Donate Now
عارفِ ربانی حضرت شاہ احمد صفی عرف شاہ ریاض احمد (قدس سرہ)

عارفِ ربانی حضرت شاہ احمد صفی عرف شاہ ریاض احمد (قدس سرہ)

Birth
Gregorian: 1896
Born in Syed Sarawan, 1896 or 1897, according to Darvesh Najaf Alimi
Wisal
Gregorian: 6 December 1979 Hijri: 15 Muharram ul Haram 1400 AH

شاہ خادم محمد عرف احمد صفی محمدی المعروف شاہ ریاض احمد صفوی قدس سرہٗ (۱۸۹۶ء/ ۱۸۹۷ء - ۱۹۷۹ء)

 حضرت سلطان العارفین قدس سرہٗ نے جس آب وتاب اور شوق و ولولے کے ساتھ اصلاح وتربیت دعوت وارشاد کا کام اپنے مرشد کی اجازت سے شروع کیا تھا، وہ قطعاً ماند نہیں پڑا، آپ کے دونوں صاحب زادگان یعنی خلف اکبر مخدوم شاہ صفی اللہ قدس سرہٗ اور خلف اصغر مخدوم شاہ احمد صفی قدس سرہٗ نے اس دعوتی مشن کی روشنی دور تک پھیلائی۔ سلطان العارفین اور آپ کے جانشین کے خلفا کے ذریعے جس وسیع پیمانے پر دعوت وتبلیغ کا کام ہو رہا ہے، اگراس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو پوری تفصیلی تاریخ تیار ہوسکتی ہے کیوں کہ خانقاہ عارفیہ کی دعوتی اور اصلاحی تاریخ ایک سو چالیس سال سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے، ملک کے کونے کونے میں اس سلسلے کے خلفا اور مریدین نے بڑے پیمانے پر اصلاح قلوب اور تزکیہ باطن اور اخلاق نبوی کے چراغ سے چراغ جلانے کا جو فریضہ انجام دیا ہے، وہ یقیناً آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔

 سلسلۂ عارفیہ کے سجادگان اور اُن کے خلفا کی دعوتی، اصلاحی اور تبلیغی خدمات کا دائرہ بھی نہایت وسیع ہے۔ یہ وہ عظیم تاریخی روایت ہے جو صوفیہ کی خانقاہوں سے ہمیشہ جاری رہی، مسلم حکومت کے زوال اور سقوط کے باوجود آج تک اس کے نقوش جریدۂ ہند پرثبت ہیں۔ جس سے مسلمانوں کے دین وایمان کی حفاظت و صیانت کاایک خاص تعلق ہے۔ حضرت مخدوم شاہ احمد صفی اُسی روایت کی ایک اہم کڑی ہیں۔ آپ نے اصلاح وتربیت اور تبلیغ اسلام ، نبوی تعلیمات اور اخلاق نبوی کی اشاعت میں اسلاف کی یاد تازہ کردی۔

ولادت ونسب نامہ: حضرت احمد صفی کی پیدائش سید سراواں میں بقول درویش نجف علیمی: ۱۸۹۶ء یا ۱۸۹۷ء میں ہوئی۔ آپ سلطان العارفین قدس سرہٗ کے چھوٹے فرزند تھے۔

تحصیل علم: جس عہد میں آپ کی ولادت ہوئی تھی اس وقت حضرت سلطان العارفین کی ولایت کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور اپنی ضیاپاشیوں سے ایک جہاں کو منور کر رہا تھا، اُن ہی میں آپ کے خلیفہ عالم ربانی حضرت مولانا نعمت اللہ شاہ قدس سرہٗ کی ذات بھی تھی، پانچ سال کی عمر میں تعلیم وتربیت کے لیے حضرت نعمت اللہ شاہ آپ کے اتالیق مقرر ہوئے اور تعلیمی سلسلہ چل پڑا، فیضان نظر اور مکتب کی کرامت نے مل کر فرزندی کے وہ آداب سکھائے جن سے آپ کی ذات دو آتشہ ہوگئی۔ والد محترم کی وفات کے بعد سید سراواں ہی میں دوبارہ تعلیم کا آغاز فرمایا، کچھ دنوں کے بعد آپ کے برادر ِطریقت حضرت نعیم اللہ شاہ قدس سرہٗ آپ کو بغرض تحصیل علم لکھنؤ لے گئے، اس طرح آپ نے لکھنؤ میں مختلف اساتذہ سے علم ظاہر کی تکمیل فرمائی۔

