Jahangir Hasan Misbahi
Author Profile

ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی

Jahangir Hasan Misbahi

ڈاکٹر محمد جہاں گیر حسن ۹؍دسمبر ۱۹۸۰ء کو مشرقی چمپارن، بہار میں پیدا ہوئے۔ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور سے فضیلت اور جامعہ ملیہ اسلامیہ و دہلی یونیورسٹی سے اعلیٰ عصری تعلیم حاصل کی۔ جامعہ عارفیہ کے مدرس و محقق، مدیرِ خضر راہ اور روزنامہ انقلاب کے کالم نگار ہیں۔ متعدد علمی مضامین کے مصنف ہیں۔
7 Articles
0 Video Articles
0 Books

Tasawwuf (5)

All Posts (7)

محبوب سبحانی شیخ عبدالقادرجیلانی کے افکار وتعلیمات

محبوب سبحانی شیخ عبدالقادرجیلانی کے افکار وتعلیمات اللہ تعالیٰ نے انسانوںکی رشدوہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاومرسلین بھیجے جنھوں نے انسانوں کو  صراط مستقیم کی رہنمائی کی اور دین ودنیا میں کامیاب ہونے کا بہترین نسخہ بتایا۔ لیکن جب رحمت عالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے نبوت ورسالت کا دروازہ بند فرمادیا مگررُشدوہدایت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ہاں! اتنا ضرور ہوا کہ رشدوہدایت کا یہ فریضہ انبیاورُسل علیہم الصلاۃ والسلام کے بعد اولیا اور صلحا انجام دینے لگے۔ اب اولیا اورعارفین باللہ قیامت تک آتے رہیں گے اور...

افکارِ غزالی کی عصری معنویت

دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی ہیں جن کا ذکر خیر ہمارے لیے دین و دنیا دونوں میں سعادت مندی اور نیک بختی کاسامان ہوتا ہے۔ ایسی ہی ہستیوں اور میں ایک منفرد نام امام غزالی قدس سرہٗ کاہے جو دین و دنیا دونوں اعتبار سے ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ امام غزالی علوم متداولہ کے نہ صرف عالم تھے بلکہ علوم متداولہ رکھنے والے علما کے لیے قابل رشک بھی تھے۔ وہ علوم متداولہ کے ساتھ علوم تصوف اور تزکیہ و احسان سے مزین اور اُن کے عملی پیکر بھی تھے۔ یہاں پر امام غزالی کی زندگی کا یہ...

ख़ानक़ाहे आरिफ़िया, सैय्यद सरावां

ख़ानक़ाहे आरिफ़िया, सैय्यद सरावां   सय्यद-सरावां प्राचीन और आधुनिक भारत का काफी पुराना कस्बा है और चौदहवीं शताब्दी ईस्वी के महान सूफी संत सय्यद मुहम्मद हक्कानी हुसैनी सब्ज़वारी के नाम पर इस कस्बे को "सय्यद सरावां" कहा जाता है। चूंकि सय्यद मुहम्मद हक्कानी साहब एक ईश्वर्य-मिशन के साथ "सय्यद सरावां" पहुंचे थे, इसलिए उन्होंने इसे केवल अपना निवास-स्थान ही नहीं बनाया, बल्कि अल्लाह के बंदों की भलाई और उनके निर्वाण के लिए सय्यद-सरावां को एक आध्यात्मिक केंद्र भी घोषित कर दिया और एक लंबे समय तक यहाँ के लोगों का शिक्षण-प्रशिक्षण करते रहे।   फिर एक समय ऐसा आया कि...

خانقاہ عالیہ عارفیہ، سید سراواں

 خانقاہ عالیہ عارفیہ سید سراواں موجودہ طوفان خیز اورفریب خوردہ حالات میں اخلاق ومروت اور امن وآشتی کا ایک روشن مینار ہے خانقاہ عالیہ عارفیہ  سید سراواں، قدیم وجدید ہندوستان کا ایک مردم خیزعلاقہ اورقدیم ترین قصبہ ہےاور چودھویں صدی عیسوی کے عظیم بزرگ سید محمد حقانی حسینی سبزواری(۱۳۸۹ء) کی طرف نسبت کرتے ہوئے’’سید سراواں‘‘کہلاتا ہے۔چوںکہ سیدمحمد حقانی سبزواری خدائی مشن کے تحت ’’سیدسراواں‘‘ وارد ہوئےاِس لیے آپ نے اِس قصبےکونہ صرف اپنامسکن بنایا بلکہ اِسےبندگانِ خدا کے رشدوہدایت کاایک روحانی سینٹر قراردیا اورکافی عرصے تک اصلاح وتربیت میں مصروف ومشغول رہے۔  پھرایک زمانہ آیاکہ جب سیدمحمدحقانی سبزواری کا روشن...

