Donate Now
سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے عیوب بیان کرنے سے بچیں — مولانا علی سعید صفوی

سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے عیوب بیان کرنے سے بچیں — مولانا علی سعید صفوی

خانقاہ عارفیہ میں ۱۲۷ویں عرسِ عارفی کی تقریبات، جامعہ عارفیہ کے فارغین  طلبہ کی دستاربندی

خانقاہ عالیہ عارفیہ، سید سراواں، کوشامبی میں مولانا شاہ امیر علی عرف مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ کا ۱۲۷؍ ویں عرس کی سہ روزہ تقریبات اختتام پذیر ہوئیں۔ ۴؍ مئی ۲۰۲۶ء کو بعد عصر مولانا محمد زکی کا خطاب ہوا، جس میں انہوں نے بتایا کہ نجات کے لیے صرف اطاعت کرنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ معاصی اور جرائم سے بچنا بھی ضروری ہے۔ اُسی شب بعد ِعشا اہلِ ذوق اور ارباب حال کے لیے محفل سماع کا بھی انعقاد ہوا۔

۵؍ مئی کی صبح قرآن خوانی ہوئی، ۹؍ بجے غسلِ مزار کی رسم ادا کی گئی، بعد نمازِ ظہر خرقہ پوشی ہوئی اور حضرت صاحب سجادہ شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی نے اپنے مشائخ کے تبرکات زیب تن فرمائے۔ عشا کے بعد اجلاسِ عام ہوا، جس میں علما کے خطابات ہوئے اور فارغین جامعہ عارفیہ کی گل پوشی ہوئی اور انہیں اسناد تفویض کی گئیں۔

حضرت صاحب سجادہ کے چھوٹے صاحب زادے مولانا علی سعید صفوی نے اپنے ناصحانہ کلمات میں سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے عیوب بیان کرنے سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ روایت میں ہے کہ جو اس دنیا میں کسی کا عیب چھپائے گا،کل قیامت میں اللہ اس کا عیب چھپائےگا۔ آخر کیا بات ہے کہ مذہب اور تصوف سے جڑے لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے عیوب بیان کرتے نظر آتے ہیں۔

 مفتی محمد کتاب الدین رضوی صاحب نے اپنے خصوصی خطاب میں قرآن ِمقدس کی دو آیتوں کو محورِ گفتگو بناتے ہوئے نہایت بلیغ انداز میں انسانی سماج کے دو مختلف کردار و اخلاق کا ذکر کیا اور بتایا کہ اصل طمانیت صبر، قناعت اور اللہ والوں کی معیت میں زندگی گزارنا ہے۔ مفتی صاحب نے پہلے اُس کتّے کی مثال دے کر بات آگے بڑھائی جو ہمہ دم حرص و ہوس کی وجہ سے زبان نکالے رال  ٹپکاتے اپنی تمام تر بے عزتیوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک ایک لقمے کے لیے  لوگوں کے پیچھے دم ہلاتے گھومتا رہتا ہے۔ اِس صفت کا انسان بھی اپنی عزت و وقار اور شرف ِ آدمیت کا خیال کیے بغیر ہر لمحہ دنیا طلبی کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اگر کبھی اُسے اُس کی امید سے زیادہ دنیا ہاتھ آ بھی جاتی ہے تو وہ اس پر مطمئن نہیں ہوتا ۔  اس کی یہی بے اطمینانی اُس سے ہر وہ غلط کام کروا لیتی ہے جس سے نہ صرف یہ کہ اُس کی دنیا تباہ و برباد ہوتی ہے ، بلکہ آخرت بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ جب کہ اِس کے مقابلے میں ایک وہ کتا تھا جسے اصحاب کہف کا کتا کہا جاتا ہے۔ مگر اس کے صبر و قناعت اور اللہ والوں سے دوستی نے اسے نہ صرف یہ کہ تاریخ میں زندہ کر دیا ،  بلکہ اسے ان تمام نعمتوں کا مستحق بنا دیا جو اللہ نے اس دنیا میں اصحابِ کہف کو دی ہیں اور جو کل بروز حشر عطا فرمائےگا۔  جب ایک کتا صبر و استقامت اور اللہ والوں کی فرماں برداری میں  ان نعمتوں کا مستحق بن سکتا ہے جو اللہ والوں کو ملتی ہیں تو ایک انسان جو خود اشرف المخلوقات ہے، اگر اپنے اندر صبر و توکل اور اللہ والوں کی اطاعت و وفاداری کی صفت پیدا کر  لے  اور ان کی صحبت کو اپنے اوپر لازم کر لے تو اللہ کے فضل سے وہ اُن  نعمتوں سے شاد کام ہو سکتا ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

مفتی محمد کتاب الدین رضوی صاحب سے پہلے ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے اپنی گفتگو میں اعراس مشائخ کی اہمیت و ضرورت اور ان کی دینی حیثیت پر جامع علمی گفتگو فرمائی۔ آپ نے اپنی گفتگو میں اعراس کے مقاصد پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئےبتایا کہ  بزرگوں کے اعراس میں حاضری سے یوں تو بہت  سے فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں، لیکن اصل چیز ہے بزرگوں کی تعلیمات پر عمل کا جذبہ پیدا ہونا۔اگر ان کی تعلیمات ہماری زندگی کا حصہ بنتی ہیں تو اعراس میں حاضری کا مقصود حاصل ہو گیا، ورنہ دوسری تمام رسومات میں ہماری شرکت تو ہو جائےگی، اعراس کا مقصد ہم سے فوت ہو جائے گا۔

