خانقاہ عارفیہ، سید سراواں میں شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے تحت ۱۷ویں سالانہ میلاد کانفرنس میں مقررین کا اظہار خیال
پریس ریلیز – ۱۴/ ستمبر ۲۰۲۵۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ، خواہ قبل اعلان نبوت ہو یا بعد اعلان نبوت، انسانیت کے لیے مکمل رہ نما ہے۔ آپ کی تعلیمات صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں، نہ آپ صرف مسلمانوں کے نبی ہیں، بلکہ جس طرح اللہ جو تمام کائنات کا خالق و مالک ہے اور اس کی ربوبیت سارے عالم کے لیے ہے، اسی طرح آپ کی نبوت و رسالت اور تعلیمات ساری انسانیت کے لیے عام ہے۔ اِن خیالات کا اظہار خصوصی مقرر خطیب الہند مولانا عبید اللہ خان اعظمی، سابق ممبر آف پارلیمنٹ نے خانقاہ عارفیہ/ جامعہ عارفیہ، سید سراواں کے وسیع و عریض صحن میں منعقد سترہویں میلاد کانفرنس میں کیا۔ یہ کانفرنس شیخ طریقت شاہ ابوسعید احسان اللہ محمدی صفوی کی سرپرستی میں شاہ صفی میموریل ٹرسٹ کے تحت منعقد ہوئی تھی۔
مولانا اعظمی نے یہ بھی کہا کہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات نے اندھیروں میں روشنی کا کام کیا۔ جو سماج مختلف طبقات میں بٹا ہوا تھا اور مختلف ظلم اور ناانصافیوں میں گھرا ہوا تھا حضرت محمد ﷺ نے ایسے دور میں مساوات، انسانیت اور عدل و انصاف کی فضا ہموار کی۔ آپ نے انسانی سماج کے مختلف طبقات کے حقوق کی نہ صرف آواز بلند کی، بلکہ انھیں حقوق دلا کر ان کا قد بلند کیا۔ جس سماج میں بیواؤں کے لیے عزت کا کوئی مقام نہیں تھا، ایسے سماج میں آپ نے پچیس برس کی جوانی میں ایک بیوہ خاتون (جن کے دو شوہر وفات پا چکے تھے) سے نکاح کر کے بیواؤں کو سماجی وقار عطا کیا۔ جہاں بچیوں سے جینے کا حق چھینا جاتا تھا، انھیں زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، ایسے معاشرے میں بیٹیوں کی اچھی پرورش کے ساتھ بہتر طریقے پر ان کی شادیاں کر دینے پر جنت کی بشارت دے کر بچیوں کو زندگی کا حق عطا کیا۔ حضرت محمد ﷺ نے نہ صرف مسلمانوں کی بھلائی کی بات کی بلکہ ساری انسانیت کی بھلائی کا عملی پیغام بھی دیا۔
ڈاکٹر جناب کوثر عثمان صاحب (پروفیسر، شعبۂ انٹرنل میڈیسن، کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی، لکھنو) نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد ﷺ پوری انسانیت کے لیے اللہ کی رحمت بن کر تشریف لائے۔ ان کی زندگی انسانیت، امن و شانتی اور سماجی انصاف کا نمونہ ہے۔ ان کی تعلیمات میں امید کی روشنی ہے، یہاں مایوسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انھوں نے مزید یہ کہا کہ جو لوگ اللہ کا قرب اور رضا چاہتے ہیں وہ انسانیت کی خدمت کریں کیوں کہ خدا ٹوٹے ہوئے دلوں میں ملتا ہے۔ بیواؤں، یتیموں، ضرورت مندوں، مجبوروں اور مظلوموں کی داد رسی خدا سے قربت کا بہترین ذریعہ ہے کیوں کہ یہ سب خدمات بھی بالواسطہ عبادت ہی ہیں۔

ڈاکٹر طارق صدیقی علیگ نے دوران گفتگو نبی کریم ﷺ کے پیغامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے سب سے زیادہ زور تعلیم اور انسانیت پر دیا ہے۔ آپ کے یہاں ذات پات، مذہب اور علاقائیت بے معنی تھی۔ آپ نے ہمیشہ عدل و انصاف، بھائی چارہ اور رواداری کا درس دیا ہے۔ مصیبتوں، پریشانیوں اور تکلیفوں پر صبر اور جان و مال کے دشمنوں کو معاف کرنے کا عملی نمونہ ہمیں آپ ﷺ کی حیات سے ملتا ہے۔ آپ نے ظالموں کو، جانی دشمنوں کو اس وقت جب اللہ نے آپ کو مکمل بااختیار بنا دیا تھا اور دشمن اِس لائق تھے کہ ان کے ساتھ تمام تر سختیوں سے نپٹا جائے، آپ نے ایک ہی اعلان کے ساتھ عام معافی دے کر یہ نظام قائم کیا کہ انسانوں کو اپنی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع ضرور دینا چاہیے۔
اِس عظیم الشان میلاد کانفرنس کی نظامت کے فرائض معروف صحافی محمد احمد، وطن سماچار نے انجام دیے۔ اس پروگرام کی ابتدا قاری سرفراز سعیدی استاد جامعہ عارفیہ کی تلاوت قرآن سے ہوئی جس کے بعد حافظ ذکا سعیدی اور ان کے ہم نوا گروپ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ ’’امن و شانتی کا پیغام انسانیت کے نام‘‘ کے عنوان سے اس پروگرام میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جن میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو، سکھ اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود رہے۔ اس میں مختلف مذاہب کے افراد کو امن و محبت کا پیغام دیا گیا اور مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا۔ اس کانفرنس نے اسلام کی حقیقی روح اور اس کے عالمی پیغام کو اجاگر کیا اور سامعین کو اپنی زندگیوں میں اسلامی اصولوں کو اپنانے کی ترغیب دی گئی۔ اس کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ اسلام نہ صرف ایک مذہب، بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو دنیا میں امن و محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔
اِس پروگرام میں جامعہ عارفیہ کے اساتذہ و طلبہ کے علاوہ دور دراز سے کافی لوگوں نے شرکت کی۔ خصوصیت کے ساتھ ڈاکٹر سعید احمد، مولانا عارف اقبال مصباحی، سید محبوب میاں بقائی، سید حیات احمد ابو العلائی، شمبھو لال کیسروانی، راماکانت سنگھ پٹیل، ایڈوکیٹ ششی بھوشن تریپاٹھی اور ایڈوکیٹ مُنّا دوبے الٰہ آباد ہائی کورٹ بھی شریک رہے۔
یہ پروگرام صلاۃ و سلام اور صاحب زادہ حسین سعید صفوی کی دعاؤں پر اختتام پذیر ہوا، ساتھ ہی حاضرین میں شیرینی بھی تقسیم کی گئی۔
Leave your comment