مخدوم شاہ مینا لکھنوی قدس سرہٗ
(۸۰۰ھ/۱۳۹۷ء–۸۸۴ھ/۱۴۷۹ء)
شاہِ ولایتِ اودھ قطب العالم شیخ محمد بن قطب معروف بہ مخدوم شاہ مینا لکھنوی قَـدَّسَ اللّٰهُ سِرَّهُ کا سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔
آپ کا عرفی نام ’’مینا‘‘ حاجی الحرمین مخدوم شیخ قوام الدین نے رکھا۔ ([1])
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہٗ اللہ تعالیٰ آپ کے احوال میں لکھتے ہیں:
’’وی صاحبِ ولایتِ دیارِ لکھنؤ است... از صغر سن در سایۂ تربیت و عنایت شیخ قوام الدین پرورش یافتہ، بعد ازان مریدِ شیخ سارنگ گشتہ۔([2])‘‘
(آپ دیارِ لکھنؤ کے صاحبِ ولایت ہیں، بچپن ہی سے حضرت شیخ قوام الدین کے سایۂ تربیت و عنایت میں رہے۔ ان کے وصال کے بعد (ان کے مرید ومجاز) مخدوم شیخ سارنگ کے مرید ہوئے۔ )
پانچ سال کی عمر میں جب مکتب پہنچے تو استاذ نے کہا: بولو: الف، تو آپ نے فرمایا:الف، جب معلم نے کہا: بے، آپ نے فرمایا: ’’دوجا کہ؟‘‘ (دوسراکون؟) اس کے بعد آپ نے لفظ ’’الف‘‘ کے بارے میں ایسے حقائق ومعارف بیان فرمائے کہ آپ کے استاذ اور دیگر حاضرین بے خود ہوگئے۔ چوںکہ استاذ کو یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ یہ بچہ پیدائشی ولی ہے، اس لیے وہ آپ کی تعلیم کے سلسلے میں زیادہ کوشش نہیں کرتے اور مکتب میں آپ کی آمد کو ہی اپنے لیے غنیمت سمجھتے۔ آپ جب مکتب پہنچ جاتے تو اس وقت سے مستقل آنکھیں بند کیے ذکر میں مشغول رہتے۔ چھٹی کے وقت دیگر بچوں کے شور و شغف سے آپ کو ہوش آتا اور پھر استاذ کو سلام عرض کرکے گھر چلے جاتے۔
دس سال تک حضرت شاہ قوام الدین کے سایۂ تربیت اورظل عاطفت میں رہے، اس کے بعد حضرت سید راجو قتال کے بعض خدام سے تلقین ذکر حاصل کیا اور اس پر عامل رہے۔ شیخ اعظم ثانی جو اپنے زمانے کے مشہور عالم تھے، ان سے درس کے دوران شرح وقایہ کی عبارتوں میں ایسے دقائق و نکات بیان فرمائے کہ شیخ اعظم اپنے تمام فضل و کمال کے باوجود انتہائی ادب کے ساتھ ان کے سامنے بیٹھے رہے اور ہر مسئلہ میں نئے نکات حاصل کیے۔ عبادات کی بحث مکمل ہونے کے بعد شیخ مینا نے فرمایا کہ مجھے دوسرا معاملہ درپیش ہے، اس لیے معاملات کی بحث سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ آپ نے عوارف المعارف پوری پڑھی، بالآخر کم وقت میں آپ اس مقام پر فائز ہو گئے کہ بڑے بڑے علمائے زمانہ علوم عقلیہ ونقلیہ کے اکثر مقامات کی تحقیق آپ سے کراتے۔
جب آپ کی عمر شریف بارہ سال کی ہوئی تو قطبیت کے مقام پر فائز ہوگئے۔ آپ کی قطبیت حضرت شاہ بدیع الدین مدار کے مرید قاضی شہاب الدین آتش پرکالہ ساکن چتلائی نے ظاہر کی۔
اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ قاضی شہاب الدین اپنے پیر کی قدم بوسی کی نیت سے نکلے، جب لکھنؤ پہنچے تو اکثر لوگ اپنی حاجتیں لے کر ان کی خدمت میں آئے۔ قاضی صاحب نے ان سب حاجتوں کو لکھ لیا اور روانہ ہوگئے۔ چلتے وقت ان تمام حاجتوں کو اپنے پیر کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان حاجت مندوں سے کہیں کہ وہ لوگ شیخ مینا کی بارگاہ میں رجوع کریں، کیوں کہ قطبیت ان کے حوالے ہو گئی ہے۔ اس وقت ان کی عمربہت کم ہے، بارہ یا تیرہ سال کے ہیں۔ انہوں نے آپ کا پورا حلیہ مبارک بیان کر دیااور بولے: ان کو معلوم ہے کہ وہ قطب ہیں لیکن وہاں کے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں۔ تم جاکر میری طرف سے ان کو سلام پیش کرنا اور حاجت مندوں کی سفارش کرنا۔ ایک اونی مصلّٰے ان کو دیا کہ اسے میری طرف سے بطور ہدیہ ان کی خدمت میں نذر کردینا۔ چنانچہ وہ مصلّٰے ابھی بھی حضرت مخدوم شیخ الہدیہ کی اولاد میں موجود ہے۔
قاضی صاحب وہاں سے روانہ ہوئے، پھر واپس لکھنؤ پہنچے، حاجت مندوں کو اپنے ساتھ لے کر قطب العالم شیخ مینا کی خدمت میں حاضر ہوئے، اپنے پیر کی طرف سے آپ کی خدمت میں تحفۂ سلام پیش کیا اور مصلّٰے ہدیہ کیا۔ حضرت قطب العالم شیخ مینا نے سب کو تعویذ دیا اور ان کے لیے دعا کی۔ صرف ایک شخص رہ گیا، اس نے اپنے لڑکے کی شفایابی کے لیے درخواست کی تھی، وہ اسی طرح کھڑا رہا، تھوڑی دیربعد جب اس نے پھر عرضی لگائی تو فرمایا: بابا جاؤ صبر کرو، تمہارے لڑکے کی شفایابی کے لیے بارگاہ الٰہی میں بہت دعا کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور حکم ربانی آیا ہے کہ اس کی عمر اتنی ہی ہے اور پھر آپ نے ایک دوہا پڑھا جس کا فارسی مفہوم یہ ہے :
رسن گسستہ ز بالا نمی توانم بست
کہ دوست دشمنی انگیخت دوستی بشکست
ترجمہ: اوپر سے کاٹی ہوئی رسی کو میں باندھ نہیں سکتا، کیوں کہ دوست نے دشمنی کا اظہار کیا اور دوستی توڑدی۔([3])
ریاضت و مجاہدہ
آپ کا حال یوں ہی روز فزوں رہا یہاں تک کہ پندرہ سال کی عمر میں حضرت مخدوم شیخ سارنگ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئےاور وہبی ولایت کے باوجود ایسی پر مشقت ریاضتیں کیں جو انسان کے بس کے باہر ہیں۔ حضرت مخدوم شیخ سعد قدس سرہ لکھتے ہیں:
’’اگر جاڑے کی راتوں میں پیر دستگیر قطب العالم مخدوم شاہ مینا قدس سرہٗ پر نیند کاغلبہ ہوتا تو کبھی اپنے کپڑے کو اور کبھی اپنی کلاہ کو ٹھنڈے پانی میں بھگو کر پہنتےاور حضرت شاہ قوام الدین کی خانقاہ کے صحن میں جا کر بیٹھتے یہاں تک کہ سردی کی شدت اور ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے آپ کی نیند ختم ہو جاتی اور پھر پوری رات ذکر الٰہی میں لگے رہتے۔ بعض اوقات وضو کے لیے پانی گرم کرتے، اگر آگ کی گرمی سے نفس کو تھوڑا سکون ملتا یا اس کے اندر سستی پیدا ہوتی تو فوراً ہی اٹھ جاتے، گرم پانی چھوڑ کررات میں ہی ٹھنڈے پانی سے غسل واجب نہ ہونے کے باوجود غسل فرماتے اور کئی کئی راتیں صلوٰۃِ معکوس میں مشغول رہتے۔ کبھی زمین پر کنکڑیاں بچھاکر بیٹھ کر اذکار و اشغال میں لگے رہتے یہاں تک کہ اگر نیند کاغلبہ ہوتا تو اسی پر لیٹ جاتے اور پھراس خوف سے اٹھ جاتے کہ کیا پتا کنکڑیوں پر ہی نیند آجائے، کبھی کبھی کئی کئی راتیں اونچی دیوار پر بیٹھتے تاکہ گرنے کے خوف سے نیند دور ہو جائے۔ اکثر صوم طی رکھتے، چلے میں بیٹھتے، جب چلہ مکمل ہونے کے قریب ہوتا اور کوئی دوست یا مسافر آپ سےکھانے کے لیے اصرار کرتا تو اس کی دل جوئی کے لیے آپ روزہ توڑ دیتے اور اس کو یہ نہ بتاتے کہ میں روزے سے ہوں، اس لیے کہ آپ کا مقصد شہرت کا حصول نہیں تھا، اس کے بعد آپ پھر سے نیا چلہ شروع کردیتے اوراسی طرح زمانے تک یہ سلسلہ چلتا رہتا لیکن آپ چلہ مکمل ہونے کی پرواہ نہ کرتے تاکہ نفس اس کی وجہ سے مغرور و متکبر نہ ہو۔ اکثر اوقات کھڑاؤں پہنتے، اپنے پیر کی زیارت کے لیے پیدل گیارہ - بارہ کوس (۳۵-۳۶ کلومیٹر) چل کر جاتے اور اس طریقے سے نفس کو مشقت و تکلیف میں ڈالتے۔ اس طرح سے آپ کا مل و مکمل ہوئے اور نور حقیقت تک رسائی ہوئی۔
مرداں بہ سعی و رنج بجائے رسیدہ اند
تو بے خبر کجا رسی از نفس پروری
(لوگ تکلیف و مشقت اٹھا کر اور مجاہدہ وریاضت کے ذریعے کسی مقام تک پہنچے ہیں، تم بے خبر انسان نفس پروری کرتے ہوئے کسی مقام تک کیسے پہنچوگے؟([4])
حلم و بردباری
آپ کا عفو و کرم اور حلم و بردباری مشہور و معروف ہے۔ چنانچہ ایک روز شراب کے نشے میں مخمور ایک حجام آپ کو گالی دینے لگا، آپ نے اس کو کچھ دے کر مکمل لطف و نرمی کے ساتھ واپس کیا اور اس سے معذرت خواہی کی۔
اگر کسی شخص سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچتی تو معاف فرما دیتے اور مکمل خندہ پیشانی کے ساتھ اس کو دعا دیتے اور یہ اشعار اپنی زبان مبارک سے پڑھتے:
ہر کہ مارا یار نبود ایزد او را یار باد
ہر کہ مارا رنج دادہ راحتش بسیار باد
ہر کہ اندر راہ ما خارے نہد از دشمنی
ہر گلے کز باغ عمرش بشفگد بے خار باد
)جو میرا دوست نہ ہو حق تعالیٰ اس کا یار و مددگار ہو، جس نے مجھ کو تکلیف پہنچائی اس کو بہت راحت و سکون ملے۔
جو میرے راستے میں دشمنی کی وجہ کانٹے بچھائے اس کے باغ زندگانی میں جو پھول کھلے اس میں کانٹے نہ آئیں۔ ([5])
احوال و اطوار
حضرت مخدوم شیخ سعد الدین قدس سرہٗ آپ کے احوال میں مزید رقم طراز ہیں:
’’ حضرت قطب عالم مخدوم شاہ مینا قدس سرہٗ کی صحبت میں میں بیس سال رہا، کبھی بھی پاؤں پھیلا کر یا پاؤں کھڑے کرکے بیٹھا ہوا نہیں پایا ، آپ ہمیشہ قبلہ رو ہوکر نماز کی ہیئت میں بیٹھتے، کبھی بھی سمت قبلہ سے ہٹ کر نہ جوتیاں رکھتے اور نہ ہی اتارتے، ہمیشہ جوتیاں قبلہ رو رکھتے تھے، اسی سمت اتارتے اور اسی سمت سے پہنتے۔ اسی طرح آپ نے اپنے لیے کبھی کوئی کھانا اپنی طلب سے نہیں کھایا اور نہ اپنی خواہش سے کوئی کپڑا سلوایا۔ آپ ارشاد فرماتے کہ جو صوفی اپنی خواہش سے کھانا پینا کھاتا ہے یا اپنی پسند کا کپڑا پہنتا ہے وہ ہرگز ہرگز صوفی نہیں ہے، بلکہ حضرت مصطفیٰ ﷺ کے دین کا رہزن ہے۔
