Donate Now
حضرت منشی شاہ محمد عزیز اللہ عزیز صفی پوری

حضرت منشی شاہ محمد عزیز اللہ عزیز صفی پوری

حضرتِ عزیز صفی پوری، میر منشیانِ اودھ کے خیر خلف اور ان کے علمی وادبی کمالات وروایات کے نہ صرف امین وحفیظ بلکہ ان اقدار میں روحانی اعتبار سے ممتاز اور منفرد شخصیت کا نام ہے- 

آپ کاپیدائشی نام محمدولایت علی ہے- ولادت ۶؍صفر۱۲۵۹ھ/۱۸۴۳ء کو اپنے نانہال صفی پور میں ہوئی- پرورش وپرداخت اور تعلیم وتربیت لکھنؤ میں ہوئی جہاں آپ کے آباؤ اجداد اعلیٰ مناصب پر فائز رہے-  والد ماجد منشی محمد یحییٰ علی خان(م ۱۲۸۷ھ/۱۸۷۰ء)، بادشاہ اودھ محمد علی شاہ (۱۷۷۷ - ۱۸۴۲ء) اور واجد علی شاہ (۱۸۲۲ -۱۸۸۷ء) کے دور میں اخبار گشتی کے داروغہ رہے اور جد امجد امیر الانشاء میر منشی ثابت علی خان بہادر، غازی الدین حیدر شاہ (۱۷۶۹ -۱۸۲۷ء) اور نصیر الدین حیدر شاہ (۱۸۰۳ -۱۸۳۷ء) کے وقت میں میر منشی رہے اور پر دادا امین الانشاء رونق علی خان، نواب سعادت علی (۱۷۵۲ -۱۸۱۴ء) کے پورے عہد میں اور غازی الدین حیدر کے آغاز عہد تک میر منشی اور ان کے دست راست رہے-({ FR 8378 }) 

سلسلۂ نسب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے- آپ کی والدہ ماجدہ، شیخ محبوب عالم صفوی (از مخدوم زادگان صفی پور) کی صاحب زادی تھیں۔ اس طرح آپ نسباً صدیقی اور حسباً فاروقی تھے۔ آپ کے آباواجداد کاقیام پہلے قنوج میںتھا پھرقصبہ ملانواں (ضلع ہردوئی) میںرہا۔پھرکئی پشتوں سے شاہان اودھ کے دربار سے وابستہ ہونے کی وجہ سے لکھنؤمیںاقامت گزیں رہے- غدر میںجب لکھنؤکی قسمت نے پلٹا کھایا اور عمارات شاہی کے ساتھ آپ کامسکن بھی بربادہوگیاتوآپ اپنے نانہال صفی پور تشریف لائے اور یہیں اقامت پذیر ہوئے-

آپ کاشماران مشاہیر میں امتیازی شان کا حامل ہےجو علاوہ ارباب قال ہونے کے اصحاب حال بھی رہے ہیں- بچپن میں ہی والد ماجد نے حضرت مولانا شاہ فتح علی قدس سرہ (م ۱۲۷۳ھ/ ۱۸۵۷ء) کے دست مبارک پر بیعت کرا دیا تھا- حضرت مولانا شاہ فتح علی، مولانا سید شاہ عبد الرحمن لکھنوی ( ۱۲۴۵ھ) کے مرید وخلیفہ اور جانشین تھے- 

تعلیم

آپ کا نشرہ (رسم بسم اللہ خوانی)، مولانا عبدالوالی فرنگی محلی قدس سرہ (م ۱۲۷۹ھ /  ۱۸۶۳ء) نے کرایا تھا۔ خود رقم فرماتے ہیں: 

