علامہ ابن ہمام کے بقول جمہور محدثین وفقہا خوارج کے عدم تکفیر کے قائل ہیں، جب کہ متاخرین میں بہت سے فقہا کی عبارات میں ان کی تکفیر منقول ہے۔ لیکن چوں کہ وہ مجتہد نہیں اور ان کا مذہب مجتہدین کے خلاف ہے، اس لیے ناقابل اعتبار ہے۔ ([1])
یہ ہے باب تکفیر کے دو رجحانات کی صحیح تصویر۔ بے شمار علماے متکلمین کے اس ارشاد کو اسی ذیل میں دیکھنا چاہیے کہ لازم المذھب لیس بمذھب۔([2])
یہ مسلمانوں کے عہد عروج کی بات ہے، لیکن عہد زوال میں ، وہابی تحریک کے ظہور کے بعد جس طرح مسلمانوں پر کفر وشرک کے فتوے عام ہوئے اس سے خوارج کا عہد تکفیر بھی شرمندہ ہوگیا۔
یہ رجحان برصغیر میں تقویۃ الایمانی بیانیے سے فروغ پایا۔([3]) ایسے حالات میں ضرورت تھی کہ علماے برصغیر علماے محققین کے منہج تکفیر کو زندہ کرتے، مگر افسوس کہ رد عمل میں پھر ایک بڑے حلقے میں تکفیر لزومی کا چلن عام ہوتاگیا۔
ایک تیسرا رجحان اعلی حضرت بریلوی کے بعد سامنے آیا۔ در اصل اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ میں ایک ساتھ یہ دونوں انداز تکفیر اپنائے گئے تھے، جس کے سبب ایک ساتھ محققانہ وغیر محققانہ یا محتاط وغیر محتاط تکفیری رجحانات کو فروغ ملا۔ اس باب میں ان کے کمال احتیاط کا عالم یہ ہے کہ وہ ایک طرف علامہ ابن تیمیہ، شیخ ابن عبد الوہاب نجدی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے کف لسان کرتے نظر آتے ہیں، بلکہ وہ تحلیل حرام کو بھی مطلقا کفر نہیں کہتے، بلکہ ان مفتیان کرام سے اختلاف تو کرتے ہیں مگر ان کی تکفیر نہیں کرتے جو انکار جزئیت معوذتین کو کفر صریح نہیں مانتے([4])، دوسری طرف وہ شیعوں، وہابیوں، دیوبندیوں اور غیر مقلدوں پر کفر و ارتداد کے عمومی احکام نازل فرماتے چلے جاتے ہیں۔([5])
ممکن ہے کہ اساطین جماعت یہاں یہ تاویل کریں کہ فاضل بریلوی کی تحریروں میں تکفیر بغرض سد ذرائع فقہاے متاخرین کے مذہب پر ہے اور تاویل وعدم تکفیر مذہب محققین محتاطین پر ، لیکن اس قسم کی تحریروں نے پوری جماعت کو کس مخمصے میں ڈال دیا ہے ، ہر ذی شعور شخص اس کا بخوبی اندازہ کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے نوخیز بریلوی فضلا ایک ساتھ دونوں ہاتھوں سے تکفیر کی لاٹھی گھمانے لگے ہیں۔ وہ دونوں تکفیری مناہج(محققانہ ومتشددانہ، یا محتاط وغیر محتاط) اپناتے ہوئے ، انتشار ملت وجماعت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اب وہ یہ کہنے لگے ہیں کہ فلاں شخص کافر ہے فقہی اعتبار سے اور غیر کافر ہے کلامی اعتبار سے۔ حالاں کہ علمی اور تاریخی تناظر میں یہ فقط ایک بھونڈا اور نیا مذاق ہے۔([6])
