کبھی کبھی دل میں ایک چنگاری سلگتی ہے، جو برسوں بعد شعلہ بن کر روشن ہو جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ میرا تھا۔ ایک عرصے سے دل میں یہ خواہش دبی دبی سی پل رہی تھی کہ کاش! قرآن کو خود قرآن کی روشنی میں سمجھنے کا موقع ملے۔ یہ خواب اگرچہ خاموش تھا، لیکن کبھی بجھا نہیں۔ اور اس خواب کی تکمیل میں بارہا دوستوں سے مشورہ اور اساتذہ سے رہنمائی طلب کی، تو پتا چلا کہ اس خواب کی ایک ہی بہترین تعبیر ہے: تفسیر ابن کثیر۔
یہ وہ تفسیر ہے جس پر علما کا تقریباً اجماع ہے کہ یہ واقعی امام ابن کثیر ہی کی تصنیف ہے، اور اہلِ سنت کے یہاں سب سے معتبر اور مقبول تفسیر سمجھی جاتی ہے۔ اسلاف کی تحریروں میں اس کے مختلف نام لکھے ہوئے ہیں۔ کسی نے صرف "تفسیر" کہا، کسی نے "تفسیر ابن کثیر"، تو کسی نے "تفسیر القرآن العظیم"۔ مگر جس چیز پر کبھی اختلاف نہ ہوا، وہ اس تفسیر کی عظمت و نسبت تھی۔ اختلاف تسمیہ میں تھا، مسمّیٰ میں نہیں۔ شروع میں یہ کتاب فتح البیان اور تفسیر بغوی کے ساتھ حاشیے میں چھپتی رہی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسے انفرادیت بھی ملی، اور الگ سے دس جلدوں یا بعض کے مطابق دس اجزاء پر مشتمل چھپنے لگی۔ اور رب کا فضل دیکھیے کہ موجودہ دور میں تقریباً اس کے سات قلمی نسخے بھی موجود ہیں: ترکی میں ۴، مصر میں ۱، ہندوستان میں ۲۔
لیکن یہ سب باتیں تب کی ہیں، جب میں صرف اس کا نام سنتا تھا۔ پڑھنے کی سچی تمنا دل میں تھی، مگر کوئی راہ، کوئی ترتیب نہ تھی۔ ہاں! کبھی کبھار کسی خاص آیت کی تفسیر اسی کتاب سے پڑھ لیتا، اور دل بےقرار ہو جاتا: کاش! اس کے ہر صفحے کو باضابطگی سے پڑھ سکوں۔
پھر ایک دن ایسا آیا جب جامعہ عارفیہ میں باقاعدہ تدریس کے دوران اس خواب کو تعبیر ملی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب تفسیر ابن کثیر صرف کتاب نہ رہی، ایک رفیق بن گئی، ایک معلم بن گئی، ایک رہنما بن گئی۔
روزانہ جب کوئی آیت سامنے آتی، دل باغ باغ ہو جاتا کہ ابن کثیر کس سلیقے سے قرآن کی آیت بیان کرتے، پھر اس سے متعلق دیگر آیات پیش کرتے اور ایک لطیف تقابل قائم کرتے۔ اس کے بعد احادیث کی طرف رخ کرتے، صحیح و ضعیف کی پہچان کرواتے، پھر صحابہ و تابعین کے اقوال کا ذکر کرتے، اور ان میں سے راجح و مرجوح اقوال کی نشاندہی کرتے۔ جس سے حدیث اور احوالِ رجال کی معرفت میں ابن کثیر کے مقام و مرتبے کا احساس بھی ہونے لگتا۔ تب احساس ہوتا کہ یہ صرف تفسیر نہیں، قرآن کے ساتھ مکالمہ ہے۔ ایک ایسا مکالمہ جس میں مفسر، قاری کا ہاتھ تھام کر اسے معانی کے سمندر میں اتارتا ہے، اور ہر موج پر دلیل کی کشتی سوار کر کے آگے بڑھاتا ہے۔