اساتذہ: چند اہم اساتذہ کے اسما درج ذیل ہیں:

۱۔ آپ کے اوّلین استاذ و مربی آپ کے والد ماجد اور پیر و مرشد حضرت سلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی قدس سرہ ہیں، جن کے سایۂ عاطفت سےآپ محض ۷ ؍سال کی عمر میں محروم ہو گئے تھے لیکن اُن کی ذات مبارک سے تا حیات قوی نسبت قائم رہی۔
۲۔ حضرت مخدوم شاہ شمشاد صفی عرف غلام صفی قدس سرہٗ (خلفِ اصغر قطب عالم حضرت قل ھوا للہ شاہ قدس سرہٗ)
۳۔ حضرت صفی اللہ شاہ قدس سرہٗ (پیر خلافت و برادر اکبر)
۴۔ حضرت مولانا الحاج نعمت اللہ شاہ قدس سرہٗ

 بیعت وخلافت اور تربیت: سلطان العارفین قدس سرہٗ ۱۹۰۳ء میں واصل بحق ہوئے، غالباً اُسی سال کے شروع میں اپنے فرزند اصغر کی خواہش اور طلب پر آپ نے اُن کو سات سال کی عمر میں سلسلے میں داخل فرمایا۔ بقول حضرت درویش نجف علیمی مرحوم: ’’کھیل کود سے دور رہتے اور زیادہ تر حضرت سلطان العارفین کے حضور حاضر رہا کرتے تھے اور آپ ہی کے قریب سو جایا بھی کرتے تھے۔‘‘ (تذکرۃ الاصفیاء، ۳؍۳۳۲)

اس صحبت وبیعت کے کیا کیا فیضان ہوئے ہوں گے اس کا ہم اندازہ نہیں لگاسکتے۔ ہاں! اتنی بات آپ کی زندگی سے واضح ہوتی ہے کہ دعوتی اور اصلاحی مشن پر آپ اپنے پیروں کے طریقوں پر سختی سے گامزن رہے۔ حضرت صفی اللہ شاہ قدس سرہٗ نے ۱۹۵۰ء میں پاکستان ہجرت کرنے سے پہلے آپ کو سلاسل عالیہ میں خلافت واجازت سے سرفراز فرمایا اور اپنا جانشین بنایا، خانقاہ کے جملہ اُمور ومعاملات آپ کے سپرد کر دیا۔ پاکستان سے واپسی کے بعد بھی آپ نے انتظامی اُمور اپنے ذمہ نہیں لیے۔

رشتۂ ازدواج: آپ کا عقد آپ کی ماموں زادبہن صاحبہ سے ہوا، لیکن تھوڑے ہی زمانے کے بعد قضائے الٰہی سے وہ فوت ہوگئیں۔ اُن کے انتقال کے بعد آپ نے دوسرا عقد نہیں فرمایا، اور پوری زندگی تجرد میں گزار دی۔

 دعوتی خدمات اور طریقہ دعوت و اصلاح: آپ کی دعوتی اور اصلاحی توجہ کا پہلا مرکز صوبہ مدھیہ پردیش میں ضلع ریوا، ایم پی بنا جہاں مندرجہ ذیل جگہوں پرآپ گئےاور دعوتی خدمات انجام دیں، مثلاً مئو گنج، نئی گڈھی، بھر گواں، کھجراہن، لال گنج وغیرہ جیسی دور اُفتادہ جگہیں شامل تھیں۔ یہ جگہیں ہندو مسلم تہذیبوں اور رسوم وروایا ت کی جامع تھیں۔ ہندو، مسلمان دونوں ایک دوسرے سے مل جل کے رہنے کے عادی ہیں، مگراُن جگہوں پر ہر مذہب کی تہذیب ایک دوسرے میں ضم ہو گئی تھی۔ پچاس-ساٹھ کی دہائی تک بکثرت مسلمان، ناگ پنچمی کے وقت سانپ کو دودھ پلاتے، تھان وغیرہ میں چڑھاوا چڑھاتے، گھروں میں مورتیاں رکھتے اور اُن کی پو جا کرتے تھے اور نام عام مسلمانوں جیسا ہی ہو تا تھا مگر کام درحقیقت ہندوؤں جیسا۔ اس کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں میں پوجا، پاٹ تک کی روایت در آئی تھی، آزادی کے بعد جب حضرت احمد صفی قدس سرہٗ نے اُن علاقوں کارُخ کیا تو صورت حال یہی تھی۔۱۹۴۷ ء کے بعد حضرت شیخ احمد صفی قدس سرہٗ نے اُن علاقوں کی طرف خصوصی توجہ فر مائی اور لوگوں کو توہمات کی دنیا سے نکال کر اِسلام سے قریب کیا۔ یہاں کے لوگ چوں کہ توہمات کے پرستارتھے اِس لیے دھیرے دھیرے آپ سے دعا، تعویذ کے راستے سے قریب ہو ئے، جب اُنھیں یہ یقین ہو گیا کہ وہ جنھیں پوجا کرتے ہیں اُنھیں فائدہ دینے سے قاصر ہیں اوریہ فقیر ہمارے دکھ درد سنتے ہیں، دعا کرتے ہیں اور اللہ کی باتیں بھی بتاتے ہیں، لہٰذا اِس خوبی کی وجہ سے وہ پورے طور پر آپ کی طرف متوجہ ہوگئے اور اللہ و رسول کے احکام کی پیروی کرنےلگے۔

