عقل و روح کی کشمکش | بالی ووڈ اداکارہ زائرہ وسیم کی تحریر

3
1733

ترجمہ:ضیاء الرحمن علیمی 
استاذ جامعہ عارفیہ ،سید سراواں،الہ آباد

پانچ سال پہلے میں نے ایسا فیصلہ کیا جس نے ہمیشہ کے لیے میری زندگی بدل دی،جب میں نے بالی وڈ کی دنیا میں قدم رکھا تو میرے لیے زبردست مقبولیت کے دروازے کھلے اور میں عام توجہ کی مرکزی شخصیت بننے کی راہ پر گامزن ہوگئی،مجھ کو کامیابی کی کتاب مقدس کے طور پر پیش کیا گیا اور نئ نسل کے لیے ایک رول ماڈل کے طورپر بہت زیادہ مجھے پہچانا جانے لگا،حالانکہ نہ تومیری جدوجہداس غرض سے تھی اور نہ میرا یہ مقصودتھا ،خصوصا کامیابی اور ناکامی کی وہ دنیا جس کی جستجو ابھی ابھی میں نے شروع کی تھی،اس کے حوالے سے میری یہ فکر نہیں تھی۔
آج جب کہ بالی وڈ کی دنیا میں داخل ہوئے میرے پانچ سال مکمل ہو گئے ہیں میں اس بات کا اعتراف کرنا چاہتی ہو ں کہ میں اپنے اس دائرۂ کار اور اپنی اس شناخت سے خوش نہیں ہوں،بہت لمبے عرصے سےاور تاہنوز میں نے محسوس کیا ہے کہ میں کچھ اور ہی بننے کے لیےجد وجہد کرتی رہی ہوں ، جب میں نے اس دنیا کی سیر شروع کی اور ان چیزوں کاشعور حاصل کرنے کی کوشش کی جس کے لیے میں نے اپنا وقت لگایا ہے، جد وجہد صرف کی ہےاور اپنے جذبات کو قربان کیا ہے اور جس نئ زندگی سےمانوس ہونے اوراس کو سنبھالنے کوشش کی ہے ،تو بالآخر مجھے یہی احسا س ہوا کہ اگرچہ میں اس دنیا میں مکمل طور پر فٹ ہو سکتی ہوں لیکن حقیقتا میرا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس نئ دنیا نے اگر چہ مجھ کو محبت ،حمایت اور داد وتحسین سے نوازا ہے لیکن اس نے مجھ کو جہالت وگمرہی کی راہ پر بھی ڈال دیاہے ،کیوں کہ میں آہستگی کے ساتھ اور لاشعوری طورپر ایمان سے باہر ہو گئی ہوں۔ میں اس ماحول میں کام کرتی رہی جس سےمسلسل میرےایمان میں کمزوری پیدا ہوتی رہی اور دین سے میرے رشتہ کو خطرہ لاحق ہو تا گیا ،میں جہالت کی اسی حالت میں آگے بڑھتی رہی اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ میں جو کرہی ہوں ٹھیک ہی کر رہی ہوں اور اس سے میری ایمانی زندگی متاثر نہیں ہورہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح میری زندگی سے ساری برکتیں ختم ہو گئیں۔
برکت ایسا لفظ ہے جو صرف دنیاوی خوشی،مال ودولت اور ظاہری خوش حالی میں محدود نہیں ہے بلکہ اس میں زندگی کاوہ اعتدال وتوازن بھی شامل ہے جس کے لیے میں بہت زیادہ جد وجہد کرتی رہی ہوں ۔میں اپنی روح سے لگاتار جدوجہد کرتی رہی کہ وہ میرے موجودہ افکارو خیالات کے سامنے ہتھیار ڈال دے اور میں اپنی فطرت سے لڑتی رہی کہ وہ میرے ایمان کی بے روح تصویر کوقبول کرلے لیکن میں بری طرح ناکام ہوئی،صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ سینکڑوں مرتبہ۔