ساتھ ہی کبھی کبھی ذہن حاضر و غائب کے تقابل میں الجھ جاتا، اور حیرت و استعجاب میں خود سے ہی کہتا: وہ کس قدر پاکیزہ اور نیک طینت لوگ رہے ہوں گے، جن کے صلب میں ایسے باہمت، علم و عمل سے شغف رکھنے والے علما پیدا ہوتے تھے۔ آج نہ تو ہمارے باپ دادا علمی دوست ہوئے، اور نہ ہی ہم میں قرآن فہمی اور قرآن دوستی کا اتنا جذبہ رہا۔ قرآن تو آج ہمارے یہاں جزدانوں میں بند ہوتا ہے، جو تیجے اور چالیسویں پر ہی کھلتا ہے۔ قرآن فہمی تو دور، ہمارے معاشرے میں قرآن خوانی ہی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ہر بیتے دن کے ساتھ ہمارے یہاں قرآن پڑھنے والوں کی تعداد میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ خیر فرمائے۔
ابن کثیر کا سب سے بڑا وصف ان کا منہج ہے: تفسیر القرآن بالقرآن۔ یہی وہ چیز تھی جس نے مجھے ان کی طرف کھینچا۔ جب بھی ماثور تفسیر کی بات ہو، دل اور ذہن خودبخود ابن کثیر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ یہ تفسیر، ابن جریر کے بعد، اس میدان میں سب سے نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ سیوطی بھی لکھتے ہیں: "لَهُ تَفْسِيرٌ لَمْ يُؤَلَّفْ عَلَى نَمَطِهِ مِثْلُهُ" — اس طرز کی تفسیر اس سے پہلے نہیں لکھی گئی۔
اسرائیلیات اور فقہیات میں بھی ابن کثیر کا اپنا مقام ہے۔ جہاں دیگر مفسرین اسرائیلیات کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، ابن کثیر اسرائیلی منقولات میں موجود منکرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ بعض مواقع پر اجمالی طور پر قارئین کو متنبہ کرتے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر نہایت وضاحت اور صراحت کے ساتھ ان غیر معتبر روایات پر تنقید کرتے ہوئے ان کا پس منظر بیان کرتے ہیں۔
آپ کی تفسیر میں ہمیں بارہا یہ طرزِ عمل نظر آتا ہے کہ وہ سلفِ صالحین سے منقول اقوال نقل کرنے کے بعد ان کے ماخذات پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں۔ مثال کے طور پر سورۃ البقرہ کی آیت ۶۷ میں ابن کثیر ایک طویل واقعہ نقل کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے ایک خاص گائے کے مطالبے میں حد سے تجاوز کیا، اور یہ گائے ایک نیک شخص کے پاس تھی جو اپنے والد کے ساتھ حسنِ سلوک میں معروف تھا۔ ابن کثیر یہ واقعہ مختلف سلف علما جیسے عبیدہ، ابو العالیہ، سدی اور دوسرے لوگوں کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، مگر پھر وہ واضح انداز میں لکھتے ہیں:
تمام روایات عبیدہ، ابو العالیہ، سدی وغیرہ سے منقول ہیں، ان میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے، اور غالب گمان یہی ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ ان جیسی باتوں کو نقل کرنا تو جائز ہے، مگر نہ ان کی تصدیق کی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان کی قطعی تکذیب، لہٰذا ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا، سوائے ان کے جو ہمارے پاس موجود حق کے موافق ہوں، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
اسی طرح، سورۃ ق کی ابتدائی آیت "ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ" کی تفسیر میں "ق" کے بارے میں بعض اقوال نقل کیے گئے کہ یہ ایک ایسا پہاڑ ہے جو پوری زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور اسے "جبلِ قاف" کہا جاتا ہے۔ ابن کثیر اس روایت پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