میری بسم اللہ لکھنؤ میں ہوئی تھی۔ جناب والد مرحوم نے بسم اللہ میں حضرت شاہ مولانا عبد الوالی قدس سرہٗ اور جناب مولانا احمد رحمۃ اللہ علیہ کو فرنگی محل سے بلوایا تھا۔ مولانا عبد الوالی نے میری بسم اللہ کی تھی۔ان کی برکت سے میں حرف آشنا ہو گیا، جاہلِ بَحت[محض] نہیں رہا۔ ({ FR 8379 })

ابتدائی تعلیم والد ماجد سے حاصل کی پھر چند سال مولانا محمد حسن بنگالی سے زیرتعلیم رہے، بعد میں مولانا محمد رضا بانگرموی اور مولانا شمس الدین لکھنوی (مرید مولانا سید عبد الرحمٰن لکھنوی) سے تعلیم حاصل کی- طب و حکمت کی تعلیم مولانا حکیم ہدایت اللہ صفی پوری (م ۱۲۸۳ ھ) سے پائی-سن ۱۲۸۶ھ میںآپ کے مرشد برحق حضرت مخدوم شاہ خادم صفی محمدی نے آپ کو اجازت وخلافت سے نوازا اور عزیز اللہ شاہ لقب عطا کیا- 

سخن فہمی اور سخن سرائی کا جو ملکہ فطرت نے آپ کو ودیعت کیا تھا ، اس کا اعتراف آپ کے ہم عصر اکابر نے بھی کیا- ابتدائی زمانہ میں چند فارسی نثر ونظم میرزا غالب کو بغرض اصلاح دکھائی جسے انہوں نے پسند کیا - 

جب آپ نے قصیدہ مرآت الصنائع لکھا تو اسے بھی میرزا غالب کی خدمت میں بھیجا، جسے غالب نے نہ صرف پسند کیا بلکہ صنعت تجنیس میں ایک مطلع کا اضافہ بھی کیا اور خود بھی اس زمین پر قصیدہ کہنے کی خواہش کا اظہار کیا- (تفصیل، تعارف کتب کے ضمن میں آرہی ہے-)آپ کے حالات میں ڈاکٹر احسان علی صفی پوری رقم طراز ہیں: 

’’آپ ہمیشہ ہرسنت اور مستحب پرنظررکھتے اورمسائل شرعیہ کوبہت تحقیق فرماتے تھے۔ باوجودعلم اورآگاہی ویادداشت، ہرقسم کے فتاوے مستندعلما کے جمع فرماتے اور مسائل ضروریہ پیش نظررکھتے تھے۔اورہرایک مسئلہ کوایسا حل کرتے تھے کہ دوسروںکودل جمعی ہوجاتی کہ ہر عالم نہ سمجھاسکتا۔ اکثر اکابر علما آپ کے پاس تشریف لائے۔ بالخصوص مولانا حاجی عبد الباری صاحب [فرنگی محلی]رحمۃاللہ علیہ اور حاجی مولاناعبد الماجد صاحب -بی اے- دریابادی اور مولانا وصی علی صاحب جامع العلوم کانپوری ملیح آبادی غیرہم۔ اور آپ سے فیض روحی بھی حاصل کیا۔‘‘ ({ FR 8380 })

تصانیف 

عمر کا اکثر حصہ خدمت خلق ، رشد وہدایت اور تصنیف وتالیف میں بسر ہوا- آپ کی تصانیف کی مجموعی تعداد۴۰ سے زائد ہے، جن میں سے اکثر مطبوع ہیں- اختصار کے پیش نظر ہم ان کا تفصیلی تعارف قلم انداز کر رہے ہیں۔آپ کی تصانیف حسب ذیل ہیں:

عربی 

(۱) مقدمۃ مخزن الولایۃ والجمال (مطبوعہ) (۲) مُنشأت العزیز۔ (غیر مطبوعہ) 

فارسی نظم 

(۱) اعجاز التواریخ۔ عنوان کتاب ہی سن تالیف (۱۳۳۰ھ)اور فن کا مشعر ہے- 

(۲) بیان التواریخ۔ اس کا بھی عنوان سن تالیف (۱۳۱۱ھ)اور فن کا مشعر ہے- اس کے حوالے سے خود رقم طراز ہیں: 

