آپ کی ذات نہ صرف جماعتِ صوفیہ کے لیے علمی و عملی معیار ہے بلکہ آپ کا نظام بھی خانقاہی نظام کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔
محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہ (۶۳۶ھ-۷۲۵ھ) کا شمار اُن اکابر صوفیہ میں ہوتا ہے جو علمی طور پر بھی بلند اور صاحبِ کمال تھے۔ علمی شان کا یہ عالم تھا کہ طالبِ علمی ہی کے زمانے میں آپ ’’بحّاث‘‘ اور ’’محفل شکن‘‘ جیسے خطابات سے مشہور ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود متواضع اور منکسرالمزاج ایسے کہ جب آپ کی دستار بندی ہوئی تو آپ کے ادب و آداب کو دیکھتے ہوئے شیخ جلال الدین تبریزی کے مرید خواجہ علی بزرگ بدایونی نے آپ کے استاد مولانا علاء الدین اصولی سے فرمایا: ’’اے مولانا! یہ بچہ (خواجہ نظام الدین اولیا) بڑا نیک اور بزرگ ہوگا۔‘‘ چنانچہ زمانے نے دیکھا کہ سلطان جی اپنے وقت کے وہ عظیم بزرگ ہوئے جن کے فیضان سے روئے زمین کا تقریباً ہر خطہ مستفیض ہوا اور ہو رہا ہے۔
محبوبِ الٰہی قدس سرہ کی عظمت و رفعت، بزرگی و پیشوائی اور آپ کے فیوض و برکات کا اعتراف جن اکابرین کو رہا ہے ان میں خصوصیت کے ساتھ شیخ جلال الدین ہانسوی، امیر حسن علی سجزی، امیر خرد کرمانی، شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری، شیخ شعیب فردوسی، شیخ ضیاء الدین برنی، مورخ ابنِ بطوطہ، مورخ عبدالقادر بدایونی، ابو الفضل علامی اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی وغیرہم کے اسماء نمایاں ہیں۔
محبوبِ الٰہی قدس سرہ بدایوں میں پیدا ہوئے، وہیں کے اکابر علما و مشائخ سے تعلیم و تربیت پائی، بلکہ (موجودہ دور کے حساب سے) عالمیت کی دستار بندی بھی بدایوں ہی میں ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ نے دہلی کا سفر کیا اور تقریباً چار سال تک مسلسل حصولِ تعلیم میں مصروف رہے اور علومِ متداولہ میں کمال حاصل کیا۔
محبوبِ الٰہی قدس سرہ کو بابا فرید الدین گنج شکر قدس سرہ سے غائبانہ محبت بدایوں ہی سے تھی، لیکن ان کی بارگاہ میں حاضری کا شرف ۶۵۵ھ میں حاصل ہوا اور آپ اسی سفر میں بابا صاحب سے مرید ہو گئے۔ اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی۔ چار سال بعد تیسرے سفرِ اجودھن میں بابا صاحب نے آپ کو سلسلہ چشتیہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی، جس کے بعد آپ دہلی لوٹ آئے۔
یہاں یہ بات خصوصی توجہ چاہتی ہے کہ عموماً لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر انھیں کہیں سے خلافت و اجازت مل جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ ہو گئے۔ اب انھیں کسی چیز کی حاجت نہیں۔ لہٰذا، حصولِ علم کی ساری کوششیں ترک ہو جاتی ہیں۔ اس دور میں تو خلافت کی کیا بات، ظاہری فراغت ہو جائے تو بھی تحصیلِ علم کی ضرورت باقی نہیں سمجھی جاتی بلکہ مطالعہ سے بھی بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ لیکن حضرت محبوبِ الٰہی قدس سرہ نے اپنی زندگی میں جو نمونہ پیش کیا ہے اسے ہر ایک کو، خصوصاً صوفیہ سے نسبت رکھنے والے ہر شخص کو، ضرور اپنانا چاہیے کہ سلطان جی خلافت پانے کے بعد دہلی لوٹے تو فوری رشد و ہدایت کی بجائے مزید تحصیلِ علم میں مشغول ہونا زیادہ ضروری جانا اور تقریباً دس سال تک اس وقت کے عظیم محدث مولانا کمال الدین سے فنِ حدیث کا درس لیا۔ اس میں مہارت حاصل کر کے ۶۷۹ھ میں سندِ حدیث سے نوازے گئے، حالانکہ وہ تقریباً پندرہ سال پہلے ہی فارغ التحصیل ہو چکے تھے۔
گویا سلطان جی نے سلسلہ تصوف کے لیے اپنی زندگی سے یہ معیار قائم کیا کہ ایک صوفی کے لیے سب سے پہلے لازم ہے کہ وہ علومِ شرعیہ، عقلیہ و نقلیہ میں مہارت حاصل کرے تاکہ وہ لوگوں کی درست رہنمائی کے قابل ہو سکے۔ اگر کوئی صوفی دینی علوم سے بے بہرہ ہے اور دین (اسلام، ایمان، احسان/ عقیدہ، فقہ اور تصوف) کی صحیح سمجھ نہیں رکھتا تو ایسا شخص کم از کم سلطان جی کے منہج پر نہیں ہے۔