۱۹۵۵ء میں حضرت مخدوم شاہ صفی اللہ قدس سرہٗ کا وصال ہوگیا۔ وصال کے وقت آپ بھوپال میں دعوتی مشن پر گامزن تھے۔ سانحۂ ارتحال کی خبر سنتے ہی خانقاہ تشریف لائے اور اپنے مرشد کا مزار تعمیر کرنے کے بعد پھر دوبارہ ریوا ، مدھیہ پردیش تشریف لے گئے۔ وہاں کی مسجد پختہ کرائی، اور مستقل قیام کا ارادہ فرما لیا، مگر حضرت علیم اللہ شاہ کے صاحبزادے اور خلیفہ حضرت شاہ مزمل صفی قدس سرہٗ کے مخلصانہ اصرار پر آپ نیم سرائے (الٰہ آباد) آگئے اور دعوتی زندگی کے بیشتر ایام یہیں بسر کیے، اس علمی خانوادے کے لوگوں نے جس عقیدت ومحبت، خلوص وللہیت اور غلامانہ طرز پر آپ کی خدمت کی ہے وہ بڑے دل گردے کی بات ہے، ایسی بے لوث خدمت اور بےغرض غلامی اسی وقت پائی جاسکتی ہے کہ جس کے دل میں مشائخ کے واسطے سے اللہ ورسول کی محبت دل کے نہاں خانوں میں جاںگزیں ہوگئی ہو، اور جوسراپا اخلاص کا پیکر بن چکے ہوں، یہ روایت کافی پہلے سے چلی آرہی تھی اور آج بھی باقی ہے۔

خلفا: دعوت و تبلیغ اور ارشاد و اصلاح کے لیے آپ نے متعدد حضرات کو خلافت سے سرفراز فرمایا، چند خلفا کے اسما درج ذیل ہیں:

 ۱۔ حضرت شاہ نہال عارف عرف حکیم آفاق احمد قدس سرہٗ(م۲۰۰۱ء) حقیقی برادر زادہ، خانقاہ عالیہ عارفیہ سید سراواں
۲۔ داعی اسلام حضرت شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی، سجادہ نشین خانقاہ عالیہ عارفیہ، سید سراواں
۳۔ شاہ محمود صفی عرف محمد حنیف رحمہ اللہ(اَسراوے خرد)
۴۔ شاہ انعام اللہ عرف رحیم اللہ خاں رحمہ اللہ (جمشیدپور، جھارکھنڈ)
۵ ۔ حضرت شاہ فیاض اللہ عرف فیاض احمد رحمہ اللہ ساکن بھیتی، مدفون خانقاہ عالیہ
 ۶۔ حضرت شاہ نوراللہ رحمہ اللہ(گریاواں، پرتاب گڑھ)
۷۔ حضرت شاہ انوار اللہ رحمہ اللہ(اَسراوےخرد، الٰہ آباد)
۸۔ حضرت شاہ عین اللہ شاہ عرف عبدالواحد، نئی گڈھی، ریوا، ایم پی