’’ اس میں پہلے چند قواعدِ تاریخ، نثر میں ہیں؛ اس کے بعد قطعات تاریخ؛ اور اس میں سو [۱۰۰] تاریخ کے قریب ایسی ہیں کہ فکر طلب اور مشکل ہیں ، جس کا جی چاہے کہہ دیکھے اور آزما لے -  ع

اہلِ سخن گم شدند قدر شناسی نماند‘‘ ({ FR 8381 })

فن تاریخ گوئی میں آپ کو جیسا ملکہ حاصل تھا ، اس پر آپ کی یہ دونوں کتابیں شاہد عدل ہیں-

(۳) دیوان ختم فکر فارسی۔ آخر عمر کی تصنیف ہے- اس میں وہ کلام شامل ہیں جو دیوان فارسی کے طبع ہونے کے بعد وقتًا فوقتاً ہوتے رہے-

(۴) دیوان عزیز۔ عزیزتخلص کا ضخیم فارسی دیوان ہے-

(۵) دیوان نعت محبوب۔

(۶)دیوان نور تجلی (نعتیہ دیوان)۔ 

(۷) دیوان ولایت۔ ولایت تخلص کا ضخیم فارسی دیوان ہے۔

(۸) مراۃالصنائع۔ تقریبا۱۵۰؍اشعار پر مشتمل نعتیہ قصیدہ ہے ، جس میں صنائع کا التزام ہے۔ مطلع، براعت استہلال میں ہے: 

بہ طفیل محمد مختار ﷺ

ز ستم بگذر اے پری رخسار

یہ قصیدہ آپ نے۱۲۷۸ھ میں قلم بند کیا اور اپنے استاد میرزا غالب کو ارسال کیا- غالب نے اپنے پسندیدہ اشعار کو صاد سے مزین کیا اور خود بھی اسی وزن وقوافی میں قصیدہ کہنے کی خواہش ظاہر کی اور ایک مطلع صنعت تجنیس میں اپنی جانب سے بڑھایا: ({ FR 8382 })

اے ہزار از ہوای روئے تو زار

وی تتار از بلاے موئے تو تار 

مثنویات فارسی

(۱) اعجاز محمدی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے صاحب زادوں کا واقعہ قصص الانبیاء سے نظم کیا ہے-

(۲) جذبۂ عشق۔ حضرت طاؤس کی زبان سے ایک مرد خدا کے قربان ہونے کا قصہ ہے-

(۳) جلوۂ حسن۔ عاشقانہ مضامین پر مشتمل ہے-

(۴) حسرت دل۔نعتیہ مثنوی ہے جس میں ذوق وشوق کی باتیں ہیں-

(۵)خبرخیبر۔ خیبر کا واقعہ روایات صحیحہ سے نظم کیا- 

(۶)ذکرجمیل۔ (ایک قصے کو نظم کیا-)

(۷) رمز الشہادتین۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے رسالہ سر الشہادتین کا منظوم ترجمہ ہے-

(۸) شعلۂ محبت۔ عاشق و معشوق کے خاکستر ہونے کا قصہ ہے-

(۹) فتح مبین۔ ضخیم مثنوی ہے، جس میں سیدنا رسول اللہ ﷺ کے غزوات کو مدارج النبوۃ سے نظم کیا ہے، جو زبان وبیان پر آپ کی قدرت کا بین ثبوت ہے-

(۱۰)ماہ شب افروز۔ معجزۂ شق القمر کو نظم کیا ہے-

(۱۱)مقصدالابرار۔

نثرفارسی

(۱) ارمغان۔

(۲)پیشکش شاہجہانی۔

(۳)پنج رقعہ ولایت۔ ابتدائی دور کی تصنیف ہے، جسے آپ نے ارادت خاں واضح کے پنج رقعے کے طرز پر تحریر کیا اور ادبی وفنی جواہر پارے اس میں بکھیرے۔ غالب کی خدمت میں اسے آپ نے ارسال کیا تھا، جسے انھوں نے پسند کیا اور تعریف کی ۔ غالب نے جواب میں جو مکتوب لکھا وہ یہاں رقم کیا جاتا ہے: 