ایک طرف جب فاضل بریلوی اور تکفیر مسلمین کی بات آتی ہے تو بریلوی علما یہ کہتے ہیں کہ فاضل بریلوی نے صرف چار پانچ علما کی تکفیر کی ہے، دوسری طرف موجودہ حالات میں اگر کوئی شخص إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ [الحجرات: 10] کے تناظر میں اہل اسلام کے اتحاد و اتفاق کی بات کرتا ہے تو بہت سے بریلوی فضلا دھڑلے سے یہ لکھتے چلے جاتے ہیں کہ جو سنی ہے (وہ بھی ان کے معیار پر) صرف وہی مسلمان ہے۔
ہمارے سامنے ایک طرف علامہ احمد سعید کاظمی، مفتی شریف الحق امجدی اور علامہ یٰسین اختر مصباحی کی تحریریں ہیں جن میں عام وہابیوں اور دیوبندیوں کی تکفیر کو رد کیا گیا ہے، دوسری طرف بے شمار بریلوی علما کے فتاوی اور بیانات ہیں جن میں کفر کا حکم مطلقا تمام وہابیوں ، دیوبندیوں، بلکہ جملہ غیر بریلویوں تک پر لگادیا گیا ہے۔ ایسے میں عام بریلوی علما اور عوام سخت فکری کرب میں مبتلا ہیں۔
کسی عام دیوبندی تبلیغی کا جنازہ پڑھ دینے پر کتنے علما اور مشائخ کے ایمان و عقیدے کا جنازہ پڑھ دیا گیا، کسی غیر بریلوی امام کی اقتدا کرلینے پر کتنے مفتیوں اور قاضیوں کے ایمان کے طوطے اڑا دیے گئے۔
اب صورت حال یہ پیدا ہوگئی ہے کہ لزومی، غیر تحقیقی اور غیر محتاط تکفیری بیانیہ(جسے فقہی تکفیر کا عنوان بھی دے دیا گیا ہے) کو بنیاد بناکر بریلویت کے بہت سے بالشتیے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن جیسی قد آور شخصیات کا قد ناپنے میں بھی ذرہ برابر نہیں جھجکتے۔ بھلا بخشا ہی کون گیاہے، پیر کرم شاہ ازہری، مولانا ابوالحسن زید فاروقی، علامہ غلام رسول سعیدی، جیسے کتنے اساطین ہیں جن کے ایمان و عقیدے کو تشدد وبے احتیاطی کے بھینٹ چڑھادیا گیا۔
اس بحران سے نکلنے کے لیے اکابر جماعت کو سنجیدہ غور وخوض کرنے اور فیصلہ لینے کی ضرورت ہے، ورنہ غیر محتاط بریلوی فضلا پوری جماعت کا ہی جنازہ پڑھادیں، کچھ عجب نہیں! اس کے لیے ضروری ہوگا کہ بتایا جائے کہ فاضل بریلوی نے اپنے فتاویٰ میں لزوم والتزام دونوں پر ہی حکم کفر عائد کیا ہے، کہیں وہ محققین کے منہج پر چلتے ہوئے غایت درجہ احتیاط کرتے ہیں تو کہیں سد ذرائع کی نیت سے فقہاے متاخرین کے مذہب پر چلتے ہوئے لزوم کفر پر بھی کفر کا فتویٰ جاری کردیتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہوگا کہ ان دونوں قسم کے فتاویٰ میں واضح طور پر فرق کو اجاگر کیا جائے، یا پھر یہ کہ انہیں علماے محققین کا پیروکار قرار دیا جائے اور ان کے وہ تکفیر ی فتاویٰ جو فقہاے متاخرین کے مذہب پر نظر آتے ہیں، ان کے استناد کو شک کے دائرے میں رکھا جائے۔ ([7])واللہ اعلم بالصواب!