اخلاق و اوصاف: حضرت شاہ احمد صفی قدس سرہٗ کے خلیفہ وجانشین داعی اسلام شیخ ابوسعید شاہ احسان اللہ صفوی دام ظلہ سے ۲؍دسمبر ۲۰۱۱ء کوجب احقر نے آپ کے پیرومرشد کے اخلاق واحوال سے متعلق دریافت کیا،تواُنھوں نے ارشاد فرمایا: ’’اُن کے اخلاق انتہائی بلند، اُن کی بارگاہ میں پہنچنے والے ہر طرح کی بُرائیوں سے باز آجاتے تھے، ایک مخصوص خوبی یہ تھی کہ وہ مریدین پر بوجھ نہیں بنتے تھے بلکہ وہ خود اُن کی پرورش کرتے ۔‘‘

خالص ایمانی شخصیت: ۱۲؍ سمبر۲۰۱۳کی ایک محفل میں حضرت داعی اسلام نے اپنے مرشدکا طویل ذکر فرمایا: (عموماً آپ اپنے پیر و مرشد کا ذکر نہیں کرتے) میرے پیرومرشد کو شاہ عزیزاللہ صفی پوری کی یہ غزل بہت پسند تھی: ؎

اے جمالِ پاکِ تو ایمانِ من
جلوۂ حسنِ تو نورِ جانِ من

وہ بہت بھولے لوگ تھے، ایمان اُن کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ بظاہر بہت زیادہ پڑھے لکھے لوگ نہیں تھے مگر جھوٹ، دغا، فریب اور بے ایمانی اُن کے اندر موجود نہیں تھی، یہ خالص پریکٹیکل لوگ تھے ،آج علم ،دولت اور ساری چیزیں تو بڑھی ہوئی ہیں مگر ایمان اور یقین کمزور ہوگیا ہے۔ بقول جگر مراد آبادی:؎

گھٹ گئے انساں، بڑھ گئے سائے

 ایک بار داعی اسلام نے یہ بھی فرمایا کہ چشتی مشائخ پر جذبی نسبت کا غلبہ رہا ہے، آپ کو بھی یہ نسبت حاصل تھی، اگر اُس نسبت سے کسی کو دیکھ لیتے تھے تو وہ آپ ہی کا بیمار اور شیدائی ہوجاتا ۔ ع

جس نے دیکھا تری آنکھوں کو وہ بیمار ہوا

آپ اکثر یہ مصرعہ گنگنایا کرتے تھے:؎

یار بچے رہیو ان نینن سے
چشت نین یہ بڑے بکھیل ہیں
جا کو تاکیں وا کو ڈاریں مار

شریعت پر استقامت: آپ کے اخلاق واحوال اور خلوت وجلوت کو دیکھنے والوں کی آج بھی ایک بڑی تعداد ہے ان کا بیان ہے کہ آپ پر جمال غالب رہتا تھا، انتہائی نرم خو، مخلوق کی اصلاح وتربیت کے لیے حریص تھے، آپ فرائض وواجبات کے سختی سے پابند تھے، سخت تکلیف کے دنوں میں بھی نماز باجماعت مقررہ وقت پر ادا فرماتے تھے، آخر عمر میں محبت الٰہی کا غلبہ ہونے کی وجہ سے استغراقی کیفیت طاری رہتی تھی، مگر اس حالت میں نماز قضا ہونا تو درکنار بلکہ ایک نماز کو کئی کئی مرتبہ ادافرماتے تھے۔ داعی اسلام نے ۱۲ دسمبر ۲۰۱۳ کی ایک مجلس میں بیان فرمایا کہ جب میں بیعت ہوا تو اس وقت آپ پر اکثر جذب و استغراق کا غلبہ رہتا تھا، استغراقی کیفیت اس قدر غالب رہتی تھی کہ کسی چیز کا ہوش نہیں کون آیا، کون گیا، مگر آپ پر کیسا ہی استغراق کا عالم رہے جہاں موذن نے اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ کہا ، آپ فوراً انگوٹھوں کو آنکھوں سے مس کرتے۔ زیادہ تر خاموش رہا کرتے تھے، کافی عمر ہوگئی تھی پھر بھی تہجد نہیں چھوڑتے تھے، عبادت کے ایسے حریص تھے کہ آخر زمانے میں عشا کی نماز کئی بار پڑھ لیتے تھے، درویش بھائی اگر یاد دلاتے کہ آپ نے عشا ادا کرلی ہے، تو علاقائی زبان میں جواب دیتے:

’’کو جانے، پڑھا رہا کہ نہیں !‘‘

ایک بات بھی مری مانا کہ ہوش کی نہیں
تجھ کو جو بھول جاؤں میں ایسی بھی بے خودی نہیں