میں نے بالی ووڈ سے علا حدگی کے اپنے اس فیصلے کو مضبوط کرنے کی بہت کوشش کی،لیکن ہر بار میرے اندر یہی احساس رہا کہ ایک دن میں اپنے آپ کو بدل دوں گی اور جلد ہی بدل دوں گی۔میں اپنے فیصلے میں ٹال مٹول کرتی رہی اور اپنے ضمیر کو اس فکر سے دھوکہ دیتی رہی کہ جو میں کر رہی ہوں وہ اگرچہ صحیح نہیں ہے لیکن جب مناسب وقت آئے گا تو میں اس دنیا کو الوداع کہہ دوں گی ،میں نے مسلسل اپنے آپ کو اس خطرناک ماحول میں روک کر رکھا جہاں میں آسانی کے ساتھ برائیوں میں بہہ سکتی تھی۔وہ ماحول جس نے میرے قلبی سکون ،ایمان ،اور میرے ر ب سے میرے تعلق کو نقصان پہنچا یا۔ میں مسلسل چیزوں کا احساس کرتی رہی اور اپنی فکر کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی رہی لیکن صحیح معنوں میں یہ نہیں سمجھ سکی کہ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق دیکھنا زیادہ اہم ہے ۔میں اس فیصلے سےمسلسل گریز کرتی رہی لیکن کسی نہ کسی طرح میں نے بالآخر اوہام و خیالات کے اس بے نتیجہ سلسلے پرضرب لگائی اور اس تسلسل کو توڑاجس سے حقیقت کا عنصر غائب تھا ،وہ جو مجھ کو مسلسل اذیت پہنچا رہا تھا،اور جس کا نہ تو مجھے شعور وادراک ہو پارہا تھا اور جس سے نہ میں خود کو مطمئن کر پارہی تھی،یہاں تک کہ میں نے اپنی کمزوری سے لڑنے کا فیصلہ کیا اور جد وجہد شروع کی اور اپنی لاعلمی کی تلافی کرنے کی کوشش کی اور طریقہ یہ اختیار کیا کہ میں نے اپنا دل کلام الہی سے لگا لیا ۔میں نے قرآن کریم کے عظیم افکار وخیالات اور الہی حکمتوں میں اطمینان اور سکون پایا، یقینی طور پر دل کو جب خالق کی ذات،اس کے اوصاف ،اس کی رحمتوں اور اس کے احکام کی معرفت حاصل ہوتی ہے توا س کو چین وسکون حاصل ہوتا ہے ۔
میں نے خود اعتمادی کو اہمیت دینے کے بجائےاپنی مدد اور رہنمائی کے لیے اللہ کی رحمت پر بہت زیادہ اعتماد کرنا شروع کر دیا، مجھے اپنے دین کی بنیادی احکام سے ناواقفیت کا احساس ہوا اور اس بات کا بھی احساس ہوا کہ پہلے ہی میں اپنی اس حالت میں اس لیے تبدیلی نہ لا سکی کہ میں نے اپنے قلبی اطمینان اور روحانی صحت کے ساتھ ساتھ اپنے کھوکھلے اور بے جان خواہشات کی تقویت اور تکمیل کی کوشش کی ، مجھے شک و وہم کی اس بیماری کا بھی ادراک ہوا جو میرے دل کو لگ چکی تھی ۔
دل پر دوطرح کی بیماریوں کا حملہ ہوتا ہے ایک تو شک ووہم کا،اور دوسری خواہشات کا ،ان دونوں کا ذکر قرآن میں ہے ،اللہ تعالی کاارشاد ہے :ان کے دلوں میں شک ونفاق کی بیماری ہے اور اللہ نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا ۔(البقرہ:۱۰)
مجھے یہ احساس ہوا کہ اس بیماری کا علاج ہدایت ربانی سے ہی ہو سکتا ہے ،اور یقینی طورپر اللہ تعالی نے میری رہنمائی فرمائی جب کہ میں راہ سے بھٹک گئی تھی ۔قرآن مجید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات میرے اس فیصلے کا اہم سبب بنیں،اس فیصلے نے زندگی اور اس کےمفہوم کے حوالے سے میری سوچ کو بدل دیا ہے ۔جس طرح ہماری خواہشات ہماری اخلاقیات کی عکاس ہیں، ہمارے اقدار ہماری باطنی قوت کا ظاہرہ ہیں ایسے ہی قرآن وسنت سے ہمارا تعلق رب تعالی، ہمارے دین ،ہماری تمنائیں ،زندگی کی معنویت اور اس کی مقصدیت کے حوالے سےہمارے رشتےکو متعین کرتا ہے اور اس کو واضح کرتا ہے ۔ میں نے اپنی کامیابی کی فکر، زندگی کی معنویت اور مقصد یت کی گہرائی میں اتر کر اس کی گہری بنیادوں پر اچھی طرح غور وفکر کیا اور ان کو بحث وتحقیق کے کٹہرے میں کھڑا کیا ،چنانچہ وہ بنیاد یں جو کہ ا ب تک مجھ پر غلبہ حاصل کیے ہوئے تھیں اور میرے افکار وخیالات کو متاثر کر رہی تھیں ،اس میں اب نئ جہت سے نشوو نما پیدا ہوئی اور معلوم ہوا کہ کامیابی ہمارے تعصب وتوہم کی بنیادوں پر قائم زندگی کے کھوکھلے پیمانوں کے ساتھ جڑی نہیں ہے ،کامیابی تو اپنے مقصد تخلیق کی تکمیل کا نام ہے ،ہم اپنے مقصد تخلیق کو فراموش کر گئے ہیں ؛کیوں کہ ہماری زندگی جہالت وگمرہی کے ساتھ آگے بڑھی جا رہی ہےاور ہم اپنے ضمیر کو دھوکہ دیے جارہے ہیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (تاکہ ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ان کی امیدوں کی جانب مائل ہو جائیں اور وہ اس چیز سے خوش ہو جائیں اور وہ لوگ جوشر کرنا چاہتے ہیں وہ کریں)(الانعام :۱۱۳)
ہمارا مقصد، ہماری سچائی یا ہماری خشیت کی شناخت ہمارے خود غرضانہ عمل سے نہیں ہوتی ،دنیاوی پیمانوں سے اس کو ناپا نہیں جا سکتا ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے :قسم ہے زمانے کی یقینی طورپر انسان بڑے گھاٹے میں ہے ،صرف چند وہ لوگ اس سے مستثنی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ، اچھے اعمال کرتے ہیں، ایک دوسرے کو سچائی کی دعوت دیتے ہیں اور صبر واستقامت کی وصیت کرتے ہیں ۔(العصر)
روح کے ساتھ میری جد وجہد کا یہ سفر بڑا پر مشقت رہا ہے ۔خود سے جد وجہد کے لیے یہ زندگی مختصر بھی ہے اور طویل بھی، اس لیے آج میں ا س مضبوط فیصلے پر پہنچی ہوں اور میں بالی وڈ کی دنیا سے اپنی علیحدگی کا آفیشیل اعلان کرتی ہوں ۔
سفر کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ آغاز کس طرح سے کرتے ہیں ،اور میں بالی وڈ کی دنیا سے اپنی لا تعلقی کا جو اعلان کر رہی ہوں ،اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں لوگوں کے سامنے اپنی شخصیت کی پر تقدس تصویر پیش کر سکوں بلکہ یہ وہ سب سے چھوٹی چیز ہے جس سے میں از سرنو اپنی زندگی کا آغاز کرنا چاہتی ہوں ،اور یہ حق و ہدایت کی معرفت اور اس راہ تک پہنچنے کے بعد یہ میرا پہلا قدم ہے ، وہ راہ کہ جس پر چلنے کی میری تمنا تھی ،وہ راہ جس تک پہنچنے کے لیےمیں اب تک محنت کرتی رہی رہوں، اس دوران ہو سکتا ہے کہ میں نے بہت سے دلوں کی زمین میں شعوری یا لاشعوری طورپر خواہشات اور رنگینیوں کے بیج بوئے ہوں لیکن میرا سب کو مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ کوئی بھی کامیابی ،شہرت ،طاقت ،جاہ ومنزلت ،اور مال ودولت خواہ وہ کتنی بڑی اور کتنی زیادہ کیوں نہ ہو لیکن اگران سے ہمارا اطمینان اور چین وسکون کھو جائے ،یا ہم اپنے ایمان سے محروم ہو جائیں تو یاد رکھیں کہ عظیم چیزوں کے عوض معمولی چیزوں کو نہیں خریدا جا سکتا۔
