سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول میں ۸۰؍واں یومِ آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا

سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول میں ۸۰؍واں یومِ آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا

Read in:
हिन्दी English اردو

طلبہ کی تقاریر اور ثقافتی پیش کشوں میں اتحاد، تعلیم اور مساوات کو حقیقی آزادی کا تقاضا قرار دیا گیا

سید سراواں، کوشامبی، ۱۵؍ اگست ۲۰۲۶ء: سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول، سید سراواں، کوشامبی میں ہندوستان کا ۸۰؍واں یومِ آزادی قومی جوش و جذبے اور حب الوطنی کے ساتھ منایا گیا۔ پروگرام کا آغاز دعائیہ نغمے ’’تیری ہے زمیں، تیرا آسماں‘‘ سے ہوا،  جس کے بعد اسکول کے سرپرست شیخ ابو سعید صفوی نے ترنگا لہرایا اور قومی ترانہ ’’جن گن من‘‘ پڑھا  گیا۔

طلبہ نے قومی پرچم کی عظمت اور ہندوستان کی شان کو اجاگر کرتے ہوئے خوب صورت ترنگا ایکشن سانگ پیش کیا۔ مختلف ملی نغموں پر مشتمل ایک دل کش موسیقی و ثقافتی پیش کش میں ملک کی بہادری، قربانی، تہذیبی رنگا رنگی اور وطن سے محبت کے جذبات کو نمایاں کیا گیا۔ ’’یہ دیش ہے ویر جوانوں کا‘‘، ’’میرا جوتا ہے جاپانی‘‘ اور دیگر معروف وطنی نغموں کے ذریعے طلبہ نے حاضرین میں حب الوطنی کا جوش پیدا کیا۔

جماعت ششم کی طالبہ ماریہ نے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے تہذیبی اور مذہبی تنوع کو اس کی اصل طاقت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف زبانوں، تہذیبوں، روایات اور مذاہب کے باوجود ہم سب ایک قوم ہیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کے معروف مصرعے ’’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے باہمی احترام، مساوات، امن اور قومی یکجہتی کا پیغام دیا۔

جماعت ہفتم کی طالبہ حسنیٰ فاطمہ نے ہندی میں خطاب کرتے ہوئے آزادی کے مفہوم کو موجودہ سماجی ذمہ داریوں سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ صرف پرچم لہرانا ہی آزادی کا مکمل پیغام نہیں، بلکہ حقیقی آزادی اس وقت ہوگی جب ہر بچے کو تعلیم، ہر شہری کو عزت اور ہر خاتون کو تحفظ حاصل ہو۔ انہوں نے غربت، بچوں سے مشقت، ذات پات، نفرت اور بدعنوانی جیسی سماجی برائیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ ایمانداری سے تعلیم حاصل کریں، ہر انسان کا احترام کریں اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ملک کی بہتری میں حصہ لیں۔

تقریب کی ایک مؤثر ڈرامائی پیش کش میں مہاتما گاندھی کے کردار کے ذریعے یہ سوال اٹھایا گیا کہ آزادی صرف غلامی سے نجات کا نام ہے یا غربت، رشوت، نفرت اور سماجی ناانصافی سے آزادی بھی ضروری ہے۔ اس پیش کش نے طلبہ کو ذمہ دار شہری بننے اور معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کا پیغام دیا۔

اختتام پر اسکول کی ٹیچر ، ثانیٔ زہرا صاحبہ نے انتظامیہ، اساتذہ، عملے اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا اور اتحاد، احترام اور حب الوطنی کے جذبے کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی تلقین کی۔

Gallery 5 Photos

Related Video

Comments 0

Advertisement