آئین کی حفاظت ہی دراصل ہندوستان کی وحدت اور امن کی ضمانت ہے: ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی
سید سراواں، کوشامبی: جامعہ عارفیہ میں ۷۷ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر منعقدہ پُروقار تقریب میں ڈاکٹر ذیشان احمد مصباحی نے کہا کہ آئینِ ہند محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی عہد ہے، جس کے ذریعے ہندوستان نے خود کو ایک سیکولر، جمہوری اور ریپبلک ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔ آپ نے واضح کیا کہ آئین کی اصل قوت اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ ان اقدار میں ہے جنہیں شہری اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں، کیونکہ اگر قانون نافذ کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے اخلاقی طور پر کمزور ہوں تو بہترین دستور بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ آپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئین کی حفاظت دراصل ملک کی وحدت، امن اور مستقبل کی حفاظت ہے، اور اس ذمہ داری سے کوئی شہری، بالخصوص تعلیم یافتہ طبقہ، خود کو الگ نہیں کر سکتا۔

ڈاکٹر مصباحی نے آئین سازی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لاہور کنونشن 1929ء کے اعلامیہ، 1946ء کے انتخابات، دستور ساز اسمبلی کی تشکیل اور تین سالہ قانون سازی کے عمل کا تفصیلی ذکر کیا۔ آپ نے بتایا کہ آئین کی تیاری میں مختلف مذاہب، طبقات اور خطّوں کے نمائندے شامل تھے، جن میں مسلمان اور خواتین بھی نمایاں طور پر شریک رہیں، جو اس دستور کے ہمہ گیر اور شمولیتی کردار کا ثبوت ہے۔ انہوں نے ڈرافٹنگ کمیٹی اور اس کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مساوات اور سماجی انصاف کو آئین کا بنیادی ستون بنانے کا مقصد یہی تھا کہ کوئی شہری مذہب، ذات یا طبقے کی بنیاد پر محروم نہ رہے۔ ساتھ ہی آپ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ آئین کا سیکولر ہونا مذہب دشمنی نہیں بلکہ مذہبی آزادی کی ضمانت ہے، اور قرآن خود وعدوں کی پاسداری اور معاہدات کی تکمیل کا حکم دیتا ہے، اس لیے ایک مسلمان شہری کے لیے آئین کی وفاداری دینی تقاضوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کی تکمیل ہے۔
یہ تقریب یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے جامعہ عارفیہ، سید سراواں کے احاطے میں منعقد کی گئی، جس کا مقصد طلبہ اور حاضرین میں آئینی شعور اجاگر کرنا اور شہری حقوق و فرائض کی سمجھ پیدا کرنا تھا۔ پروگرام کی نظامت مفتی آفتاب رشکِ مصباحی نے کی۔ آغاز میں حافظ محمد ذکیٰ سعیدی نے تلاوتِ قرآنِ مجید سے تقریب کا آغاز کیا، جس کے بعد سعیدی برادران کی ٹیم نے جامعہ کا ترانہ ’’یہ بابِ حرم ہے، بابِ حرم‘‘ پیش کیا۔ بعد ازاں جامعہ عارفیہ کے استاد مولانا محمد زکی سعیدی نے اپنے خطاب میں یومِ جمہوریہ کی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 15 اگست 1947ء کو آزادی کے باوجود ملک اس وقت تک مکمل خودمختار نہیں ہو سکا تھا جب تک اس نے اپنا آئین نافذ نہیں کیا۔ آپ نے آئین کے چار بنیادی اصول—انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت—کو دستور کی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انصاف کمزور پڑ جائے تو معاشرہ بکھر جاتا ہے، اگر آزادی سلب ہو تو گھٹن جنم لیتی ہے، اگر مساوات ختم ہو تو ظلم عام ہو جاتا ہے، اور اگر اخوت باقی نہ رہے تو فساد ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مولانا محمد زکی سعیدی نے یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ یہ چاروں اصول محض آئینی دفعات نہیں بلکہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں، اس لیے ایک باشعور شہری کے لیے دین اور دستور میں کوئی تضاد نہیں رہتا۔ انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ یومِ جمہوریہ کو محض جشن نہیں بلکہ آئین کی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کا عہد کرنے کا دن بنایا جائے۔

تقریب کے اختتام پر جامعہ عارفیہ کے سرپرست عارف باللہ شیخ ابو سعید صفوی، پرنسپل مولانا عمران حبیبی، مینیجر جناب ساجد سعیدی اور جناب حسین سعیدی صفوی کے ہاتھوں قومی پرچم کشائی عمل میں آئی، قومی ترانہ پڑھا گیا اور ملک کی ترقی، امن و امان اور باہمی بھائی چارے کے لیے دعا کی گئی۔
Leave your comment