اپنی خواہشات کے سامنے نہ جھکنےکے لیے جد وجہد کیجیے ؛کیوں کہ خواہشات کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک کے بعد ایک خواہشات کا سلسلہ دراز ہوتا رہتا ہے ۔اپنے آپ کو فریب میں مت ڈالیے اور اوہام کا شکار مت بنیے ،اور اپنے خود ساختہ، مبنی بر تعصب ،اصول دین پر ایمان مت لائیے ،وہ اصول جس میں انسان دانستہ طور پر حق کو چھپا دیتا ہے اور جس میں انسان اسی بات کو قبول کرتا ہے جو اس کی خواہش اور اس کی طبیعت کے زیادہ مناسب ہوتی ہے ۔کبھی کبھی ہمارے ایمان میں بڑا عیب ہوتا ہے لیکن ہم اسے الفاظ و افکار کے جامۂ رنگیں میں چھپادیتے ہیں ،جو ہم کہتے ہیں وہ ہمارے دل میں نہیں ہوتا اور ہم اس کو سچ ثابت کرنے کے لیے ہر طرح کی راہیں تلاش کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ حق تعالی ہمارے قولی وعملی تناقضات سے واقف ہے،وہ ہمارے ان خیالات سے بھی واقف ہے جو ہمارے زبان پر نہیں آئے کیوں کہ وہ تو سمیع وبصیر وعلیم ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے اور جو تم ظاہر کرتے ہو(النحل:۱۹)

خود ساختہ ایمان کو اہمیت دینے کے بجائےسچائی کی فہم و معرفت کے لیے حقیقی جد وجہد کریں ،پورے ایمان واخلاص کے ساتھ اپنے آپ کو حق سے روشناس کرائیں ۔اے ایمان والو !اگر تمہارے دلوں میں اللہ کا تقوی موجود ہے تو وہ تم کو حق وباطل کے درمیان امتیاز کی صلاحیت عطا فرمائے گا ۔ 
اللہ کی ناراضی اور اس کے احکام کی پامالی میں مثالی کردار اور کامیابی کے معیار ات تلاش نہ کریں اور ایسے لوگوں کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہو نے دیں جو آپ کی پسند و ناپسند کو طے کریں،جو آپ کے اہداف ومقاصد کو طے کریں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : قیامت کے دن انسان کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اس کو محبت ہو گی ۔
اپنے سے بہتر لوگوں سے مشورے لینے میں غرور وگھمنڈ کا شکار نہ ہوں بلکہ کبرورغرور سے اپنے آپ کو دو ر رکھیں ،اور صرف ہدایت ربانی پر بھروسہ کریں ؛کیوں کہ وہی اکیلا دلوں کو پھیرنے والا ہے اور جس کو وہ ہدایت عطا کرے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا ۔
ہر انسان کے اندر وہ زندہ شعور اور ضمیر موجود نہیں ہےکہ وہ جان سکے کہ ہمیں کس چیز کا علم ہونا چاہیے اور کس چیز کو بدلنا چاہیے؛اسی لیے کسی کے حوالے سےکسی کو کوئی فیصلہ کرنے اور کسی کی تذلیل وتحقیر اور استہزاء کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے ۔
ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم صحیح تفہیم کریں، ایک دوسرے کو تذکیر کریں ،اور اس طرح ایک مثبت کردار ادا کریں ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے :اورتذکیر کرو اس لیے کہ تذکیر مومنوں کو نفع پہنچاتی ہے ۔(طور:۵۵) لیکن تذکیر کسی کا گلا دبا کر، جبر کے ساتھ، کسی کی تحقیر کرکے اور کسی کے ساتھ پر تشد د رویہ یا پرتشدد اسلوب اپنا کر نہیں ہو نی چاہیے ،بلکہ تذکیر ،محبت ،پیار ،اور لطف ومہربانی کے ساتھ اس طرح ہونی چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوںپر اثر انداز ہو سکیں ،حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :اگر تم دیکھو کہ تمہارے کسی بھائی سے خطا ہو گئی ہے تو اس کو صحیح راہ پر لے آئو، اس کے لیے دعا کرو اور اس کا مذاق اڑا کر اور اس کی بے عزتی کرکے شیطان کے مددگار نہ بنو۔
