Donate Now
رسول علیہ السلام اور بچے

رسول علیہ السلام اور بچے

رسول علیہ السلام اور بچے

والدین پر لازم ہے کہ وہ سیرت کامطالعہ کریں تاکہ اُنھیں یہ معلوم ہو کہ رسول علیہ السلام نے بچوں سے کیساسلوک فرمایا


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدسےپہلے عرب میں بچوں کے قتل و خون کی جو ظالمانہ رسم رائج تھی اُسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کے لیے ختم کردیااوربچوں سے محبت وشفقت کا یوں اظہار فرمایا:لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيْرَنَا۔(مستدرک ازحاکم،باب کتاب الایمان،حدیث:۲۰۹)

ترجمہ: وہ ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر شفقت اور مہربانی نہیں کرتا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کے ساتھ جس محبت وشفقت اور اُنسیت کا اعلان فرمایا وہ بچوں کی حیثیت وا ہمیت کی واضح مثال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچوں سے بڑی محبت تھی۔جہاں بھی بچےملتے اُنھیں محبت سے گود میں اٹھا لیتے،چومتے،پیار کرتے اور اُن کےساتھ کھیلتے۔نیاپھل جب بھی آپ کے پاس آتا تو اپنے پاس موجودسب سے کم عمر بچے کو عطا فرماتے۔ راستے میں بچے مل جاتے تو خود اُن کو سلام کرتے اور اُن کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے۔

ایک دفعہ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا دل بہت سخت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو ،اوراُن سے محبت کیا کرو،اللہ تمہارا دل نرم کردے گا۔(مسنداحمد،مسندابی ہریرہ،حدیث:۷۵۷۶)

ایک باراقرع بن حابس تمیمی خدمت نبوی میں تھا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام حسن کوپیارسے چوم رہے تھے۔ اُس کو یہ بات عرب کے قدیم رسم و رواج کے خلاف معلوم ہوئی۔ اُس نے حیران ہوکر پوچھا :کیا آپ بچوں کو پیار کرتے ہیں؟ میرے دس بچے ہیں۔میں نے اُن میں سے کسی کے سر پر  ہاتھ تک نہیں پھیرا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھااورفرمایا:’’اگر اللہ تمہارے دل سے رحم و شفقت نکال لے تو پھر میں کیا کرسکتا ہوں۔‘‘

(بخاری،کتاب الادب،باب رحمۃ الولد)

خواجہ حسن سجزی کا بیان ہے کہ میں سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ کی خدمت میں تھا۔ بچوں کی محبت کا ذکر نکلا تو حضرت خواجہ قدس سرہٗ نے فرمایا:

رسول کریم علیہ السلام بچوں کو بہت چاہتے تھےاور بچوں پر بہت ہی شفقت فرماتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم علیہ السلام نے امام حسن کو بچوں کے ساتھ دیکھا۔آپ اُن کے قریب تشریف لائے ۔ایک ہاتھ اُن کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا ،دوسرا ہاتھ اُن کے سرپر رکھااور اُن کا منھ چوم لیا۔

اس درمیان بندے (حسن سجزی)نے عرض کی کہ ایک حکایت بیان کی جاتی ہے کہ رسول کریم علیہ الصلاۃ و السلام نے  امام حسن اورامام حسین کی خاطر اونٹ کی آواز نکالی؟

سلطان المشائخ نے فرمایاکہ ہاں! یہ حکایت مشہورہے اور یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ یہ لفظ زبان مبارک پرلائے:

نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُكُمَا۔(معجم کبیر،حدیث:۲۶۶۱)

ترجمہ: آپ دونوں کا اونٹ کتنا اچھا اونٹ ہے۔

(فوائد الفواد،جلد:۳،مجلس:۴۲)

آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اکرم نے ایسے وقت میں بچوں کو رحمت وراحت کا ذریعہ قرار دیا تھا جب مرادیں مانگنے کے لیے،ذبح کرنے اور ناک اونچی کرنے کے لیے بچوں کو زندہ دفن کردینے کا رواج عام تھا۔ آپ نے اس وقت ان پر تحفظ و سلامتی اور شفقت و محبت کی چادر تان دی تھی جس وقت دنیا کے دوسرے حصوں میں بچوں کے تحفظ و سلامتی کے لیے کوئی قانون نہ تھا۔

دودھ پیتےبچوں کے ساتھ سلوک

 چھوٹے بچے بڑے پُرکشش اوربھولے بھالے ہوتے ہیں۔ اُنھیں دیکھتے ہی جی چاہتا ہے کہ گود میں اٹھا کر خوب پیار کیا جائے۔ ان کی معیت میں انسان فطری خوشیاں پاتا اور بڑا لطف اٹھاتا ہے،لیکن جوں ہی مرد کواپنےبازوپر گیلاپن یا ناک میں بو محسوس ہوتی ہے تو اُن کی تیوری چڑھ جاتی ہے۔ وہ ناگواری کا اظہار کرتےہوئےبچے کو واپس ماں کی گود میں ڈال کر غسل خانے کارُخ کرتے ہیں۔ مگر ایسی صورت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس قسم کے ناپسندیدہ رویوں کا اظہارنہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بچوں کو اپنی گود میں لیتے اور اپنےزانوپربٹھالیتے تھے،حالاں کہ اس زمانے میں کسی قسم کا ’’ڈائپر‘‘ موجود نہ تھا۔

