Ghulam Mustafa Azhari
Author Profile

مولانا غلام مصطفیٰ ازہری

Ghulam Mustafa Azhari

مولانا غلام مصطفیٰ ازہری ۱۳؍ستمبر ۱۹۸۱ء کو چھپرہ، بہار میں پیدا ہوئے۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور اور جامعۃ الازہر قاہرہ سے تعلیم حاصل کی اور علمِ حدیث میں تخصص کیا۔ تخریج و تحقیق کے ممتاز محقق اور متعدد علمی مقالات کے مصنف ہیں۔ فی الوقت جامعہ عارفیہ کے اہم استاذ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
0 Articles
1 Video Articles
0 Books

Author Profile

مولانا غلام مصطفیٰ ازہری
(ولادت: ۱۳؍ستمبر ۱۹۸۱ء، چھپرہ، بہار)
علمِ حدیث کے محقق، جامعہ عارفیہ کے استاذ

ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری کی پیدائش ۱۳؍ستمبر ۱۹۸۱ء کو ان کے آبائی وطن چھپرہ، بہار میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد جامعہ اشرفیہ، مبارک پور میں جماعتِ سابعہ تک تعلیم حاصل کی، پھر جامعۃ الازہر، قاہرہ تشریف لے گئے، جہاں کلیۃ اصول الدین، قسم الحدیث کے تحت چار سال علمِ حدیث میں تخصص کیا۔

علمی و عملی خدمات
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری فقہ و فتاویٰ کے ساتھ علمِ حدیث اور علومِ حدیث میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی علمی خدمات میں تحقیق و تخریج نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ علامہ فضل رسول بدایونی کی المعتقد المنتقد، امام احمد رضا فاضل بریلوی کی المعتمد المستند، شیخ قطب الدین دمشقی کی الرسالۃ المکیۃ اور شیخ سعد الدین خیرآبادی کی مجمع السلوک کی تخریج و تحقیق ان کے اہم علمی کارناموں میں شامل ہیں۔ فی الوقت جامعہ عارفیہ کے اہم اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔

اعزازات و نمایاں کامیابیاں
مولانا کی تحقیقی و علمی کاوشوں کا دائرہ وسیع ہے۔ ان کے متعدد تحقیقی مقالات و مضامین مختلف علمی موضوعات پر شائع ہوئے ہیں، جن میں عالمِ اسلام پر یہودیوں کا کستا ہوا شکنجہ، نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ: ایک تحقیقی مطالعہ، کیا حضور اکرم ﷺ کا سایہ تھا؟، احادیثِ موضوعہ: ایک تفصیلی تجزیاتی مطالعہ اور قبولِ حدیث میں صوفیہ کا منہج خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

شخصیت اور علمی مقام
مولانا غلام مصطفیٰ ازہری ان علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو فقہ و فتاویٰ کے ساتھ علمِ حدیث پر بھی مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔ ان کی علمی زندگی تحقیق، تخریج اور علومِ حدیث سے گہری وابستگی کی آئینہ دار ہے۔ جامعہ عارفیہ میں تدریسی خدمات کے ساتھ ان کا تحقیقی کام علمی حلقوں میں ان کی نمایاں شناخت بنا چکا ہے۔

Books (0)