Donate Now
جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں جشنِ تکمیلِ حفظِ قرآن کی روح پرور تقریب

جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں جشنِ تکمیلِ حفظِ قرآن کی روح پرور تقریب

جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں منعقدہ جشنِ تکمیلِ حفظِ قرآن کے موقع پر اس اہم حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ محض قرآنِ کریم حفظ کر لینا ہی کافی نہیں، بلکہ اس کی حفاظت، فہم اور عملی زندگی میں اس پر کاربند رہنا ہی حقیقی معنوں میں حاملِ قرآن ہونے کی پہچان ہے۔ قرآن محض تلاوت یا قسم اٹھانے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کے ہر مسئلے کا حل بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ قرآن کو چھوڑنے کا انجام دنیا میں ذلت اور آخرت میں خسارہ ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار خطیبُ الصوفیہ علامہ عارف اقبال مصباحی نے اپنے خطاب میں کیا۔

علامہ مصباحی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ نبی کریم ﷺ قیامت کے دن اپنی امت کے بارے میں اللہ کے حضور شکایت فرمائیں گے کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا۔ آپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور میں حفظِ قرآن کے بعد قرآن سے دوری ایک سنگین فتنہ بنتی جا رہی ہے، جہاں اکثر طلبہ حفظ مکمل کرنے کے بعد دنیاوی مصروفیات میں مشغول ہو کر قرآن سے غفلت اختیار کر لیتے ہیں۔ مولانا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قیمتی نسخے کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بچوں کے دلوں میں قرآن کی محبت پیدا کرنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی محبت، قرآن کی کثرت سے تلاوت اور اس پر تدبر سکھانا نہایت ضروری ہے۔

واضح رہے کہ یہ روحانی و تعلیمی پروگرام جشنِ تکمیلِ حفظِ قرآن کے عنوان سے جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں منعقد ہوا۔ پروگرام کے آغاز میں خطیبُ الصوفیہ علامہ عارف اقبال مصباحی نے پُر مغز خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض مفتی آفتاب رشکِ مصباحی نے انجام دیے، اور حافظ ذکیٰ سعیدی نے نعتِ رسول ﷺ پیش کر کے سامعین کے دلوں کو گرما دیا۔

اس موقع پر ان خوش نصیب طلبہ کی خصوصی تکریم کی گئی جنہوں نے مکمل قرآنِ کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ ان حفاظِ کرام کے اسمائے گرامی یہ ہیں: (۱) محمد مجتبیٰ (کوڈاپور، سید سراواں)، (۲) حامد اللہ (کوئلہا)، (۳) فیضان (اسروال خورد)، (۴) شعبان (بلی پور)، (۵) عدنان بقائی (گونڈا)، (۶) الطاف (مدھیہ پردیش)، (۷) عاطف (امریلی، گجرات)، (۸) سعیدی (چھپرہ، بہار)، (۹) خیرالبشر (پراس)، (۱۰) دل نواز (بہار)، (۱۱) اسحاق (چھیتے مئو)، (۱۲) رضی عباس (بھرواری)، (۱۳) مصلح (بھرواری)، (۱۴) ابرار (مدھیہ پردیش)۔

تمام 14 حفاظِ کرام کو مبارکباد دی گئی اور ان کے والدین و اساتذہ کی محنت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ بعد ازاں حفاظِ کرام نے روایتی انداز میں اجتماعی فاتحہ خوانی کی، جس میں باری باری قرآنِ کریم کی آیات کی تلاوت کی گئی۔ یہ منظر نہایت روحانی اور ایمان افروز رہا۔

یہ بابرکت پروگرام جامعہ عارفیہ کے شعبۂ حفظ کے صدر صوفی سلیم صاحب کی نگرانی میں منعقد ہوا، جب کہ جامعہ عارفیہ کے پرنسپل علامہ عمران حبیبی اور جامعہ کے بانی و سرپرست عارف باللہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی کی خصوصی سرپرستی حاصل رہی۔ اختتام پر سربراہِ اعلیٰ شیخ ابو سعید صفوی نے حفاظِ کرام کو انعامات سے نوازا اور طلبہ کی تعلیم اور روشن مستقبل کی دعائیں دیں۔


 


Ad Image