Donate Now
خطیب الہند حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی کے اعزاز میں سپاس نامہ کی پیشکش

خطیب الہند حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی کے اعزاز میں سپاس نامہ کی پیشکش

سالانہ ثقافتی اجلاس — ایچ، ایم پبلک اسکول، مرادآباد

ایچ، ایم پبلک اسکول، مرادآباد کے سالانہ ثقافتی اجلاس ۲۰۲۵ کی خصوصی تقریب میں ایک نہایت اہم اور تاریخی لمحہ اس وقت رقم ہوا جب خطیب الہند حضرت مولانا عبید اللہ خان اعظمی (سابق ممبر آف پارلیمنٹ) کی نصف صدی سے زائد پھیلی ہوئی قومی، ملی، دینی اور خطیبانہ خدمات کے اعتراف میں سپاس نامہ پیش کیا گیا۔

مولانا عبید اللہ خان اعظمی ’’خطیب الہند‘‘ کے لقب سے ملک گیر شہرت رکھنے والے عظیم خطیب، ممتاز عالمِ دین، قومی رہنما اور مسلمانوں کی سیاسی و ملی آواز کے مؤثر ترجمان ہیں۔ ۱۹۴۹ء میں خالص پور (اعظم گڑھ) میں پیدا ہونے والے مولانا نے جامعہ اشرفیہ مبارکپور میں حافظِ ملت مولانا شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں سے لے کر عوامی جلسوں تک اُن کی خطابت اور خدمات کا سلسلہ پانچ دہائیوں سے زائد محیط ہے۔

ایچ، ایم پبلک اسکول مرادآباد ایک نمایاں تعلیمی ادارہ ہے جو اخلاقی، علمی اور ثقافتی اقدار کے فروغ کے لیے مسلسل سرگرم ہے۔ ۱۸؍ نومبر کو منعقدہ ’’سالانہ ثقافتی اجلاس‘‘ میں مہمانانِ گرامی، اساتذہ، والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پروگرام میں اسکول کی سالانہ کارکردگی پیش کی گئی اور مختلف ثقافتی پروگراموں نے تقریب کو رونق بخشی۔

تقریب کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب حافظِ ملت میموریل ٹرسٹ، مرادآباد کی جانب سے سپاس نامہ خطیب الہند مولانا عبید اللہ خان اعظمی کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ یہ سپاس نامہ عارف باللہ داعیِ اسلام شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی ادام اللّٰہ ظلہ العالی (سجادہ نشیں خانقاہِ عالیہ عارفیہ، سید سراواں) نے اپنے دستِ مبارک سے پیش فرمایا، جب کہ اس کی ترتیب و نگرانی نواسۂ حافظِ ملت مولانا فیضانِ عزیزی کی سربراہی میں چل رہے حافظِ ملت میموریل ٹرسٹ نے انجام دی۔ یہ اعزاز مولانا اعظمی کی عظیم دینی، ملی، سیاسی اور تنظیمی خدمات کا اعتراف اور اُن کے نصف صدی پر محیط فیضانِ خطابت کا باضابطہ احترام تھا۔

اِس اعزاز نے نہ صرف پروگرام کی شان دوبالا کی بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ ملت اب بھی اپنے مخلص خُدّام کی قدردانی کے اعلیٰ معیار پر قائم ہے۔ حافظِ ملت میموریل ٹرسٹ نے مولانا اعظمی کی خدمات کو جس احترام کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا، وہ تاریخ میں ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔


Ad Image