پانچ اہم خدمات: آزادی کے بعد کا دور کوئی اچھا دور نہیں تھا، لوگ انگریزوں سے آزاد تو ہوگئے تھے مگر یہاں کی عوام جن طبقاتی کشمکش اور ذات پات میں بٹی ہوئی تھی وہ اب بھی تھی۔ دوسری طرف وہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم تھے۔ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں غربت عام تھی، زمین دارا نہ مزاج تھا، امرا غریبوں کا استحصال کر رہے تھے، لوگ روٹی، کپڑا اور مکان تو جانے دیں بہت سے علاقوں میں صاف پانی کے لیے ترس رہے تھے۔ ایم پی، بہار، بنگال اور یوپی کے بہت سے علاقے اس کی زندہ مثالیں ہیں، ایسے عالم میں ان جیسے مرد آہن نے جرأت و بلندہمتی کے ساتھ اپنا سب کچھ لٹاکر خالصۃً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا نمونہ بن کر دین کو پھیلایا اور عملی کردار و اخلاق کے ذریعے اسلام کی شمع روشن فرمائی۔ آج ان علاقوں کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہورہی ہیں کہ کتنی جانفشانی اور صبر آزما مرحلوں سے گذر کر اُنھوں نے دلوں کی زمین کو ہموار کیا، اسلام و ایمان کا بیج ڈالا، اس کی سینچائی کی،اُن کے لگائے ہوئے پودے آج تناور اور سایہ دار درخت بن گئے ہیں۔ وہاں عوام خالص دین دار، اطاعت شعار، وفادار اورپیروں کی قدردان ہیں۔ آپ نے اس دور میں جن پانچ اہم خدمات کے ذریعے مخلوق کو خالق سے ملایا وہ یہ ہیں:

  • خلق خدا کی خدمت
  • ساری مخلوق سے محبت و اُلفت
  • غربا کی کفالت اور اُن کی بچیوں کی شادی
  • کنواں کی تعمیراور پانی کا انتظام
  • مساجد کی تعمیر

اپنے اِن پانچ اَوصاف حسنہ سے آپ نے دلوں کی دنیا فتح کی۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو حسی کرامتوں پربھی بھاری ہیں، اس میں صبر وآزمائش اور تسلیم ورضا کے ایسے مرحلے ہیں کہ اچھے اچھوں کا پتا پانی ہو جاتاہے مگر صوفیہ خالص رضائے الٰہی اور اطاعت نبوی کے جذبے سے سرشار ہوکر تمام مراحل کو بہ آسانی طے کر لیتے ہیں۔ ان کی دعوتی حرص کامیاب ہوتی ہے، اللہ اُنھیں فتح و ظفر اور نصرت و حمایت سے نوازتا ہے،اور دوسروں کے لیے اُنھیں ’’سراپا نشان راہ، اور مشعل ہدایت‘‘ بنا دیتا ہے۔ حضرت شیخ احمد صفی انتہائی پُرکشش شخصیت کے مالک تھے، اہل محبت اور دیوانوں کا ہجوم رہتا تھا، طلبِ مولیٰ رکھنے والوں کو مطلوب ملتا اور اہلِ دنیا کو دنیا بھی دیتے اور دین بھی۔ آپ کی صحبت با برکت سے محبت الٰہی، لقائے مولیٰ اور دیدار حق کی آرزوئیں جنم لیتیں، عبادت، مجاہدہ اور دینی کاموں سے دلوںمیں رغبت پیدا ہوجاتی۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو مادی وسائل سے نہیں بلکہ اہل اللہ اور علمائے ربانیین کی صحبت وتربیت سے حاصل ہوتی ہیں ۔

 

سفر آخرت: ۱۵؍محرم الحرام ۱۴۰۰ھ مطابق ۶؍دسمبر ۱۹۷۹ء بروز شنبہ بادۂ توحید کے اس میخوارنے لقائے حبیب کا جام پیا اوراِس جہان رنگ وبو کو خیر باد کہا۔

 آپ کےجنازے کی نماز حضرت داعی اسلام مدظلہ کے حسب فرمائش خانقاہ شریف کے احاطے میں سید سراواں کی ایک محترم شخصیت حضرت حکیم محی الدین جمیلی صابری مرحوم (مرید وخلیفہ حضرت مولانا احمد میاں فاروقی رحمہ اللہ، بہادر گنج، الٰہ آباد) نے پڑھائی، اور خانقاہ شریف ہی میں اپنے برادرِ معظم اور پیرتربیت وخلافت کے پہلو میں مدفون ہوئے۔

Ad Image