سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول کا چوتھا سالانہ فاؤنڈیشن ڈے، تھیم ’’اُڑان‘‘ کے ساتھ شاندار انعقاد
سید سراواں، کوشامبی — سینٹ سارنگ کانونٹ اسکول کے چوتھے سالانہ فاؤنڈیشن ڈے کی پروقار تقریب جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اِس سال کا مرکزی تھیم ’’اُڑان‘‘ تھا، جس کا مقصد طلبہ کو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کی پہچان، خود اعتمادی، اور عملی زندگی کی نئی بلندیوں تک رسائی کا حوصلہ دینا تھا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور دعا سے ہوا، جس کے بعد فاؤنڈیشن ڈے کی اہمیت اور ادارے کے تعلیمی سفر پر روشنی ڈالی گئی۔
مہمانِ خصوصی کرنل طاہر مصطفیٰ (رجسٹرار جامعہ ہمدرد، نئی دہلی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر بچہ منفرد صلاحیتوں کا حامل ہے، اس لیے تعلیم کو صرف نمبروں یا ملازمت تک محدود نہ کیا جائے، بلکہ اخلاق، کردار، انسان دوستی اور خدمت کے جذبے کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ انہوں نے والدین سے کہا کہ وہ بچوں کے رجحانات کو سمجھ کر ان کی رہنمائی کریں اور ماحولیات، قومی یکجہتی اور سماجی ذمہ داریوں کو تعلیم کا لازمی حصہ بنائیں۔

گیسٹ آف آنر ڈاکٹر ایم مشاہد عالم رضوی (ڈین، مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی تعلیم انسان کو بااخلاق اور باشعور بناتی ہے۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ کی تعریف کی کہ وہ کتابی علم کے ساتھ بچوں میں سماجی حساسیت، ثقافتی قدریں اور عملی شعور بھی پیدا کر رہے ہیں۔
تقریب میں پیش کیے گئے پروگراموں نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔ فینسی ڈریس مقابلے میں ننھے بچوں نے پھلوں، سبزیوں، قدرتی عناصر اور ثقافتی رنگوں کی دلکش نمائندگی کی۔ صفائی، آلودگی سے بچاؤ اور ماحولیات کے تحفظ پر رقص اور تھیٹر کے ذریعے اہم پیغامات دیے گئے۔ ’’انگریزی تعلیم کی حقیقت‘‘ جیسے تنقیدی ڈرامے نے والدین کی غلط ترجیحات پر روشنی ڈالی، جب کہ تھیٹر ’’AI بمقابلہ انسانیت‘‘ نے واضح کیا کہ ٹیکنالوجی انسانی جذبات کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ ’’ناری شکتی‘‘ کے عنوان سے پیش کش میں طالبات نے خواتین کے حقوق، مساوات اور سماجی کردار کو نہایت وقار سے اجاگر کیا۔ ڈرامہ ’’پیرنٹس کلاس‘‘ میں والدین اور بچوں کے تعلقات، ذمہ داری اور بہتر رابطے کی ضرورت کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا۔ موبائل فون کے منفی اثرات پر نوکڑ ڈرامے نے ٹیکنالوجی کے متوازن استعمال کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔
اسکول کے نمائندہ جناب حسین سعید نے اپنے خطاب میں تعلیم اور تربیت کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے والدین اور اساتذہ کی مشترکہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی ترقی طلبہ کی اخلاقی، ذہنی اور تخلیقی نشوونما سے وابستہ ہے۔

اختتام پر اسکول کے سرپرست عارف باللہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی نے ملک و ملت کی خوش حالی اور طلبہ کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ تقریب روایتی قومی ترانے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس نے محفل کو اتحاد و اخوت کے رنگ میں رنگ دیا۔
Leave your comment