محققین کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔ اس کے برخلاف جمہور محققین، بشمول فقہا ومتکلمین ومحدثین واصولیین، کا مذہب یہی ہے کہ کفر لزومی یا کفر فقہی پر تکفیر درست نہیں ہے۔

کفر فقہی پر تکفیر کا انداز

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ علماے اہل سنت میں جو حضرات کفر فقہی یا کفر لزومی پر تکفیر کرتے ہیں، وہ سد ذرائع اور دفع فتنہ کی غرض سے لزوم کفر کا تو ذکر کرتے ہیں، یا عمومی تکفیر تو کرتے ہیں، یا اس کفر لزومی کو کفر تو کہتے ہیں، مگر شخص معین کی اس انداز سے تکفیر نہیں کرتے کہ اس کو واضح طور پر شخصی انداز میں کافر ومرتد کہیں اور اس پر کفار کے احکام جاری کریں۔ 
مثال کے طور پر خوارج گناہ کبیرہ کے مرتکب کو کافر کہتے تھے اور ان پر کفار کے احکام جاری کرتے تھے، مگر اس کے برخلاف امام اہل سنت امام احمد ابن حنبل عقیدۂ خلق قرآن کو کفر کہتے ہیں، لیکن معتزلہ پر متعین طور پر کفارومرتدین کے احکام جاری نہیں کرتے۔ شیخ ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ امام احمد کے حوالے سے منقول ہے کہ آپ نےان معتزلہ کے لیے دعاے مغفرت کی جو خلق قرآن کے قائل تھے اور اس کے انکار کے سبب حضرت امام کو قیدوضرب کی شدید صعوبتوں سے دوچار کیا۔اس سے یہی واضح ہے کہ آپ خلق قرآن کو کفر تو کہتے تھے، لیکن اس عقیدے کے قائلین کی شخصی تکفیر نہیں کرتے تھے۔
 شیخ ابن تیمیہ نے مزید لکھا ہے کہ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے بعض معتزلہ کی شخصی تکفیر معین بھی فرمائی۔ پھر دونوں روایات میں تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ جن کی شخصی معین تکفیر کی ہو ان کے بارے میں پوری تحقیق کی ہو اور ان کے تعلق سے عدم تکفیر کے لیے کوئی عذر نہ بچا ہو۔ (مجموع الفتاویٰ: ۱۲ / ۴۸۹)
شیخ ابن تیمیہ نے ایک دوسرے مقام پر لکھا ہے کہ امام احمد نے اکابر جہمیہ اور ان کے موافقین کی تکفیر نہیں کی، اس کے برخلاف آپ نے انہیں مسلمان جانا، نماز میں ان کی اقتدا کی، ان کے حق میں دعا کی، ان کی امارت میں حج وجہاد کو درست کہا اور ان کے خلاف بغاوت سے لوگوں کو روکا۔ ساتھ ہی ان کی کفریات وضلالات کا رد بھی کیا۔ (مجموع الفتاویٰ:۷ / ۵۰۷)
اس کے باوجود اگر کسی نے کفر لزومی وفقہی پر شخصی تکفیر کی ہو اور متعین طور پرکسی کو کافر کہا ہو اور اس پر کافرومرتد کے احکام جاری کیے ہوں، اس امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے نزدیک کفر فقہی ولزومی حقیقی کفر ہوگا، اس لیے اس نےاس پر کفر حقیقی کے احکام جاری کیے ہوں گے۔
یہ سب تسلیم، لیکن اس کے ساتھ یہ بات تسلیم نہیں کہ اس ضعیف ومردود موقف کو اہل حق اپنا موقف بنالیں۔شاذ اقوال کے ذکر کا یا یہ مطلب نہیں کہ ان اقوال پر فتویٰ بھی  ایک ہی شخص کسی ایک ہی شخص کو کہے کہ وہ فقہی اعتبار سے کافر ہے، کلامی اعتبار سے کافر نہیں ہے۔ 
یہ تکفیر کرنا نہیں ہے، بلکہ ایمان وکفر کا مذاق اڑانا ہے کہ آپ ایک ہی وقت میں ایک ہی شخص کو کافر بھی کہیں اور مومن بھی کہیں۔ خصوصاً وہ حضرات جن پر یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ کفر فقہی درحقیقت کفر ہے ہی نہیں، اگر وہ بھی اس قسم کی گل افشانی فرمائیں تو سواے ان پر افسوس کرنے کے اور کیا کہا جاسکتا ہے۔
یہ بات اس تناظر میں دیکھیے کہ بریلوی حلقے میں ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو یہ فرماتے ہوں گے کہ اعلیٰ حضرت نے شاہ اسماعیل دہلوی کی فقہی اعتبار سے تکفیر کی ہے اور کلامی اعتبار سے تکفیر نہیں کی ہے۔
 یہ حضرات یہ بھی نہیں سمجھتے کہ یہ بات اگر مان لی جائے تو یہ اعلیٰ حضرت کی مدح نہیں ، ذم بن جائے گی۔جب وہ تکفیر فقہی کو خلاف تحقیق اور خلاف فتویٰ سمجھتے ہیں، پھر بھلا وہ کسی کی فقہی تکفیر کیوں کرنے لگے۔ اب اگر وہ یہ بات کہتے ہیں بھی ہیں کہ فلاں شخص پر فقہا کے اعتبار سے اتنی وجوہ سے کفر لازم آتا ہے تو یہ نقل بطور حکایتِ قولِ ضعیف ہے، نہ کہ بطور موقف اور ان دونوں باتوں میںکس قدر واضح فرق یا بون بعید ہے، اہل نظر سے مخفی نہیں۔