’’خان صاحب عنایت مظہر،سلامت! آپ کامہربانی نامہ آیا- اوراقِ پنج رقعہ نظرفروزہوئے- خوشامد فقیرکاشیوہ نہیں، نگارش تمہاری پنج رقعۂ سابق کی تحریر سے لفظاً ومعناً بڑھ کر ہے- اُس میںیہ معانی نازک اور الفاظ آب دارکہاں؟ موجدسے مقلد بہترنکلا- یعنی تم نے خوب لکھا-  ع 

نقاش نقشِ ثانی بہترکشدزِ اوّل نجات کاطالب غالب‘‘ ({ FR 8383 })

(۴) مخزن الولایت والجمال۔ سن تالیف (۱۲۸۶ھ) کتاب کے نام سے ہی عیاں ہے- اپنے پیرو مرشد کے ملفوظات اور حالات پر مشتمل اس فارسی تصنیف کا مقدمہ آپ نے عربی زبان میں قلم بند فرمایا- آخری باب میں پیر ومرشد کے۴۲ خلفا کا بھی مختصر تذکرہ تحریر کیا- عربی مقدمے و خاتمے کو چھوڑ کر بقیہ کتاب کا اردو ترجمہ آپ کے دست گرفتہ مولوی خصلت حسین صابری نے کیا جو۱۹۶۳ء میں پاک اکیڈمی، کراچی سے شائع ہوا-

(۵)نثرہ۔

(۶)نگارش عاری۔

(۷)نورہان۔

اردو  دواوین

(۱) ختم فکر اردو۔ اردو دیوان شائع ہونے کے بعد جو کلام وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ، ان کا مجموعہ ہے-

(۲) نظم دل فریب۔ غزلوں کا مجموعہ-

(۳) طورتجلی۔ نعتیہ غزلوں پر مشتمل ہے-      

(۴) نورولایت۔ صوفیانہ غزلوں پر مشتمل ہے-

اردو نثر 

(۱) اشعارالاشعار۔ عروض کے بیان میں مختصر اور مفید رسالہ ہے-    

(۲) ایمان الغربا۔ 

(۳) تعلیم المخلصین۔ اپنے متوسلین کے لیے پند ونصائح پر مشتمل مختصر اور مفید رسالہ ہے-

(۴) تنبیہ المعتدی المناع۔ قاضی محمد بن علی شوکانی (م۱۲۵۰ ھ) کے مسئلہ سماع پر مشتمل رسالہ إبطال دعوی الإجماع کا اردو ترجمہ ہے-

(۵) ذکرالحبیب۔ سید عالمﷺ کے مولود مبارک پر مشتمل ایک عمدہ اور جذب وشوق سے سرشار رسالہ ہے-

(۶) سوانح اسلاف۔ تاریخی نام ’’خواب وخیال دنیا‘‘ ہے ، جس سے سن تالیف (۱۳۲۱ھ) بر آمد ہوتا ہے- آپ نے اپنے آباء و اجداد، اساتذہ، متعلقین اور ان امرا، ادبا اورشعراکا ذکر کیا ہےجن سے آپ کے آباءکے یا بذات خود آپ کے مراسم رہے۔ اودھ واطراف کے سیاسی ، سماجی اور معاشی حالات پر بھی روشنی ڈالی ہے- شاہان اودھ اور بہت سے غیر معروف درویشوں کے احوال بھی جمع کر دیے ہیں- اردو کی خود نوشت سوانح میں اس کا شمار بھی اولین کتب میں ہوگا- 

