Donate Now
خانقاہ عارفیہ سید سراواں میں 126 ؍ویں عرس عارفی کا انعقاد

خانقاہ عارفیہ سید سراواں میں 126 ؍ویں عرس عارفی کا انعقاد

غیراللہ سے مکمل طور پر منہ موڑ کر اپنے سارے وجود سے اللہ کی طرف متوجہ ہو جانے کا نام صراط مستقیم ہے: مفتی کتاب الدین رضوی

’’ علم اگر بے عمل ہو جائے تو محض زینتِ زبان رہ جاتا ہے، اور عمل اگر بے علم ہو تو اندھی تقلید کی راہ پر چلتا ہے۔ راہِ ہدایت انہی کے لیے ہے جن کے قدم علم و عمل دونوں سے روشن ہوں۔اور صوفیہ کی زبان میں کسی میں جذب محض ہو سلوک نہ ہو، یا سلوک محض ہو جذب نہ ہو تو یہ بھی ناقص ہے، جب کہ صراط مستقیم یہ ہے کہ جذب کے ساتھ سلوک ہو یا سلوک کے ساتھ جذب۔‘‘

 یہ باتیں ۱۲۶؍ویں  عرس عارفی سے نقیب الصوفیہ مفتی کتاب الدین رضوی نے کہی۔ انھوں نے مزید فرمایا کہ صراط مستقیم پر چلنے والوں کے تین درجے ہیں: اول- مبتدی، دوم- متوسط اور سوم- منتہی۔ مبتدی کا کام توکل علی اللہ ہے۔ جب تک اللہ پر کامل توکل نہیں ہوگا اس تک پہنچنے کی راہ ہی نہیں کھلےگی۔  متوسط کا کام ہرحال میں اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا اور شکر گزار بن کر رہنا ہے۔ جب کہ منتہی کا کام پتھر مارنے والوں کو بھی دعا دینا اوران کی ضرورتوں میں کام آنا ہے۔ اس سے پہلے یکے بعد دیگرے جناب افضل الہ آبادی، طالب حسن سہسرامی اور جناب یاسر سیہوری نے منظلوم کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

عرس عارفی کے اس پروگرام کا آغاز خطیب الصوفیہ علامہ عارف اقبال مصباحی کی تلاوت اور خطاب سے ہوا،  جس میں انھوں نے فرمایا کہ ’’اللہ کی بارگاہ میں اسی شخص کو نجات ملےگی جس کا قلب غل، حسد، جلن، بغض، کینہ اور نفرت جیسی قلبی بیماریوں سے پاک ہوگا۔ پاک دل لوگوں کی دو پہچان ہے: ایک یہ کہ وہ اپنے سے پہلے گزر جانے والوں کے لیے مغفرت اور بخشش کی دعا کریں گے۔ دوسری یہ کہ وہ یہ دعا کریں گے کہ مومنین کے تعلق سے ان کے آئینۂ قلب کو ہر قسم کی باطنی  بیماریوں سے پاک کر دیا جائے۔ جب کہ آج ہمارا حال یہ ہو گیا ہے کہ ہم تنہا جنت میں جانا چاہتے ہیں۔ اپنے علاوہ کسی اور کا جنت میں چلا جانا ہمیں گوارا نہیں ہوتا۔ اسی طرح دوسروں سے متعلق اپنے قلب کو صاف رکھنے کی دعا کی بجائے دن رات سوئے ظن میں مبتلا رہتے ہیں  اور نہ صرف تنہا ہم مبتلا رہتے ہیں، بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ سارا جہان اگلے سے بد ظن  ہو جائے، سوئے ظنی کا شکار ہو جائے۔ حالاں کہ اللہ نے سوئے ظن سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔‘‘

اخیر میں خانقاہ عارفیہ کے احاطہ میں قائم جامعہ عارفیہ سے فارغ التحصیل ہو رہے 40/ طلبا کو دستار و سند سے نوازا گیا، جن میں حفظ، قرات، عالمیت، فضیلت اور افتا کے فارغین شامل ہیں۔ یہ پروگرام عشا کے بعد شروع ہو کر تقریبا  ساڑھے گیارہ بجے  رات میں صلاۃ و سلام اور داعی اسلام شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دام ظلہ کی دعا پر اختتام پزیر  ہوا۔ اس میں علاقائی عوام و خواص  کے علاوہ دور دراز سے بڑی تعداد میں علما و مشائخ اور مختلف خانقاہوں کے سجادگان و متولیان نے  شرکت کی۔

تقریباً رات کے بارہ بجے محفل سماع منعقد ہوئی جو نماز فجر تک جاری رہی اورقل شریف پر اِس محفل کا اختتام ہوا۔ با جماعت تمام حاضرین نے نمازِ فجر ادا کی  اورپھر لنگر عام کی برکت حاصل کرنے کے بعد زائرینِ عرس اپنے اپنے گھروں کو واپس ہوئے۔

Ad Image