مومن کی سادگی اس کی کمزوری نہیں!

مومن کی سادگی اس کی کمزوری نہیں!

دورِ حاضر کی ایک نمایاں اخلاقی بیماری یہ ہے آپسی معاشرتی رویّوں میں خلوص کی جگہ چالاکی، سچائی کی جگہ مکاری، اور خیرخواہی کی جگہ خودغرضی نے لے لی ہے۔ معاشرے میں ایسا شخص قابلِ عزت سمجھا جاتا ہے جو سمجھدار بن کر ہر موقع سے فائدہ اٹھا لے، چاہے اس کے لیے کسی کو دھوکہ دینا پڑے یا اخلاقی اصولوں کو روندنا پڑے۔ اس کے برعکس جو شخص سادگی، خیرخواہی اور اعتماد سے پیش آتا ہے، اسے کمزور، نادان یا دنیا سے بےخبر سمجھا جاتا ہے۔ایسے افسوسناک ماحول میں نبی کریم ﷺ کی یہ جامع حدیث:(مومن سادہ دل اور کریم ہوتا ہے، جبکہ فاجر مکار اور لئیم ہوتا ہے)[سنن أبي داود، رقم: 4790] ایک فکری اور اخلاقی معیار متعین کرتی ہے۔
 ایمان کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان دنیاوی چالاکیوں میں ماہر ہو، بلکہ یہ ہے کہ وہ خیرخواہ، سادہ دل، نرم خو، اور باعزت ہو۔ سادگی مومن کی کمزوری نہیں بلکہ اس کے دل کے نور، نیت کی صفائی، اورقوت  اعتماد کی علامت ہے۔
انسانی معاشرے میں بعض اوصاف ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر سادگی اور نرمی اور کمزور کہلاتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ انسان کی بلند اخلاقی، اعلیٰ ظرفی اور روحانی پاکیزگی کا مظہر ہوتے ہیں۔ آج جب دنیا ہوشیاری کو کامیابی کی کنجی، اور چالاکی کو ذہانت کی علامت سمجھتی ہے، ایسے میں"مومن" کا کردار ایک انوکھی روشنی کی مانند سامنے آتا ہے، جو سادگی، حسنِ ظن اور درگزر کے اجزائے ترکیبی سے روشن ہوتا ہے۔
علمائے کرام نے حدیثِ نبوی "المؤمن غِرٌّ کريمٌ، والفاجر خبٌّ لئيمٌ" کی شرح میں "غِرّ" کی جو توضیح کی ہے، وہ مومن کی ظاہری سادگی کے پیچھے چھپی باطنی عظمت کو اجاگر کرتی ہے۔
ابن ا رسلان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غِرّ وہ شخص ہوتا ہے جو چالاکی اور چالبازی سے خالی، سادہ لوح ہوتا ہے، نرمی اور سچائی سے پیش آتا ہے، اور اسی وجہ سے اکثر دھوکہ کھا جاتا ہے۔(شرح سنن ابی داود۔۱۸/۴۴۹)
 التور بشتی رحمہ اللہ کے مطابق، وہ ہر ایک کی بات کا یقین کر لیتا ہے کیونکہ اس کا دل صاف، مزاج نرم اور نظر حسنِ ظن پر قائم ہوتی ہے۔
علامہ بیضاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غِرّ وہ ہے جو دل کا صاف ہوتا ہے اور لوگوں کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے اور لوگوں کی باتوں اور ظاہری حالت پر بھروسا کر لیتا ہے جس کی وجہ سے وہ دھوکھا بھی کھاتاہے ۔ اس کا مقابل لفظ "خبّ" ہے، جو چالاک اور مکار شخص کے لیے آتا ہے۔(تحفتہ الابرار۔۳/۲۷۴)