آپ کایہ بھی معمول تھا کہ باوضو ہونے کے باوجود ایک دو گھنٹے کے بعد تجدید وضو فرماتے اور دو رکعت تحیت الوضو ادا فرماتے، وضو سے فارغ ہو کر اگلے وضو کی نیت سے وضو کے برتن میں پانی بھرکر رکھ دیتے، کھانا تناول کرتے وقت اور کھانے سے فارغ ہو کر از سر نو وضو کرتے اور فرماتے کہ جو کھانا باوضو ہو کر کھایا جاتا ہے وہ کھانا باطن میں تسبیح میں مشغول ہوتا ہے اور کھانے کے بعد کی گرانی کو دور کر دیتا ہے اور نور میں اضافہ کرتا ہے۔ آپ نے نہ کبھی بے وضو گفتگو فرمائی اور نہ کبھی بے وضو سوئے، جب سو جاتے تو کبھی بھی وضو اور دو رکعت نماز ادا کیے بغیر پہلو نہ بدلتے، نیند سے بیدار ہوتے ہی تیمم فرماتے اس کے بعد وضو کی تیاری کرتے اور فرماتے کہ انسان کی تخلیق کی اصل پانی اور مٹی ہے ان ہی دونوں چیزوں سے طلب دنیا کی آگ بجھائی جائے گی، بہت امید ہے کہ آخرت کی آگ بھی اسی سے بجھ جائے۔ ([6])‘‘
مرشد سے تعلق
آپ کے مرشد گرامی حضرت مخدوم شیخ سارنگ نے آپ کو ایک بار کسی شہر کی جانب کسی اہم کام کے لیے بھیجا، آپ وہاں گئے اور اس کام کو انجام دینے کے بعد لوٹ کر حضرت کی خدمت میں پہنچے تو حضرت مخدوم نے فرمایا: وہاں ایک عارف تھے، ان سے تم نے ملاقات کی؟ آپ نے عرض کیا: نہیں! شیخ نے فرمایا: جس شہر میں جاؤ اگر وہاں کوئی درویش ہو تو ان سے ملاقات کرنا چاہیے۔ یہ سنتے ہی بے اختیار آپ کی زبان مبارک پر یہ شعر جاری ہو گیا:
ہمہ شہر پر زِ خوباں منم و خیال ماہے
چہ کنم کہ چشم بد خو نکند بہ کس نگاہے
)ترجمہ: پورا شہر حسینوں سے بھرا ہے لیکن میں ایک پری پیکر کے ہی خیال میں مگن ہوں، کیا کروں کہ میری بد خصلت نگاہ کسی کی جانب دیکھتی ہی نہیں۔(
میرے لیے اپنے شیخ کی محبت کافی ہے، اب میں دوسروں سے محبت نہیں کر سکتا۔ تب شیخ نے آپ کو خرقۂ خلافت سے نواز کر رخصت کیا کہ اپنے مقام پر جا کر مشغول ہو جاؤ۔ ([7])
بیعت کے فوائد
ایک شخص سفر کی حالت میں فوت ہوگیا، اس کا سر جنبش کر رہا تھا، کسی صورت سکون نہیں ہوتاتھا۔ اس کا تابوت دوران سفر جہاں بھی پہنچا وہاں کے علما و مشائخ سے اس عجیب و غریب واقعے کے بارے میں لوگوں نے استفسار کیا لیکن تشفی بخش جواب نہیں مل سکا۔ جب وہ لوگ لکھنؤ پہنچےتو حضرت قطب عالم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا راز جاننا چاہا تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ یہ شخص کسی کا مرید نہیں ہے، یہ کلاہ اور شجرہ طلب کررہاہے۔ پھر آپ نے اپنے سر مبارک سے کلاہ اتار کر اس کے سر پر رکھ دی اور شجرہ لکھ کر عنایت فرمایا کہ اس کے سینے پر رکھ دیں، جیسے ہی کلاہ اس مردے کے سر پہ پہنچی فوراً اس کے سر کی حرکت بند ہوگئی۔ آپ نے فرمایاکہ اس کا سر بظاہر جنبش میں تھا لیکن باطنی جنبش تمام سروں میں ہوتی ہے، پیروں کی کلاہ کے بغیر چین و سکون نہیں ہے۔ ([8])
تعلیمات و ارشادات