چند معروضات
موجودہ ذہنی وفکری بحران ، جس سے بے شمار فضلاے مدارس دوچار ہیں، عوام کا ذکر ہی کیا، اس سے نکلنے کے لیے چند اصولی باتیں ہمیں اپنے ذہن میں ہمیشہ تازہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
1- کل قیامت میں ہمیں اپنا حساب دینا ہوگا، دوسروں کا نہیں، اس لیے قُوا أَنْفُسَكُمْ [التحريم: 6] کے پیش نظر اپنے اندرخود احتسابی کو بیدا رکرنا ہوگا۔
2- رسول کریم ﷺ دنیا میں اسلام پھیلانے اور انسانیت کو رحمت بانٹنے آئے تھے، ہمیں امت رسول ہونے کی حیثیت سے اپنی اس ذمہ داری کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ صوفیہ نے اسی لیے ’’فصل کے بجائے وصل‘‘ کو اپنا منشور بنایا۔
3- ہم شخصی کوتاہیوں سے بچنے کے ساتھ، ایسی کوتاہیوں سے ضرور بچیں، جن سے امت کی تعداد اور عزت ووقار مجروح ہو۔ ہم میں دوسروں کی اصلاح کی فکر ہونی چاہیے، لیکن اسی حد تک کہ اصلاح فساد میں نہ بدلے اور جس سے ہماری اجتماعیت اور داخلیت تباہ نہ ہو۔
4- جب امام اشعری کا وقت وفات آیا، آپ نے اپنے ایک شاگرد کو وصیت کی:’’ گواہ رہنا کہ میں اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا؛ کیوں کہ سب ایک ہی معبود کی بات کرتے ہیں، ان کا اختلاف فقط تعبیرکا اختلاف ہے۔‘‘([8]) تکفیر فقہی وکلامی کے گورکھ دھندے سے نکلنے اور امت کو امت مسلمہ واحدہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس اشعریت کو زندہ کیا جائے، جو متعدد احادیث وروایات کا نچوڑ ہے([9])
5- اور سب سے بڑی بات یہ کہ آخری بات صرف اللہ کے رسول ﷺ کی ہے، دین کے معاملے میں کسی بھی دوسرے شخص کو حرف آخر بنانے سے گریز شرعی فریضہ ہے۔([10])
اللہ یوفقنا للخیر ویجمعنا للحق ویجنبنا من التشتت والافتراق، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین، وما علینا الا البلاغ المبین۔
[1] -هَؤُلَاءِ يُسَمَّونَ بِالْخَوَارِجِ يَسْتَحِلُّونَ دِمَاءَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمْوَالَهُمْ وَيَسْبُونَ نِسَاءَهُمْ وَيُكَفِّرُونَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحُكْمُهُمْ عِنْدَ جُمْهُورِ الْفُقَهَاءِ وَجُمْهُورِ أَهْلِ الْحَدِيثِ حُكْمُ الْبُغَاةِ.۔۔۔ نَعَمْ يَقَعُ فِي كَلَامِ أَهْلِ الْمَذَاهِبِ تَكْفِيرٌ كَثِيرٌ وَلَكِنْ لَيْسَ مِنْ كَلَامِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ هُمْ الْمُجْتَهِدُونَ بَلْ مِنْ غَيْرِهِمْ، وَلَا عِبْرَةَ بِغَيْرِ الْفُقَهَاءِ، وَالْمَنْقُولُ عَنْ الْمُجْتَهِدِينَ مَا ذَكَرْنَا۔ (فتح القدير،كِتَابُ السِّيَر، بَابُ الْبُغَاةِ (۶/۱۰۰)
[2] - اس سلسلے میں مفتی مطیع الرحمٰن مضطر رضوی نے اپنی کتاب اہل قبلہ کی تکفیر (ص: ۳۴) میں کئی ایک حوالے ایک جگہ جمع کردیے ہیں:
’’ نبر اس میں ہے: اِنَّہُ قَد تَقَرَّرَ فِی الشَّرعِ أَنَّ التزامَ الکُفرِ کُفرٌ لَا لُزومُہُ۔ (ص: ۱۲۸) حاشیہ خیالی میں ہے: اللُّزُومُ غَیرُالاِلتِزامِ وَلَا کُفرَ اِلَّا بِالاِلتِزَامِ۔ (ص: ۹۸، ۹۹) فواتح الرحموت میں ہے: وَأَمَّا لُزُومُھُم تَکذِیبَ مَا ثَبَتَ قَطعاً أَنہَّ دِینٌ مُحَمَّدِیٌّ فَلَیسَ کُفراً،وَاِنَّمَا الکُفرُ اِلتِزامُ ذٰلِکَ۔ (ج۲، ص۲۴۴) اسی میں ہے: لُزُومُ الکُفرِ لَیسَ بِکُفرٍبَل اِلتِزامُہُ، فتاویٰ حدیثیہ میں ہے: وَضَابِطَۃُ الاِعتِقَادِ أَنَّ مَن أَثبَتَ لَہُ تَعَالیٰ مَاھُوُ صَرِیحٌ فِی النَّقصِ کُفِّرَوَمَا ھُو مَلزُومٌ لِلنَّقصِ لَم یُکَفَّر، لِأَنَّ الأَصَحَّ أَنَّ لَازِمَ المَذھَبِ لَیسَ بِمَذھَبٍ۔ (ص۲۰۰)‘‘
[3] - اس رجحان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ وہابی یا اسماعیلی تحریک تصوف سے پیا شدہ ضلالتوں کے رد کے لیے برپا ہوئی تھی، جس نے ان تمام متصوف مسلمانوں کو شرک وبدعت سے نکالنے کی کوشش کی جو شرک وبدعت میں مبتلا ہوگئے تھے۔ یہ پر جوش حامی فہم توحید وشرک کے حوالے سے صرف تقویۃ الایمان پر انحصار کرنے کے بجائے ، صاحب تقویۃ الایمان کے آبا وشیوخ کی کتب سے بھی استفادہ کریں، بلکہ خود مصنف تقویۃ الایمان کی دوسری کتاب صراط مستقیم سے رجوع کریں تو افراط وتفریط سے نکلنے اور راہ اعتدال کے روشن ہونے کے امکانات پیدا ہوجائیں گے۔ حیرت ہے کہ تقویۃ الایمان کو سر پر اٹھانے والے اسی مصنف کی دوسری کتاب صراط مستقیم کو بغل میں رکھنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔
[4] - عن ابن تیمیۃ احد الضلال۔( الکلمۃ الملھَمَۃفی الحکمۃ المحکمۃ لوِھاء الفلسفۃ المشئمۃ، مقام: ۲۳)
محمد[ابن]عبدالوہاب نجدی وغیرہ گمراہوں کے لئے ان حدیثوں میں اصلاً بشارت نہیں، نہ کہ سیداحمدخان کی طرح کفار جن کامسلک کفرقطعی (فتاویٰ رضویہ: ۲۴/۶۸۷-۶۸۸)
’’امام الطائفہ (اسماعیل دہلوی) کے کفرپر بھی حکم نہیں کرتاکہ ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل لا الٰہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ: ۱۵/۴۳۰)
مذہبِ معتمد ومحقق میں استحلال(حرام کو حلال ٹھہرانا جسے فقہا کفر کہتے ہیں۔) بھی علی اطلاقہ کفر نہیں جب تک زنا یا شربِ خمر یا ترک صلاۃ کی طرح اس کی حرمت ضروریاتِ دین سے نہ ہو ۔فتاویٰ رضویہ:۵/۱۰۱)
معوذتین کے قرآن سے ہونے کے انکار کو باب تکفیر میں مرتبین فتاویٰ عالم گیری نے قابل تاویل بتایا ہے، مگر اعلیٰ حضرت کے نزدیک وہ قابل تاویل نہیں ہیں۔(دیکھیے: التعلیقات الرضویۃ علی الفتاویٰ الھندیۃ)
[5] - اور روافضِ زمانہ تو ہر گز صرف تبرا ئی نہیں بلکہ یہ تبرائی علی العموم منکران ضروریات دین اور باجماع مسلمین یقیناً قطعاً کفار مرتدین ہیں، یہاں تک کہ علمائے کرام نے تصریح فرمائی کہ جو انھیں کافر نہ جانے خود کافر ہے۔ بہت عقائد کفریہ کے علاوہ دو کفر صریح میں اُن کے عالم جاہل، مرد عورت، چھوٹے بڑے سب بالا تفاق گرفتار ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ،۱۴/رسالہ رد الرفضہ)