شرافت: کمزوری نہیں، بلندی کا نشان
بعض لوگ مومن کی سادگی کو اس کی کمزوری یا نادانی سمجھتے ہیں، لیکن ابن الاثیر رحمہ اللہ واضح کرتے ہیں کہ مومن کی یہ کیفیت اس کی نیک فطرت، عمدہ اخلاق اور دنیاوی فریب سے بے نیازی کی دلیل ہے۔ وہ دنیا کی چالاکیوں میں نہیں پڑتا کیونکہ اس کا مقصد دنیا نہیں، بلکہ آخرت کی تیاری ہے۔
ملا علی قاری رحمہ اللہ اور صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کریم وہ ہے جو لوگوں کی لغزشوں کو درگزر کرتا ہے، نرمی سے پیش آتا ہے، اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا ہے۔ یہ اس کی شرافت کی علامت ہے، نہ کہ لاعلمی کی۔ اس کے برعکس، شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کے مطابق فاجر مکار اور دھوکہ باز ہوتا ہے۔ اس کی فطرت نفس پرستی پر مبنی ہوتی ہے، جو اسے برائی اور فریب کاری کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ دنیاوی مفاد کے لیے ہر چالاکی اختیار کرتا ہے، جبکہ مومن اپنی شرافت کی بنا پر ایسی راہوں سےبالخصوص اجتناب کرتا ہے۔
مومن تو سادہ لوح ہوتا ہے ، لوگوں کے تعلق سے وہ اکثر خوش فہمی میں مبتلا ہوتا ہے اور جب معاشرے میں ایسے سادہ لوح مومنوں کی کثرت ہوتی ہے تو پورا معاشرہ خوشگوار ہوتا ہے اور ایسے معاشرے میں جنتی موسم کا احساس ہوتا ہے معاملہ تو تب خراب ہوتا ہے جب معاشرے میں کچھ بد خلق / شریر قسم کے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور اپنی شرارتی طبیعت سے سادہ لوح انسانوں سے ناجائز فائدے اٹھانے لگتے ہیں اور انہیں بار بار آزمائشوں میں مبتلا کرتے ہیں اور طرح طرح کی خسارے کی گھاٹیوں میں گراتے رہتے ہیں ، اس وقت مومنین کی سادگی لوگوں کو بے وقوفی لگنے لگتی ہے اور چالبازوں کی کثرت کی وجہ سے خود مومن بھی کبھی کبھی دباؤ اور انقباض قلب کا شکار ہونے لگتا ہے وہ سوچتا ہے کہ کیا واقعی ہم بھولےہیں اور ہمارا یہ بھولا پن بے وقوفی کی دلیل ہے اورکیاہم شارپ مائنڈ (ہوش مند)نہیں ہیں؟
اس وقت ضرورت آپرتی ہے کہ معاشرے میں داعیان اسلام ان کوتسلی دیں اور ان کی اس فطری اور اسلامی خوبی سے خود ان کو روشناس کرائیں کہ ان کے پاس فطری طور پر یا کسی دینی ماحول میں سکونت کی وجہ سے ایک انمول صفت اورکیفیت ان کے اندر آچکی ہے جس کی حفاظت کرنا اور اسے دن بدن ترقی کے مدارج طے کرانا بھی اشد ضرورت ہے ورنہ بیتے دنوں کے ساتھ وہ بھی اس اسلامی خو سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور نتیجتا وہی ہوگا کہ جس کثرت ظن سے انسان کو روکا گیا ہے وہ بھی دوسروں کی طرح اپنے دل و دماغ میں مختلف زاو یوں سے شرارت خیزو اقعات کو ہمہ دم ترتیب دیتا رہے گا اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی کثرت ظن کی  بنا پر بڑا بنا کر کبھی صغائر تو کبھی کبائر کا ارتکاب کرتا رہے گا۔
اس سادہ لوحی کے ضمن میں عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ایک نہایت اہم نکتہ بیان فرمایا کہ مومن اگرچہ دنیاوی امور میں سادہ دل اور صاف طینت ہوتا ہے، لیکن دینی معاملات میں وہ بیدار مغز اور چوکنا ہوتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کی حدیث "مومن ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا" کا مطلب یہ ہے کہ مومن دینی اعتبار سے فریب نہیں کھاتا، بلکہ وہ علم، عقل اور بصیرت کا حامل ہوتا ہے۔ مذکورہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرتی اعتماد، سچائی، اور حسنِ اخلاق کو عام کیے بغیر کوئی قوم پائیدار ترقی نہیں کر سکتی۔ اگر ہم سچے مومن بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں ظاہری ہوشیاریوں کے پردے چاک کرکے اخلاص، امانت اور سادہ دلی کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

Comments 0

Advertisement