کفر فقہی کی بنیاد پر شرعی احکام کا نفاذ؟

اس سیاق میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اگر کوئی شخص یا جماعت کفر فقہی کی زد پر آتا ہے تو کیا اس پر کفار والے احکام جاری ہوں گے یا مسلمانوں والے احکام؟ ظاہر ہے کہ جب یہ بات واضح کی جاچکی کہ عند التحقیق اور جمہور محدثین، فقہا، اصولیین اور متکلمین کے نزدیک کفر فقہی کفر حقیقی ہے ہی نہیں، پھر یہ سوال بھی بے معنی ہوجاتا ہے کہ ایسے شخص پر کون سا حکم لگے گا۔ 
اس سلسلے میں فتاویٰ رضویہ کی بعض عبارات سے اشتباہ ہوا ہے، جس کا ازالہ ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک مقام پر مرقوم ہے:
’’اس سب کے بعد اپنی عورتوں سے تجدید نکاح کریں کہ کفر خلافی کا حکم یہی ہے ، علامہ حسن شرنبلالی شرح وہبانیہ پھر علامہ علائی شرح تنویر میں فرماتے ہیں: مایکون کفرا اتفاقایبطل العمل والنکاح واولادہ اولاد زنی وما فیہ خلاف یومر بالاستغفاروالتوبۃ و تجدید النکاح ۔
جو بالاتفاق کفر ہو اس سے اعمال ، نکاح باطل ہوجاتے ہیں تمام اولاد ، اولاد زنا قرارپا جاتی ہے اور جس میں اختلاف ہو وہاں استغفار ، توبہ اور تجدید نکاح کروایا جائے گا۔ (ت)‘‘(فتاویٰ رضویہ، رسالہ سبحان السبوح، خاتمہ)
یہ الدر المختار کی عبارت ہے۔علامہ شامی اس کے حاشیے میں اس مسئلے کی درست نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
أَيْ احْتِيَاطًا كَمَا فِي الْفُصُولِ الْعِمَادِيَّةِ۔ یعنی توبہ وتجدید نکاح کایہ حکم احتیاطاً ہوگا۔
(رد المحتار علی  الدر المختار، باب المرتد)
 ظاہر ہے کہ جو حکم بطور احتیاط ہوتا ہے، اس کی حیثیت استحباب کی ہوتی ہے، نہ کہ وجوب کی۔ پھر بھی اگربات تشنہ معلوم ہوتی ہو تو یہ مزید حوالے دیکھیں اور اپنی آنکھیں روشن کریں جو صراحت کے ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ مذہب تحقیق یہ ہے کہ کفر لزومی یا کفر فقہی پرکفر وارتداد کے شرعی حکم نافذ نہیں ہوتے، گو کوئی بطور احتیاط ہر دن پچاس بار توبہ وتجدید کرتا رہے۔ 
۱۔ اسی در مختار میں علامہ حصکفی رقم طراز ہیں:
وَفِي النَّهْرِ مُنَاكَحَةُ الْمُعْتَزِلَةِ لِأَنَّا لَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، إنْ وَقَعَ إلْزَامًا فِي الْمَبَاحِثِ. 
النہرالفائق میں ہے: معتزلہ کے ساتھ نکاح جائز ہے؛ کیوں کہ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے، اگرچہ از روے بحث ان کے اقوال پر کفر لازم آتا ہے۔
۲۔علامہ شامی صاحب ردالمحتارمذکورہ عبارت پر حاشیہ لگاتے ہوئے رقم طراز ہیں:
وَأَمَّا الْمُعْتَزِلَةُ فَمُقْتَضَى الْوَجْهِ حِلُّ مُنَاكَحَتِهِمْ؛ لِأَنَّ الْحَقَّ عَدَمُ تَكْفِيرِ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، وَإِنْ وَقَعَ إلْزَامًا فِي الْمَبَاحِثِ، بِخِلَافِ مَنْ خَالَفَ الْقَوَاطِعَ الْمَعْلُومَةَ بِالضَّرُورَةِ مِثْلُ الْقَائِلِ بِقِدَمِ الْعَالَمِ وَنَفْيِ الْعِلْمِ بِالْجُزْئِيَّاتِ عَلَى مَا صَرَّحَ بِهِ الْمُحَقِّقُونَ.  ( رد المحتار: ۳/۴۶) 
معتزلہ کے سلسلے میں درست بات یہی ہے کہ ان سے شادی بیاہ جائز ہے، کیوں کہ اہل قبلہ کے سلسلے میں مذہب حق عدم تکفیر ہے، اگرچہ از روئے بحث ان پر کفر لازم ہے، برخلاف ان کے جو عالم کے قدیم ہونےاور اللہ تعالیٰ کے حق میں نفیِ علم جزئیات جیسے ضروریات دین کے منکر ہوں، جیسا کہ محققین نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے۔
۳۔ علامہ نووی اس تعلق سے مختلف اقوال نقل کرنے کے بعدفیصلہ کن انداز میں لکھتے ہیں:
’’میں کہتا ہوں: اور یہی درست بھی ہے۔ امام شافعی کا ارشاد ہے کہ میںتمام اہل ہویٰ کی گواہی قبول کرتا ہوں، سوائے خطابیہ کے، جو اپنے موافقین کے حق میں جھوٹی گواہی دینے کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ سلف وخلف سب کے سب معتزلہ وغیرہ کے پیچھے نماز کی صحت،ان کے ساتھ شادی بیاہ، استحقاق وراثت اور ان پر دیگر احکام شرعی کے اجرا کو درست سمجھتے رہے ہیں۔ امام شافعی اور دیگر علما جنہوں نےخلق قرآن کے قائلین کی تکفیر کی ہے، حافظ فقیہ ابوبکر بیہقی وغیرہ ہمارے علماے محققین نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ یہاں کفر سے مراد کفران نعمت ہے، خروج از ملت مراد نہیں ہے۔ ان کی اس تاویل کی بنیاد وہی امر ہے جو ہم نے ابھی ذکر کیا کہ ان کے اوپر اسلامی احکام کا اجرا ہوتا رہا ہے۔‘‘( المجموع شرح المہذب: ۴/۲۵۴)
کتنی پیاری بات کہی ہے علامہ ابن نجیم مصری (۹۷۰ھ) نے کہ امام طحاوی نے ہمارے اصحاب سےروایت کی ہے کہ ایک مومن کو اسی بات کا انکار اسلام سے باہر کرتا ہے، جس کے اقرار نے اسے اسلام میں داخل کیا تھا۔ پھرجہاں ارتداد کا تیقن ہو وہیں ارتداد کا حکم لگایا جائے گا، جہاں اس میں کسی طرح کا کوئی شک ہو، وہاں ارتداد کا حکم نہیں لگایا جائے گا؛ کیوں کہ اسلام جب ثابت ہوگیا تو وہ محض کسی شک کی بنا پر زائل نہیں ہوسکتا۔ مزید یہ کہ اسلام غالب ہوتا ہے۔ کسی بھی عالم دین کے سامنے جب تکفیر کا قضیہ پیش ہو تو اسے چاہیے کہ اہل اسلام کی تکفیر میں جلدی نہ کرے۔ ( البحر الرائق شرح کنز الدقائق:۵/۱۳۴)