نیچری ، قادیانی، وہابی غیر مقلد، دیوبندی اگر چہ سید مشہور ہوں نہ سید ہیں نہ ان کی تعظیم حلال بلکہ توہین وتکفیر فرض، اور روافض کے یہاں تو سیادت بہت آسان ہے کسی قوم کا رافضی ہوجائے، دودن بعد میر صاحب ہوجائے گا، ان کا بھی وہی حال ہے۔ کہ ان فرقوں کی طرح تبرائیان زمانہ بھی عموما مرتدین ہیں۔ والعیاذ باللہ تعالٰی۔ (فتاویٰ رضویہ: جلد: ۲۲، مسئلہ ۱۸۰ تا ۱۸۳)
موالات ومجرد معاملہ میں زمین وآسمان کافرق ہے دنیوی معاملت جس سے دین پرضرر نہ ہو سوا مرتدین مثل وہابیہ دیوبندیہ وامثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ: جلد: ۲۴، مسئلہ ۱۰۸)
دیوبندیہ کو کفار مرتدین جانتا مانتا ہو صرف قیام و عرس میں کلام رکھتا ہو تو محض اس وجہ پر اسے سنیت و حنیفت سے خارج نہ کہا جائے گا مگر آج کل یہ فرض از قبیل فرض باطل ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد: ۲۹، مسئلہ ۹۲ تا ٩٥)
وہابیہ مرتدین ہیں، ان کی بات سُننی جائز نہیں۔(فتاویٰ رضویہ: جلد: ۲۹، مسئلہ:۱۰۲و ۱۰۳)
رہے دیوبندی اور ان کے ہم خیال وہ مرتدین ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد: ۲۹/ مسئلہ ۱۰۷)
[6] - میرے محدود مطالعے کی حد تک تکفیر فقہی کی اصطلاح متقدمین کی کتب میں نظر نہیں آئی۔ نہ یہ اصطلاح اصولاً درست ہے، کیوں کہ معاصر علما کفر لزومی پر تکفیر کو فقہی تکفیر کہتے ہیں، جب کہ فقہاے مجتہدین ومحققین اس کے خلاف ہیں، ان کے نزدیک یہ سرے سے کفر ہے ہی نہیں۔ جیسا کہ اس کے متعدد حوالے اوپر مذکور ہوئے۔
[7] - علامہ عبد الرؤف بلیاوی رحمۃ اللہ علیہ-جن کی نگرانی میں دارالاشاعت مبارک پور کے زیر اہتمام فتاویٰ رضویہ کی تدوین وطباعت کا مرحلہ طے ہوا-تیسری جلد کے حوالے سے لکھتے ہیں:’’مسائل مبوب اور مفصل نہ تھے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ وہی نقل ہو جو پہلی دفعہ تیار ہوئی تھی، بلکہ نقل در نقل ہوتے ہوتے موجودہ رجسٹر چوتھی نقل ہے۔ مزید برآں کچھ اوراق کی کتابت بھی ہوچکی تھی جس کی طباعت کی نوبت نہ آسکی۔ اس کی اصل مفقود، صرف کاپیاں موجود ہیں۔ ہم مولانا [ مجیب الاسلام نسیم اعظمی]موصوف کے بڑے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے بڑی عرق ریزی سے اس کتاب کو اپنی بساط بھر مبوب ومفصل کرکے مبیضہ کیا۔ ۔۔۔بعض اوراق کیڑوں نے بری طرح چاٹ لیا تھا، ان میں جہاں جہاں اور کتاب کی عبارت سے تصحیح ممکن تھی کردی گئی۔ جہاں تک ماسبق ومالحق سے عبارت بن سکتی تھی، بنادی گئی اور جہاں مجبوری تھی بیاض چھوڑ دی گئی ہے۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، جلد سوم،ص: ر،عرض حال، محررہ ۲۶؍ جولائی ۱۹۶۱ء،مطبوعہ رضااکیڈمی، ۱۹۹۴ء )
جلد پنجم کے بارے میں مفتی عبد المنان اعظمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’اس جلد میں بھی کتاب الطلاق دست استعمال کی دراز ۔۔۔اور کیڑوں کی دستبرد سے اس درجہ خستہ اور کرم خوردہ ہوگیا ہے کہ پوری کتاب میں ۲۴ جگہ کرم خوردہ ہے۔ ہم نے الگ سے چارٹ لگانے کے بجائے اصل موقع پر ہی نشان دہی کردی ہے اور دس جگہ اندازے سے درست کردیا گیا ہے۔‘‘(فتاویٰ رضویہ:۵/ ۲۵، ، ممبئی، ۱۹۹۴ء)