Author Profile

ڈاکٹر محمد جہاں گیر حسن مصباحی
(ولادت: ۹؍دسمبر ۱۹۸۰ء، ہروہانی، مشرقی چمپارن، بہار)
مدیر اور کالم نگار

ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر
ڈاکٹر محمد جہاں گیر حسن مصباحی ۹؍دسمبر ۱۹۸۰ء کو ہروہانی، ڈھاکہ، مشرقی چمپارن میں پیدا ہوئے اور پرورش حسن پور، بسبٹا بازار، سیتامڑھی میں ہوئی۔ ابتدائی دینی تعلیم الجامعۃ العربیہ رضاء العلوم، حسن پور اور الجامعۃ الاسلامیہ رضاء العلوم، کنہواں سے حاصل کی۔ ۱۹۹۷ء میں الجامعہ الاشرفیہ، مبارک پور سے فضیلت مکمل کی۔ عصری تعلیم میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی اور پی جی ڈپلوما اِن ماس میڈیا کی اسناد حاصل کیں۔

علمی و عملی خدمات
۲۰۰۹ء تا ۲۰۱۰ء پٹنہ مسلم ہائی اسکول میں اردو استاد اور ۲۰۰۸ء تا ۲۰۰۹ء ماہنامہ ماہِ نور دہلی میں اسسٹنٹ مدیر رہے۔ ۲۰۱۲ء سے جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں مدرس اور ماہنامہ خضر راہ کے مدیرِ مسئول کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نومبر ۲۰۲۴ء سے روزنامہ انقلاب میں کالم نگاری بھی کر رہے ہیں۔

اعزازات و نمایاں کامیابیاں
ڈاکٹر جہاں گیر حسن نے علمی، دینی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر سینکڑوں مضامین و مقالات تحریر کیے ہیں، جو مختلف رسائل و اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی گہرائی، صحافتی توازن اور ادبی شائستگی نمایاں ہے۔

شخصیت اور علمی مقام
ڈاکٹر جہاں گیر حسن ایک مدرس، ادیب اور صحافی کی حیثیت سے علمی و فکری حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عہدِ طالب علمی سے قلم و تحریر سے وابستہ ہیں اور زود نویسی کے ساتھ خوب نویسی میں بھی امتیاز رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت دینی علم، عصری تعلیم اور صحافتی تجربے کا خوبصورت امتزاج ہے۔

Books (0)

Book Reviews (1)

تفہیم جہاد-اسلامی فلسفۂ جنگ کا حقیقی بیانیہ

صاحب کتاب: ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی مغربی چمپارن (ضلع بتیا) شمالی بہار سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر موصوف ایک معتدل فکر...

Tasawwuf (5)

خانقاہ عالیہ عارفیہ، سید سراواں

 خانقاہ عالیہ عارفیہ سید سراواں موجودہ طوفان خیز اورفریب خوردہ حالات میں اخلاق ومروت اور امن وآشتی کا ایک روشن...

افکارِ غزالی کی عصری معنویت

دنیا میں کچھ ہستیاں ایسی ہیں جن کا ذکر خیر ہمارے لیے دین و دنیا دونوں میں سعادت مندی اور...

محبوب سبحانی شیخ عبدالقادرجیلانی کے افکار وتعلیمات

محبوب سبحانی شیخ عبدالقادرجیلانی کے افکار وتعلیمات اللہ تعالیٰ نے انسانوںکی رشدوہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس...

ख्वाजा साहब की शिक्षा का वर्तमान महत्व

ख्वाजा साहब को आम तौर पर पूरी दुनिया के लिए और विशेष रूप से हम भारतीयों के लिए किसी परिचय...

خواجہ غریب نواز کی مہاجرانہ زندگی

ہجرت کا لفظ آتے ہی ذہن میں سب سے پہلے جو بات اُبھرتی ہے وہ ہے’’ ہجرت نبوی‘‘جو اَحکم الحاکمین...

Institutions (1)

ख़ानक़ाहे आरिफ़िया, सैय्यद सरावां

ख़ानक़ाहे आरिफ़िया, सैय्यद सरावां   सय्यद-सरावां प्राचीन और आधुनिक भारत का काफी पुराना कस्बा है और चौदहवीं शताब्दी ईस्वी के...