(۷) عقائدالعز یز -اسے آپ نے مشائخ کبار، سلف صالحین اور بالخصوص سلسلۂ خادمیہ صفویہ نظامیہ چشتیہ کے پیران عظام کے عقیدوں کے مطابق تصنیف فرمایا ہے۔ ’’عقائد العزیز‘‘ کے اب تک پانچ ایڈیشن منظر عام پرآچکے ہیں۔ ایک طویل عرصے کے بعد مکرمی حضرت شاہ نواز ش محمد فاروقی عرف صمدی میاں (سجادہ نشین خانقاہ صفویہ) نے اس کار خیر کی طرف توجہ فرمائی اور پھرراقم السطور حسن سعید صفوی نے اس پر جدید اسلوب تحقیق پر کام کیااور دار الاشاعت خانقاہ صفویہ ،صفی پور شریف کےزیر اہتمام ۲۰۱۷ء/ ۱۴۳۸ھ میں اس کی پانچویں بار طباعت ہوئی ہے، جو ۳۹۰ صفحات پر مشتمل ہے۔

(۸) عین الولایت۔سلسلہ صفویہ نظامیہ چشتیہ کے بزرگوں کے حالات پر مشتمل پہلی اردو تصنیف ہے- کتاب کا آخری باب صفی پور میں آرام فرما بزرگوں کے تذکرے پر مشتمل ہے- اولین طباعت نول کشور سے ہوئی ، بعد میں متعدد مرتبہ مختلف مطابع سے شائع ہوتی رہی- ۲۰۱۶ء میں اس کا آفسیٹ ایڈیشن دار الاشاعت خانقاہ صفویہ صفی پور شریف سے شائع ہوا-

(۹) فوائدالمصادر۔ فارسی قواعد پر مشتمل یہ مختصر رسالہ طلبہ کے لیے بہت مفید ہے، جس میں اساتذہ کے اشعار سے شواہد اور مثالیں پیش کی ہیں-

 علاوہ ازیںتین شعری مجموعے ؛ شان عزیز، عرفان عزیز اور نغمۂ شفاعت آپ کے مریدین ومتوسلین نے آپ کے دواوین سے منتخب کرکے شائع کیے ہیں۔ آخر الذکر دونوں کتابیں مولانا محمد خصلت حسین صابری صاحب کی مرتب کردہ ہیں۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی، نواب مولانا محمد حبیب الرحمن خان شیروانی ، نواب مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی اور پروفیسر ابو اللیث وغیرہ مشاہیر کی تقدیم و تاثر شامل کتاب ہیں۔

آپ اپنے تخلص کے حوالے سے خود رقم فرماتے ہیں : 

پہلی تصنیفات میں سب جگہ میرا تخلص ولایت ہے - سنہ بارہ سو چھیاسی [۱۲۸۶] ہجری میں حضرت مرشد برحق نے مجھ کو فقیر کیا اور عزیز اللہ شاہ نام رکھا، جب سے میں نے تخلص بھی بدل ڈالا۔ اب عزیز تخلص ہے- دونوں میں دیوان فارسی ہیں-({ FR 8384 })

خلفا

آپ کے خلفا کے اسما درج ذیل ہیں: 

(۱)حضرت شاہ خادم علی خلف اصغر حضرت شاہ احمد اللہ عرف مولوی احمدعلی قدس سرہٗ (خلیفۂ حضرت قطب العالم شاہ خادم صفی محمدی قدس سرہ) آپ اوّل خلیفہ تھے-

(۲)حضرت شاہ خادم محمد بن شاہ الطاف محمد رحمۃاللہ علیہ صاحب سجادہ حضرت مخدوم شاہ صفی قدس سرہٗ- آپ نہایت منظور نظر اور چہیتے مرید وخلیفہ تھے- 