میرے خیال میں یہ (واللہ اعلم) بنی اسرائیلی خرافات میں سے ہے، جنہیں انہوں نے لیا اور پھر پھیلایا۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کی نہ تصدیق کی جا سکتی ہے اور نہ ہی یقینی انکار کیا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک یہ اور اس جیسی روایات بعض زنادقہ (ملحدین) کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں، جن کا مقصد عوام کو دین میں شبہ میں ڈالنا تھا۔ جیسا کہ اس امت میں بھی کچھ جھوٹی باتیں گڑھی گئیں، باوجود اس کے کہ اس امت کے علماء اور حفاظ کا درجہ و مرتبہ بہت بلند ہے۔
اور اسی طرح، جب بھی وہ کسی ایسی آیت کی تفسیر کرتے ہیں جس کا تعلق احکام سے ہو، وہ فقہا کے اختلافات میں داخل ہوتے ہیں اور ان کے مذاہب و دلائل بیان کرتے ہیں۔ تاہم، وہ اس میں اعتدال برتتے ہیں اور اختصار سے کام لیتے ہیں، بعض دوسرے فقہی مفسرین کی طرح اس میں مبالغہ نہیں کرتے۔ اگر آپ اس کی مثال دیکھنا چاہیں تو سورۃ البقرہ کی آیت ۱۸۵ اور ۲۳۰ کی تفسیر کی طرف رجوع کریں۔
ابن کثیر کا یہ تنقیدی انداز ان کی وسعتِ علمی، احتیاط، اور نقدی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ جہاں روایت کو اہمیت دیتے ہیں، وہاں درایت کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محض نقل پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ طور پر اس کے ماخذ، سند، اور درستی کو پرکھتے ہیں۔
یقیناً ابن کثیر کی یہ تفسیر صرف ایک علمی کارنامہ نہیں، بلکہ ایک عاشقِ قرآن کا وہ تحفہ ہے جو ہر زمانے میں اہلِ علم اور طالبِ علم کو قرآن کی اصل روح سے جوڑتا ہے۔ آج کے دور میں جب فتنوں کے اندھیرے، گمراہیوں کے طوفان، اور دین سے دوری عام ہو چکی ہے، ایسے وقت میں تفسیر ابن کثیر جیسی کتابوں کا مطالعہ نہ صرف ایک علمی ضرورت ہے بلکہ ایمان کی بیداری کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
میں نے اپنے دل کی دستک پر لبیک کہا، اور اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ میں پڑھتا گیا، ہر لفظ جیسے میری روح پر نازل ہوتا گیا۔ ابن کثیر کے قلم سے نکلے الفاظ محض شرح و بیان نہ تھے، بلکہ وہ ایک درویش کی پکار تھی جو دلوں کو قرآن کے قدموں میں لا بٹھاتی ہے۔ کبھی ان کی تنقید میں درایت کی جوت نظر آئی، تو کبھی ان کے سکوت میں حقیقت کا نور۔ وہ صرف مفسر نہ تھے، بلکہ میرے لیے ایک دروازہ تھے، جس سے گزر کر میں قرآن کی وادی میں داخل ہوا۔ اور آج جب بھی دل بھٹکتا ہے، ان کی تفسیر کی طرف پلٹ آتا ہوں، جیسے کوئی تھکا ماندہ مسافر پھر اپنی منزل کی سمت لوٹ آئے۔ وہ تو رہبر و رہنما تھے، اور میں؟ میں ایک گم گشتہ راہی تھا، جسے قرآن نے بلایا، اور ابن کثیر نے راستہ دکھایا۔ عشقِ قرآن کے اس راستے پر اب جو چل پڑا ہوں، تو واپسی کی کوئی راہ باقی نہیں۔ اب ہر لمحہ، ہر دن ابن کثیر کی روشنی میں اللہ کی طرف لوٹنے کی جستجو ہے، اور شاید یہی میری اصل کہانی ہے۔
Comments 0
Leave your comment