Donate Now
ہر حال میں فروغِ محبت اور قیامِ امن کی کوشش ضروری

ہر حال میں فروغِ محبت اور قیامِ امن کی کوشش ضروری

خانقاہِ عارفیہ میں عرسِ محبوبِ سبحانی و محبوبِ الٰہی کے موقع پر علما و مشائخ کی ایمانی و اصلاحی گفتگو

عارف باللہ شیخ ابو سعید احسان اللہ محمدی مدّظلّہ العالی کی سرپرستی میں منعقد اِس روحانی اجتماع میں علمائے کرام و مشائخِ عظام نے شرکت فرمائی اور کتاب و سنت اور سیرتِ پیمبر ﷺ کی روشنی میں ایمان، عمل، امن اور محبت کو فروغ دینے پر زور دیا۔ اِس کے لیے انہوں نے اولیائے کرام کی حیات و تعلیمات سے ایمان افروز واقعات و نکات پیش کیے۔

عرس کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ محبوبِ سبحانی و محبوبِ الٰہی کی زندگیاں صبر و شکر، خدمتِ خلق، امن و محبت اور تسبیح و تحمید کے اسرار کا مظہر تھیں۔ اُن کی تعلیم یہ ہے کہ بندہ ہمہ دم اللہ کی طرف متوجہ رہے، اخلاصِ دعا، صدقِ مقال اور اکلِ حلال کو اپنا شعار بنائے اور ایک شیخِ کامل کی رہنمائی میں ایمان و عرفان کی راہوں پر گامزن ہو۔

خانقاہِ عالیہ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی کے روح پرور اور ایمان افروز ماحول میں منعقد عرسِ محبوبانِ الٰہی نہایت عقیدت، احترام اور تزک و احتشام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ ۲؍روزہ عرس کی تقریبات میں ایمانی و اصلاحی خطابات کے۶؍ سیشن ہوئے، جب کہ دونوں دن بعد نمازِ عشا سماع کی محافل منعقد ہوئیں۔ صلاۃ و سلام، دعا اور تقسیمِ لنگر پر عرس کا اختتام ہوا۔

خانقاہِ عارفیہ سید سراواں، کوشامبی میں محبوبِ سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی اور محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیا کی یاد میں ۲؍روزہ عرسِ محبوبانِ الٰہی کا انعقاد ہوا۔ عرس کی تقریبات مختلف اجلاسوں میں منقسم تھیں۔

13؍ اکتوبر 2025ء کی صبح پہلے اجلاس میں دعا کی قبولیت کے حوالے سے مفتی آفتاب رشکِ مصباحی نے کہا:’’دعا اُسی وقت قبول ہوتی ہے جب بندہ محض زبان سے نہیں بلکہ اپنے پورے وجود سے اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ دعا کی قبولیت کے لیے اخلاص، صدقِ مقال، حلال کمائی اور دل کی حاضری لازمی شرطیں ہیں۔ دعا عبادت کا مغز ہے، مگر اس مغز کو صرف وہی پاتا ہے جس کا دل گناہوں سے پاک ہو۔‘‘

ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے شیخ عبدالقادر جیلانی کے حوالے سے بتایا:’’شیطان کی ہتھکنڈوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک شیخِ کامل کی صحبت میں اس طرح رہے جیسے مردہ بدستِ زندہ۔‘‘مزید فرمایا کہ آج کے دور میں پیر و مرید کا رشتہ ظاہری رسومات میں الجھ کر اپنی روحانی اصل کھو چکا ہے، جب کہ صوفیہ نے ہمیشہ علم، اخلاص اور خدمتِ خلق کو سلوک کا زینہ بنایا۔

13؍ اکتوبر کو بعد از عصر مولانا محمد ذکی نے ولایت کی حقیقت، مقام اور معیار پر نہایت واضح اور مدلل انداز میں گفتگو کی۔ آپ نے کہا کہ اللہ کے ولی وہ بندے ہوتے ہیں جو اخلاص، تقویٰ اور شریعت پر مکمل استقامت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اور اُن کی پہچان کرامات یا ظاہری امتیازات نہیں بلکہ اللہ کی یاد دلانے والی صحبت ہے۔