(۳)حضرت شاہ دانش علی سجادہ نشین مجھگواں شریف۔ آپ حضرت شاہ خادم محمد رحمہ اللہ کے مرید وخلیفہ تھے۔ حضرت شاہ خادم محمد کے وصال کے بعد ان کی وصیت کے مطابق آپ سے تعلیم پائی اور آپ نے اپنی طرف سے اجازت بھی عطا کی اور شاہ فیض خادم لقب رکھا۔ 

(۴)حضرت شاہ عزیزالحق رحمۃاللہ علیہ (پیرزادہ صفی پور)۔آپ کابھی وصال پیرومرشد کی حیات میںہو گیا۔آپ کالقب شاہ عزیز خادم تھا۔

(۵) حضرت شاہ لطف حسین صاحب ساکن موسر ضلع بارہ بنکی۔آپ کالقب شاہ الطاف خادم تھا ۔

(۶) حضرت شاہ رحمت اللہ عرف رمضان علی صاحب ساکن باڑی ضلع اونائو۔

(۷)حضرت شاہ سیدباسط علی(کدورہ)۔ آپ نواب کدورہ کے پیش دست تھے۔

(۸) حضرت شاہ اکرام الحق صاحب باشندہ بانکی پور پٹنہ جوپھلواری شریف میںکسی بزرگ کے مرید تھے۔ آپ نے ان کوبھی اجازت دے کرلقب اکرام اللہ شاہ رکھا۔

(۹)حضرت شاہ طالب صفی (پیشاور، پاکستان)۔ آپ حضرت قل ہواللہ شاہ قدس سرہ (بارہ بنکی شریف) کے مریدوخلیفہ تھے۔ آپ نے بھی ان کو اجازت دی۔

(۱۰) شاہ احسان خادم معروف بہ ڈاکٹر حاجی محمداحسان علی صفی پوری

علاوہ ان حضرات کے ایک صاحب کوبذریعۂ تحریر بھی اجازت عطافرمائی ہے۔ ان کانام احمد اللہ شاہ ہے۔ آپ حضرت قل ہواللہ شاہ قدس سرہ کے خاندان میں مرید تھے۔ گوالیار میں ساکن تھے-({ FR 8385 })

وصال

آپ کی عمرمبارک اٹھاسی سال کی ہوئی۔ ۱۳محرم الحرام۱۳۴۷ ھ مطابق۲ جولائی ۱۹۲۸ء کو وصال ہوا- 

واقعۂ وصال کے متعلق ڈاکٹر احسان علی راقم ہیں:

’’دوماہ دس یوم علیل رہے۔شروع میںکوئی خاص شکایت نہ تھی کمردرد تھاکسی وقت کم ہوجاتاپھربتدریج بڑھ گیا۔ غذابرائے نام رہ گئی۔ وہ بھی کسی وقت کم کسی وقت نہ ہوتی۔ ایک روزدردمیںزیادتی تھی۔ مجھ سے فرمایاکہ میرے مرشد برحق کے مزارپرجائو اورعرض کرو کہ اپنے کرم اورمحبت سے بلا لیجئے اور سختی کودور فرمائیے۔ جوکچھ تم کو وہاں سے القاہو، مجھ سے کہو۔ میںنے مزار پر انوار پر حاضر ہوکرعرض کیا، مجھ کو القا ہوا: وَہُوَ مَعَکُمْ أَیْنَمَا کُنْتُمْ۔  میں نے یہی جواباً آکر عرض کر دیا۔ آپ نے فرمایاکہ سچ کہاتونے۔ اس دن سے دردکم ہوگیااوروہ شدت بے چینی نہیںرہی۔

۱۲؍محرم کی صبح کوفرمایاکہ آج محرم ختم ہوگیا کل جوچاہے کرنا۔ صفی پور میں یکم محرم سے ۱۷؍محرم تک محفل سماع نہیںہوتی ہے چونکہ آپ کا وصال ۱۳؍محرم کو ہوا اس لئے اس فرمان سے اس امر کا اشارہ تھاکہ آج سیوم محرم ہو گیا، کل میرے جنازہ کے ساتھ سماع ہو اور اشارۃًاورکنایۃًاپنے وصال کی اطلاع تھی جوہم لوگوں کو بعد وصال خبر ہوئی۔ 

