۲۸؍ ذوالحجہ ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۵جون ۲۰۲۶ بروز دوشنبہ ہمارے ہر دل عزیز خواجہ تاش میاں حضور قبلہ کے پرانے مرید صادق وجاں نثار وعاشق بھائی قمر علی صاحب (۱۹۵۸ء۔۲۰۲۶ء) کا انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبرسنتے ہی میری سطح ذہن پر ان کی پرانی یادیں تازہ ہونے لگیں اور ان کی تصویر نگاہوں کے سامنے گھومنے لگی۔ ان کے ساتھ گھنٹوں بیٹھنا اور ان کی عاشقانہ، درویشانہ ومجذوبانہ باتوں سے حظ اٹھانا خانقاہ شریف میں ہمارا اضافی مشغلہ رہا ہے۔ ان کے وصال کی خبرمیرے لیے افسوس ناک تھی مگر اس کے علاوہ ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ ’’مرضی مولی از ہمہ اولیٰ‘‘ ۔البتہ میری خوش بختی یہ کہ ان دنوں میں خانقاہ شریف ہی میں مقیم ہوں، جہاں ان کے آخری دیدار کا موقع ملا اور ان کی خوش بختی یہ کہ ان کوکوئے یار میں دو گز زمین مل گئی۔ آج ۲۹ ذو الحجہ ۱۴۴۷ھ بعد نماز ظہر ان کی نمازِ جنازہ مرشد برحق داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی ادام اللہ ظلہ علینا نے پڑھائی اور انہیں سید حقانی جامع مسجد کے عقب میں جہاں یاران طریقت مدفون ہیں، وہیں انہیں بھی سپرد خاک کردیا گیا۔
حضرت سید محمد حقانی رحمہ اللہ کے مزار کے پاس درخت کے نیچے حضور داعی اسلام بیٹھے تھے اور دوسری طرف تدفین کی تیاری چل رہی تھی، شیخ اپنی زبا ن فیض ترجمان سے فرما تے رہے اللہ ان کی مغفرت فرمائے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے،اور ہم سب آمین کہتے رہے۔ ہرطرف عاشقوں کا ہجوم دیکھ کر سطح ذہن پر یہ شعر ابھرا:
عاشق کا جنازہ ہے ذرادھوم سے نکلے
محبوب کی گلیوں سے ذرا گھوم کے نکلے
وہ واقعی عاشق اور درویش تھے۔ ان سے بار ہا ہماری ملاقات تھی بلکہ وہ کئی ماہ تک ہمارے ساتھ دارالعلوم الٰہ آباد ہمت شاہ میں مقیم رہے، جہاں میں بحیثیت مدرس خدمت کر رہاتھا۔ ان کے شب و روز بے حد پر کشش تھے۔ وہ خاموش مزاج، بھولےاور کھرے انسان تھے۔ اسی زمانے میں ہم نے ان سے متعلق کچھ باتیں اور یادیں سپرد تحریر کی تھیں، نظر ثانی کے بعد نذر کرتے ہیں، ممکن ہے قارئین کو پسند آئے۔

قمرالدین بن عبد الرؤف مکن پور گاوں (الہٰ آباد) کے رہنے والے تھے۔ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ کے قدیم ترین صحبت یافتہ اور اولین مریدین میں سے تھے۔ شیخ ان کو قمر علی سے یاد فرماتے تھے۔ وہ باوقار اورمتواضع تھے۔ آداب طریقت کے شناسا اور اپنے شیخ کے اداشناس تھے۔ پیر کی حقانیت پر بہت یقین تھا، اپنے آپ پر شیخ کو متصرف جانتے تھے۔ بے حد دین دار، تقویٰ شعار، صوم و صلاۃ کے پابند صوفی تھے، دینی تعلیمات سے واقف تھے اور معاملات میں بہت پکے انسان تھے۔
