فہم کفریات میں اختلاف

فہم کفریات میں اختلاف

آج کل بات بات پر کفر وبے دینی کا حکم لگانا عام بات ہے۔ ہر فاسق وفاجر پر بھی ایسا عشق سوار ہے کہ دوسروں کے الفاظ و تعبیرات میں کفر ڈھونڈتے نہیں تھکتا۔ ناموس رسالت کی عظمت پر ایسا ارتکاز ہے کہ لوگ کلمۂ رسالت کی عظمت بھولتے جاتے ہیں۔ فلاں جملے میں گستاخی کی بو ہے، فلاں تعبیر گستاخانہ ہے،فلاں شخص گستاخوں کا ہمدرد ہے، فلاں شخص فلاں کافر کو کافر نہیں کہتا، لہٰذا وہ بھی کافر ہے۔ یہ باتیں عام ہوتی جارہی ہیں۔تکفیر وتفسیق میں عجلت اور شدت برتنے والے عام طور پر دو پیمانے لے کر چلتے ہیں۔ اگرمتعلقہ فرد فریق مخالف سےہے تواس کے جملوں میں گستاخی تلاش کرتے دیر نہیں لگتی اوراگر فریق موافق سے ہے تو تاویل ڈھونڈنے میں بھی تاخیر نہیں ہوتی۔
میری نوجوان فضلا سےبطور خاص گزارش ہے کہ جب معاملہ اہل قبلہ کا ہو اورخصوصاًکسی سنی عالم یا صوفی کا ہو تو اس کی تکفیر وتفسیق میں حتی الامکان زبان نہ کھولیں، جہاںتک ممکن ہو، تاویل کی راہ اختیار کریں، یا معاملہ اکابر علما کے حوالے کریں اور جو بڑے علما  ہیں ان سے بھی گزارش ہے کہ تکفیر کے معاملے میں علماے متشددین کا رویہ نہ اپنائیں، بلکہ علماے محققین کا رویہ اپنائیں، جو کسی اہل قبلہ کے قول میں کفر نہیں تلاش کرتے، بلکہ ایمان تلاش کرتے ہیں۔ بقول اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی:

’’بالجملہ تکفیر اہل قبلہ واصحاب کلمہ طیّبہ میں جرأت وجسارت محض جہالت بلکہ سخت آفت جس میں وبال عظیم ونکال کا صریح اندیشہ، والعیاذباللّٰہ رب العالمین، فرض قطعی ہے کہ اہل کلمہ کے ہر قول وفعل کو اگر چہ بظاہر کیسا ہی شنیع وفظیع ہو،حتی الامکان کفر سے بچائیں، اگر کوئی ضعیف سے ضعیف، نحیف سے نحیف تاویل پیدا ہو جس کی رُو سے حکمِ اسلام نکل سکتا ہو تو اس کی طرف جائیں، اور اس کے سوا اگر ہزار احتمال جانبِ کفر جاتے ہوں خیال میں نہ لائیں ۔۔۔ احتمال اسلام چھوڑکر احتمالاتِ کفر کی طرف جانے والے اسلام کو مغلوب اور کفر کو غالب کرتے ہیں والعیاذباللّٰہ رب العالمین۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۱۲/۳۱۷)

نئے علما سے گزارش ہے کہ وہ کتب فقہیہ کا باب المرتدین دیکھیں، جن میں کلمات کفر کے حوالے سے تفصیلی بحثیں موجود ہیں۔ جہاں ایک ہی قول کے کفر ہونے میں کئی کئی اقوال موجود ہیں۔ ساتھ ہی فقہاے محققین کو بھی پڑھیں جنہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کفریات کی بنیاد پرمتعینہ طور پر کسی کی شخصی تکفیرکرنے میں جلدی نہیں کرنا چاہیے۔ بقول امام ابن ہمام:
نَعَمْ يَقَعُ فِي كَلَامِ أَهْلِ الْمَذَاهِبِ تَكْفِيرٌ كَثِيرٌ وَلَكِنْ لَيْسَ مِنْ كَلَامِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ هُمْ الْمُجْتَهِدُونَ بَلْ مِنْ غَيْرِهِمْ، وَلَا عِبْرَةَ بِغَيْرِ الْفُقَهَاءِ۔( فتح القدير،كِتَابُ السِّيَر، بَابُ الْبُغَاةِ (۶/۱۰۰)
 مذاہب فقہ کےعلما کی عبارات میں کثرت سے تکفیر کا قول بھی منقول ہے، لیکن یہ مجتہد فقہا نہیں ہیں، یہ غیر مجتہد ہیں اور غیر مجتہد فقہا کے اقوال ناقابل اعتبار ہیں۔
فاضل بریلوی لکھتے ہیں:

’’کسی قول یافعل کا موجب کفر ہوناتو خود افعالِ مکلفین ہی سے بحث ہے۔ اس کے بیان کو کتب فقہ میں باب الردۃ مذکور اور صدہا اقوال وافعال پر انہی مشائخ کے بے شمار فتوائے کفر مسطور، مگر محققین محتاط، تارکین تفریط وافراط باآنکہ سچے دل سے حنفی مقلد اور ان مشائخ کرام کے خادم و معتقد ہیں، زینہار ان پر فتویٰ نہیں دیتے اور حتی الامکان تکفیر سے احتراز رکھتے بلکہ صاف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی روایت ضعیفہ اگر چہ دوسرے ہی مذہب کی دربارۂ اسلام مل جائے گی اسی پر عمل کریں گے، اور جب تک تکفیر پر اجماع نہ ہولے کافر نہ کہیں گے۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ:۹/۱۴۹)

ابھی حال ہی میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کا ایک حاشیہ التعلیقات الرضویۃ علی الفتاویٰ الھندیۃ حامد علی علیمی اور محمد کفیل رضا مدنی کے ترجمہ وتعلیق کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے۔ یہ حاشیہ بھی جدید علما کے شعلۂ آتش فشاں کو بجھانے میں بہت مفید ہے۔ اس میں یہ بات قابل دید ہے کہ ایک طرف عہد عالم گیری کے چالیس سے زائد علما ہیں اور دوسری طرف اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ہیں۔ ایک طرف بہت سے اقوال واعمال کو وہ حضرات کفر اور باعث تکفیر قرار دیتے ہیں، جب کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ان میں تامل اور تاویل کرتے ہیں۔ اسی طرح اس کے برعکس بھی معاملہ ہے۔ ایک طرف جن باتوں کو وہ حضرات قابل تاویل وتامل قرار دیتے ہیں انہیں باتوں کو اعلیٰ حضرت کفر اور واجب التکفیر قرار دیتے ہیں۔ یہاں صرف چند مثالیں حاضر ہیں:
قسم اول-وہ کفریات جو فتاویٰ عالم گیری میں موجب تکفیر اور اعلیٰ حضرت کے نزدیک قابل تاویل ہیں۔
۱-اگر اللہ تعالیٰ بھی مجھے اس کام کا حکم دے تو میں نہیں کروں گا۔‘‘ 
۲-جو شخص کبھی بیمار نہیں ہوتا، اس کے بارے میں کوئی کہے کہ’’یہ اللہ تعالیٰ کا بھولا ہوا ہے۔‘‘ 
۳-اپنی بیوی سے کہا:’’تو میرے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘
۴-’’خدا سے کوئی جگہ خالی نہیں۔‘‘
۵-’’اللہ میرا آسمان پر خدا ہے اور زمین پر فلاں۔‘‘
۶-حضرت عثمان، علی، طلحہ ، زبیر اور سیدہ عائشہ کی تکفیر کرنا۔
۷-اگر عاشورا کے روز کسی سے کہا گیا کہ اس روز سرمہ لگانا سنت ہے، تو اس نے کہا کہ یہ عورتوں اور مخنثوں کا کام ہے۔ 
۸-ایک شخص نے اپنے غلام کو مارنا چاہا، تو دوسرے نے اس سے کہا: اسے مت مارو، پس اس نے جواب دیا: اگر محمدﷺ بھی فرمائیں کہ مت مارو، جب بھی نہ چھوڑوں گا۔
۹- قرآن کریم کے مخلوق ہونے کا عقیدہ
۱۰-کسی نے دوسرے کو کلمۂ کفر سکھایا اور ارتداد کا حکم دیا ۔
قسم دوم-وہ کفریات جو فتاویٰ عالم گیری میں قابل تاویل اور اعلیٰ حضرت کے نزدیک موجب تکفیر ہیں۔
۱-کسی نے کہا کہ اگر رسول کریم ﷺ بھی مجھے کہیں ’’اے چھوٹے مرد!‘‘تو میں بھی کہوں گا۔
۲-معوذتین کے قرآن سے ہونے کا انکار ۔
۳-کسی خاص شخص کے دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار۔
۴-اگر کہا کہ ثواب وعقاب فقط روح کو دی جائے گی۔
یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ تفصیل کے لیے براہ راست کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ اہل اسلام کی تکفیر وتضلیل میں جلدی نہیں کرنا چاہیے،احترام دین اوراحترام ناموس رسالت کے ساتھ حتی الامکان کلمۂ توحید ورسالت کا احترام بھی ضروری ہے۔ اسی طرح ایک عالم کے فتویٔ تکفیر کی تلوارسے دوسرے علماے تاویل وسکوت کی گردنِ ایمان نہیں اڑانی چاہیے۔ موجودہ عہد- جس میں مسلمان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں- بطور خاص وحدت ملی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لیے تکفیر وتضلیل ، تفریق وانتشار اور باہمی نفرت وعداوت کے فروغ سے حتی الامکان خود کو بچانا چاہیے۔واللہ اعلم!
پس نوشت
گذشتہ دنوں علامہ غلام رسول سعیدی کی شرح مسلم کے مطالعے کے دوران حدیث رسول دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ پر علامہ سعیدی کی اس تعلیق پر نظر پڑی:

’’واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو احزاب کی شکست اور ان کے قدم اکھڑنے کی دعا فرمائی ہے، اس کو ’’بد دعا‘‘ کہنا جائز نہیں ہےاور ایسا کہنا رسول اللہ ﷺ کی سخت توہین ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا کوئی قول یا فعل ’’بد‘‘ نہیں ہے۔ ۔۔جس شخص نے بھی آپ کی کسی ’’دعا‘‘ کو ’’بد‘‘ کہا اس کو توبہ کرنی چاہیے۔ اس قسم کی دعاؤں کے لیے بالعموم ’’دعائے ضرر‘‘ کہنا چاہیے ۔۔۔ عام طور پر مترجمین اس قسم کے کلمات کا ترجمہ ’’بد دعا‘‘کرتے ہیں۔ بعض معاصرین نے بھی اس قسم کے کلمات کا ترجمہ بد دعا کیا ہے۔ العیاذ باللہ!۔۔۔بعض معاصرین لکھتے ہیں: ’’جناب رسول اللہ ﷺ نے کفار کے لیے بد دعا فرمائی۔ ‘‘ (۵/ ۳۰۰)

علامہ سعیدی ایک صاحب بصیرت اور معتدل عالم دین ہیں، لیکن بشریت سےکون خالی ہوسکتا ہے! افسوس کہ ان کا قلم یہاں اعتدال پرقائم نہیں رہ سکا۔دراصل کسی کے خلاف دعا کو اردو میں بد دعا کہتے ہیں، افسوس کہ اردو کے اس مزاج کو سمجھے بغیر انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ حضور اکرم ﷺ کے اس عمل کو ’’بد‘‘کہا جا رہا ہے، بس اسی خیال میں وہ ایسے تمام مترجمین اور اہل زبان کو ’’سخت گستاخان رسول‘‘ کی فہرست میں ڈالتے چلے گئے۔ دوسرا افسوس اس پر ہوا کہ ایک طرف مسلمانوں کی ہلاکت کے درپئے دشمنان دین کے خلاف ہونے والی حضور کی دعا کو ’’ناجائز‘‘، ’’سخت توہین‘‘اور’’واجب التوبہ‘‘ کہا اور دوسری طرف خود اس کے لیے ’’دعاے ضرر‘‘ کہنے کی تجویز پیش کردی۔ تیسرا افسوس یہ ہوا کہ انہوں نے جس ’’معاصر‘‘ کا گستاخانہ ترجمہ نقل کیا ہے وہ کوئی اور نہیں، بلکہ معروف جیدسنی عالم دین شارح صحیح بخاری علامہ غلام رسول رضوی ہیں۔ 
وہ تو خیر کہیے کہ علامہ سعیدی نے صاف صاف کافر نہیں کہا، ہمارے نوجوان فضلا کو ایسے حوالے ہاتھ لگ جائیں تو پتہ نہیں وہ کیا کریں۔ اس لیے معاً خیال آیا کہ اعلیٰ حضرت کے حاشیہ فتاویٰ عالم گیری کی روشنی میں چند ضروری ہدایات لکھ دی جائیں۔ واللہ ھو الھادی!

(تحریر:  ۲۲/۱۲/۲۲)

Comments 0

Advertisement