Donate Now
ماڈرنائزیشن آف مدارس کے لیے جامعہ عارفیہ ایک رول ماڈل – پروفیسر افشار عالم، وائس چانسلر جامعہ ہمدرد، دہلی

ماڈرنائزیشن آف مدارس کے لیے جامعہ عارفیہ ایک رول ماڈل – پروفیسر افشار عالم، وائس چانسلر جامعہ ہمدرد، دہلی

جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں منعقد استقبالیہ تقریب میں مہمانِ خصوصی جامعہ ہمدرد دہلی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد افشار عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے جامعہ ہمدرد میں اسلامک اسٹڈیز کے تحت صوفی سینٹر قائم کر کے دنیا بھر کی درگاہوں، خانقاہوں اور صوفیہ کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ اسی کے ساتھ ہم مدارس کی جدید کاری (ماڈرنائزیشن) کی بھی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دینی مدارس میں دینی و دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جائے اور فارغین آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی کامیاب ہو سکیں۔ لیکن جس انداز میں اس کا عملی نمونہ جامعہ عارفیہ میں دیکھا، وہ کہیں اور نظر نہیں آیا۔ یہاں طلبہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی حاصل کر رہے ہیں۔

کل ہی دن میں، میں نے اس خانقاہ کے احاطے میں قائم سینٹ سارنگ کانوینٹ اسکول کے طلبہ کو سنا، ان کی کارکردگی دیکھی، شام میں محفل مولائے مؤمنین میں شرکت کی، سماعِ صوفیہ سے لطف اندوز ہوا۔ آج صبح کچھ طلبہ سے بات چیت کی، مدرسہ دیکھا۔ ان سب مشاہدات کے بعد یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ مدارس کی جدید کاری کے لیے جامعہ عارفیہ ایک نمونہ (رول ماڈل) کی حیثیت رکھتا ہے۔اِسی کے ساتھ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جامعہ ہمدرد کے صوفی سینٹر کے تحت جس صوفی ماڈل کا خواب میں نے دیکھا ہے، اس کی عملی تعبیر خانقاہ عارفیہ میں نظر آتی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ وہ دنیا کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ادا کر بھی رہے ہیں۔ اس لیے مدارس کے طلبہ کو خود کو کمتر یا پیچھے سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے لیے ترقی کے تمام راستے کھلے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ کے یہاں این آئی او ایس کا باقاعدہ سینٹر قائم ہے، جو مدارس کی دنیا میں ایک تاریخ ساز پہل ہے۔ آپ اس کے ذریعے دسویں اور بارہویں کی تعلیم مکمل کر کے کسی بھی شعبے میں آگے بڑھ سکتے ہیں: میڈیکل سائنس، کمپیوٹر سائنس، ٹیکنالوجی، آرٹس— جس شعبے میں جانا چاہیں، جا سکتے ہیں، اور آپ کو ضرور جانا چاہیے۔

اِس تقریب کی نظامت جناب احمد صحافی دہلوی (وطن سماچار) نے کی، جبکہ تلاوت عاشقِ رسول، طالب علم جامعہ عارفیہ نے کی۔ عاشق ِرسول اور ذکا سعیدی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کیا۔ استقبالیہ خطبہ ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی، استاد جامعہ عارفیہ نے دیا اور کلماتِ تشکر ناظمِ جامعہ مولانا حسن سعید صفوی نے پیش کیے۔ آخر میں محفل کا اختتام صاحب سجادہ بانی جامعہ عارفیہ داعی اسلام شیخ ابو سعید صفوی دامت برکاتہم القدسیہ کی دعا پر ہوا۔

اختتامِ محفل سے قبل، ڈاکٹر عرفان نجف علیمی کی ادارت میں شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ’’نوائے طب و صحت‘‘ کی رسمِ اجرا جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر افشار عالم کے ہاتھوں انجام پائی۔

اس محفل میں جامعہ عارفیہ کے اساتذہ و طلبہ کے علاوہ دور دراز سے آئے ہوئے عوام و خواص نے بھی شرکت کی، جن میں کولکاتا، گوا، کرناٹک، دہلی اور بہار کے احباب شامل تھے۔ وائس چانسلر جامعہ ہمدرد کا یہ پہلا دورہ تھا، جس میں ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ انہوں نے دو دن جامعہ/خانقاہ عارفیہ میں قیام کیا اور یہاں کے روحانی ماحول سے بھرپور لطف اندوز ہوئے۔

اسی قیام کے دوران، 19 جولائی کو جامعہ عارفیہ کے احاطے میں واقع سینٹ سارنگ کانوینٹ اسکول میں Investiture Ceremony منعقد ہوئی، جس میں طلبہ کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور نمایاں کارکردگی پر انہیں اسناد، میڈلز اور بیجز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر انڈین ٹیلنٹ اولمپیاڈ کے تحت منعقدہ مسابقوں میں کامیاب طلبہ کو خصوصی سرٹیفکیٹس، اور اساتذہ کو Inspiring Teacher Award دیا گیا۔ اسی تقریب میں اسکول کو ملا نیشنل لیول گولڈن اسکول سرٹیفیکیٹ (National Level Golden School Certificate) بھی پیش کیا گیا، جو ایک نمایاں اعزاز ہے۔

اس پُروقار تقریب میں چیف گیسٹ کی حیثیت سے پروفیسر افشار عالم صاحب اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ شریک ہوئے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کامیاب طلبہ کو انعامات سے نوازا۔

اسی کے ساتھ ساتھ مہمانِ خصوصی جناب نوازش محمد فاروقی صفوی عرف صمدی میاں، صفی پور شریف (سجادہ نشین حضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہ) بھی اس تقریب میں شریک رہے اور انہوں نے بھی کامیاب طلبہ کو اپنے ہاتھوں سے انعامات عطا کیے۔

تقریب کے اختتام پر پروفیسر افشار عالم صاحب اور ان کی اہلیہ نے طلبہ سے پراثر خطاب کیا، ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں سے نوازا۔


Ad Image