ان کے خسر اکرام الدین حضرت شاہ احمد صفی قدس سرہ سے اورقمر صاحب کے والد حضرت داعی اسلام سے مرید تھے۔ شیخ سے اپنی ارادت کا واقعہ یوں بیان کیا کہ ’’ہمارے مکن پور کی طرف حضور داعی اسلام کے پیر ومرشد جاتے تھے۔ ان کے مریدین بھی مکن پور میں تھے، بچپن سے ہماری تڑپ اور پختہ عزم تھا کہ اگر مرید ہوں گا تو انہیں سے ہوں گا۔ میں تلاش معاش میں بمبئی چلا گیا۔ کافی عرصے کے بعد مجھے خواب دکھا یا گیا کہ آپ کا انتقال ہوگیا ہے۔ مجھے الجھن ہوئی، میں نے گھر خط لکھا اور یہ عرض کیا کہ دادا میاں (حضرت احمدصفی قدس سرہ) سے میرا خواب بیان کر دینا۔ جواب آیا کہ جس دن تمہارا خط پہنچا ہے وہ آپ کی وفات کا تیسرا دن تھا۔ میرے خسر نے کہا! میرے پیر نے جن کو خلافت دی ہے ’’عین میرے میاں کی آنومان ہیں‘‘ (انہیں کے مثل ہیں) میں نے دل سے خیال ہی نکال دیا کہ مجھے اب کسی اور پیر سے مرید ہونا ہے۔ خلافت و سجادگی کا مجھے کوئی علم نہیں تھا، یہ کیا ہوتا ہے؟ بعد کے عہد میں میاں کی صحبت میں سمجھا۔ بمبئی واپس گیا۔ اس بیچ بمبئی میں رہتے ہوئے میاں کے بارے میں خیالات گونجنے لگے۔ جس کو محبوب سمجھا ہوگا، اسی کو دیا ہوگا۔ دل میں آتا کہ محبوب کا محبوب بھی تو محبوب ہی ہوتا ہے۔ اسی ہفتے ٹکٹ بنایا، چار دن کی چھٹی پر خانقاہ، سید سراواں شریف آیا۔ حکیم صاحب (حضرت داعی اسلام کے والد ماجد حکیم آفاق احمد رحمہ اللہ ) سے دروازے پر ملاقات ہوئی۔ فرمایا کہ تمہارے میاں تو یہاں نہیں ہیں۔ ہاں خبر آئی کہ خدائے گنج میں ایک صاحب کی وفات ہو چکی ہے۔ ان کی وصیت تھی کہ نماز میاں حضور پڑھائیں گے۔ میرا ایمان جاگ اٹھا۔ حکیم صاحب سے نہ میری پہلے سے ملاقات تھی، نہ میں نے اپنا ارادہ ان سے ظاہر کیا تھا۔ یہ ان کی روشن ضمیری تھی کہ انہوں نے برجستہ ’’تمھارے میاں‘‘ کہا تھا ۔
خیر! میں خدائے گنج پہنچا، میاں نے دیکھا تو فرمانے لگے: تم ہی خانقاہ گئے تھے کیا؟ میں نے کہا: جی۔ مولانا صاحب! میں انہیں پاکر ایسے پر سکون ہو گیا جیسے بچہ ماں کی گود پاکر پرسکوں ہوجاتا ہے۔ صاحبِ جنازہ بہت نیک تھے اور ایک شعر پڑھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔([1] )
جنازے سے فارغ ہو کرمیاں گنپا کے لیے رخصت ہوئے۔ قمر بھائی فرماتے ہیں کہ راستے میں ایک حلوائی کی دکان کے پاس رکے، دکان دار ہندو تھا، وہ اندر لے جانے کے لیے بضد ہوگیا۔ اوربِنتی کرتے ہوئے کہنے لگا ’’آپ کے چرن ہمارے گھر پڑجائیں، تو میں دَھنّیہ ہو جاؤں گا مہراج!‘‘۔ اس نے میاں سے ترقی اور اُنتی کے لیے دعا کی درخواست بھی کی۔ شیخ نے اس سے فرمایا جب دکان کھولو تو کہو:’’یامحمد تیری دہائی ہے!‘‘ قمربھائی کہتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا: سبحان اللہ! کیا انداز تبلیغ ہے۔ ایک تیر سے دو نشانہ ۔
مجھ سے قمر بھائی کہتے ہیں کہ ہم شیخ کے ساتھ گنپا آ گئے، ہم نے بیعت کے لیے عریضہ پیش کیا اور کہا ایک عورت کے اندر جس طرح کی خوبی دیکھ کر مرد شادی کرتا ہے، اگر مجھ میں ایسی خوبی دیکھ رہے ہوں، تو مجھے عقد (بیعت ) میں داخل کر لیں۔ ( یہ مثال پیر اور مرید کی محبت ظاہر کرنے کے لیے ہوتی ہے ) بعد فجر مجھے داخل سلسلہ فرمایا‘‘۔
حضور داعی اسلام نے فرمایا کہ یہ واقعہ ۱۹۸۰یا ۱۹۸۱ کا ہے۔