اپنے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر سید قمرالاسلام نے خدا کی قربت کا آسان ذریعہ بزرگان دین کی صحبت کو قرار دیا۔ عرس عارفی کی اس تقریب کا آغاز قاری ذاکر صاحب استاد مدرسہ امدادالعلوم کراری  کی تلاوت سے ہوا، جب کہ حافظ ابراہیم سعیدی نے نعتیہ کلام پیش کیا اور ذکی سعیدی اور ان کے ہم نوا نے ترانۂ جامعہ پیش کیا اور نظامت کی ذمہ داری مولانا انجم راہی ازہری نے ادا کی۔ اخیر میں افتا، فضیلت، عالمیت، قراءت اور حفظ سے فارغ ہونے والے طلبہ کی گل پوشی ہوئی اور انہیں اسناد تفویض کی گئیں۔ طلبہ کی دستار بندی کا یہ پروگرام  سرپرستِ عرس عارف باللہ شیخ ابو سعید صفوی ادام اللہ ظلہ علینا کی دعاؤں پر ختم ہوا۔ اس کے بعد سماع کی محفل منعقد ہوئی جو فجر کے  بعد تک چلی۔ فجر کی نماز کے بعد لنگرِ عام  کا خصوصی اہتمام تھا۔  

۶؍ مئی کو ظہر بعد حضرت کریم اللہ شاہ خادمی صفی پوری اور جملہ مریدین ومتوسلین کے ایصال ثواب کے لیے خاص فاتحہ کا اہتمام ہوا اور دوسرے دن ۷؍ مئی کو عصر بعد آٹھویں صدی ہجری کے بزرگ حضر ت میر سید محمد حقانی قدس سرہ کا عرس منایا گیا اور ان کے مزار پاک پر چادر پوشی کی گئی۔ اسی شام بعد نماز مغرب حضرت مولائے مومنین سیدنا علی ابن ابی طالب کی ماہانہ محفلِ سماع اور فاتحہ کی تقریب میں اہل عقیدت نے شرکت کی اور جذب و شوق اور عرفان ذات و کائنات سے مشرف ہوئے۔ 

اس سال جامعہ عارفیہ سے فارغ ہونے والے طلبہ کے اسما حسبِ ذیل ہیں:

 اختصاص فی الفقہ: محمد ریان فاروقی( پرتاپ گڑھ)، نورالزماں(سون بھدر) دستارِ فضیلت: محمد فیضان (کوشامبی)، محمد مدثر (پریاگ راج)، محمد عیان کریمی (فتحپور)، محمد عمران (کوشامبی)، طٰہٰ عارف (کانپور)، محمد حسنین (پریاگ راج)،محمد ارکان (پریاگ راج)، محمد دلشاد (سلطان پور)، محمد آل نبی (مرادآباد) دستارِ عالمیت: محمد قل ہو اللہ (کولکاتہ)، محمد لاریب (کوشامبی)، محمد فاضل فاروقی (پریاگ راج)، سید شاکر احمد (نئی دہلی)، محمد رئیس القادری (مدھوبنی)، محمد ارباز علی (مظفرپور)، محمد معراج ( کوشامبی)، سید عدی علی (کانپور نگر)، محمد ذیشان (کوشامبی)، محمد اویس (فتحپور)، محمد سعد رضا (فتحپور)، محمد محسن (مظفرپور)، ارشد رضا (مظفرپور)، محمد رئیس (دربھنگہ)، صاحبان خان (ریوا، ایم پی)، محمد فردوس (مدھوبنی)، محمد کاظم چشتی ( دہلی)، سید محمد یمین اللہ قادری (خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف)، محمد ساجد (مظفرپور)، محمد راشد القادری (مرادآباد)، سید شاہ ریاض الاسلام (بنگال)، اشرف نداف (مہوتری)، غلام احمد رضا خان (ادھیان پور)، نوشاد (کوشامبی)، تیج علی (جموں کشمیر) دستارِ قراءت: طٰہٰ حسن (پریاگ راج)، محمد وقار اشرف (اتر دیناجپور)، فرقان وارث (کوشامبی)، محمد شاہد ربانی (پریاگ راج)، محمد شبر حسین (بنگال)، اسماعیل انصاری (ریوا، ایم پی)، تحسین رضا (کوشامبی)، انعام حسین (کوشامبی)، محمد جہانگیر عالم (ویسٹ بنگال)، محمد تسلیم (بدایوں)، عمران احمد (کوشامبی)، ایم جی اکبر (کشن گنج)، محمد تحسین احمد خان (بنگال)، محمد محبوب عالم (اتر دیناج پور)، سمید کواری (جلیشور)، ممنون رضا (کشن گنج)، رئیس اعظم (کشن گنج)، محمد ممتاز خان (مہوتری)، محمد آفتاب عالم (ادھیان پور)، ابو انس غازی (بنگال) دستارِ حفظ: نبیل احمد (کوشامبی)، اشرف علی (پریاگ راج)، محمد عماد (کوشامبی)، ابرار خان (سون بھدر)، سرور عالم (مرزاپور)، عاطف بھائی (گجرات)، محب رسول (پورنیہ)، شاہنواز عالم (کوشامبی)، محمد زیف (کوشامبی)، محمد تنعیم الحق (پورنیہ)، محمد شعبان (پریاگ راج)۔


 

Ad Image