سیرتِ نبوی ﷺ صرف عقیدت نہیں، عملی زندگی کا منشور ہے
سید سراواں، کوشامبی: خانقاہ عارفیہ، سید سراواں میں شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام اور حضرت عارف باللہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی سرپرستی میں ۱۸/ ویں سالانہ میلاد کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں علما، دانشوران، سرکاری افسران، وکلا، سماجی شخصیات، میڈیا نمائندگان اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا مرکزی پیغام یہ رہا کہ رسول اکرم ﷺ سے حقیقی وابستگی کا تقاضا صرف عقیدت کا اظہار نہیں، بل کہ خدمتِ خلق، تواضع، عدل، انسانی احترام، خودکفالت، بھائی چارے اور ظلم کے خلاف عملی کردار ہے۔
تقریب کی نظامت معروف صحافی محمد احمد، وطن سماچار دہلی، نے کی۔ پروگرام کا آغاز قاری سرفراز سعیدی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا، جب کہ سعیدی برادران اور مولانا ساجد سعیدی مصباحی نے حمدیہ و نعتیہ کلام پیش کیا۔
جامعہ عارفیہ کے استاد مولانا محمد زکی سعیدی نے اپنے خطاب میں علم و کردار کے باہمی تعلق کو موضوع بناتے ہوئے کہا کہ علم و معلومات کی فراوانی یقیناً ایک کمال ہے، لیکن انسان کی اصل بلندی اس کے اخلاق و کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے جو تعلیمات دوسروں کو دیں، پہلے خود ان پر عمل کرکے ان کا عملی نمونہ پیش کیا۔ انہوں نے سیرتِ نبوی کے متعدد واقعات کی روشنی میں حضور ﷺ کی دل جوئی، رحم، نرم گفتاری اور اعلیٰ اخلاق کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مومن کی گفتگو اور کردار سے دوسروں کو امید، سکون اور تحفظ ملنا چاہیے، نفرت اور دل آزاری نہیں۔

علامہ سید صادق حسینی نے موجودہ عالمی بے امنی، انسانی جانوں کے ضیاع اور حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ماحول میں سیرتِ نبوی کی طرف رجوع کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے جنگِ بدر کے قیدیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے پڑھے لکھے قیدیوں کو سزا دینے کی بجاے ناخواندہ مسلمانوں کو تعلیم دینے کے عوض آزادی کا راستہ دیا۔ ان کے مطابق سماج میں موجود علم اور ہنر کو دوسروں تک منتقل کرکے لوگوں کو تعلیم یافتہ اور ہنرمند بنانا امن اور اجتماعی ترقی کی مؤثر بنیاد بن سکتا ہے۔
بعد ازاں سعیدی برادران نے حمدیہ و روحانی کلام پیش کرکے محفل میں روحانی کیفیت پیدا کی۔ سینئر ایڈوکیٹ کے۔ کے۔ رائے، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ہندوستان کو باہمی بھائی چارے اور مشترکہ تہذیب کی سرزمین قرار دیتے ہوئے تاریخی مثالوں کے ذریعے مذہبی ہم آہنگی کی روایت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے الٰہ آباد میں کمبھ میلے اور مذہبی اداروں کے لیے مغل حکمرانوں کی جانب سے زمین و وسائل فراہم کیے جانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت مل جل کر رہنے کی روایت میں ہے۔ آپ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اسلام نے امن کے ساتھ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا ہے؛ لہٰذا اصولوں کو صرف بیان کرنا کافی نہیں، بل کہ انہیں عملی زندگی میں اختیار کرنا ضروری ہے۔
کانفرنس کے مرکزی خطاب میں خطیب الصوفیہ علامہ عارف اقبال مصباحی، مدھوبنی، بہار نے قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں کہا کہ اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنے خالق سے مضبوط تعلق قائم کرے اور مخلوق کے لیے خدمت گزار بنے، مگر خدمت کے ساتھ تواضع بھی باقی رہے۔ انہوں نے والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، پڑوسیوں، مسافروں اور زیرِ دست افراد کے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی خدمت یہ نہیں کہ ضرورت مند کی وقتی مدد کر دی جائے، بل کہ اسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور خود دوسروں کی مدد کرنے والا بن جائے۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کے اس واقعے کا حوالہ دیا جس میں ایک ضرورت مند شخص کو وقتی امداد دینے کی بجاے محنت اور روزگار کی طرف رہنمائی کی گئی، اور کہا کہ یہی باوقار خود کفالت سیرتِ نبوی کا عملی سبق ہے۔ آپ نے حلف الفضول کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ رسول اکرم ﷺ نے اعلانِ نبوت سے قبل بھی مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف اجتماعی جدوجہد میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق عبادت کے ساتھ سماجی انصاف، کمزوروں کی دست گیری، روزگار، علاج، پڑوسی کے حقوق اور انسانی وقار کی حفاظت ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہے۔
سی ای او شاہی پروڈکٹس مولانا حسین سعید صفوی نے مہمانوں اور شرکاے کانفرنس کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں سعیدی برادران نے نعتیہ کلام ’’نبیوں کے سلطان محمد، آپ ہیں عالی شان محمد‘‘ پیش کیا۔
ایڈوکیٹ راج وندر سنگھ، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کو انسانی و اخلاقی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم کے مقابلے میں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف آواز اٹھانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ضرورت باتوں سے زیادہ عملی کردار کی ہے۔

کانفرنس کا مکمل انتظام و انصرام شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کی جانب سے کیا گیا، جس میں جامعہ عارفیہ کے مینیجر جناب ساجد سعیدی برہانی نے نمایاں انتظامی خدمات انجام دیں۔ جامعہ عارفیہ کے اساتذہ اور طلبہ نے بھی پرنسپل علامہ عمران حبیبی کی سرپرستی میں پروگرام کے انتظامات اور مختلف خدمات میں بھرپور حصہ لیا۔
پروگرام میں خصوصی طور پر بریگیڈیئر سید احمد علی، علامہ سید صادق حسینی، سینئر ایڈوکیٹ کے۔ کے۔ رائے، ایڈوکیٹ راج وندر سنگھ، محمد رضوان قادری، سنیل ساہو، بلرام ساہو، منو سونی، سریش سنگھ، اَمرجیت سنگھ، دیوندر پانڈے، پرندر نارائن شکلا، لالا مہاراج، دلیپ کیسروانی، چنّو لال وشوکرما، ڈاکٹر سید احمد، ایڈوکیٹ محمد حسام الدین خان، مولانا عمران کراری، قاری اسلم گہورے، شیخ محبوب اللہ بقائی مہوبا، ڈاکٹر عرفان نجف علیمی اور ڈاکٹر سلطان پورہ مفتی سمیت دیگر مذہبی، سماجی، قانونی، سرکاری و صحافتی شخصیات شریک رہے۔
آخر میں سعیدی برادران نے صلاۃ و سلام ’’یا شفیع الوریٰ، وجہ کون و مکاں، ہر زماں ہو صلاۃ و سلام آپ پر‘‘ پیش کیا اور پروگرام حضرت عارف باللہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی خصوصی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ ملک و معاشرے میں امن، باہمی محبت، بھائی چارے، انسانی فلاح اور سلامتی کے لیے دعائیں کی گئیں، جس کے بعد حاضرین میں شیرینی تقسیم کی گئی۔
Comments 0
Leave your comment