سلطان جی کے اس منہجِ علم کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ جب آپ کے بعض خاص حاضر باشوں نے شیخ اخی سراج کو خلافت دینے کی گزارش کی تو آپ نے فرمایا کہ وہ عالم نہیں ہیں، انھیں خلافت نہیں دی جا سکتی۔ اسی مجلس میں مولانا فخر الدین زرادی نے انھیں عالم بنانے کی ذمہ داری لی اور چھ مہینے میں انھیں عالم بنا دیا، جس کے بعد سلطان جی نے شیخ اخی سراج کو خلافت و اجازت دی۔
آج صوفیہ کے پروکار سمجھے جانے والے خانقاہی حضرات بلا جھجک غیر عالموں، نعت خوانوں، مقرروں اور جلسہ ناظموں تک کو خلافت و اجازت بانٹنے میں فراخ دلی دکھا رہے ہیں، حالانکہ سلطان جی کا منہج یہ تھا کہ عالمِ باعمل کے علاوہ کسی کو خلافت و اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سلطان جی بدایوں سے اعلیٰ تعلیم کے لیے دہلی گئے اور کافی عرصے تک دہلی ہی میں مقیم رہے۔ بعد میں دہلی کے باہر دریائے جمنا کے کنارے ایک غیر معروف علاقہ ’’غیاث پور‘‘ (موجودہ بستی نظام الدین، نئی دہلی) میں سکونت اختیار کی اور ہمیشہ کے لیے یہیں کے ہو کر رہ گئے، جہاں آج آپ کی خانقاہ اور مزارِ مبارک مرجعِ خلائق ہے۔
غیاث پور قیام کے دوران جب لوگوں کا ہجوم آپ کی طرف متوجہ ہوا اور آپ نے اصلاح و تربیت کا سلسلہ شروع کیا تو آپ نے خدمتِ خلق سے ابتدا کی۔ آپ فرماتے: ’’جو کچھ تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرو۔‘‘ آپ نے شکستہ دلوں کو راحت پہنچانے اور جوڑنے پر خاص توجہ دی۔ آپ ہر شخص کو خدمت کی ترغیب دیتے اور فرماتے: ’’جو خدمت کرتا ہے، مخدوم ہو جاتا ہے۔‘‘
آپ نے اپنی خانقاہ کا دروازہ ہر آنے جانے والے کے لیے کھلا رکھا۔ یہاں ذات پات، مذہب یا دھرم کی کوئی قید نہ تھی۔ امیر و غریب، مسکین و نادار سب آتے، لنگر ملتا، ضرورت مندوں کو نذر و نیاز سے نوازا جاتا۔ آپ فرماتے تھے: ’’کل بازارِ قیامت میں ٹوٹے ہوئے دلوں کو آرام پہنچانے سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہ ہوگی، یہی اصل خدمت ہے۔‘‘
یہی وہ خانقاہی نظام تھا جو خلقِ خدا کی داد رسی، ضرورت مندوں کی مدد اور مظلوموں کی دلجوئی پر قائم تھا۔ نذریں و فتوحات ذخیرہ اندوزی کے لیے نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کی بھلائی کے لیے خرچ ہوتی تھیں۔ سلطان جی نے جس نظامِ خانقاہی کو متعارف کرایا، اس میں جاہ و منصب اور کرامات کے بجائے خدمتِ خلق، عبادت و ریاضت، اتباعِ رسول، تمسک بالقرآن، انسان دوستی، علم و ادب، صدق و امانت، حیا و پاک دامنی، صلح و رواداری ہی سب کچھ تھا۔
آپ کی ذات پختہ علم، مضبوط کردار اور اعلیٰ روحانیت کی آئینہ دار تھی۔ اسی لیے آپ نے عوام الناس کے ساتھ ساتھ صاحبانِ علم و فضل کی اصلاح و رہنمائی فرمائی۔ آپ کے تربیت یافتہ علما میں شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلی، شیخ شمس الدین یحییٰ اودھی، مولانا فخر الدین زرادی، مولانا وجیہ الدین پائلی، مولانا قطب الدین منور، مولانا علاء الدین نیلی، مولانا برہان الدین غریب، مولانا اخی سراج عثمان، قاضی محی الدین کاشانی، مولانا حسام الدین ملتانی اور مولانا شہاب الدین جیسے سینکڑوں جید علما شامل ہیں۔
ان کی اصلاح اور عوام الناس کی دینی رہنمائی کے نتیجے میں معاشرہ دین و تقویٰ کی طرف مائل ہوا۔ عبادات عام ہوئیں، زبانیں پاکیزہ ہوئیں، گناہ سے اجتناب بڑھا۔ دکان داروں اور اہلِ بازار میں دیانت آئی، ظلم و فریب ختم ہوا، امن و امان، خوش حالی اور دین داری کی فضا عام ہوئی۔ حتیٰ کہ حکمراں طبقہ بھی انصاف پرور اور خیر خواہ بن گیا۔ علم و ادب، مکالمہ اور ہندو مسلم رواداری کو فروغ ملا۔
یہ سب سلطان جی کی کوششوں، ان کے نظامِ اصلاح اور خانقاہی منہج کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر خانقاہیں — جن کا اصل مقصد سماج میں امن قائم کرنا اور بندوں کو خدا کے قریب لانا ہے — سلطان جی کے منہج کو اختیار کریں تو ایک بار پھر دنیا امن و شانتی اور دین داری و خیر خواہی کا نظارہ کرے گی۔
آفتاب رشکِ مصباحی
شعبۂ فارسی، بہار یونیورسٹی، مظفرپور
Comments 1
Abul Aas Hasan
مختصر اور جامع مضمون ماشاءاللہ
Leave your comment