سابق صدر افتا جامعہ اشرفیہ مبارک پورشارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمہ اللہ رام طراز ہیں:’’جدید مطبوعہ فتاویٰ رضویہ پر اصولی حیثیت سے مکمل اعتماد میں مجھے تردد ہے۔ کسی مصنف کی کتاب پر مکمل اعتماد اس وقت درست ہے جب کہ وہ مصنف کی تحریر کے وقت سے لے کر اشاعت کے وقت تک عادل، ثقہ، تام الضبط کی تحویل میں مکمل طور پر محفوظ اور مضبوط رہی ہو، جس پر مکمل بحث خود اعلی حضرت قدس سرہ نے حجب العوار عن مخدوم بھار اورالزبدة الزکیة لتحریم سجدة التحیة میں فرمائی ہے۔ فتاویٰ رضویہ کے قلمی نسخے کس حال میں رہے اور کہاں کہاں گشت کرتے رہے اور کیسے مسودہ سے مبیضہ ہوا، اس کی داستان بہت ’دل خراش‘ ہے۔‘‘( شعور نظر، ڈاکٹر شکیل اعظمی،ص:۲۹۲، برکات اکیڈمی گھوسی،۲۰۱۲ء)
[8] - تبین کذب المفتری، ص: ۱۴۹
[9] - وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (آل عمران: ۱۰۳)
مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللهَ فِي ذِمَّتِهِ. («صحيح البخاري391)
غرض ضروریات[دین] کے سوا کسی شے کا انکار کفر نہیں، اگرچہ ثابت بالقواطع ہو،کہ عندالتحقیق آدمی کو اسلام سے خارج نہیں کرتا مگر انکار اُس کا جس کی تصدیق نے اُسے دائرہ اسلام میں داخل کیا تھا اور وہ نہیں مگر ضروریاتِ دین۔کماحققہ العلماء المحققون من الائمۃ المتکلمین (جیسا کہ ائمۂ متکلمین کے محقق علماء نے تحقیق کی ہے۔ ت) ولہذا خلافت خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا منکر مذہب تحقیق میں کافر نہیں، حالانکہ اُس کی حقانیت بالیقین قطعیات سے ثابت۔‘‘(فتاویٰ رضویہ:۵/۱۰۱)
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَتَلْتَهُ؟ " قَالَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنَ السِّلَاحِ. قَالَ" أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا". فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ. قَالَ فَقَالَ سَعْدٌ: وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّى يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ. قَالَ: قَالَ رَجُلٌ:أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: {وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ؟ فَقَالَ سَعْدٌ: قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ. وَأَنْتَ وَأَصْحَابُكَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّى تَكُونُ فتنة.} [8/ الأنفال/ آية 19](صحيح مسلم:158)
[10] -’’مکتوبات مثل اورکتب مشائخ کے ہے اورتفصیل عقائد اہل سنت وبیان مسائل نفیسہ فقہ وکلام کے سبب بہت کتب پرمزیت ہے البتہ سیدنا امام مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ وغیرہ ائمہ دین کاارشاد: کل ماخوذ من قولہ الخ (ہرایک اپنے قول سے پکڑاجاتاہے الخ۔ت) سوائے قرآن عظیم سب کتب کوشامل ہے۔ نہ اس سے ہدایہ، درمختارمستثنٰی، نہ فتوحات ومکتوبات وملفوظات۔‘‘(فتاویٰ رضویہ : ۲۶ /۵۷۷)
Comments 0
Leave your comment