رات کوتین بجے اس فقیرکویاد فرمایا۔ جب یہ فقیرحاضرہواتب فرمایاکہ دیکھو، اب نبض نہیں ہے اورہم جاتے ہیں۔یہ فرماکرچند ضربیں الا اللہ کی لگائیں پھر وقت دریافت فرمایا۔ فقیرنے عرض کیاکہ سواتین بجے ہیں تھوڑی دیرکے بعدپھرچندضربیں الااللہ کی لگائیں پھروقت دریافت فرمایا۔فقیرنے عرض کیا کہ ساڑھے تین بجے ہیں اب صبح صادق کاوقت نزدیک تھاعین صبح صادق کے وقت آپ داہنی کروٹ لیٹے تھے کہ یکایک اپنے مرشد برحق کا نام ’’خادم صفی محمدی‘‘ لیا اور ’’الا اللہ‘‘ [کہہ کر] سیدھے ہوگئے اورجان بحق تسلیم ہوئے۔  إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیہِ رَاجِعُونَ۔‘‘ ({ FR 8386 })

مزار مبارک صفی پورمیںآپ کے پیر و مرشد کی خانقاہ میںجانب مشرق ہے-

آپ کا فارسی اور اردو کلام آج بھی ہند وپا ک کے قوال بہت شوق سےپڑھتے ہیں اورصاحبان ذوق کیف و مستی میں سرشار نظرآتے ہیں۔

بطور نمونہ آپ کا کچھ منظوم کلام درج کیا جاتاہے :

 (۱)


مصطفیٰ خَاطَبَنِی بِالکرَمِ وَالرَغَبِ

کَیفَ لَا أَرقُصُ حُباً بِھُجومِ الطَّرَبِ


خَبَّرَ اللہُ بِلَولاکَ فَطُوبَاہُ لَنا

بَشَّرَ آدمُ شِیثاً فَنَبِیٌّ بِنَبِی


أَفضلُ العالَمِ بِالشَّأنِ فَلا مِثلَ لَہ

أَکْرَمُ النَّاسِ بِغُرِّ الحَسَبِ وَالنَّسَبِ


فَضَّل العُرْبَ تَوَلّاہُ بِفَضْلٍ کافٍ

قَالَ: إِنِّی عَرَبِیٌّ لِوِلاءِ العَرَبِ


أَدرِکِ اللَّذَّۃَ یَا شَیخُ وَذُق مِن شِعرِی

ما أقولُ بِثنائِہْ کَحُلُوِّ الرُطَبِ


اُدْعُ یَا سَامِعُ بِالحُبِّ مُحِبًّا لِعَزیز

أُسمِعُ النَّعتَ بِشَوقٍ وَبِہ یُسمَعُ بِی

 


(۲)


إِنَّنِي عبدٌ ذلیلٌ یا نبيَّ الہاشمي

أنت محبوبٌ جمیلٌ یا نبيَّ الہاشمي


آہ مِن نفسٍ وَ مِن أعمالِہا یا مصطفیٰ    

فَاشْفِنی إني علیلٌ یا نبي الہاشمي


کیف یأتي مِثلُک بدرٌ منیرٌ في الوجود

إنَّ ھذا مُسْتَحِیلٌ یا نبي الہاشمي


لیس في قلبي بِتَصمِیمٍ و إیمانٍ سواک

قِصَّتي فصلٌ طویلٌ یا نبي الہاشمي


قد مَضَی الأیَّامُ فَاشْفَعْ للعَزیزِ المُفتقِر

عُمرُہ الفَانِي قلیلٌ یا نبي الہاشمي



(۳)