حاصل گفتگو

خلاصۂ کلام یہ کہ نہ کفر فقہی، فی الواقع کفر ہے، نہ اس بنا پر تکفیر، فقہاے محققین کا مذہب ہے، نہ اس کا مرتکب کافر ہے،نہ اس پر احکام کفر کا اجرا درست ہے، نہ سد ذراع کے نام پر موجودہ عہد میں اس کا دروازہ کھولنا جائز ہےکہ ایک تو یوں ہی بازار تکفیر گرم ہے، اس دروازے کے کھلنے سےپھر کوئی نہیں بچے گا، اس آگ میں جل کرسب خاکستر ہوجائیں گے۔ ہاں! زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگرچہ ایسا شخص کافر نہیں ہے، مگر بعض فقہا کی رائے کے مطابق اس پر کفر لازم آتا ہے، یا اس کا کافر ہونا ثابت ہوتا ہے، اگرچہ ان کی یہ رائے معتمد ومستند اور مفتی بہ نہیں ہےاور یہ بات تو انتہائی حدتک مضحکہ خیز ہے کہ کہا جائے کہ فلاں شخص کلامی اعتبار سے مومن ہے اور فقہی اعتبار سے کافر ہے۔اس کے بطن سے اس سے بدترین تماشہ جنم لے گا کہ لوگ ایک دوسرے کو کافر کہتے پھریں گے اور پوچھنے پر وضاحت کریں گےکہ نہیں نہیں! میری مراد تکفیر کلامی نہیں تکفیر فقہی ہے اور پھرجب تک وہ فقہی وکلامی کی پہیلی حل کریں گے تب تک کتنے آشیانے تباہ ہوچکے ہوں گے۔ کیا عجب کہ یہ تماشہ شروع بھی ہوچکا ہو!

(تحریر:  ۱۶/۰۳/۲۳)

Comments 0

Advertisement