لیکن تذکیر سے پہلے یاد رہے کہ ہم خود اسلام کی عملی تصویر بنیں، اس کی صحیح فہم حاصل کریں ،اپنے دل میں اس کی صحیح معرفت پہنچائیں،اپنے عمل ،ارادے اور کردار سے اس کو ظاہر کریں ،اور پھر جو لوگ اسلام کی بنیادی تعلیم کے حوالے سے فہم ویقین اور عملی واخلاقی جہت سےکمزور ہوں ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کریں اور یہ بات یاد رکھیں کہ جب آپ اس سفر کا آغاز کریں گے یا اس کے احکام پر عمل کریں گے تو آپ کو مشکلات در پیش ہوں گی، لوگ آپ کی تردید کریں گے ،آپ کا مذاق اڑائیں گے اور دوسروں کی جانب سے آپ کو اذیتیں پہنچیں گی اور کبھی یہ ساری چیزیں ان لوگوں کی جانب سےبھی آئیں گی جن سے آپ محبت کرتے ہیں اور جوا ٓپ سے سب سے زیادہ قریب ہے ۔کبھی کبھی آپ کو یہ تکلیفیں اس لیے بھی در پیش ہوں گی کہ آپ پہلے یا ا ب تک پوری زندگی وہی غلط کام کرتے رہے ہیں ،لیکن ان چیزوں کی وجہ سے حوصلہ نہ ہاریں اور اللہ کی رحمت وہدایت سے مایوس نہ ہوں کیوں کہ اس کی ذات ہادی ہے ،آپ کےسابقہ گناہ آپ کو توبہ سے نہ روکیں کیوںکہ اس کی ذات غفار ہے ،یقینی طور پر اللہ تعالی ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جوا س کی بارگاہ میں ندامت وتوبہ کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں،اور جو اپنےآپ کو پاک وصاف اور ستھرا رکھتے ہیں (بقرہ:۲۲۲)،لوگوں کےفیصلے ان کی باتیں ، ان کی جانب سے استہزاء ،اور توہین آمیز کلمات یا ان کا خوف آپ کو حق کی اس راہ سے نہ روکے جس راہ پر آپ چلنا چاہتے ہیں ،یا حق کے حوالےسےمکمل طور پر اپنے دل کی باتوں کے اظہار سے یہ چیزیں آپ کونہ روکیں؛ کیوں کہ یاد رکھیں اس کی ذات الولی یعنی مددگار ہے ۔مستقبل کی فکر آپ کی راہ ہدایت واصلاح میںروکاوٹ نہ بنے ،کیوں کہ وہ رزاق ہے ۔یقینی طورپر یہ راہ مشکل ،پرپیچ اور کبھی کبھی ناقابل تصور حد تک سب سے الگ کردینے والی راہ ہے، خصوصا آج کے زمانے میں، کیوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :عنقریب ایسا زمانہ آئے گا جب دین پر عمل کرنا آگ کا انگارا اٹھانے کے برابر ہوگا ۔
اللہ تعالی ہماری کشتی ہدایت کو ساحل سے ہم کنار کرے اور حق وباطل کے درمیان امتیاز میں ہماری مدد فرمائے ،اللہ تعالی ہمارے ایمان کو مضبوط فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اس کے ذکر میں لگے رہتے ہیں ،ہمارے قلوب کو مضبوط فرمائے اور ہمیں استقامت فرمائے ، اللہ ہمیں اپنی حکمت کی بہتر فہم عطا فرمائے اور شک وہم کو اپنی زندگی سے دور کرنے کے لیے جد وجہداور تعاون کی تمام افراد کو توفیق عطا فرمائے،اللہ تعالی ہمارے دلوں کو کبرونفاق اورجہل سے پاک فرمائے ،ہمارے نیتوں کو درست فرمائے ،اور ہمارے قول وعمل میں اخلاص عطا فرمائے ،آمین ۔