دو عالم بہ کاکل گرفتار داری

بہر موٗ ہزاران سیہ کار داری


ز سر تا بہ پا رحمتی یا محمدﷺ

نظر جانبِ ہر گنہگار داری


دو ابروے پُر خم چون شمشیرِعریان

دو چشمِ فسون ساز و عیّار داری


جمالِ درخشندہ، برقِ تجلی

لبِ نوش داروے بیمار داری


اداے تو بے زخم در خون تپاند

کہ نادیدہ عشاق بسیار داری


عزیز! اللہ اللہ کہ از کفرِ عشقش

نہان در تہِ خرقہ زنّار داری



(۴)


قَدْ ظَھَرَ المُصْطَفَی صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ

جَاءَ نَبِیُّ الوَرَی  صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ


عارضِ او دل رُبا، کاکل او جاں فزا 

گفت ثنایش خدا صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ


عَلَّمَنَا بِالصَّفَا، أَیَّدَنَا بِالْوَفَا

نَوَّرَنَا بِالھُدَی صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ


شاہدِ افلاکیاں، پاک تر از خاکیاں

پیش رَوِ انبیا صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ


بر ہمہ احسانِ او، در ہمہ برہانِ او

خاکِ رہش جانِ ما صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ


از اثرش سینہ ہا، معدنِ گنجینہ ہا

صاف چوں آئینہ ہا صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ


بندۂ عشقم عزیز، گرچہ نہ دارم تمیز

وِردِ من است ایں دعا صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَیْہ



(۵)


مجھے عشق نے یہ سبق دیا کہ نہ ہجر ہے، نہ وصال ہے

اسی ذات کا میں ظہور ہوں، یہ جمال اسی کا جمال ہے


وہی صورت اور وہی آئینہ، یہ خیال دل سے جو جائے نہ

تو وہ روبرو ہے ہر آئینہ، یہی شان، شانِ کمال ہے


ازل و ابد ہے وہ آپ ہی، کوئی اور اس کے سوا نہیں

وہی آپ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ، وہی آپ اپنی مثال ہے


مری بندگی ہے تو بس یہی، کہ کروں میں اپنی ہی بندگی

یہی ذکر ہے، یہی فکر ہے، یہی حال ہے، یہی قال ہے


میں فداے مرشدِ پاک ہوں، درِ بارگاہ کی خاک ہوں

وہ سما کے مجھ میں یہ کہتے ہیں کہ عزیز! غیر، محال ہے


(۶)


مصحفِ پاک ہے کونین میں حجت تیری

حق تعالیٰ کی اطاعت ہے اطاعت تیری


کُنْتُ کَنْزاً سے ہویدا ہے حقیقت تیری

نورِ بے کیف کا آئینہ ہے صورت تیری


جس نے دیکھا تجھے اللہ کو پہچان لیا

سرِّ توحید کی مثبت ہے رسالت تیری


حشر میں ہوگی تری شانِ معظم ظاہر

پیشتر جائے گی فردوس میں امت تیری


جان دیتے ہیں تری راہ میں مرنےوالے

فرض ہے مذہبِ عشاق میں سنت تیری


نورِ حق کیوں نہ سما جائے ترے دل میں عزیز

کیسے محبوب پر آئی ہے طبیعت تیری

 

(۷)


سب کو دل سے بھلا دیا تم نے

شاہ خادم یہ کیا کیا تم نے


وہ جمالِ جمیل دکھلا کر

کھول دی شانِ کبریا تم نے


لطف سے، شوق سے، محبت سے

کن اداؤں سے دل لیا تم نے


صفحۂ دل پہ تھا خدا کا نام

لکھ دیا اس پہ حاشیہ تم نے


کھینچ کر میرے دل کو اپنی طرف

دے دیا ذوقِ بے ریا تم نے


جس کو چاہا بنا دیا فوراً

محرمِ سرِّ اولیا تم نے


خاکِ در ہو کے میں عزیز ہوا

کر دیا مجھ کو کیمیا تم نے

Ad Image