حضرت اُم قیس بنت محصن کا بیان ہے کہ میں اپنے دودھ پیتے بچے کو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں لائی،تاکہ آپ کجھور چبا کراُس کے تالو پر مل دیں۔اسی دوران  اُس نے آپ کی گودمیںپیشاب کردیا۔اس کے باوجودآپ نےکسی ناگواری اوربرہمی کااظہارنہیں فرمایا،بلکہ پانی منگوایا اور وہ جگہ دھو ڈالی جہاں پیشاب گرا تھا۔

(بخاری،باب حکم الطفل الرضیع،حدیث:۲۸۷)

یہ انداز بتاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پیتے بچے کی فطری ضروریات بخوبی سمجھتے تھے،اسی لیے ان کے ساتھ حلم وبردباری اورضبط کا مظاہرہ فرماتے۔

بچوں کی حرکت پرضبط کا اظہار

بچےجب تین چار سال کے ہوجاتے ہیں تو ادھرادھرکی حرکتیں کرتے ہیں اور متجسس ہوجاتے ہیں۔ پھروہ ہر طرح کی شرارتیں بھی کرتے اور انوکھے کرشمے بھی دکھاتے ہیں۔ایسے بچوں پربھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی شفقت فرمایا کرتے۔پھر اس طرح کے بچوں کو نہ صرف مسجد میں آنے کی اجازت تھی، بلکہ دوران نماز اگر وہ چھوٹی موٹی شرارتیں کرتے،  یا عبادت میں روکاوٹ بنتے، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی  صبرو ضبط سے کام لیتے ۔

 حضرت ابوہریرہ کابیان ہےکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عشا ادا کررہے تھےکہ امام حسن وامام حسین آپ کی پشت مبارک پر چڑھ گئے۔ جب آپ سر مبارک اٹھاتے  تو اُن کو پیچھے سے نرمی سے پکڑ لیتے اور بڑے ہی پیار سے اُن دونوں کو زمین پر رکھ دیتے۔ پھر جب آپ سجدہ فرماتے  تو وہ پھر چڑھ جاتے۔جب آپ نماز اداکرلیتےتو اُن کو اپنی رانوں پر بٹھا لیتے۔(مسنداحمد،مسندابی ہریرہ،حدیث:۱۰۶۵۹)

ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ خاصا طویل ہوگیا۔ نماز ختم ہوئی تو صحابہ کرام بارگاہ نبوی میں آئے اور دریافت کیا: یارسول اللہ! دوران نماز ایک بار آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیاکہ ہم سمجھے آپ کو کچھ ہوگیا ہے، یا پھر وحی نازل ہورہی ہے۔

یہ سن کرآپ مسکراپڑےاور فرمایا: کچھ بھی نہیں ہوا۔ دراصل میرےنواسے میری کمر پر سوار تھے اور میں نہیں چاہتا تھا کہ اُس کے کھیل میں خلل پڑے۔ چنانچہ میں اُس کے اترنے کا انتظار کرتا رہا۔ (مسنداحمد،مسندشداد،حدیث:۱۶۰۳۳)

یہ بچوں سے محبت وشفقت کااثرہی تھاکہ نماز میں بھی سجدہ لمبا فرما دیا تاکہ اُن کے کھیل میں کوئی خلل پیدانہ ہو۔

بچوں کی اصلاح کاآسان طریقہ

بچوں کواگر محبت میں چوما جائےاورپیارسے اُنھیں گود میں لیا جائےتو وہ خوش ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہےکہ نفسیات کے ماہرین والدین کو تاکیدکرتے ہیں کہ لمبی چوڑی تقریر اورپیچ دار نصیحتوں سے بہتر ہے کہ عملی طور پر بچوں کی غلطیاں درست کی جائیں۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سال کھجور کے موسم میں صحابہ کرام بارگاہِ نبوی میں کجھوریں لانے لگےاور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کجھوروں کا ڈھیر جمع ہوگیا۔ نزدیک ہی امام حسن وامام حسین کھیل رہے تھے۔ کھیل کھیل میں امام حسن نے منھ میں کجھور ڈال لی۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر اُن کے منھ سےکجھور نکالی اور فرمایا : کیا تمھیں معلوم نہیں کہ آل رسول کا کوئی فرد زکاۃ نہیں کھایا کرتا۔(بخاری ، کتاب الزکوٰۃ)

اصلاح ورہنمائی کاکیاہی نرالاانداز ہےاور کس حکمت عملی سےایک اہم مسئلے کو حل فرمادیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے کے منھ سے کجھوربھی نکال دی اوراصل وجہ بھی واضح فرمادی۔

