عرسِ مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی میں علما و مشائخ کی شرکت؛ نئی اشاعت کو تحقیق، ترجمہ اور علمی روایت کے تسلسل کا اہم سنگِ میل قرار دیا گیا
خیرآباد شریف: مخدومِ کبیر حضرت شیخ سعد الدین خیرآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سہ روزہ عرس کی تقریبات کے تیسرے روز بعد نمازِ ظہر سلسلۂ چشتیہ نظامیہ کی اہم صوفیانہ تصنیف ’’مجمع السلوک والفوائد‘‘ کی دوسری اشاعت کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔ اس موقع پر خیرآباد شریف، صفی پور شریف، سید سراواں شریف، لکھنؤ اور دیگر مقامات سے آئے علما، مشائخ اور اہلِ علم کی بڑی تعداد موجود تھی۔
’’مجمع السلوک والفوائد‘‘ حضرت مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی معروف تصنیف ہے، جسے تصوف و سلوک کے جامع مباحث اور شرعی اصولوں سے مضبوط وابستگی کے باعث سلسلۂ چشتیہ نظامیہ کے اہم علمی ذخیرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ جامعہ عارفیہ، سید سراواں کے استاد مولانا ضیاء الرحمن علیمی نے کیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ولی عہد خانقاہ عارفیہ شیخ ابو سعد حسن سعید صفوی نے بتایا کہ تقریباً دس برس قبل کتاب کی پہلی اشاعت دو قلمی نسخوں کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی، تاہم بعد میں ایک تیسرا قلمی نسخہ دستیاب ہونے کے بعد موجودہ اشاعت کو ازسرِ نو تحقیق و تقابل کے مراحل سے گزارا گیا۔ تینوں نسخوں کے باہمی مطالعے سے متن و ترجمے کو مزید واضح کیا گیا، بعض مبہم مقامات کی اصلاح اور مشکل مقامات کی توضیح کی گئی، جس سے نئی اشاعت پہلی اشاعت کے مقابلے میں زیادہ مستند اور قابلِ استفادہ صورت میں سامنے آئی ہے۔
آپ نے اِس علمی کاوش کو محض ایک کتاب کی دوبارہ اشاعت نہیں بلکہ ایک قدیم صوفیانہ علمی امانت کی حفاظت، بازیافت اور نئی نسل تک منتقلی کی اہم کوشش قرار دیا۔ اس موقع پر مترجم مولانا ضیاء الرحمن علیمی اور کتاب کی تحقیق، تصحیح، اشاعت اور تیاری میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی خدمات کو سراہا گیا۔
عرس کی تقریبات کے دوسرے روز بعد نمازِ مغرب محفلِ ذکر کا بھی اہتمام کیا گیا۔ قاری نظام الدین لکھنوی نے تلاوتِ قرآن کی، جب کہ شاہ ہلال مجیبی خانقاہِ رزاقیہ مجیبیہ نے کلام پیش کیا۔ جامعہ عارفیہ کے استاد مفتی محمد کتاب الدین رضوی نے اولیائے کرام سے محبت اور نسبت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اولیا سے حقیقی محبت محض دعوے کا نام نہیں بلکہ ان کی تعلیمات، طریقِ عمل، شریعت کی پابندی، صدق اور اخلاص کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ محفل صلاۃ و سلام اور صاحبزادہ حسن ثاقب عثمانی کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔
حضرت نجم الحسن عثمانی عرف شعیب میاں (سجادہ نشیں درگاہ حضرت بڑے مخدوم صاحب) کی سرپرستی میں عرس کی تمام تقریبات بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوئیں۔
کتاب کی رسمِ اجرا میں خانقاہ صفویہ، صفی پور شریف سے حضرت نوازش محمد فاروقی (صمدی میاں)، حضرت افضال محمد فاروقی (افضال میاں) اور نیاز میاں، خانقاہ مینائیہ، لکھنؤ کے صاحبِ سجادہ حضرت راشد مینائی، خانقاہ عارفیہ سید سراواں کے صاحبِ سجادہ حضرت شیخ ابو سعید احسان اللہ محمدی صفوی سمیت متعدد علما و مشائخ شریک ہوئے۔ شرکا میں مولانا حسین سعید صفوی، مفتی محمد کتاب الدین رضوی، مترجم مولانا ضیاء الرحمن علیمی، ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی، مولانا غلام مصطفی ازہری، مولانا فیضان عزیزی، مولانا اصغر علی مصباحی، مفتی آفتاب رشکِ مصباحی، مولانا امان اللہ محمدی مصباحی، مولانا عمران صفوی اور مولانا امن صفی پوری سمیت متعدد علمی و دینی شخصیات شامل رہیں۔
Comments 0
Leave your comment