حضرت مخدوم شاہ مینا کے ملفوظات ان کے مرید و خلیفۂ اعظم مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی (۹۲۲ھ / ۱۵۱۶ء) نے مجمع السلوک والفوائد (شرح رسالہ مکیہ) میں درج فرمائے ہیں۔ مجمع السلوک شریف (سنہ تالیف ۸۹۰ھ) سے ہی ماخوذ آپ کے ملفوظات کے دو مجموعے مرتب ہوئے:
)۱ (ملفوظات حضرت مخدوم شاہ مینا: مرتبہ میر سیدمحیی الدین بن حسین رضوی حسینی امیٹھوی، سنہ تالیف ۱۰۱۱ھ۔
)۲ (فوائد سعدیہ: مؤلفہ افضل العلماء قاضی محمد ارتضا علی صفوی گوپاموی، سنہ تالیف ۱۲۴۲ھ ۔
ذیل میں ہم آپ کے چند ارشادات مجمع السلوک شریف سے نقل کرتے ہیں:
ارشاد فرمایا: اگرکسی کودیکھو کہ وہ پانی پرچلتاہے، ہوا میں اڑتاہے اور اس کے ساتھ وہ حدود شریعت کی پامالی اوران میں کوتاہی کرتاہے توجان لوکہ وہ جادو گر، جھوٹا، گم راہ اورگم راہ گرہے۔
ارشاد فرمایا: مرید کو چاہیے کہ غیر کو اپنی نظر میں نہ لائے اور مخلوق کی مدح و ذم سے اپنے آپ کو بے نیاز کرلے، جو بھی عمل کرے اچھی نیت اور صدق و اخلاص کے ساتھ کرے، لوگوں کی باتوں سے اپنے آپ کو پراگندہ خاطر نہ کرے اور ان کے نیک و بد کہنے کی پروانہ کرے؛ کیوں کہ لوگوں کی زبان سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔
ارشاد فرمایا: رب تعالیٰ کی محبت تمام درجات و احوال میں سب سے بلند درجہ ہے ۔
ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سے صرف اسی کی ذات کے لیے محبت رکھے، کوئی اور چیز طلب نہ کرے۔
ارشاد فرمایا: مرید کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ شیخ کی باتوں کے انتظارمیں دل سے حاضر رہے، تاکہ شیخ کے کلام کے فوائد و منافع سے محروم نہ رہے۔
ارشاد فرمایا: شیخ کا دل صیقل شدہ آئینے کی طرح ہے، اس پر حضرت رب العزت کا فیض اترتا رہتا ہے، وہ ذات، صفات، اسما اورافعال کی تجلیات سے متجلی ہوتا ہے اور اس طرح شیخ ہر لمحہ غیبی لطائف سے آراستہ ہوتا رہتا ہے۔ جب مرید صادق مکمل ارادت کے ساتھ اپنے دل کو ایسے آئینے کے سامنے لاتا ہے تو شیخ کا دل مرید کے دل پر عکس تجلی ڈالتا ہے اور تمام کمالات بغیر کسی کسب اور محنت ومشقت کے اس مرید کے دل میں اترجاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ اس کا دل غیریت کی کدورت سے پاک اور طبیعت کے زنگ سے صاف ہو۔
ارشاد فرمایا: مولانا عمدہ بدایونی جو ایک صاحبِ علم اور عزت و حیثیت والے شخص تھے، حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کے زمانے میں سالہا سال تک سیاحت میں مشغول رہے۔ ایک دن عنایت ازلی شامل حال ہوئی اورسب کچھ ترک کرکے ملامت کی راہ اختیار کرلی۔ زنانہ لباس پہن کرایک رخسار سیاہ اور دوسرا سرخ کرکے حضرت شیخ کی خدمت میں آئے اور ان کے زانو سے زانو ملاکر بیٹھ گئے۔ کہنے لگے: مولانا نظام الدین! تم یہ کر سکتے ہو جومیں نے کیا ہے؟ ہمیشہ سجادۂ تکبر پر مسند رعونت لگائے بیٹھے رہتے ہو اور اپنے آپ کوطالبین و سالکین اور صادقین میں سے کہتے ہو! حضرت شیخ خاموش رہے یہاں تک کہ مولانا عمدہ نے دو تین بار یہی بات کہی اور پھر کہا: مولانا! جواب کیوں نہیں دیتے؟ حضرت شیخ نے فرمایا: جو کام تم نے کیا ہے وہ آسان ہے، یہ توبیوہ عورتوں اورمخنثوں کا کام ہے۔ مردان الٰہی کا کام دوسرا ہے۔ مولانا عمدہ کو تعجب ہوا، پوچھا: وہ کام کیا ہے؟ حضرت شیخ نے جواب دیا کہ مردان الٰہی کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ درد عشق الٰہی میں جلتے رہتے ہیں، دل کی پاسبانی کرتے ہیں اور غیر کے خطرہ و خیال کو بھی اندر داخل نہیں ہونے دیتے۔
ارشاد فرمایا: بعض جاہل، داڑھی منڈوانے کو ایک بزرگ کی پیروی سمجھتے ہیں جنہوں نے غلبۂ حال میں ایک دن کہا کہ یہ داڑھی میرے کس کام کی ہے، یہ کہہ کر انھوں نے اپنا ہاتھ داڑھی پر پھیرا اور تمام بالوں کوالگ کرکے زمین پرڈال دیا۔ بعد میں بعض خدام اوراحباب نے کہا کہ لوگ عیب لگا رہے ہیں کہ آپ سنت مصطفوی کے تارک ہوگئے، آپ نے داڑھی منڈوا لی۔ انہوں نے کہا: میری داڑھی تو میرے چہرے پر موجود ہے، یہ کہہ کرانہوں نے اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرا تو فوراً داڑھی جیسی تھی ویسی ہی ہوگئی۔ پھر ایک دن انہوں نے غلبۂ حال میں کہا کہ یہ داڑھی میرے کس کام کی ہے؟ پھرانھوں نے اپنا ہاتھ داڑھی پر رکھا اور داڑھی کے سارے بال الگ کرکے زمین پرڈال دیے۔ ان بزرگ کا یہ عمل داڑھی ترشوانا نہیں ہوا، اس طرح کے افعال جو کسی سے غلبۂ حال میں صادر ہوں ان کی پیروی نہیں کی جائے گی۔ اس طرح کے افعال کو انھیں بزرگوں پر چھوڑ دیا جائے گا۔
خلفا
آپ نے صرف دو حضرات کو خلافت دی: مخدوم شیخ قطب الدین لکھنوی (برادر زادہ و جانشین) اور مخدوم شیخ سعد الدین خیرآبادی ۔ ([9])
وصال
قطب العالم مخدوم شاہ مینا قدس سرہٗ کا وصال ۲۳؍صفر ۸۸۴ھ/ ۱۶؍ مئی ۱۴۷۹ء کو ہوا۔ ([10]) آپ کا مزار مبارک لکھنؤ میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ کسی بزرگ نے کہا ہے؎
ہر کہ خواہد چشم را بینا کند
سرمۂ خاکِ درِ مینا کند
( جو اپنی آنکھوں کو پر نور بنانا چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ شیخ مینا کے در کی خاک کا سرمہ اپنی آنکھوں میں لگائے۔ )
مرشد گرامی مد ظلہٗ مصرع اوّل کی قرات اس طرح بھی فرماتے ہیں: ع
ہرکہ خواہد چشم و دل بینا کند
(جو چاہتا ہے کہ اپنی آنکھیں اور دل روشن کرے)
([1]) ملفوظات مخدوم شاہ مینا، ص: ۳ ؛ فوائد سعدیہ، ص :۸
([2]) اخبار الاخیار، ص: ۳۱۲
([3] ) فوائد سعدیہ، ص:۹تا ۱۲
([4] ) مجمع السلوک: ۱/۲۳۸
([5] ) فوائد سعدیہ، ص: ۱۱
([6] ) مجمع السلوک، ج:۱ ، ص:۴۷۳ ، ۴۷۵
([7] ) فوائد سعدیہ، ص:۱۱
([8] ) فوائد سعدیہ، ص:۱۲
([9] ) مجمع السلوک، ج:۱، ص: ۱۶۱
([10]) مجمع السلوک ،ص:۳۔ بعض تذکرہ نگار مثلاً میر آزاد بلگرامی رحمہ اللہ، مفتی غلام سرور لاہوری اور مولانا سید عبدالحی حسنی راے بریلوی وغیرہما سے آپ کی تاریخ وفات نقل کرنے میں تسامح ہوا ہے۔
Leave your comment