’’تاجدارِ کربلا کانفرنس‘‘ پریاگ راج میں علامہ ڈاکٹر سید شمیم الدین احمد منعمی کا خصوصی خطاب
نیم سرائے، منڈیرا (پریاگ راج) میں’’ انجمن خدام محبانِ اہلِ بیت‘‘ کے زیرِ اہتمام 11 ؍اگست کی شب بعد نمازِ عشاء حسینی مسجد کے صحن میں ’’تاجدارِ کربلا کانفرنس‘‘ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اِس روح پرور محفل کی سرپرستی خانقاہ عارفیہ کے صاحب سجادہ حضرت عارف باللہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دامت برکاتہم نے فرمائی، جب کہ صدارت ولی عہد خانقاہ و ناظمِ اعلیٰ جامعہ عارفیہ حضرت مولانا حسن سعید صفوی نے کی۔
خانقاہ منعمیہ، میتن گھاٹ ، پٹنہ کے صاحب سجادہ خطیب خصوصی علامہ ڈاکٹر سید شمیم الدین احمد منعمی نے کہا کہ آلِ رسول کی محبت مؤمنین کے لیے فطری ہے ، اس کے ثبوت کے لیے روایات کی حاجت نہیں ۔ہر ذی روح کو اپنی اولاد کی خوشی سے خوشی اور تکلیف سے اذیت ہوتی ہے۔ کربلا برپا کرنے والے، امام حسین کو شہید کرنے والے اور اہل بیت کو اذیتیں پہنچانے والے رسول اللہ ﷺ کی روح پاک کو اذیت پہنچانے والے ہیں اور ہمیں اُن فلسفیوں اور دانشوروں پر افسوس ہوتا ہے جو ایسے ظالموں کے لیے تاویلیں نکالتے ہیں اور روایات کا ضعف تلاش کرتے ہیں۔ روایات کا ضعف تلاش کرنے والے روایات صحیحہ کی روشنی میں بتائیں کہ امام حسین کا جنازہ کس نے پڑھایا، شہداے کربلا کی تجہیز وتدفین کس نے کی، کربلا سے کوفہ اور پھر شام تک اہل بیت رسول کو کس عزت واحترام کے ساتھ لے جایا گیا؟ اگر ان کے پاس یزید اور یزیدیوں کے بچاؤ کے لیے کوئی صحیح روایت نہیں ہے تو پھر اُنہیں مظالم کی روایات میں ضعف تلاش کرکے ظالموں کی پس پردہ حمایت سے ڈرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ کل بروز حشر وہ کس منہ سے رسول پاک ﷺ کا سامنا کریں گے۔علامہ منعمی نے کہا کہ امام حسین رسول اللہ ﷺ کی آل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔ انہیں کربلا میں مظلومانہ قتل کیا گیا اور اُن کے اور اُن کے ساتھیوں کی لاشوں کی توہین کی گئی، یہ ایک حقیقت ہے اور اپنی اولاد کی تکلیف سے اذیت محسوس کرنا یہ فطرت کا تقاضا ہے، جس کے اثبات کے لیے الگ سے دلائل کی حاجت نہیں ہے۔

علامہ منعمی نے کہا کہ حسین شاہ اس لیے ہیں کہ ان کے نانا جان نے انہیں جنتی نوجوانوں کی سرداری بخشی ہے اور چوں کہ جنتی سب نوجوان ہوں گے، اس لیے خوب سوچ سمجھ لیں کہ امام حسین کو بادشاہ تسلیم کیے بغیر جنت کی امید واری کیسی ہے؟ ڈاکٹر منعمی نے کہا کہ خلافت کیا ہوتی ہے اس کا اظہار خلیفۂ اول نے اپنے پہلے خطبے میں کردیا تھا کہ اگر میں اللہ ورسول کے احکام پر قائم رہوں تو مجھے خلیفہ تسلیم کرنا ورنہ ابوقحافہ کے بیٹے کو منبر سے نیچے اتار دینا۔ یہ بھی وضاحت کی کہ امام حسین نے وہ کام کیا جو حضرت ابراہیم نے نمرود کے سامنے، حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے اور رسول کریم ﷺ نے ابوجہل وابولہب کے سامنے کیا۔اس لیے یہ بات واضح ہے کہ امام حسین لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد ہیں۔‘‘ دین صرف نماز وروزے کا نام نہیں، دین عدل وانصاف اور شریعت کی مکمل تابع داری کا نام ہے۔
کانفرنس کا آغاز حسینی مسجد کے امام، جناب محمد رضوان سعیدی کی پراثر تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد جناب سفیان پھول پوری، حافظ محمد ذکا سعیدی اور ڈاکٹر عمران نجف علیمی (سکریٹری) نے شہدائے کربلا اور اہل بیت کی شان میں نعت و مناقب پیش کیے۔ نظامت کے فرائض جناب محمد احمد صحافی (وطن سماچار) نے انجام دیے اور مختصر گفتگو میں درود شریف کی برکت اور اہل بیت کی عظمت کو اجاگر کیا۔
محفل کے اختتام پر حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی نے خصوصی دعا فرمائی اور شرکاء میں تبرک تقسیم کیا گیا۔انجمن خدام محبان اہل بیت، جو منڈیرا میں مقیم نجف فیملی کی تنظیم ہے، ڈاکٹر عرفان نجف علیمی کی سرپرستی اور رہنمائی میں سال بھر سماجی و رفاہی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں ۔اس موقع پر علاقے بھر سے بڑی تعداد میں عاشقانِ اہل بیت شریک ہوئے اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ خاص شرکامیں ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی، مولانا محمد زکی، مولانا انجم راہی ازہری، مولانا ناظم اشرف مصباحی، مولانا حسن اقبال سعیدی، ثقلین نجف، حسنین نجف، مدثر نجف، ذیشان نجف، رضوان نجف، فرحان نجف، عدنان نجف، عمار نجف، امجد پھولپوری، مرتضیٰ، مجتبیٰ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
Shaikh Javed Iqbal
Best channel broadcasting authentic information & knowledge as about Islam
Shaikh Javed Iqbal
Best channel broadcasting authentic information & knowledge as about Islam
Leave your comment