پریاگ راج میں ’’تاجدارِ کربلا کانفرنس‘‘ کا انعقاد؛ علامہ ڈاکٹر سید شمیم الدین احمد منعمی کا خصوصی خطاب
پریاگ راج، ۱۹ جولائی ۲۰۲۶ء: انجمن خدام محبانِ اہلِ بیت کے زیرِ اہتمام نیم سرائے، منڈیرا، پریاگ راج میں واقع حسینی مسجد کے صحن میں بعد نمازِ عشاء سالانہ ’’تاجدارِ کربلا کانفرنس‘‘ نہایت عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں قرآن مجید کی آیتِ مودّت کی روشنی میں اہلِ بیتِ اطہار سے محبت، اجرِ رسالت، عظمتِ نبوت اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی بے مثال قربانی کے مختلف فکری و عملی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
علامہ ڈاکٹر سید شمیم الدین احمد منعمی نے سورۃ الشوریٰ کی آیتِ مبارکہ ’’قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى‘‘ کی تفصیلی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے تبلیغِ دین، اصلاحِ انسانیت اور امت کی نجات کے لیے جو بے مثال جدوجہد فرمائی، اس کا حقیقی اجر اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، تاہم امت کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے قرابت داروں اور اہلِ بیت سے مودّت کا اظہار کریں۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے اجر کا ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے پاس بیان ہوا ہے، لیکن خاتم الانبیاء ﷺ کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی نبوت کے اجر کے ضمن میں اہلِ بیت سے مودّت کا حکم دیا گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہلِ بیت سے محبت کوئی اختیاری یا ثانوی عمل نہیں بلکہ دین، ایمان اور تعلقِ رسالت کا بنیادی تقاضا ہے۔

علامہ منعمی نے آیتِ مودّت کے شانِ نزول اور مکی اور مدنی تفسیری روایات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مدنی تناظر میں قربیٰ سے مراد حضرت علی، سیدہ فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قرآن مجید کو صحیح طور پر سمجھنے کا سب سے معتبر ذریعہ حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات، تشریحات اور عملی سیرت ہے۔ گفتگو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے حدیثِ کساء کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، سیدہ فاطمہ، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام کو اپنی چادرِ مبارک میں جمع کر کے انہیں اپنے اہلِ بیت کے طور پر متعارف فرمایا۔ اسی طرح واقعۂ مباہلہ میں بھی حضور اکرم ﷺ انہی مقدس ہستیوں کو اپنے اہل، اولاد اور نفس کے طور پر ساتھ لے کر تشریف لائے۔ ان واضح نبوی اعمال کے بعد اہلِ بیت کی شناخت اور ان کے مقام و مرتبے کے بارے میں کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہتا۔
انہوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں بتایا کہ اہلِ بیت کا ذکر اور ان سے وابستگی ہر دور میں آسان نہیں رہی۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اہلِ بیت کا نام لینے اور ان کی فضیلت بیان کرنے والوں کو مخالفت، آزمائش اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات ’’لطائفِ اشرفی‘‘ کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیت کی فضیلت بیان کرنے کے لیے بھی اہلِ حق کو مشکلات برداشت کرنا پڑیں، لیکن قربانی کے ساتھ کیا جانے والا ذکر زیادہ اجر اور برکت کا سبب بنتا ہے۔

کانفرنس کا آغاز حسینی مسجد کے امام حافظ و قاری محمد رضوان سعیدی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں حافظ محمد ذکیٰ سعیدی، جناب سفیان پھول پوری اور جناب افضل الٰہ آبادی نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ، اہلِ بیتِ اطہار اور شہدائے کربلا کی شان میں نعتیہ و منقبتی کلام پیش کرکے حاضرین کے دلوں کو منور کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا رکن الدین سعیدی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
خطیب و امام حسن منزل، الٰہ آباد، مولانا سید احمد حسین نے اپنے خطاب میں محبت اور مودّت کے درمیان معنوی فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ محبت ایک قلبی جذبہ ہے، جب کہ مودّت ایسی محبت کو کہتے ہیں جس کا اظہار انسان کے قول، کردار اور عمل سے بھی ہو۔ قرآن مجید نے اہلِ بیت کے تعلق سے محض محبت نہیں بلکہ مودّت کا حکم دیا ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ اہلِ بیت سے وابستگی کو عملی زندگی میں ظاہر کیا جائے۔

کانفرنس کے اختتام پر حضرت مولانا حسن سعید صفوی نے امتِ مسلمہ، ملک و ملت، امن و سلامتی اور باہمی اتحاد کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ بعد ازاں حاضرین میں تبرک تقسیم کیا گیا۔
انجمن خدام محبانِ اہلِ بیت منڈیرا میں مقیم نجف فیملی کی ایک دینی، سماجی اور رفاہی تنظیم ہے، جو ڈاکٹر عرفان نجف علیمی کی سرپرستی اور رہنمائی میں سال بھر مذہبی، سماجی اور فلاحی سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ کانفرنس کی سرپرستی خانقاہِ عارفیہ کے صاحبِ سجادہ حضرت عارف باللہ شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمدی صفوی دامت برکاتہم نے فرمائی، جب کہ صدارت ولی عہد خانقاہِ عارفیہ و ناظمِ اعلیٰ جامعہ عارفیہ حضرت مولانا حسن سعید صفوی نے کی۔ کانفرنس میں پریاگ راج اور اطراف کے علاقوں سے بڑی تعداد میں علماء، مشایخ، سماجی شخصیات اور عاشقانِ اہلِ بیت نے شرکت کی۔
خصوصی شرکاء میں مولانا عمران صفوی لکھنؤ، مولانا سید حیات احمد ابو العلائی، مولانا سبحانی ازہری، مولانا دلشاد، ثقلین نجف، حسنین نجف، مدثر نجف، ذیشان نجف، رضوان نجف، فرحان نجف، عدنان نجف، عمار نجف، امجد پھول پوری، مرتضیٰ اور مجتبیٰ کے نام بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔
Leave your comment