آج کل زیادہ تروالدین کا مزاج ہے کہ وہ بچوںپر بےوجہ غصہ کرتےہیں۔اُنھیں جھڑکتے ہوئےبزور حکم دیا جاتا  ہے کہ یہ مت کرو،وہ مت کرو۔عموماً جب بچے ضد میں یہ ہدایات نظر انداز کر دیتے ہیں تو غصے کے مارے والدین سرعام بچوں کو ڈانٹنے پھٹکارنے یا اُن کی پٹائی کرنے لگتے ہیں۔جب کہ بچوں کو پیار اور محبت بھرے انداز میں متنبہ کرناچاہیے۔

حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہترین اخلاق و عادات کے حامل تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجنا چاہااورمیرا جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا، لہٰذا میں نے کہا: واللہ! میں نہیں جائوں گا۔ لیکن میرا دل کہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا ہے اُسے بجا لائو۔

آخرکار میں باہر نکلا۔ گلی میں چند لڑکے کھیل رہے تھے۔ میں رک کراُنھیں دیکھنے لگا۔ اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پیچھے تشریف لے آئے اور مجھے گردن سے پکڑ لیا۔ میں نے مُڑ کر دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرارہے تھے۔ پھر پیارسےفرمایاکہ اے اُنیس! اپنے کام سے جائو۔میں نے کہاکہ یارسول اللہ! میں جاتا ہوں۔

(مسلم : باب کان رسول اللہ ﷺ احسن الناس خلقا، حدیث:۲۳۱۰)

سمجھانے کا انوکھا انداز

سات آٹھ برس کی عمر میں بچےاچھےاور بُرے کے درمیان تمیز کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ایسے بچے کو غلط حرکت کرتا دیکھتےتو اُسے پیار، شفقت اور اچھےاندازمیں سمجھاتےتھے۔ اُن کو بتاتے کہ  صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔یہ نہیں کہ اُنھیں ڈانٹتے ڈپٹتےیا دوسروں  کے سامنے ذلیل کرتے۔

حضرت اُم سلمہ کے شوہرحضرت ابو سلمہ کی شہادت کے بعدسال ۳/۴ھ میںنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُم سلمہ سے نکاح فرمالیا۔اس وقت حضرت اُم سلمہ کےچاربچے (عمر، سلمہ، زینب، وردہ )تھے۔ اُن چاروں کی کفالت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنےذمے لےلی تھی۔ ان بچوں میں ایک حضرت عمر بن ابی سلمہ تھے جن کی عمر تقریباً سات آٹھ سال کی تھی، ان کا بیان ہے :’’میں لڑکے کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگہبانی میں تھا۔ جب میں کھاناکھاتاتو کبھی کبھی اپنےدونوں ہاتھوں سے کھانے لگتا۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شفقت سے فرمایاکہ کھانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لو۔ (یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھو) سیدھے ہاتھ سے کھائو، اور جوتم سےقریب ہے اس میں سے کھاؤ۔(بخاری، باب الاکل مما یلیہ،حدیث: ۵۳۷۷)

بچے اوربچیاں اللہ رب العزت کا انمول تحفہ ہیں،اس لیےاُن سےبدسلوکی ہرگز اختیارنہ کرنی چاہیے۔ چوں کہ  بچپن میں تو اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی ان کے’’گناہ‘‘ شمارنہیں ہوتے۔ لہٰذا یہ کچھ نٹ کھٹ بچے اگرجان بوجھ کر بھی کوئی ناپسندیدہ کام کرڈالیں۔قیمتی چیز کو نقصان پہنچادیں تو بھی اُنھیں مارنے کی ضرورت نہیں،بلکہ اُنھیں نرمی سے سمجھایا جائے اور ناپسندیدہ باتوںسے دوری اختیارکرنے کی ترغیب حکیمانہ انداز میں دی جائے۔

جو والدین بچوں پر سختی کرتے ہیں،اور اُن سے سختی کے ساتھ پیش آتے ہیں،وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معتوب قرار پاتے ہیں۔اکثر وبیشتریہ دیکھنے میں آتا ہےکہ جووالدین اپنےبچوں کے ساتھ سختی کرتے ہیں اور کسی قسم کی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے،وہ ضعیفی میں تنہائی اور بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں، کیوں کہ سختی کے شکاربچے اُن کی طرف سے لاپرواہ ہوجاتے ہیں اوریوں والدین کو مختلف پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

اس لیے تمام والدین اورتمام سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ وقتاًفوقتاً سیرت نبوی کا مطالعہ کرتے رہیں،تاکہ اُن پر یہ واضح ہوسکے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بچوں کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا،اورپھراس کی روشنی میں وہ بچوں کی صلاح وفلاح کے لیے راستے ہموارکریں۔

محمد طارق رضا قادری

Ad Image