Previous articleائمہ فقہ و حدیث پر اعتماد نہ ہو تو دین کا پورا فہم مشکوک ہو جائے گا: ڈاکٹر عبد الحکیم سعدی
Next articleہندوستانی مسلمانوں کا حشر – ایک بڑا سبب
ضیاء الرحمٰن علیمی
اردو، عربی، فارسی، انگلش، ہندی جیسی زبانوں پر بیک وقت دسترس رکھنے والےصوفیانہ نظریات کے حامل معروف ادیب وقلم کار مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی کی ولادت ۱۹۸۲ء دربھنگہ، بہار کے ایک دین دار گھرانے میں ہوئی۔ قریب کے مکتب میں ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن کے بعد درسِ نظامی کی تعلیم کے لیے ممبئی عظمیٰ کی مشہور درس گاہ ’’دارالعلوم محمدیہ‘‘ میں داخلہ لیا۔ دوسال کے بعد ’’دارالعلوم علیمیہ، جمدا شاہی‘‘ تشریف لے گئے اور وہیں سے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور وہاں سے عربی ادب میں ایم اے کیا۔ ۲۰۰۹ء میں جواہر لال یونیورسٹی، دہلی سے حضرت امیر خسرو کی عربی شاعری پر ’’دراسۃ تحلیلیۃ لشعر امیر خسرو العربی‘‘ کےعنوان سے ایم فل کے بعد وہیں حضرت مخدوم فقیہ مہائمی کی حیات وخدمات پر پی-ایچ-ڈی کرنے میں مشغول ہوگئے۔ ۲۰۱۳ء میں خانقاہِ عارفیہ، الہ آباد حاضر ہوئے۔ اس وقت سے آج تک جامعہ عارفیہ کے طلبہ کا مستقبل سنوارنے اورتقریر وتحریر کی صورت میں اسلام وسنیت کی خدمت کے لیے کوشاں ہیں۔ لوح وقلم سے رشتہ زمانۂ طالبِ علمی سے ہی استوار ہے۔ آپ کا ایک عظیم کارنامہ علامہ شیخ سعد الدین خیرآبادی قدس سرہٗ کی شرحِ رسالۂ مکیہ ’’مجمع السلوک‘‘ اور شیخ ابونجیب سہروردی قدس سرہٗ کی ’’آداب المریدین‘‘ کا سلیس وبامحاورہ اردو ترجمہ ہے۔ تقریبا تین سالوں سے ماہنامہ خضرِ راہ میںعقائد ومعمولاتِ اہلِ سنت پر مستقل تحریریں بھی لکھ رہے ہیں، جو عن قریب ’’نورِ اعتقاد‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی ہیں۔ دیگر تحقیقی مقالات ومضامین کی ایک طویل قطار ہے۔ جن میں سے ’’شیخ ابنِ تیمیہ کا نقدِ تصوف، ابن جوزی: ناقدِ تصوف یا محدث صوفی؟، حافظ ابنِ قیم جوزی اور ان کا ذوقِ تصوف، تصوف اور صوفیہ: قاضی شوکانی کی نظر میں، مطالعۂ تصوف کے چند رہنما اصول، حضرت نجم الدین کبریٰ: افکار ونظریات، رسالۂ مکیہ: ایک تعارف، شدت پسند تنظیموں کی فکری بنیادیں ‘‘ خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔

3 COMMENTS

  1. Great work u did by translating this message nd confession of zaira wasim. ..really it would be a great motivation for urdu spoken

  2. ماشاءاللہ بہت خوب
    حضرت مولانا ضیاء الرحمن صاحب کا مقالہ پڑھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ اس کو ذائرہ وسیم نے صرف لکھا ہے اور مولانا نے اس پر کشش والا رنگ چڑھا دیا ہے

    • کمال دونوں کا ہے، اگر کاتب میں ایمانی حرارت نہ ہوتی تو ترجمہ بھی اتنا ایمان افروز نہ ہوتا۔۔ ہاں مولونا نے ترجمہ کو ایک حد تک صوفیانہ رنگ دیا ہے۔ “صرف لکھا ہے” کہنا مجھے درست نہیں لگا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here