14؍ اکتوبر کی صبح مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی صاحب نے ’’محبوبِ سبحانی اور محبوبِ الٰہی کی زندگی میں آزمائشیں‘‘ کے عنوان پر ایمان افروز خطاب کیا۔ آپ نے بتایا کہ حضرت نظام الدین اولیا کی پوری حیاتِ طیبہ صبر، توکل اور رضا کا مظہر تھی۔اللہ کے مقرب بندوں کی آزمائشیں ان کی محرومیاں نہیں بلکہ ان کے درجات کی سیڑھیاں ہیں۔آپ نے زور دیا کہ صوفی وہ نہیں جو حال پر مغرور ہو جائے بلکہ وہ ہے جو ہر حال میں رب کے فیصلے پر راضی رہے۔

مفتی امام الدین سعیدی صاحب نے بھی روحانی تربیت اور اصلاحِ نفس پر مدلل گفتگو کی۔ آپ نے محبوبِ الٰہی کے روحانی سفر کو نہایت عمدہ انداز میں سامعین کے گوش گزار فرمایا، جس سے محفل میں کیف و سرور کا سما بندھ گیا۔

عصر کے بعد مفتی رحمت علی مصباحی نے اپنی گفتگو میں اسلام کے بنیادی اصول ’’بھائی چارہ‘‘ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان کی بنیاد پر قائم یہ رشتہ خیرخواہی، عیب پوشی اور محبت کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے ہر مسلمان کو دوسرے کا آئینہ قرار دیا ہے، جو نرمی سے اصلاح کرتا ہے، نہ کہ سختی سے۔ مفتی صاحب نے انصار و مہاجرین کے باہمی بھائی چارے کو حقیقی اسلامی اخوت کی مثال قرار دیا اور زور دیا کہ آج کے مسلمانوں کو نفرت و اختلاف سے بچ کر محبت، عدل اور اتحاد کی راہ اپنانی چاہیے۔

عرس کی اختتامی نشست میں مولانا عارف اقبال مصباحی نے فرمایا:’’سورۂ قریش میں اللہ نے اپنا تعارف کھانا کھلانے والے اور امن دینے والے اوصاف سے فرمایا ہے، یعنی اسلام میں لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنا اور انہیں امن و امان عطا کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔‘‘ساتھ ہی آپ نے اس بات پر زور دیا کہ قیامِ امن کے لیے عدل اور قیامِ محبت کے لیے احسان شرط ہے، اور ہمیں ہر حال میں اپنے آپ کو اور دوسروں کو پرامن رکھنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

اس کے بعد نقیبُ الصوفیہ مفتی کتاب الدین رضوی نے اپنے اختتامی خطاب میں آخرت کی تیاری پر زور دیتے ہوئے فرمایا:’’آخرت کی تیاری کے مراحل ہیں، جن میں پہلا مرحلہ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت ہے۔ جب تک بندہ دو باتوں پر یقین نہ کر لے کہ اللہ نے اسے جس حال میں رکھا ہے اسے بدلنے پر قادر ہے، لیکن اُسی حال میں رکھنے میں اُس کی ہزاروں حکمتیں ہیں، تب تک بندہ حقیقتِ ایمان تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

تقریری پروگرام کے بعد محفلِ سماع منعقد ہوئی جو نمازِ فجر تک جاری رہی۔ قلِ شریف اور اجتماعی دعا کے بعد تمام حاضرین نے نمازِ فجر باجماعت ادا کی اور لنگر کی برکتوں سے فیض یاب ہوئے۔ ملک بھر سے عقیدت مند، علما، مشائخ، اساتذہ اور طلبہ شریکِ عرس تھے، جن میں سید کامران چشتی اجمیری، حضرت شعیب میاں خیرآبادی، تاج میاں بارہ بنکوی، جنید میاں بارہ بنکوی اور سید نیاز خادم خادمی صفوی کے نام بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔


 

Ad Image