جامعہ ملیہ اسلامیہ میں "روحانیت کے ذریعے کثرت میں وحدت" کے موضوع پر علمی و روحانی کانفرنس کا انعقاد، اسلامی صوفی روایات کی بازگشت اور محفلِ سماع کی روح پروری اور سحرانگیزی
نئی دہلی، 22 ستمبر (پریس ریلیز):
شاہ صفی میموریل ٹرسٹ، دہلی یونٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی کلچرل کمیٹی کے اشتراک سے ایک علمی و روحانی کانفرنس بعنوان ’’روحانیت کے ذریعے کثرت میں وحدت‘‘کا انعقاد کیا، جو نہ صرف ایک علمی اجتماع تھا بلکہ روحانیت، محبت اور انسانیت کے رشتوں کو ازسرِ نو سمجھنے کی ایک کوشش بھی تھی۔ یہ تقریب جامعہ کے انجینئرنگ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جہاں علم و عرفان کے متلاشی، روحانی ذوق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ، محققین اور صوفی روایتوں سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
اس کانفرنس کی سرپرستی معروف روحانی پیشوا شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی (سجادہ نشیں خانقاہِ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی) نے فرمائی، جن کی موجودگی نے محفل کو ایک معنوی جِلا بخشی۔ ان کی خانقاہی روایت، جو محبت، اخلاص اور خدمتِ خلق پر مبنی ہے، اس کانفرنس کے مرکزی خیال سے ہم آہنگ تھی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا: ’’میرے نزدیک روحانیت کا مفہوم بالکل سادہ ہے اور وہ یہ کہ دل، دماغ اور زبان کو ہم آہنگ کر لیا جائے۔ جس نے ان تینوں پر قابو پا کر انہیں ایک کردیا، گویا وہ روحانی ہوگیا۔‘‘ انہوں نے روحانیت کو سماجی ہم آہنگی اور فکری ارتقا کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ’’جب علم، ادب اور روحانیت یکجا ہوں، تو انسانیت کا پیغام نہ صرف بلند ہوتا ہے بلکہ دلوں میں اتر بھی جاتا ہے۔‘‘
کانفرنس میں دو خصوصی مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مفتی محمد کتاب الدین رضوی (دارالافتاء عارفیہ) نے کثرت میں وحدت کے فلسفے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ہمارے اعضا -ہاتھ، پیر، ناک، آنکھ سب جدا جدا ہیں اور سب کے کام بھی جدا جدا ہیں -لیکن ہماری روح نے سب کو ایک کر رکھا ہے کہ ان میں کوئی جنگ نہیں ہے، ٹھیک اسی طرح روحانیت ایک ایسا پُل ہے جو انسانوں کی کثرت کے باوجود انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتی ہے اور انہیں متحد کرتی ہے۔
دوسرے مقرر خصوصی ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے رسول اکرم ﷺ کی شخصیت اور تعلیمات کی روشنی میں وحدتِ انسانی پر بصیرت افروز گفتگو کی۔ انہوں نے کہا: ’’پیغمبر محمد ﷺ کی تین حیثیتیں ہیں: وہ پیغمبر اسلام ہیں، اس اعتبار سے جو لوگ بھی انہیں اللہ کا آخری رسول مانتے ہیں، وہ سب ایک ملت ہیں اگرچہ ان کے بیچ سیکڑوں علمی و فکری اختلافات ہوں۔ اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ پیغمبر انسانیت ہیں، وہ انسانیت کی بات کرتے ہیں، انسانی اقدار کی تعلیم میں مذہب کو آڑے نہیں لاتے۔ وہ تمام انسانوں کو حضرت آدم کی اولاد بتا کر نسل پرستی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے میثاقِ مدینہ کے ذریعہ پہلی قومی حکومت قائم کی، جس میں ایک زمین پر بسنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں کو ایک قوم کہا گیا اور سب کو تحفظ فراہم کیا گیا۔‘‘

مہمانِ اعزازی پروفیسر مہتاب عالم رضوی (رجسٹرار جامعہ) نے اپنے خطاب میں کہا: ’’روحانیت وہ چراغ ہے جو دلوں کو روشن کرتا ہے۔ جب دل روشن ہوں تو فرقے، نسلیں اور سرحدیں مٹ جاتی ہیں۔ ہمیں ایسے اجتماعات کی ضرورت ہے جو انسان کو انسان سے جوڑیں اور دلوں میں محبت، رواداری اور اخلاص پیدا کریں۔‘‘
تقریب کے اختتام پر ایک وجد انگیز محفلِ سماع منعقد ہوئی، جس میں عشقِ حقیقی اور وحدتِ الٰہی پر مشتمل صوفیانہ کلام پیش کیا گیا۔ سامعین نے دل کھول کر داد دی اور روحانی کیف میں ڈوب گئے۔ یہ اپنی نوعیت کی منفرد محفل تھی، جس میں لوگ دین، انسانیت، عشقِ الٰہی، محبتِ انسانی اور اخوتِ ملی و جذبۂ قومی کے جذبات سے سرشار ہوئے۔
پروگرام کا آغاز مسجد درگاہ حضرت نظام الدین اولیا کے امام قاری سیف الاسلام کی تلاوت سے ہوا۔ حسن طالب اور مطلوب ظفر نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا اور سرپرستِ جلسہ حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی مدظلہ العالی نے بارگاہِ الٰہی میں ایمان و عمل، امن و محبت اور ملک و ملت کی سالمیت کی دعا فرمائی۔

اس کامیاب تقریب کے انعقاد میں کنوینر پروفیسر نیلوفر افضال (صدر یونی ورسٹی کلچر کمیٹی) کا بھرپور تعاون شامل رہا۔ جناب شکیل الرحمٰن خان، رسرچ اسکالر جامعہ ملیہ نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور خانقاہ و جامعہ عارفیہ کے قدیم طلبہ و متوسلین نے اس کو کامیاب بنانے میں انتھک محنت و کوشش کی۔ طارق رضا قادری اور مغیث انجم نے گرافک و ریکارڈنگ کے اموربڑی مستعدی سے انجام دیا۔
شاہ صفی میموریل ٹرسٹ، دہلی یونٹ کے سرپرست مولانا حسن سعید صفوی نے آخر میں کلماتِ تشکر پیش کیے، منتظمین کی کوششوں کو سراہا اور شرکا کا شکریہ ادا کیا، اور قومی ترانہ پر محفل کا اختتام ہوا۔
خصوصی شرکا میں حضرت سید محبوب الاسلام نجمی میاں (درگاہ حضرت نظام الدین اولیا)، پروفیسر اختر الواسع (سابق شیخ الجامعہ، مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور)، پروفیسر اقتدار محمد خان (ڈین فیکلٹی برائے علومِ انسانی و لسانیات)، سید ضیاء علوی (خیرآباد)، پروفیسر مشاہد رضوی (ڈائریکٹر، مرکز برائے فاصلاتی تعلیم، جامعہ ملیہ اسلامیہ)، پروفیسر کلیم اصغر (صدر شعبۂ فارسی)، مفتی مشتاق تجاروی (معاون پروفیسر)، ڈاکٹر سید شاداب حسین رضوی، ڈاکٹر فیض اللہ خان، مولانا منظر محسن، مولانا معید ازہری، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر شوکت علی، سید تالیف حیدر، جناب یاور اقبال، ڈاکٹر عرفان نجف علیمی (الٰہ آباد)، ڈاکٹر نور محمد علیمی اور مولانا فیضان عزیزی کے اسمائے گرامی بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔
Leave your comment