بیعت کے بعد وہ پھر بمبئی آگئے اور اپنے معاش کی ترقی کے لیے کوشاں رہے۔ قمر بھائی کہتے ہیں’’میاں حضور کئی بار بمبئی تشریف لائے، میری موجودگی ہی میں آپ کے قدم اس عروس البلاد میں پڑنے لگے۔ سب سے پہلے بلانے والے محمود پی ٹی Navy آفیسر تھے۔ اس کے بعد کئی بار آئے۔ مجھے اپنے اخراجات سے ۱۹۹۳ میں سعودیہ بھیج دیا۔ آپ کے ساتھ میں نے ہر طرح کا سفر کیا مگر ہرجگہ اور ہر سفر میں نماز کا سخت پابند پایا۔ میں پندرہ سال سے دمہ کا مریض تھا ،بمبئی میں بھائی عبد الرزاق نے میرے بارے میں سفارش کی، آپ نے فرمایا: بِٹوا! ہم کس گنتی میں کہ اس کے آگے لب کشائی کریں، لیکن وہ رحیم و کریم ہے، مالک بھلا کرے گا۔ ’’قمر بھائی نے بتایا کہ جب سے آج کوئی دوا نہیں لی۔ قمر بھائی نے مزید کہا کہ ’’میری اہلیہ کے دماغ کے دو نس پھٹ چکے تھے، ہاسپیٹل لے جا رہے تھے۔ اہلیہ نے جانے سے انکا ر کردیا اور میاں سے دعا کے لیے عریضہ پیش کیا۔ الحمد للہ! ابھی تک کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہے ([2])۔
قمر بھائی کہا کرتے: ’’ہمارے پیر ہمیں ہم سے بھی زیادہ چاہتے ہیں۔ اللہ ان کی محبت سلامت رکھے، اس لیے کہ وہ اللہ کی تجلی کے مظہر ہیں‘‘۔
قمرعلی درویش نے باضابطہ کوئی دینی تعلیم نہیں لی تھی تاہم حضور داعی اسلام کی صحبت کی برکت سے ان پر شریعت واضح تھی اور اس کی تعلیمات پرعمل پیرا تھے۔ شیخ کی صحبت کے نتیجے میں شعری ذوق بھی بیدار ہو گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں ’’ اللہ کا فضل ہے کہ میں شیخ کی صحبت میں کبیر سے متعارف ہوا۔ کبیر کا ایک دوہا سنا کہ:
دکھ میں سمرن سب کرے، سکھ میں کرے نہ کوئے
سکھ ما سمرن جو کرے، تو دکھ کا ہے کو ہوئے
میں نے سوچا یہ کون سی بات ہے؟ دکھ ہویا سکھ ہر حال میں اسے یاد کرنی چاہیے، اس کی مالا جپنی چاہیے، دکھ یا سکھ سب اسی طرف سے جاننا چاہیے اور بندے کو اپنے مالک کی مرضی پہ راضی رہنا چاہیے۔ یہ فکر میرے ذہن میں گونجنے لگی۔ میں اپنے مرشد سے عرض کیا کہ حضور میں نے کبیر کو جواب اس طرح دیا ہے:
دکھ ما سمرن، سکھ ما سمرن، سمرن چھنڑ چھنڑ ہوئے
کنڑ کنڑ بیچ سمایا آپے، بھرم نہ جانے کوئے
شیخ نے اس فکر کو سراہا اور فرمایا یہی ہمارا عقیدہ وایمان ہونا چاہیے۔ تم نے خوب اچھا کہا۔
شیخ واقعی قمر بھائی کو بہت چاہتے تھے۔ وہ جب خانقاہ آنے والے ہوتے، ان کا ذکر بار بار کرتے کہ آج قمرعلی آرہے ہیں۔ ان کی مخصوص خُو یہ بھی تھی کہ جب وہ خانقاہ کے احاطے میں داخل ہوجاتے، اس کے بعد جب تک خانقاہ میں رہتے، احاطے سے باہر بالکل بھی نہیں نکلتے تھے۔ وہ کہتے تھے ہم یہاں اہل اللہ کی انجمن میں ہیں، بس جمے رہو اور اپنی نظریں جمائے رکھو، ان سے نظریں نہ ہٹاو ورنہ زیب و زینت دنیا میں مبتلا ہوجاؤگے۔
مجھ سے قمر بھائی نے بتایا کہ ایک زمانے میں سعودی قیام کے دوران میں شیخ سے دور ہوا۔ نفس کے فریب کا شکار ہوا۔ مگر شیخ کی بے نیاز ذات نے اپنے تصرف سے مجھے سیدھی راہ کی رہنمائی کی۔ آپ میرے حال پہ مسلسل نظر رحمت فرماتے رہتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ میں دوبارہ واپس آگیا۔ اللہ مجھے اس حال میں موت عطا فرمائے کہ میں متبعِ شریعت رہوں، یہی میرے مرشد کی سیرت ہے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را!
تحریر- رفعت رضا نوری
کشن گنج، بہار
[1] ۔غالبا وہ شعر یہ تھا:
قسم ہے پیارے ادا کی تیری کہ کوئی تیرے سوا نہیں ہے
جو ہے سو تو ہے، یہی ہے ایماں مرا خدا دوسرا نہیں ہے
[2] ۔غالبا ۲۰۱۸ یا ۱۹ ۲۰ءمیں انہوں نے یہ بات بتائی تھی ۔
Leave your comment