جامعہ عارفیہ، خانقاہ عارفیہ میں ۸۰واں جشنِ یومِ آزادی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا

جامعہ عارفیہ، خانقاہ عارفیہ میں ۸۰واں جشنِ یومِ آزادی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا

Read in:
हिन्दी English اردو

اتحاد، تعلیم اور مضبوط جمہوریت ہی ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد

جامعہ عارفیہ، ۱۵ ؍اگست ۲۰۲۶ء: جامعہ عارفیہ میں ہندوستان کا ۸۰؍واں یومِ آزادی نہایت تزک و احتشام، قومی جوش و جذبے اور حب الوطنی کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر جامعہ کے اساتذہ و طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں پیش کرنے والے مجاہدینِ آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وطنِ عزیز کے امن، استحکام اور ترقی کے عزم کا اظہار کیا۔

پروگرام کا آغاز جامعہ کے ترانے سے ہوا، جسے سعیدی برادران نے پیش کیا۔ اس کے بعد نہایت ادب و احترام کے ساتھ پرچم کشائی کی رسم ادا کی گئی۔ سرپرستِ جامعہ حضرت عارف باللہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دامت برکاتہم نے ترنگا لہرایا۔ اس موقع پر اساتذہ اور طلبہ قومی پرچم کے احترام میں کھڑے ہوئے اور اجتماعی طور پر قومی ترانہ ’’جن گن من‘‘ پڑھا۔ پورا ماحول قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ہوگیا۔

اس کے بعد سعیدی برادران کی جانب سے وطن کی محبت پر مشتمل خوب صورت کلام پیش کیا گیا، جس میں ہندوستان کی علمی، روحانی، تہذیبی اور تاریخی عظمت کو اجاگر کرتے ہوئے ’’میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے‘‘ کے ذریعے مادرِ وطن سے محبت کا اظہار کیا گیا۔

تقریب سے جامعہ عارفیہ کے استاد مولانا محمد زکی صاحب نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم جس آزاد ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں، وہ ہمارے اسلاف اور مجاہدینِ آزادی کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں ہندوستانیوں کو معاشی استحصال، بھاری لگان، قحط، نسلی امتیاز اور سیاسی جبر کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی نے ان لوگوں کے درمیان بھی اختلاف اور انتشار پیدا کیا جو پہلے محبت، امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے تھے۔

مولانا زکی  نے مزید بتایا کہ  آزادی حاصل ہونا جدوجہد کا صرف ایک مرحلہ تھا، اصل ذمہ داری اب ملک کی تعمیر و ترقی ہے۔ ان کے بقول اگر ہندوستان کے لوگ آپس میں نفرت، لڑائی اور نزاع میں اپنی توانائیاں صرف کریں گے تو ملک ترقی نہیں کرسکتا؛ جس طرح باہمی اختلاف میں مبتلا خاندان خوش حال نہیں ہوسکتا، اسی طرح منتشر قوم بھی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی مضبوطی کے لیے اتحاد، جمہوریت، تعلیم اور اخلاق کو فروغ دینا ہوگا اور نئی نسل کو ایسا ذمہ دار شہری بنانا ہوگا جو امن، بھائی چارے اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر مولانا مجیب الرحمٰن علیمی نے بحسن و خوبی انجام دیے، جب کہ مکمل انتظام و انصرام میں جامعہ عارفیہ کے مینیجر جناب ساجد سعیدی برہانی، جمعیۃ الطلبہ کی ٹیم کے ہمراہ پیش پیش رہے۔ تقریب میں جامعہ عارفیہ کے تمام اساتذہ نے شرکت کی، جن میں بالخصوص ناظمِ اعلیٰ مولانا شیخ حسن سعید صفوی، پرنسپل علامہ عمران حبیبی، نائب پرنسپل مفتی محمد کتاب الدین رضوی اور سی ای او شاہی پراڈکٹس شیخ حسین سعید صفوی قابلِ ذکر ہیں۔

تقریب کے اختتام پر حضرت داعیِ اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دامت برکاتہم نے خصوصی دعا فرمائی۔ ملک کی سلامتی، امن و امان، قومی اتحاد، باہمی محبت اور ہندوستان کی مسلسل ترقی و خوش حالی کے لیے دعا کے ساتھ جشنِ یومِ آزادی کی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

Gallery 5 Photos

Related Video

Comments 0

Advertisement